1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

اردو محاورات

Discussion in 'Library' started by PakArt, Jul 9, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    سات پردوں، یا سات تالوں میں چھُپا کر رکھنا، سات دھار ہو کر نکلنا

    سات کا عدد ہماری تہذیبی زندگی اور تاریخی حوالوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے اس میں مذہبی حوالہ بھی شامل ہیں۔ ہم سات آسمان کہتے ہیں سات بہشتیں کہتے ہیں۔ سات سمندر کہتے ہیں قوسِ قزح (دھنک) کے سات رنگ کہتے ہیں۔ سات ستارے کہتے ہیں یہ سب گویا ہماری سماجی فِکر کا حصہ ہیں اِس کو اگر ہم محاورات میں دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کا مزید احساس ہوتا ہے کہ سماجی زندگی سے سات کا عدد کس طرح جڑا ہوا ہے کوئی چیز تالوں میں بند کی جاتی ہے تو ایک سے زیادہ تالے لگائے جاتے ہیں کہتے ہیں لیکن محاورے کے طور پر سات تالوں میں بند کرنا کہتے ہیں اور اس طرح کہتے ہیں اور اس طرح پردوں کے ساتھ سات پردے کہتے ہیں۔ مقصد تاکید اور زیادہ سے زیادہ توجہ کی طرف ذہن کو منتقل کرانا ہوتا ہے اور اُس سے سماجی فکر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
    جب کوئی بات ہماری نفسیات کا جُز بن جاتی ہے تو وہ ہمارے لسانی حوالوں میں آتی رہتی ہے اور اُس کے محاوروں میں شامل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ہماری نفسیات میں گہرا دخل رکھتی ہے اصل میں لٹریچر کا مطالعہ سماجی نقطہ نظر سے یا ایک معاشرتی ڈکشنری کے طوپر نہیں ہوتا ورنہ محاورہ صرف زبان کا اچھا قدیم رو یہ نہیں ہے جو فرسودہ ہو چکا ہو یہ صحیح ہے کہ ہم شہری زبان میں اب محاورے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے قصباتی اور طبقاتی زبان میں ضرور محاورے کی اہمیت ہے لیکن محاورہ سماج کو سمجھنے کے لئے اور مختلف سطح پر محاورے استعمال اس کے رواج اور سماج سے اس کے رشتہ کے بارے میں جتنی معلومات ہمیں محاوروں سے ہو سکتی ہے وہ شاید لٹریچر کے کسی دوسرے لسانی پہلو اور ادبی رو یہ سے نہیں ہو سکتی۔
    سات دھار ہو کر نکلنا یہ ایک اہم بات ہے اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم بہت سے اُمور کو سات کے دائرے میں لا لا کر رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں زیادہ تر چشمے ایک دھارے میں پھوٹتے ہیں یا ایک سے زیادہ دھاروں میں مگر سات دھارے ہمارے روایتی اندازِ فکر کو ظاہر کرتے ہیں اس لئے کہ دھاروں کے ساتھ سات کا عدد ضروری نہیں ہے۔ لیکن تہذیبی نقطہ نظر سے سات دھاروں کا تصور بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ساز باز کرنا
    ساز کا لفظ فارسی ہے"ساز" کسی بھی آلہ موسیقی کو کہہ سکتے ہیں"باز" کے معنی ہیں کھولنا یا دوبارہ حاصل ہونا جیسے"باز یافت" اسی معنی میں دوبارہ پا جانے کے عمل کو کہتے ہیں۔ "ساز" کسی لفظ کے ساتھ مِلا کر اِسم فاعل بھی بناتے ہیں جیسے گھڑی ساز، سُمن ساز، تاریخ ساز یہ فارسی زبان کے اردُو پر اثرات کی نمائندگی کرتا ہے اسی طرح"باز" کا لفظ بھی جب کسی لفظ کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو اسم فاعل بن جاتا ہے جیسے"پٹہ باز"""بلَّے باز" یہاں تک کہ"تگڑم باز" اب یہ عجیب اتفاق ہے کہ اِن دو لفظوں کو ملا کر ایک نئے معنی نکالے گئے یعنی"سازش" کہ اِس نے اِس معاملہ میں دوست یا دشمن کے ساتھ ساز باز کر لی۔ اِس اعتبار سے یہ ہماری سماجی زندگی سے گہرا رشتہ رکھنے والا ایک محاورہ بن جاتا ہے۔
    لفظوں کا معاملہ عجیب ہے یہ طرح طرح کے معنی دیتے ہیں بعض معنی ذہن کو علمی بڑائی اور ادبی خوبصورتی کی طرف لے جاتے ہیں اور بعض سماج کی ذہنی اور عملی بدصورتیوں کو ظاہر کرتے ہیں الفاظ وہی ہوتے ہیں۔ لیکن معنی میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے اور یہی زبان کا سماجی استعمال ہے۔ Connotation of the Wordsیعنی الفاظ کے باہمی رشتے اور معنیاتی سلسلے محاورات کو اور عام زبان کے ساتھ اُن کے رشتوں کو سمجھنے میں یہ صورت حال بہت مدد دیتی ہے۔ اور اس سے کسی زبان کے سماجی کردار کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔​
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ساکھ جاتی رہنا یا ساکھ بننا
    ساکھ ہماری زبان کے اہم سماجی الفاظ میں سے ہے اور اِس کے معنی ہیں اعتبار، اعتبار سیاسی بھی ہوتا ہے اور سماجی بھی علمی بھی ہوتا اور کاروباری بھی ہم تحریروں سے زیادہ زبان پر اعتبار کو ضروری خیال کرتے ہیں اور اُس پر اعتماد کرتے ہیں اسی کو" ساکھ بننا"کہتے ہیں ساکھ باقی رہنا کہتے ہیں" اور اگر یہ اعتبار ختم ہو جاتا ہے چاہے ایک فرد پر سے ختم ہو چاہے ایک جماعت پر سے یا دکان اور ادارے سے بہرحال ساکھ باقی رہنا بڑی بات ہے اور سماجی نقطہ نظر سے اس محاورے کو سماجی رشتوں کے ساتھ جوڑ کر اگر دیکھا جائے تو اُس کے معنی غیر معمولی طور پر اہم ہو جاتے ہیں۔ ساکھ جاتی رہنے کو بھی اسی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔​
     
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    سانپ سُونگھ جانا، سانپ کا کاٹا رسی سے ڈرتا ہے، چھاچھ کو پھُونک پھُونک کر پیتا ہے، سانپ مرے نہ لاٹھی ٹوٹے، سانپ کی طرح پھن مار کر رہ جانا، سانپ نکل گیا لکیر کو پیٹا کرو۔
    سانپ جس کی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیں ہماری زندگی کا کئی اعتبار سے ایک اہم حوالہ ہے۔ وہ جانداروں میں سب سے زیادہ زہریلا ہوتا ہے اور اُس کے کاٹے کا مشکل ہی سے علاج ہوتا ہے۔ سانپ" گُل کنڈے" کھا کر اپنے آپ کو سمیٹ لیتا ہے اور دُم کو اپنے منہ میں لے لیتا ہے یہ گویا ابتدا کو انتہا سے ملانا ہے وہ بغیر پیروں کے دوڑ سکتا ہے یہ ایک عجیب و غریب صفت ہے وہ اپنے سہارے پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی کچھ خو بیاں ہیں جو سانپ کے کردار میں شامل ہیں مثلاً"کالا سانپ"، "بین پر رقص کرتا" ہے اور اس کی آواز پر کھنچا چلا آتا ہے سانپ کی آنکھوں میں غیر معمولی کشش ہوتی ہے۔
    سانپ سے متعلق بہت سے محاورے ہیں جو سماج کی روش و کشش کو ظاہر کرتے ہیں اور اس آئینہ میں ہم انسان کے کردار کو سمجھ سکتے ہیں کہ کس وقت اُس کا عمل اور رد عمل کیا ہوتا ہے اور اس کا ہمارے فکر و خیال سے سماجی طور پر کیا رشتہ بنتا ہے۔ مثلاً سانپ سونگھ جانا، مثلاً جب آدمی کسی بات کو سُن کر چُپ ہو جاتا ہے اور لاجواب ہونے کے عالم میں پہنچ جاتا ہے تو اسے سانپ سونگھنا کہتے ہیں جب کوئی موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو سانپ نکل جانا کہتے ہیں شاہ نصیر کا استادانہ شعر ہے۔
    خیالِ زلفِ بُتاں میں نصیر پیٹا کر
    گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر

    لکیر پیٹنا یوں بھی وقت گزر جانے پر کسی کام کو کرنا ہے جو بے سُود ہوتا ہے اور اُس سے کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہوتا سانپ مرے نہ لاٹھی ٹوٹے ایک بہت اہم بات ہے کہ دشمن کو آپ نقصان پہنچائے مگر خود نقصان میں نہ پڑیں اگر خود ہی نقصان میں پڑ گئے اور سانپ مارنے میں لاٹھی ٹوٹ گئی تو گویا خود ہی خطرے میں پڑ گئے اور نقصان اٹھا گئے۔
    سانپ خاص طور پر کالا سانپ کاٹتا نہیں ہے صرف پھَن مار کر رہ جاتا ہے جہاں اُس کے سامنے کوئی چیز آئی اور اُس نے پھَن مارا جب کہ کاٹنے کے لئے پلٹنا ضروری ہے سانپ کے دانت سیدھے نہیں ہوتے وہ پلٹ کر ڈنک مارتا ہے اگر پلٹ نہیں سکتا تو ڈنک بھی نہیں مار سکتا اور جب وہ پھَن پھیلائے ہوتا ہے تو پلٹ نہیں سکتا اسی لئے کاٹ نہیں سکتا اور یہیں سے یہ محاورہ پیدا ہوا کہ وہ سانپ کی طرح پھَن مارتا ہے۔
     
  5. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    سانس نہ نکالنا
    سانس لینا زندگی کی سب سے اہم ضرورت ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی سانس بھی احتیاط سے لیتا ہے بلکہ نہیں لیتا میر کا شعر ہے۔ اس سلسلہ کے بہترین اشعار میں سے ہے۔
    لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
    آفاق کی اِس کار گہہ شیشہ گری کا

    سانس روکنا صوفیوں کا عمل بھی ہے جس کو وہ دمِ سادھنا بھی کہتے ہیں سانس نہ لے یہ بڑی دھمکی ہوتی ہے۔ جس کے لئے غالب نے شعر کہا تھا۔
    دھمکی میں مرگیا جو نہ باب نبرد تھا
    عِشق نبرد پیشہ طلب گارِ مرد تھا

    یعنی جس میں ہمت نہیں ہوتی حوصلہ نہیں ہوتا وہ دھمکی میں مر جاتا ہے بلکہ دوسروں کی غضبناک نگاہوں کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا اور اُس کا سانس رک جاتا ہے اور کہتے بھی ہیں کہ دیکھو سانس مت نکالو
     
  6. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    سب چیز کی لہر بہر ہے
    اصل میں ہمارے معاشرے میں کمی بہت تھی غریب طبقہ کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ گھڑے پر پیالہ بھی نہیں کئی محاورے اِس صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسے میں نے روٹی پہ روٹی رکھ کے کھائی جس کا یہ مطلب ہے کہ بعض خاندانوں میں اتنی غربت ہوتی تھی کہ ایک ایک روٹی مشکل سے میسر آتی تھی اور روٹی پر روٹی رکھ کر کھانا تو معاشرتی طور پر خوش حال ہونا تھا سوکھے ٹکرے پانی میں بھگو کر کھانا بھی ہماری معاشرتی زندگی کا ایک حصّہ رہا ہے۔ روکھی روٹی کا ذکر اب تک آتا ہے سالن بھی مشکل سے میسر آتا تھا گھی، پیسے چُپڑی ہوئی روٹی کسی کسی کے حصّہ میں آتی ہو گی۔
    دیہات کی ایک مثل ہے جاڑا لگے یا پالا لگٹے دم کھچڑی فَنڈوے کی روٹی گھی چپڑی یعنی دم کی ہوئی کھچڑی اور فنڈوے کی روٹی کے لئے ترستے تھے اور جن لوگوں کو گیہوں کی روٹی میسر نہیں آتی تھی وہ چنے جُوار باجرہ اور فنڈوے کی روٹی کھاتے تھے اور یہ آئیڈیل تھا کہ اگر وہ گھی چُپڑی روٹی ہو تو کیا کہنا لوگ یہ کہتے ہوئے سنے جاتے تھے سیاں (سوئیاں ) ہوں پر کھیلا (اکیلا) ہو۔ اب بھی کہتے ہیں کہ اُن کے حالات تو بہت اچھے ہیں پیسے میں پیسہ اور چیز میں چیز ہے یعنی پیسہ بھی پاس ہے اور ضرورت کی چیزیں بھی پہلے زمانہ میں نہ پیسہ ہوتا تھا نہ ضرورت کی چیزیں ہوتی تھیں​
     
  7. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    سُبکی ہونا
    سبک ہلکے کو کہتے ہیں جیسے سُبک ناک نقشہ والی لیکن معاشرہ میں سُبکی ہونے کے معنی ایک سطح پر بے عزت ہونے کے ہیں اسی لئے کہتے ہیں کہ اُن کی سُبکی ہوئی۔ سُبکنا بچوں کے رونے کا ایک خاص انداز ہوتا ہے جسے سُبک سُبک کر رونا کہتے ہیں۔
     
  8. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    سِتارہ چمکنا، ستارہ گردش میں ہونا۔ ستارہ پیشانی
    ستارہ آسمان کے اُن ستاروں کو کہتے ہیں جو اپنی جگہ پر رہتے ہیں اِس کے مقابلہ میں"سیارہ" گھومنے والے سِتارے کو کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں ستاروں سے قسمت کو وابستہ کیا جاتا ہے۔ اسی لئے قسمت کا ستارہ کہتے ہیں اور یہ بھی کہ اُس کی قسمت کا ستارہ چمک رہا ہے اور اُس کے مقابلہ میں یہ کہ اُس کی قسمت کا ستارہ گردش میں ہے خوش قسمت آدمی کی پیشانی کو بھی ستارہ پیشانی کہا جاتا ہے اِس لئے کہ ہمارا ایک معاشرتی تصور یہ بھی ہے کہ جو کچھ قسمت میں لکھا ہے وہ ہماری پیشانی میں منقش ہے۔ اسی لئے قسمت کی برائی کا ذکر کرتے ہوئے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ستارہ جبیں کے معنی بھی یہی ہیں کہ اس کی قسمت کا ستارہ چمک رہا ہے۔ ہم لڑکیوں کا نام مہہ جبیں رکھتے ہیں یعنی چاند جیسی پیشانی والی۔​
     
  9. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    ستّرا بہتّرا
    عُمر کا حِساب اکثر ہمارے یہاں سماجیاتی فقروں میں لیا جاتا ہے یا اُس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جیسے ستّرا بہتّرا یا ساٹھا پاٹھا جیسا کہ میر حسن نے لکھا ہے۔
    برس پندرہ یا کہ چودہ کا سِن
    جوانی کی راتیں مُرادوں کے دن

    یا محاورے کے طور پر کہتے ہیں انیس بیس کا فرق چھٹے چھماس میں بھی عدد شامل ہے چھٹی کے دُودھ میں بھی اور چلّا چھٹی میں بھی شامل شمار موجود ہیں۔​
     
  10. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    تم توڑنا، ستم ٹوٹنا
    سماج کے ظالمانہ رو یہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اسی لئے ستم کرنے کو ستم توڑنا کہا جاتا ہے اس سے سماج کے محسوسات کا پتہ چلتا ہے وہ کس طرح اعمال کو دیکھتا اور اپنے محاورے کے اعتبار سے اس پر تبصرہ کرتا ہے۔​
     

Share This Page