1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

swal o jawab Melad Manana Durst He Ya Wrong?

Discussion in 'Baat Cheet' started by PariGul, Dec 18, 2015.

Thread Status:
Not open for further replies.
  1. PariGul

    PariGul Guest

    السلام علیکم محترمہ گل پری اور محترم نجم میرانی تعلیمی مرکز پر کسی قسم کی تفرقات یا فرقہ پرستی کی اجازت نہیں ہے لیکن سوال و جواب کے ذریعے اپنے شہبات اور مسائل کو حل کروانے میں کوئی حر ج نہیں ہے آپ دونوں اپنے مسائل اس تھریڈ میں سلجھا سکتے ہیں محترمہ پری گل کا سوال یہ ہے
    ان کو ان کے سوالات کے جوابا ت دئیے جائیں تاکہ شہبات ختم ہوں اور جو بھی غلطی پر ہے راہ راست پر آجائے یہ تھریڈ صرف اسی مقصد کےلیے بنایا گیا ہے کسی بھی ممبر کی جانب سے مزید کوئی پوسٹ میلاد کے مسائل کے متعلق اس تھریڈ کے علاوہ کسی جگہ نہیں ہو نی چاہیے
    تعلیمی مرکز ڈاٹ کام


    is Eid Ki Eid Namaz Q mh hoti??
    koi btae ga Lafz Melad ki meaning???



     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    =میلاد سنت=
    عرض کیا:
    آقا ﷺ آپ ھر پیر کے دن روزہ کیوں رکھتےھیں؟
    فرمایا:
    یہ میری ولادت کا دن ھے،
    اس دن میں مبعوث کیا گیا
    (مسلم
    جلد2
    صفحہ819)
     
  3. PariGul

    PariGul Guest

    محترمہ یہاں پر تفرقانہ وڈیو شیئر کرنا منع ہے
    آپ مہربابی کرکے تفرقانہ وڈیو شیئر کرنے سے گریز کریں ۔ شکریہ
     
  4. PariGul

    PariGul Guest

    Najam Mirani shb aap ne video aunt bina he faisla suna dya...or aik bat is video sunny k bad koi jwb nh tha ap k pass is lye us ko khtm krdya..agr forum pe sahe bat krna firqawarit hai to galt bat krna firqawariyet nh?? Had hoti hai her chez ki
     
  5. Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    najam mirani shb aap ne video aunt bina he faisla suna dya...or aik bat is video sunny k bad koi jwb nh tha ap k pass is lye us ko khtm krdya..agr forum pe sahe bat krna firqawarit hai to galt bat krna firqawariyet nh?? Had hoti hai her chez ki
    Click to expand...
    آپ نے ٹھیک کہا پری گل میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں آپ اُس ویڈیو کا لنک مجھے پی ایم کریں میں دیکھتا ہوں تعلیمی مرکز فورم پر فرقہ واریت کی اجازت نہیں ہے پر کیسی سے سوال جواب کرنا فرقہ واریت میں نہیں آتا
     
  • PariGul

    PariGul Guest

    عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت کے آئینے میں



    ظالم ﺍﻭﺭﻣﺴﺮﻑ
    ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ (ﻣﻠﮏ ﻣﻈﻔﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ) ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﻮﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﺎﺍﺗﺒﺎﻉ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻋﻠﻤﺎ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻧﯿﻮﯼ ﺍﻏﺮﺍﺽ ﻭﻣﻘﺎﺻﺪ ﮐﯽﺳﺮﺗﻮﮌ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺋﮯ، ﺟﺐ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ ﺗﻮﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭّﻝ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﺪﻣﯿﻼﺩ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﯿﺪﻣﯿﻼﺩﺍﻟﻨﺒﯽ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺷﺨﺺ ﻣﻠﮏ ﻣﻈﻔﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﮨﮯ ﺟﻮﻣﻮﺻﻞ ﮐﮯﻋﻼﻗﮯ ﺍﺭﺑﻞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ۔ “
    ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻧﻮﺭ ﺷﺎﮦ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﻼﺩ ﭘﺮﻻﮐﮭﻮﮞ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺭﻋﺎﯾﺎﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑﻣﺎﺋﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻠﮏ ﻭﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﻼﺩ ﭘﺮﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﻭﻗﻮﻡﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺑﮯ ﺳﻮﺩ ﺻﺮﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ ( ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ، ﺝ : ۲، ﺹ :۳۱۹ )
    ﻋﻼﻣﮧ ﺫﮨﺒﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ : ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻀﻮﻝ ﺧﺮﭼﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﻑﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﻼﺩﺍﻟﻨﺒﯽ ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﺎ
    ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ (ﺩﻭﻝ ﺍﻻﺳﻼﻡ، ﺝ : ۲،ﺹ :۱۰۳ )
    ﺫﺭﺍ ﺍُﺱ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﺮﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﮐﺞ ﻓﮑﺮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺤﻔﻞﻣﯿﻼﺩ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺯ ﭘﺮ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮐﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻞ ﮐﮯ ﺍﻧﻌﻘﺎﺩ ﮐﮯﺟﻮﺍﺯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺑﻮﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺩﺣﯿﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮﻋﺴﻘﻼﻧﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﻭﮦ ﺷﺨﺺﺍﺋﻤﮧ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ، ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺭﺍﺯ، ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﮑﺒﺮ ﺗﮭﺎ
    ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﯽ ﺍﻣﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺴﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﺗﮭﺎ۔ (ﻟﺴﺎﻥﺍﻟﻤﯿﺰﺍﻥ،ﺝ : ۴،ﺹ : ۲۹۶ )
    ﯾﮧ ﺗﻮ ﻣﯿﻼﺩ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻣﻮﺟﺪ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﺁﺋﯿﮯ ! ﻋﻠﻤﺎﮮﻣﺘﻘﺪﻣﯿﻦ ﻭﻣﺘﺄﺧﺮﯾﻦ ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﻼﺩ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮐﯿﺎ ﺭﺍﺋﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
    ﻋﻼﻣﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﻣﯿﻼﺩ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ؛ ﺍِﺱﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍِﺱ ﮐﻮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺍِﺱ ﮐﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮﮐﮩﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﻠﻔﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﻧﮯ ﻣﯿﻼﺩ ﻣﻨﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﻧﮧ ﺍﺋﻤﮧ ﻧﮯ۔ (ﺍﻟﺸﺮﯾﻌﺔ ﺍﻻﻟٰﮩﯿﮧ
    ۴۱ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﻼﺩ،ﺹ :
     
  • PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    میلاد منانےکا قرآن سےثبوت=
    القرآن:
    " فرمادیجئے اللہ کےفضل
    اور اسکی رحمت کے ملنےپر
    چاھیئے کے خوشی کریں "
    (یونس،
    آیت58)​
    __________________
    سوال
    ۔ بعض لوگ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اور محافل میلاد منعقد کرنے کو بدعت و حرام کہتے ہیں ۔ قرآن و سنت اور ائمہ دین کے اقوال کی روشنی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان فرمائیے۔

    جواب۔ ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

    ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)

    بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ (آل عمران ،164)

    آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 ) ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ (الضحی 11، کنز الایمان)

    خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔

    سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔

    رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129)

    اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان)

    صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔

    عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں
    کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں

    شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شب میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہنوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکہ شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟ (ماثبت بالستہ)

    جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
    اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

    صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خ-واب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ امام ابن جزری فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخ-ل فرمادے ۔ ( مواہب الدنیہ ج 1 ص 27 ، مطبوعہ مصر )

    اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن عید میلاد کیسے منایا؟ سیرت حلبیہ ج 1 ص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ (جس سال نور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت ، تر و تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے ) ۔ اہلسنت اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خوسی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ۔

    عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، (میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے(۔ (مشکوہ)

    حضرت آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ) ۔ (طبقاب ابن سعد ج 1 ص 102، سیرت جلسہ ج 1 ص 91)

    ہم تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص ( رضی اللہ عنہ ) کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 94 ، خصائص کبری ج 1 ص 40 ، زرقانی علی المواہب 1 ص 114)

    سیدتنا آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( میں نے تین جھندے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 109 ) یہ حدیث ( الو فابا حوال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) مےں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔

    عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرئہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔(صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ)
    جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔

    محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں، (مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں)۔ (المیلاد النبوی ص 58)
    امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ، ( محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے)۔ (فتاوی حدیثیہ ص 129)

    امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، ( میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ) ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189)

    امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، (ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ (مواہب الدنیہ ج 1 ص 27)

    شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ ( والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ، م 1176 ھ ) فرماتے ہیں کہ میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا ۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہو ا ، میں نے وہی چنے تقسیم کرد یے ۔ رات کو خواب میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو اتو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بیحد خوش اور مسرور ہیں۔ (الدار الثمین ص 8)
    ان دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل منعقد کرنے اور میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔
     
  • Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    السلام علیکم محترمہ گل پری اور محترم نجم میرانی تعلیمی مرکز پر کسی قسم کی تفرقات یا فرقہ پرستی کی اجازت نہیں ہے لیکن سوال و جواب کے ذریعے اپنے شہبات اور مسائل کو حل کروانے میں کوئی حر ج نہیں ہے آپ دونوں اپنے مسائل اس تھریڈ میں سلجھا سکتے ہیں محترمہ پری گل کا سوال یہ ہے
    ان کو ان کے سوالات کے جوابا ت دئیے جائیں تاکہ شہبات ختم ہوں اور جو بھی غلطی پر ہے راہ راست پر آجائے یہ تھریڈ صرف اسی مقصد کےلیے بنایا گیا ہے کسی بھی ممبر کی جانب سے مزید کوئی پوسٹ میلاد کے مسائل کے متعلق اس تھریڈ کے علاوہ کسی جگہ نہیں ہو نی چاہیے
    تعلیمی مرکز ڈاٹ کام


    is eid ki eid namaz q mh hoti??
    Koi btae ga lafz melad ki meaning???



    Click to expand...

    جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیئے عید کا دن ہے ، جس طرح جمعہ کے دن
    عید نماز نہیں پڑھی جاتی اسی طرح عید میلاد النبی کے دن بھی عید نماز نہیں پڑھی جاتی۔
    میلاد کی کیا تعریف ہے؟
    سرکارﷺ کی ولادت کا بیان،نسب نامہ، پرورش کا بیان، معجزات، نعت
    اب اسے اکیلے میں پڑھیں یا مجمع میں میلاد ہی کہا جائیگا۔
    عید کی تعریف اور جشن میلاد کو عید کہنے کی وجہ
    ابوالقاسم امام راغب اصفہانی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ (المتوفی 502ھ) عید کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عید اسے کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے، شریعت میں یہ لفظ یوم الفطر اور یوم النحر کے لئے خاص نہیں ہے۔ عید کا دن خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’عید کے ایام کھانے پینے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے ہیں‘‘ اس لئے ہر وہ دن جس میں خوشی حاصل ہو، اس دن کے لئے عید کا لفظ مستعمل ہوگیا ہے جیسا کہ اﷲ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی دعا سے متعلق ارشاد ہے کہ ’’ہم پر آسمان سے خوان (کھانا) اتار کہ وہ ہمارے (اگلوں پچھلوں کے لئے) عید ہو‘‘ اور عید انسان کی اس حالت خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور ’’العائدۃ‘‘ ہر اس منفعت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی چیز سے حاصل ہو‘‘
    علامہ راغب اصفہانی رحمتہ اﷲ علیہ کے مذکورہ بالا کلام سے معلوم ہوا کہ عید ہر اس دن کو کہتے ہیں
    :1جس میں انسان کو کوئی خوشی حاصل ہو
    :2جس میں اﷲ عزوجل کی طرف سے کوئی خصوصی رحمت و نعمت عطا ہوئی ہو۔
    :3جسے کسی خوشی کے موقع سے کوئی خاص مناسبت ہو۔
    الحمدﷲ عزوجل جل علی احسانہ! بارہ ربیع الاول کے موقع پر یہ تینوں صورتیں ہی جمع ہوتی ہیں۔ آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ ایک مسلمان کے لئے حضور نبی کریمﷺ کے ولادت پاک کے دن سے بڑھ کر کیا خوشی ہوسکتی ہے؟ اس خوشی کے سبب بھی بارہ ربیع الاول کو عید کا دن قرار دیا جاتا ہے۔
    آپﷺ جن کے صدقے ہمیں خدا کی پہچان ملی، ایمان کی لازوال دولت ملی، قرآن جیسا بابرکت تحفہ ملا جن کے صدقے زندگی گزارنے کا ڈھنگ آیا اور جن کی ذات اقدس ہمارے لئے سراپا رحمت ہے ان سے بڑھ کر کون سی رحمت اور کون سی نعمت ہے؟ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حواری خوان رحمت عطا ہونے والے دن کو عید کہہ سکتے ہیں اور وہ دن ان کے اگلوں پچھلوں کے لئے یوم عید ہوسکتا ہے تو ہم بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ امام الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روز ولادت کو عید میلاد النبیﷺ کا نام دیں اور عید منائیں۔
    کہتے ہیں کہ ’’کسی معتبر کتاب میں یوم میلاد کو عید نہیں لکھا گیا‘‘ فی الوقت میرے پاس موجود کتاب کے اعتبار کے لئے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اشرف علی تھانوی صاحب نے اور تمام علمائے دیوبند نے اس کتاب کو اپنی تحریروں کی وقعت ظاہر کرنے کے لئے حوالہ دے کر جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے اور نشرالطیب تو اس کتاب کے حوالوں سے بھری ہوئی ہے اور معترضین کی مزید تسلی کے لئے عرض ہے کہ اس کتاب کے عربی متن کے اردو ترجمہ پر تعریفی تقاریظ علمائے دیوبند نے لکھی ہیں۔ اس کتاب کا نام ’’مواہب لدنیہ‘‘ ہے ترجمہ کو ’’سیرۃ محمدیہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    امام احمد بن محمد بن ابی بکر الخطیب قسطلانی رحمتہ اﷲ علیہ کی یہ کتاب پانچ سو برس پرانی ہے۔ اس کی شرح ’’زرقانی‘‘ آٹھ ضخیم جلدوں میں علامہ ابو عبداﷲ محمد زرقانی نے لکھی جو اہل علم میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ 1338 ہجری میں جن علمائے دیوبند نے اس کتاب پر تعریفی تقاریظ لکھیں ان کے نام بھی ملاحظہ فرمالیں۔
    * جناب محمد احمد مہتمم دارالعلوم دیوبند و مفتی عالیہ عدالت ممالک سرکار آصفیہ نظامیہ * جناب محمد حبیب الرحمن مددگار مہتمم دارالعلوم دیوبند * جناب اعزاز علی مدرس ، مدرسہ دیوبند * جناب سراج احمد رشیدی مدرس، مدرسہ دیوبند * جناب محمد انور معلم، دارالعلوم دیوبند
    اس کتاب کے صفحہ 75 پر امام قسطلانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ اس مرد پر رحم کرے جس نے آنحضرت ﷺ کی ولادت کے مبارک مہینہ کی راتوں کو ’’عیدین‘‘ اختیار کیا ہے تاکہ اس کا یہ (عید) اختیار کرنا ان لوگوں پر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لادوا بیماری، آپ کے مولد شریف کے سبب ہے۔ معتبر کتاب سے مطلوبہ لفظ ’’عید‘‘ ملاحظہ فرمالیا۔ اگر امام قسطلانی کی تحریر سے اتفاق نہیں تو مذکورہ علمائے دیوبند کو ملامت کیجئے جنہوں نے اس کتاب کو بہترین اور اس کے ترجمہ کو بہت بڑی نیکی لکھا ہے۔
     
  • Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    السلام علیکم محترمہ گل پری اور محترم نجم میرانی تعلیمی مرکز پر کسی قسم کی تفرقات یا فرقہ پرستی کی اجازت نہیں ہے لیکن سوال و جواب کے ذریعے اپنے شہبات اور مسائل کو حل کروانے میں کوئی حر ج نہیں ہے آپ دونوں اپنے مسائل اس تھریڈ میں سلجھا سکتے ہیں محترمہ پری گل کا سوال یہ ہے
    ان کو ان کے سوالات کے جوابا ت دئیے جائیں تاکہ شہبات ختم ہوں اور جو بھی غلطی پر ہے راہ راست پر آجائے یہ تھریڈ صرف اسی مقصد کےلیے بنایا گیا ہے کسی بھی ممبر کی جانب سے مزید کوئی پوسٹ میلاد کے مسائل کے متعلق اس تھریڈ کے علاوہ کسی جگہ نہیں ہو نی چاہیے
    تعلیمی مرکز ڈاٹ کام


    is eid ki eid namaz q mh hoti??
    Koi btae ga lafz melad ki meaning???



    Click to expand...

    مینے آپ کے وسوالوں کے جوابات دے دیئے ہیں اب آپ کا بھی فرض ہے کہ
    آپ بھی ہمارے کچھ سوالوں کے جوابات دو۔

    مسلمانان اھل سنّت و جماعت کو آئے دن مشرک ، بدعتی اور گمراہ کہنے والو کچھ سوال ھمارے بھی ھیں اب تک جواب کے منتظر ؟
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    ہماری طرف سے یہ 50 سوالات قوم کی عدالت میں ایک استغاثہ ہے اور ان لوگوں کو دعوت فکر دینی ہے جو چند مستحب اعمال (مثلاً میلاد شریف، عرس، گیارہویں شریف، میلاد کے جلسے جلوس، جھنڈے وغیرہا) پر عمل کرنے کو شرک و بدعت اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو یہ کہہ کر یہ چیزیں دور رسالت مآبﷺ اور دور خلفاء و صحابہ علیہم الرضوان میں نہ تھیں لہذا بدعت و شرک ہیں۔
    اب استغاثہ پیش کرنے کا موجب امر یہ ہے کہ دیوبند کا یہ مسلک اگر قرآن و حدیث پر مبنی ہے تو انہیں ہر حال میں اس پر قائم رہنا چاہئے تھا یعنی جن چیزوں کا وجود دور رسالت مآبﷺ اور دور خلفائے و صحابہ علیہم الرضوان میں نہ تھا تو ان چیزوں سے ان کو اور ان کی جماعت کو بھی بچنا چاہئے تھا۔ لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے اور یہ کیسا اندھیر ہے کہ یہی چیز اگر غریب سنی مسلمان کرے تو شرک و بدعت لیکن خود کریں تو عین اسلام ملاحظہ کیجئے
    سوال نمبر 1:
    سوائے ’’عیدین اور حج کے اجتماع‘‘ کے نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے (ظاہری) زمانے میں کوئی سالانہ اجتماع ہوتا تھا؟ یقینا نہیں! تو پھر دیوبندی وہابیوں کے سالانہ اجتماعات جائز ہوئے یا ناجائز؟
    سوال نمبر2:
    رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع کے لئے جلوس کی شکل میں ٹرینوں، بسوں، ویگنوں، کاروں وغیرہا میں جانا سنت ہے یا فرض یا مستحب یا واجب یا بدعت؟
    سوال نمبر3 :
    23 سالہ ظاہری دور نبوت میں (جس میں سرکار دوجہاںﷺ ظاہری طور پر موجود تھے) کافروں منافقوں نے بارہا گستاخیاں کیں، کیا ان کی مخالفت میں کوئی ریلی یا جلوس نکالا گیا تو حوالہ دیجئے اور ساری دنیا جانتی ہے کہ جب ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخی کی گئی تو جہاں تمام اہلسنت حنفی بریلویوں نے جلسے جلوس منعقد کئے وہاں وہابی دیوبندیوں نے بھی ریلیاں اور جلوس نکالے۔ اب بتایا جائے کہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا یہ عمل شرک ہوا یا بدعت؟
    سوال نمبر4 :
    (الف) 30 سالہ خلافت راشدہ میں اگر ایسی ریلی نکالی گئی ہو تو حوالہ دیجئے؟
    (ج) ائمہ اربعہ میں سے کسی نے ریلی نکالی ہو یا شرکت کی ہو؟ مستند حوالہ دیجئے؟
    (ھ) ایسی ریلی سب سے پہلے کب اور کہاں نکالی گئی، جلوس کس وقت نکلا؟
    (د) صدارت کس نے کی؟ جلوس کس جگہ سے نکل کر کہاں اختتام پذیر ہوا؟
    سوال نمبر5 :
    حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی جو تمام بڑے بڑے دیوبندیوں کے پیرومرشد بھی ہیں، اپنی کتاب کلیات امدادیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ
    ’’مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں‘‘
    (فیصلہ ہفت مسئلہ کلیات امدادیہ ص 80 سطر 4 مکتبہ دارالاشاعت کراچی)
    اس کے تحت سوال یہ ہے کہ
    (الف) اگر محفل میلاد منانا اور صلوٰۃ و سلام کیلئے قیام کرنا بدعت ہے تو حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟
    (ب) جو مرید پیر کے جائز اور مستحب اعمال کی مخالفت کرے، ایسے مرید پر کیا فتویٰ لگے گا؟
    (ج) تمہارے بزرگوں سے بھی میلاد منانا ثابت ہے تو تم کیوں نہیں مناتے؟
    سوال نمبر 6:
    کیا صحابہ کرام علیہم الرضوان سے لے کر ائمہ اربعہ تک اور اس کے بعد آج تک کسی مسلمان نے نبی پاکﷺ کی ظاہری وفات شریف کا سالانہ سوگ منایا؟ نیز کیا کسی صحابی نے میلاد منانے سے منع فرمایا؟ نہیں اور ہرگز نہیں! تو تم کو نبی کی ولادت کی خوشی منانے میں کیوں تکلیف ہوتی ہے؟
    سوال نمبر7 :
    تاریخ سے ثابت ہے کہ ’’نبی پاکﷺ کی ولادت کے وقت شیطان ’’جبل ابی قبیس‘‘ پر چڑھ کر چلایا‘‘ اس کو تکلیف ہوئی جبکہ ساری کائنات خوش تھی یعنی صرف ابلیس اور ابلیسیوں کو خوشی نہ ہوئی، اب اگر ایک صف میلاد پر خوشی منانے والوں کی ہو اور دوسری طرف خوش نہ ہونے والوں کی، تو آپ کس صف میں کھڑا ہونا پسند کریں گے؟
    سوال نمبر8 : بقول تمہارے ’’نبی پاکﷺ کی ولادت ۸ ربیع الاول کو ہوئی تھی تو تم ۸ ربیع الاول کو کیوں میلاد نہیں مناتے؟‘‘
    سوال نمبر 9: کیا میلاد کی محفل میں جانا اور تقریر کرنا بدعت ہے؟
    (الف) اگر دیوبندیوں کا جواب ہاں میں ہے تو پاکستان اسلامک فورم کی محفل میلاد میں احترام الحق تھانوی خطاب کرنے کیوں گئے؟ خطاب بھی کیا اور شرکت بھی کی۔ کیا فتویٰ لگنا چاہئے
    (ملاحظہ کیجئے روزنامہ جنگ 28 مئی 2002ء)
    (ب) عید میلاد النبیﷺ ہم بھی مناتے ہیں۔ پروفیسر غفور احمد (جماعت اسلامی) ملاحظہ کیجئے (روزنامہ قومی اخبار 23 اکتوبر 1989ء)
    نوٹ: پروفیسر کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے جن کا عقیدہ ہے کہ میلاد النبیﷺ منانا شرک و بدعت ہے۔
    سوال نمبر 10
    حدیث شریف سے ثابت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ ہر پیر کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپﷺ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی
    (مشکوٰۃ ص 179، قدیمی کتب خانہ کراچی)
    کیا کبھی دیوبندی اور وہابی نے سرکار دوعالمﷺ کی اس سنت پر عمل کیا اور کروایا کہ پیر کے دن روزہ رکھ کر میلاد کی خوشی میں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کے لئے روزہ رکھا جائے۔ اگر میلاد شریف کے منکروں نے اس بارے میں کوئی فتویٰ دیا ہو تو حوالہ دیجئے۔
    سوال نمبر 11:
    مسلمان ہر سال پابندی سے میلاد مناتے ہیں جس پر پوچھا جاتا ہے کہ میلاد منانا فرض نہیں تو اتنا التزام کیوں کیا جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یہ سوال ہے کہ وضو میں گردن کا مسح کرنا فرض ہے یا واجب یا سنت یا مستحب؟ اگر مستحب ہے اور یقینا مستحب ہے تو اس کا اتنا التزام کیوں کیا جاتا ہے کہ ہر دیوبندی ہر وضو میں ہر دفعہ گردن کا مسح پابندی سے کرتا ہے اور وہ بھی روزانہ… ایسا کیوں؟
    سوال نمبر 12:
    بارہویں کی نسبت سے بارہواں سوال یہ ہے کہ قرآن و حدیث یا ائمہ اربعہ میں کسی ایک سے کوئی ایک حوالہ دیجئے جس میں لکھا ہو کہ ’’میلاد منانا بدعت و حرام ہے‘
    سوال نمبر 13:
    یوم آزادی پاکستان اور یوم دفاع پاکستان منانا بدعت ہے یا مباح یا حرام؟
    سوال نمبر 14:
    قومی اسمبلی میں جب قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے تو اس کی تعظیم میں سارے وزراء بشمول فضل الرحمن سب کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آیا یہ شرک ہوا یا بدعت؟ ذرا دو لائنوں کا فتویٰ دو اور اس کو اسمبلی میں پیش کرو۔
    سوال نمبر 15:
    یہ بتایئے مسجد کی تعمیر کے لئے غیر اﷲ سے مدد مانگنا جائز ہے یا نہیں۔ اگر جائز ہے توغیر اﷲ سے مدد مانگنا تو بقول تمہارے ناجائز ہے۔ کیا جواب ہے اور اگر جائز نہیں تو یہ ساری مساجد جو سیٹھوں سے مدد مانگ مانگ کر بنائی گئی ہیں۔ ان میں نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟
    سوال نمبر 16:
    ’’نماز کی نیت زبان سے کرنا‘‘ کسی بھی صحابی سے ثابت ہو تو حوالہ دیجئے۔ اگر ایسا حوالہ نہیں تو زبان سے نیت کرنا بدعت ہے یا شرک؟
    سوال نمبر 17:
    دنیا کے اندر بہت ساری نئی چیزیں ایجاد ہوگئی ہیں ان کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں حالانکہ صحابہ کرام کے دور میں ان کا نام و نشان نہ تھا؟ اگر استعمال کرنا جائز ہے تو کس قاعدے کے تحت؟ جیسے ریل، موٹر کار، ہوائی جہاز، ٹیلی فون، موبائل، ریڈیو، لائوڈ اسپیکر وغیرہا۔ کیا کوئی دیوبندی وہابی بغیر ان بدعات کے آسانی سے دنیاوی زندگی گزار سکتا ہے؟
    سوال نمبر 18:
    امامت اور موذنی کے پیسے لینا جائز ہے یا ناجائز؟ کیا نبی پاکﷺ نے امامت کی تنخواہ لی ہے۔ کیا حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے موذنی کی تنخواہ لی ہے؟ معتبر حوالہ دیں۔
    سوال نمبر 19:
    نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ظاہری زمانے میں زکوٰۃ وغیرہا سونا، چاندی، درہم و دینار میں ادا کی جاتی تھی حالانکہ دیوبندی ریال، ڈالر اور روپے وغیرہا کی صورت میں بھی زکوٰۃ لیتے ہیں اور دیتے بھی ہوں گے تو کیا یہ چیز نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام کی مخالفت نہیں کہلائے گی؟ اگر نہیں تو کیوں؟
    سوال نمبر 20:
    تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی، مجلس احرار، مجلس ختم نبوت، حزب التحریر الدعوۃ والارشاد، جماعت اہل حدیث، سپاہ صحابہ، جمعیت علماء اسلام، جمعیت اشاعت التوحید والارشاد، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ۔ کیا اس طرح کی جماعتوں کا صحابہ کے دور میں وجود تھا؟ اگر نہیں تو ان کو کون سی بدعت کہیں گے؟
    سوال نمبر 21:
    سیرت النبیﷺ کانفرنس، محمد رسول اﷲﷺ کانفرنس، سید البشرﷺ کانفرنس، ختم بخاری، دورہ حدیث کیا صحابہ کرام نے ایسی کانفرنس اور اس نام سے منعقد کی ہیں؟ اگر نہیں تو یہ سارے کام دیوبندیوں کے نزدیک کیا ہیں؟ شرک یا بدعت نیز دیوبندی وہابی خود کیاٹہرے؟ مشرک یا بدعتی؟
    سوال نمبر 22:
    رائے ونڈ سے تین روزہ، دس روزہ، چالیس روزہ چلہ، بستر باندھ کر چائے دانی، چولہا اور نسوار کی ڈبیہ لے کر اہل خانہ کے حقوق پس پشت ڈال کر گھر سے نکلنا سنت ہے یا بدعت؟ نیز ایسا کرنے والوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    سوال نمبر 23:
    اسکول اور مدرسوں میں بچوں کو چھ چھ کلمے ان کے نام اور ان کی ترتیب حضور اقدسﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت نہیں لیکن اس کے باوجود سارے دیوبندی یہ کام کرتے ہیں تو آیا یہ کام سنت ہیں
    یا بدعت؟
    سوال نمبر 24:
    نکاح کے وقت ایمان مفصل و مجمل پڑھانا کس صحابی کی سنت ہے؟ اگر کسی صحابی سے اس طرح ثابت نہیں تو دیوبندی اس عمل کو کیا سمجھ کر کرتے ہیں؟ سنت یا شرک یا بدعت؟
    سوال نمبر 25:
    قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنا صحابہ سے ثابت ہے۔ لیکن حدیث پاک کو کتابی شکل میں جمع کرنا کس کا طریقہ ہے؟ آیا یہ کام جائز ہوا یا بدعت؟ ائمہ محدثین کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نیز دیوبندی مکتبوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    سوال نمبر 26:
    اپنے اجتماع میں نعرہ لگوانے کے لئے لفظ ’’نعرہ تکبیر‘‘ کہنا تو ایسا کہنا یعنی ’’نعرہ تکبیر‘‘ کہنا یہ لفظ نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں کہیں آیا ہے۔ تو اس جدید لفظ سے نعرہ کہلوانا جائز ہوگا یا بدعت؟ اور سارے دیوبندی وہابی نعرہ تکبیر اپنے جلسوں میں لگا کر بدعتی ہوئے یا نہیں؟ ہوئے اور یقینا ہوئے۔ اب کل بدعۃ ضلالۃ والے قاعدہ کا کیا ہوا؟
    سوال نمبر 27:
    مسجدوں پر مروجہ مینار بنانا قرآن و حدیث کے ظاہری الفاظ سے ثابت نہیں مگر سارے وہابی دیوبندی مینار بنواتے ہیں اور جو عمل قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو اور کوئی کرے تو وہ کیا کہلائے گا؟
    سوال نمبر 28:
    حدیث شریف میں اونٹ، گائے، بکری، دنبہ جانوروں کی قربانی کا ذکر ہے اور ان کے دودھ کے پینے کا جواز ہے مگر بھینس کا وجود نہیں تو اس کے دودھ کا کیا حکم ہے اور جو روزانہ اس کے دودھ کی چائے اپنے مدرسہ میں پلائے تو کیا حکم لگنا چاہئے؟ نیز حلال کیسے کہلائے گا؟
    سوال نمبر 29:
    دیوبندیوں کے درس کی مشہور کتاب ’’تبلیغی نصاب‘‘ جس کا نام بدل کر فضائل اعمال رکھا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ
    ’’اگر ہر جگہ درود و سلام دونوں کوجمع کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے یعنی بجائے السلام علیک یا رسول اﷲ کے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ یعنی صلوٰۃ کالفظ بھی بڑھا دیا جائے تو بہتر ہے‘‘
    (ملاحظہ کیجئے اعمال باب فضائل درود ص 23، مکتبہ محمد عبدالرحیم تاجر کتب لاہور)
    کیا اس پر عمل کرنا چاہئے؟ اگر نہیں تو یہ منافقت کیوں؟
    سوال نمبر 30:
    یہ دو اشعار بدعت ہیں یا شرک؟
    میری کشتی پار لگادو یا رسول اﷲ (حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی)
    (کلیات امدادیہ ص 205، دارالاشاعت کراچی)
    یارسول اﷲ بابک لی (اشرف علی تھانوی)
    اے خدا کے رسول تیر دربار میرے لئے ہے
    (نشر الطیب ص 164، دارالاشاعت کراچی)
    سارے دیوبندی مل کر جواب دیں کہ حاجی صاحب اور تھانوی صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے بدعتی ہونے کا یا پھر مشرک ہونے کا؟
    سوال نمبر 31:
    قرآن و حدیث نیز اشرف علی تھانوی سے (نشر الطیب میں) نبی پاکﷺ کی نورانیت ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کو ماننے والے نبی پاکﷺ کی نورانیت کے قائل ہیں لیکن اشرف علی تھانوی کے ماننے والے منکر ہیں۔ اب جو تھانوی کی بات کو نہ مانے تو کیا فتویٰ ہے؟ نیز تھانوی صاحب کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟
    سوال نمبر 32:
    فتاویٰ رشیدیہ کے مصنف یعنی رشید احمد گنگوہی جو خدا نہیں، غیر اﷲ ہے اس کے لئے یہ اشعار کہنا کیسا ہے، کفر یا شرک؟
    مردوں کو زندہ کیا اور زندوں کو مرنے نہ دیا
    اس مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابن مریم
    سوال نمبر 33:
    جو شخص خود کو دیوبندی کہے اور آپ کی جماعت بھی خود کو دیوبندی جماعت کہلواتی ہے ۔ کیا کسی صحابی نے خود کو دیوبندی کہا تھا؟
    سوال نمبر 34:
    جشن دیوبند کے تحت چند سوالات، صد سالہ جشن، دیوبند منایاگیا۔ اس میں ہندو عورت کو صدارت کے لئے بلایا گیا تو سوال یہ ہے کہ:
    (الف) جشن دیوبند منانا جائز تھا یا حرام؟
    (ب) ہندو عورت کو اجتماع میں بلاکر اور پھر اسے اپنے آگے بڑھا کر دعا مانگنا جائز ہے یا ناجائز؟
    (ج) کیا ہندو عورت کو عزت مآب کہہ کر جشن دیوبند میں مخاطب کرنا جائز تھا یا حرام؟
    (د) جشن دیوبند پر 75 لاکھ سے زائد رقم خرچ کرنا جائز تھا یا اسراف؟
    (ہ) ننگے سر، ننگے منہ، برہنہ بازو عورت کے ساتھ دیوبندی مولویوں کا بیٹھنا جائز تھا یا حرام؟
    (د) اجتماع میں ہندو عورت کو بلانا مسلمانوں کا طریقہ ہے یا کافروں کا؟
    ملاحظہ کیجئے:
    ٭ روزنامہ مشرق، نوائے وقت لاہور 22-23 مارچ 1980ء ٭ روزنامہ جنگ کراچی 3 اپریل 1980ء ٭ روزنامہ جنگ راولپنڈی 2 اپریل 1980ء
    ٭ نوٹ: مزار کی نفی کرنے والو! اپنے کرتوتوں کو دیکھو! میلاد شریف اور اولیاء کے بغض کی وجہ سے تمہارا کیا انجام ہوا؟
    سوال نمبر 35: معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ نبی پاکﷺ کے علم مبارک کو معاذ اﷲ چوپایوں کے ساتھ ملانا (ملاحظہ ہو حفظ الایمان، تھانوی کی گستاخانہ عبارات ص 13، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
    اور معاذ اﷲ نماز میں آپﷺ کے خیال مبارک کو بیل و گدھے کے خیال سے زیادہ برا قرار دینا (صراط مستقیم صفحہ 86، فصل سوم در ذکر مخلات عبادت مطبع مجتبائی دہلی) گستاخی ہے یا نہیں؟ اگر ہے اور یقینا ہے پھر اشرف علی تھانوی اور اسماعیل دہلوی قتیل بالا کوٹ کیا کہلائیں گے جنہوں نے ایسا گستاخانہ فتویٰ دیا۔ اب اﷲ تعالیٰ کا ارشاد سنو۔
    لا تعذروا قد کفرتم بعد ایمانکم
    چند علمی سوالات
    سوال نمبر 36:
    ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ قاعدہ کلیہ کا کیا معنی ہے؟
    سوال نمبر37:
    اگر کوئی ہندو اپنے بت کے نام پر جانور پالے اور کوئی مسلمان اس جانور (بکری وغیرہا) کو معاذ اﷲ چوری کرے اور بوقت ذبح اﷲ کا نام لے اور ذبح کر ڈالے اس کا گوشت حلال ہوگا یا حرام؟
    سوال نمبر 38:
    ان چار چیزوں کی جامع مانع تعریف کیا ہے، جس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔
    شرک بدعت دین عبادت
    سوال نمبر 39:
    کیا صحابہ کے دور میں اصول حدیث یا اصول فقہ وغیرہما کے قوانین کا وجود تھا۔
    سوال نمبر 40:
    جو کام نبی پاکﷺ یا صحابہ کرام علیہم الرضوان نے نہ کیا ہو، وہ آپ کے نزدیک بدعت ہے۔ آیا بدعت کی یہ تعریف قرآن میں ہے تو کون سی سورت میں اور اگر حدیث میں ہے تو کون سی حدیث ہے؟
    سوال نمبر 41:
    جو شخص میلاد شریف، عرس، گیارہویں وغیرہا کو فرض و واجب نہ سمجھتا ہو، اس سے یہ کہنا کہ قرآن و حدیث سے اس کے ضروری ہونے کا حوالہ دو تو ایسے جاہل کو آپ کیا کہیں گے جو مستحب عمل پر نص قطعی سے ثبوت مانگے؟
    سوال نمبر 42:
    جمعہ کے خطبہ میں خلفائے اربعہ سیدنا صدیق اکبر، سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان ذوالنورین اور سیدنا علی المرتضیٰ اور عشرہ مبشرہ علیہم الرضوان کا نام لینا قرون ثلاثہ میں لیا جاتا تھا یا نہیں؟ معتبر حوالہ دیں۔
    سوال نمبر 43:
    حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی لکھتے ہیں:
    فقیر کا مشرب اس امر میں یہ ہے کہ ہر سال اپنے پیرومرشد کی روح مبارک پر ایصال ثواب کرتا ہوں اور اول قرآن خوانی ہوتی ہے اور گاہ گاہ اگر وقت میں وسعت ہو تو مولود پڑھا جاتا ہے پھر ماحضر کھانا کھلایا جاتا ہے اور اس کا ثواب بخش دیا جاتا ہے
    (ملاحظہ کیجئے: فیصلہ ہفت مسئلہ کلیات امدادیہ ص 83)
    (الف) آیا ایسا کرنا شرک ہے یا بدعت یا مستحب؟ حاجی صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    (ب) بالکل اسی طرح سنی مسلمان ایصال ثواب کی محفل گیارہویں وغیرہ کرتے ہیں لیکن تم لوگ گیارہویں شریف (یعنی ایصال ثواب کی محفل) کیوں نہیں کرتے حالانکہ تمہارے سارے بڑے بڑون اشرف علی تھانوی، رشید احمد گنگوہی، قاسم نانوتوی وغیرہم کے پیرومرشد ایصال ثواب کی محفل منعقد کرتے تھے۔
    (ج) آپ کا یہ عمل پیر کی مخالفت یا موافقت… کیا کہلائے گا؟
    سوال نمبر 44:
    ہر سال دیوبندی وہابی مدارس کے لئے چرم قربانی کی باقاعدہ بڑے بڑے پوسٹر کے ذریعے اپیل کی جاتی ہے۔ کیا مروجہ اپیل کی طرح دور صحابہ میں کوئی مثال موجود ہے؟ یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر دیوبندی وہابی بدعتی ہوئے یا نہیں؟
    سوال نمبر 45:
    حال ہی میں دارالعلوم دیوبند کے سالانہ جلسہ دستار میں ہندو پنڈت نے نہ صرف شرکت کی بلکہ دیوبندی علماء و طلباء کو اپنے وعظ سے بھی محظوظ کیا جس پر لطف یہ ہے کہ ہندو پنڈت اپنے مخصوص لباس میں تھا۔ اس کے باوجود دیوبند کے اسٹیج پر اس کو بڑی عزت دی گئی۔ آیا کافر کی تعظیم کرنے سے ایمان سلامت رہتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
    سوال نمبر 46:
    چند ماہ قبل ایک انگریز کافرہ عورت کو بنوری ٹائون والوں نے انتہائی عزت دی حتی کہ وہاں کے مفتی نعیم نے اس کو اپنے ادارے کا وزٹ کروایا اور اس دوران وہ بھی اپنے مخصوص لباس میں تھی، کیا یہ سب کام وہاں جائز ہیں! اگر نہیں تو پھر نعیم کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز اگر محفل میلاد پاک میں خواتین اپنے اپنے گھروں میں پردے کا اہتمام کرکے ذکر سولﷺ کرتی ہیں تو دیوبندی اس کو شرک و بدعت سے تعبیر کرتے ہیں اور اپنے ادارے میں انگریز عورت کو نیم عریاں وزٹ کروانے سے وہی فتویٰ کہاں گیا؟
    سوال نمبر 47:
    دیوبندیوں کا حکیم لکھتا ہے کہ
    طاعون کا ایک متبرک علاج منجملہ اور علاجوں کے ذکر نبی کریمﷺ بھی ہے اور یہ علاج تجربہ میں آیا ہے۔ یعنی میں نے ایک کتاب نشر الطیب لکھی ہے۔ حضورﷺ کے حالات میں اس کے لکھنے کے زمانہ میں خود اس قصبہ میں تھا جس میں طاعون تھا تو میں نے یہ تجربہ کیا۔ جس روز اس کا کوئی حصہ لکھا جاتا تھا، اس روز کوئی حادثہ نہیں سنا جاتا تھا اور جس روز وہ ناغہ ہوجاتی تھی۔ اس روز دو چار اموات سننے میں آتی تھیں تو مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ حضورﷺ کے ذکر مبارک کی برکت ہے۔ آخر میں یہ التزام کیا کہ روزانہ کچھ حصہ اس کا ضرور لکھ لیتا تھا۔ آج کل بھی لوگوں نے مجھے طاعون ہونے کے متعلق اطراف و جوانب سے لکھا ہے تو میں نے ان کو بھی جواب میں یہی لکھا ہے کہ نشر الطیب پڑھا کرو!!
    ملاحظہ ہو(میلاد النبیﷺ از تھانوی ناشر بک کارنر شوروم جہلم)
    اس پر سوال یہ ہے کہ طاعون (بیماری) سے نجات کے لئے نشر الطیب کتاب کا ختم پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو مشکلات کے لئے قصیدہ بردہ شریف یا ختم قادریہ وغیرہا کرنا کیوں ناجائز ٹھہرے؟
    سوال نمبر 48:
    یوم صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ! امیر المومنین حضرت فاروق اعظم، امیر المومنین حضرت عثمان غنی، امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہم کے دور خلافت میں بار بار آیا۔ کیا ان میں سے یا ان کے بعد تابعین یا تبع تابعین نے یوم صدیق اکبر منایا؟ اگر نہیں تو یوم صدیق اکبر منانا نیز یوم صدیق اکبر، یوم فاروق اعظم، یوم عثمان غنی اور یوم مولا علی رضی اﷲ عنہم اجمعین پر عام تعطیل کی اپیل کرنا فرض ہے یا سنت یا بدعت؟
    سوال نمبر 49:
    سپاہ صحابہ کی ریلی ہو یا کوئی اور ریلی رنگ برنگے جھنڈے لہرانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو میلاد النبیﷺ کی ریلی میں سبز نعلین والے جھنڈے لہرانا ناجائز کیسے ٹھہرے گا نیز تمہارا یہ رنگ برنگے جھنڈے لہرانا فرض ہے یا سنت یا بدعت؟
    سوال نمبر 50:
    آخری سوال آپ سے یہ ہے کہ رشید احمد گنگوہی کے اس فتوے کا کیا جواب ہوگا؟
    سوال: جس جگہ زاغ معروفہ (یعنی مشہور و معروف عام کوا جسے کالا کوا کہتے ہیں) کو اکثر حرام جانتے ہیں تو ایسی جگہ اس کوا کھانے والے کو کچھ ثواب ہوگا یا نہ ثواب ہوگا نہ عذاب؟
    الجواب: ثواب ہوگا
    (فتاویٰ رشیدیہ، ص 597، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
     
  • PariGul

    PariGul Guest

    مروجہ عید میلاد اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحبؒ
    1۔ حاجی صاحبؒ صرف نفس ذکرَ ولادت حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے قائل تھے۔نہ کہ فرقہ بریلویت کی مروجہ عید میلاد۔
    2۔حاجی صاحبؒ مروجہ میلاد میں تخصیصات)جھنڈے لگانا،جلوس نکال کر روڈ بلاک کرنا،قیام کو واجب سمجھنا،ان سب کو قرآن و حدیث سے تفسیر بالرائے جوکہ حرام ہے کے زریعے مروجہ عید میلاد ثابت کرنا جبکہ خود بریلوی مانتے ہیں کہ یہ عید 600 ہجری کے بعد ایجاد ہوئی(کوعبادتِ مقصودہ نہیں سمجھتے تھے۔کیونکہ عبادت مخصوصہ کا خاص وقت متعین کرلینا جو شریعت سے ثابت نہ ہو دین میں اپنی رائے کو دخل دینا اور سنت کے مخالف ہے۔ چناچہ شاہ عبد العزیز صاحبؒ لکھتے ہںن کہ:
    "اور جن پر صاحبِ شرع سے ترغبچ اور وقت کی تعنو موجود نہ ہو وہ فعل عبث اور آنحضرتﷺ کی سنت کے خلاف ہے،اور جو چزھ آنحضرتﷺ کی سنت کی مخالف ہو وہ حرام ہے،پس ہرگز وہ جائز نہںو۔(فتاوٰی عزیزی جلد1 صفحہ 94)
    3۔حاجی صاحبؒ نے صاف لکھا ہے کہ قیام شرعاً واجب نہیں۔جبکہ عبد السمیع رامپوری
    بریلوی حنابلہ سے اپنی تائید میں نقل کرتے ہیں کہ:"حضور ﷺ کی ولادت کے ذکر کے وقت قیام کرنا واجب ہے۔(انوارِ ساطعہ ص250)
    4۔حاجی صاحبؒ نے جو قیام کے مسئلہ میں جو مشرب بتایا ہے تو اس پر ان کے پاس محض دلیلِ کشفیہ ہے نہ کہ کوئی دلیلِ شرعی۔لہذا آپ کے اس عمل کو حجت نہیں مانا جاسکتا تھا۔جیسا کہ فرقہ بریلویہ کے بانی احمد رضا خان صاحب کے والد نے صاف لکھا ہے کہ: دلیل کتاب و سنت سے لائی جائے۔مشائخ کے فعل و قول سے نہیں دی جاتی"۔(انوار جمال مصطفی۔ص424۔نقی علی خان)۔بہرحال حاجی صاحبؒ کے کیفیاتِ قیام کو بریلوی حضرات کا اپنے قیامِ کیفیات پر منجملہ عقیدہ علم غیب اور وجوبِ عمل پر قیاس کرنا بھی جہالت ہے۔
    5۔حاجی صاحبؒ بوقت قیام حضور ﷺ کا بزیعہ کشفیہ اور قدرت الہٰیہ رونق افروز ہونے کے لئے علم غیب کو لازم نہیں سمجھتے۔ اور علم غیبِ کی عطائی تقسیم کرنے والوں کے منہ بند کرتے ہوئے صاف لکھتے ہیں کہ علم غیب خصائص ذاتِ حق سے ہے کیونکہ علم غیب وہ ہے جو مقتضیٰ ذات (خودبخود ذات کا تقاضا ہو کسی کا دیا ہوا نہ ہو۔) کا ہے۔اور جو باعلام خداوندی ہے۔وہ ذاتی نہیں بالسبب ہے۔(فیصلہ ہفت مسئلہ-مولد شریف) یعنی جو عطائی ہو اس پر علم غیب کا اطلاق ہی نہیں ہوسکتا اور جو بالسبب ہو تو وہ اخبارِ غیب،انباء علی الغیب،اطلاع علی الغیب،وحی الہٰیہ اور کشف کے قبیل سے ہوگا۔
    6۔آخری بات یہ کہ جب اتباع شریعت کا مسئلہ آتا ہے تو علماء اہل سنت دیوبند کے مخالفین کو نصیحت کرتے ہوئے فیصلہ ہفت مسئلہ کے صفحہ 13 پر یوں ارشاد فرماتے ہیں:
    اہل اللہ کی صحبت و خدمت اختیار کریں خصوص عزیزی مولوی رشید احمد صاحبؒ (گنگوہی) کے وجود بابرکت کو ہندوستان میں غنیمت کبرٰی و نعمت عظمیٰ سمجھ کر ان سے فیوض و برکات حاصل کریں کہ مولوی صاحب موصوف جامع کمالات ظاہری و باطنی کے ہیں ان کی تحقیقات محض للہیت کی راہ سے ہیں ہرگز اس میں شائبہ نفسانیت نہیں یہ وصیت تو مولوی صاحب کے مخالفین کو ہے۔ کلیات امدادیہ صفحہ 86
    ہے کوئی سچا جانشین بریلوی جو حاجی صاحبؒ کی اس نصیحت کو قبول کرے ؟؟؟​
     
  • Thread Status:
    Not open for further replies.

    Share This Page