1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

swal o jawab Melad Manana Durst He Ya Wrong?

Discussion in 'Baat Cheet' started by PariGul, Dec 18, 2015.

Thread Status:
Not open for further replies.

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    ہماری پوسٹ کو ہی ڈلیٹ کر دیا گیا ہے۔تاکہ مزید کوئی اور موازنہ کرسکےاور دھرے معیار کو نہ دیکھ سے اور ہم نے کبھی چاہا بھی نہی کسی کے عقیدے کو چھیڑا جائے اور اپنے کو چھوڑا جائے۔یہ پروپرایئٹر کی اپنی مرضی تھی اس تھریڈ کو جرح کیلئے اوپن رکھا جائے۔تاکہ سبھی اصلاح ہو اور جس کی آڑ میں عید میلاد النبی منانے والوں غلط ثابت کیا جائے۔اور جب اسکا ترقی بہ ترقی جواب دیا گیا تو اعتراض کیا جارہا ہے سوال کرنے والا رکن کوئی عالم نہی ہے اور آپ کہتے ہیں آپکی چپ کا غلط مطلب نہ لیا جائے۔توبھائی پھر چپ ہی سادھے رکھتے الجھنے کی کیا ضرورت تھی۔اپنے مسلک والوں کی معاونت بھی کرتے ہیں اورایسے اراکین کی طرفداری بھی کرتے ہیں۔شکریہ
     
  2. sahil_jaan
    Online

    sahil_jaan Guest

    بے شک زاہد صاحب اس تھریڈ کو اس لیے اوپن رکھا گیا تھا کہ اصلاح کی جا سکے لیکن اخلاقیات کے دائرے کار میں رہتے ہوئے جو کچھ بھی آپ بیان کرنا چاہتے ہیں وہ کریں اس بات کا کیا مطلب ہوا کہ
    کہ اسلام کیا تیرے باپ کی جاگیر ہے
    یہودیوں نے بھی نبی پاک ﷺ سے مناظرہ کیا تھا تو کیا آپ نے کبھی صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے چھوڑا اور کسی کو بھی اس طرح کےاشتعال انگیر جوابات دئیے
    اس لیے ایسی کوئی بھی فضول پوسٹ اس تھریڈ میں رہنے نہیں دی جائے گی جس سے کسی کے بھی جذبات مجروح ہونے کا خدشہ ہو
    ہم نے صرف اصلاح کی جانب ایک تدبیر کی ہے جس میں آپ سب کو تحمل مزاجی اور صبر کے ساتھ ایک دوسرے کے سوالات کے جوابات دینے چاہیے تاکہ سبھی کے شہبات دور ہو سکیں
    اور یہ بھی درست ہے کہ سوال کرنے والا کوئی عالم نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ جواب دینے والا بھی کوئی عالم نہیں دونوں فریق ایک ہی کسوٹی پر ہیں پھر لڑائی جھگڑا کیوں
    یہ صرف ایک مناظرہ ہے جس میں آپ کو عید میلاد النبی ﷺ کے متعلق اختلافی سوالات کا تسلی بخش جواب دینا ہے
    آپ کے علم سے مستفید دوسرے ممبران بھی ہو رہے ہیں اس لیے آپ سب سے گزارش ہے کہ معاملے کو الجھائے بغیر حل کریں
    کوئی ایک ایسی لاجواب پوسٹ کریں جس سے مخالف فریق لاجواب ہو اور معا ملہ ختم ہو


     
  3. Mudasser afzal
    Offline

    Mudasser afzal Newbi
    • 1/8

    میری جانب سے یہ پوسٹ پڑھیں جو میں نیٹ سے لی ہے
    عيدمیلاد النبیﷺ کی حقیقت

    عید میلاد
    رسول اکرم ﷺ کے دور میں:-

    قران مجید کی کسی آیت سے صراحتا و قنایتا کوئ دلیل نہییں ملتی جس سے کسی کی سالگره یا میلاد منانے کی دلیل لی جا سکے،اور نہ ہی کسی صحیح حدیث سے ثابت هوتا ہے
    آپﷺ کی تین صاحبزادیاں
    حضرت زینب ، حضرت ام کلثوم، حضرت رقیہ رضی اللہ عنهما کی وفات آپکی زندگی میں ہوئ لیکن ان میں سے کسی کا سالگرہ آپﷺ نے نہیں منایا جبکہ نبی هونے کے بعد 23 سال آپﷺ زندہ رہے لیکن اس عرصے میں نہ آپﷺ نے کسی صحابہ کو اپنی تا ریخ ولادت پر سالگرہ منانے کا حکم دیا اورنہ ہی اصحاب کرام نے اس عر صہ میں اپکی تاریخ ولادت پر اپنے طرف سے میلاد منائے


    میلاد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں:-

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد 5 اصحاب نے خلافت و حکومت چلائ مگر ان پانچوں میں سے نہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانے میں کبہی عید میلاد منائ گئ اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ اور نہ علی رضی اللہ عنہ اور نہ امیر معاویه رضی اللہ عنہ نے


    میلاد تابعین یا تبع تابععین کے دور میں:-
    صحابہ کرام کے بعد سب سے افضل اور قابل اعتماد لوگ تابعین اور انکے تبع تابعین ہے مگر تاریخ شاہد ہے کہ ان افراد میں سے کسی فرد نے بہی آپﷺ کی تاریخ پیدائش سالگرہ یا عرش نہیں منایا


    میلاد ائمہ ومحدثین اورفکہائے عظام کے دور میں:-

    أئمہ ومحدثین اور فقہائے عظام مثلا ابو حنیفہ رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ امام احمد رحمہ اللہ سفیان عناویہ رحمہ اللہ امام اوزاعی رحمہ اللہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم رحمہ اللہ اور تمام علماءحدیث وفقہ میں سے کسی نے میلاد نہیں منائ اور نہ ہی انکے زمانے میں منائ گئ اور نہ ان میں سے کسی نے اجازت دی اسلئے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت منقول ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا " من احدث فی امرنا هذا ما لیس منه فہو رد" رواہ البخاری
    اور اسلئےکہ قرآن اور حدیث میں میلاد یا عرش منانے کا کوئ ثبوت نہیں ملتا لہذا یہ قران و حدیث کی نگاہ میں ایک مذموم و من گهڑت بدعات کے سوا کچهہ نیہں


    جشن عید میلاد کا موجد

    جشن عید میلاد النبی کی ابتداء ابوسعید کوکبوری بن ابی الحسن علی بن محمد الملکب الملک المظم مظفر الدین اربل (موصل) متوفی 18 رمضان 630هہ نے کی یہ بادشاہ ان محفلوں میں بے دریا پیسہ خرچ کرتا اور الات لهو لعب کے ساتھ راگ ورنگ کی محفلیں منعقد کرتا تها
    مولانا رشید احمد گنگوہی لکهتے ہیں اہل تاریخ نے صراحت کی ہے کہ یہ بادشاہ بهانڈؤں گانے والوں کو جمع کرتا گانے آلات سے گانا سنتا اور خود ناچتا
    حوالہ فتوی رشیدیه صفحہ 123

    یہ تو تها اسکا موجد جهاں تک اسکے جواز کا فتوی دینے والے شخص کا نام ہے
    ابوالخطاب عمر بن الحسن المعروف بابن دحیا کلبی متوفی 633هہ
    حافظ حجر اپنی کتاب لسان المیزان جلد 2 صفحہ 295 میں لکهتے ہیں کہ میں نے تمام لوگوں کو دحیا کلبی کے جهوٹ اور ضعیف ہونے پر متفق پایا ہے

    امام احمد بصری لکهتے هیں چاروں مذاہب کے علماء عید میلاد منانے اور اس میں شامل ہو نے کی برائی پر اتفاق کر لیا ہے
    (حوالہ تاریخ میلاد صفحہ 115)
    ج

    شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکهتے کسی پیغمبر کی وفات یا تولد کے دن کو عید کی طرح منانا جائز نہیں ہے
    (حوالہ تحفہ اثنا عشر یه)

    علامہ رشید رضا
    میلاد کا یہ عمل بدعت ہے خیرالقرون کے سلف صالحین میں سے کسی کی طرف سے اس کی بابت کوئی چیز منقول نہیں هے
    (حوالہ محفل میلاد النبی پر تحقیقی بحث عبداللہ بن زید المحمود صفحہ 63)

    علامہ تاج الدین
    فاکهانی نے کہا کہ محفل میلاد کی کوئی اصل، کتاب وسنت سے مجھے نہیں ملی اور نہ ایسے علماء سے منقول ہے جو دین کے پیشوا اور آثار سلف سے تمسک کر نے والے تهے بلکہ وہ ایک بدعت ہے جسے باطل پرستوں نے ایجاد کیا ہے
    (حوالہ المنکرات فی العقائد )

    شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ
    عمل مولد بعض لوگوں نے نصاریٰ کی اتباع میں ایجاد کیا ہے یا نبی کی تعظیم میں آپکےیوم ولادت کے موقع پر جو عید میلاد منائی جارتی ہے یہ عمل مولد سلف صالحین نے نہیں کیا (حوالہ اقتضاءالصراط المستقیم)

    علامہ شیخ احمد بن حجر
    عید میلاد النبی کی بدعت ساتویں صدی ہجری میں موصل میں واقع اربل کے بادشاہ مظفر نے ایجاد کی تهی(حوالہ بدعت اور ان کا شرعی پوسٹ مارٹم ڈاکٹر یوسف قرضاوی


    حافظ ابوبخکربغدادی حنفی {المنکرات فی العقائد) میں لکهتے هیں بےشک عید ملادالنبی کا عمل سلف سے منقول نهیں هے

    محمدبن ابوبکرمخزومی کهتےهیں تمام برائیوں سے بڑھکربرائی رسولﷺ کا میلاد کرنا هے (تاریخ میلاد)
     
  4. sahil_jaan
    Online

    sahil_jaan Guest

    نجم بھائی غصہ کرنے سے مسائل کا حل نہیں نکلتا ہے بلکہ مسائل بڑھتے ہیں
    آپ کہتے ہیں اختلافی مسائل کسی بھی فورم پر منع ہیں نیٹ پر سرچ ماریں تو اتنے فورمز ملیں گے جو انہیں مسائل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو باقاعدہ بنایا ہی اس مقصد کے لیے گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے شبہات کو دور کیا جائے اور کسی بھی ایسے فورم پر کبھی بھی کسی نے نازیبا یا غصہ آمیز الفاظ سے سوال کرنے والے کو پریشان نہیں کیا ہے بلکہ بہت محبت اور دلیل کے ساتھ اس کو مطمئن کیا ہے آپ سے بھی ایسا ہی کرنے کی گزارش ہے
     
  5. Mudasser afzal
    Offline

    Mudasser afzal Newbi
    • 1/8


    عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے والو ں کی دسویں دلیل )

    میلاد منوانے اور منانے والے میرے کلمہ گو بھائی کہتے ہیں ''' ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اُنکی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں ، اور جو ایسا نہیں کرتے اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مُحبت نہیں، وہ محروم ہیں '''، بلکہ اِس سے کہیں زیادہ شدید اِلفاظ اِستعمال کرتے ہیں ، جِن کو ذِکر کرنا میں مُناسب نہیں سمجھتا ،
    ::::: جواب :::::
    دِلوں کے حال اللہ ہی جانتا ہے ، ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی بہت خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دِین ہم تک پہنچانے کےلیے اُنہیں مبعوث فرمایا ، اور دِین دُنیا اور آخرت کی ہر خیر ہم تک پہنچانے کا ذریعہ بنایا ، لیکن جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دُنیا سے اُٹھا لیا ، وہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ، نزولءِ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ، تو ساری خوشی رخصت ہو جاتی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا غم اُن کی پیدائش کی خوشی سے بڑھ کر ہے ، کہ دِل نچڑ کر رہ جاتا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اُن میں سے بنائے جِن کی زندگیاں اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت کی عین اِتباع میں بسر ہوتی ہیں اور ہر بدعت سے ہمیں محفوظ فرمائے ، اُن سے نہ بنائے جنہیں بدعات پر عمل کرنے کی وجہ سے روزِ محشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض مبارک سے ہٹا دِیا جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے لیے بد دعا کریں گے ، چلتے چلتے یہ حدیث مبارک بھی ملاحظہ فرمائیے ، اور بدعتِ حسنہ کے فلسفہ پر غور فرمائیے :::
    عن اَنس عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال ( اِنِی فَرطُکُم عَلیٰ الحَوضِ مَن مَرَّ عليَّ شَرِبَ و مَن شَرِبَ لم یَظمَاء ُ اَبداً لَیَرِدُنّ عَليّ اَقواماً اَعرِفُھُم و یَعرِفُونِي ثُمَّ یُحَالُ بینی و بینَھُم فاَقولُ اِِنَّھُم مِنی ، فَیُقال ،اِِنکَ لا تدری ما اَحدَثُوا بَعدَکَ ، قَاَقُولُ سُحقاً سُحقاً لَمِن غَیَّرَ بَعدِی ) و قال ابن عباس سُحقاً بُعداً سُحیقٌ بَعِیدٌ سُحقۃً ، و اَسحقہُ اَبعَدُہ ُ( میں تم لوگوں سے پہلے حوض پر ہوں گا جو میرے پاس آئے گا وہ ( اُس حوض میں سے ) پیئے گا اور جو پیئے گا اُسے ( پھر ) کبھی پیاس نہیں لگے گی ، میرے پاس حوض پر کچھ الوگ آئیں گے یہاں تک میں اُنہیں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے ( کہ یہ میرے اُمتی ہیں اور میں اُن کا رسول ہوں)، پھر اُن کے اور میرے درمیان کچھ (پردہ وغیرہ)حائل کر دیا جائے گا ، اور میں کہوں گا یہ مجھ میں سے ہیں ( یعنی میرے اُمتی ہیں ، جیسا کہ صحیح مُسلم کی روایت میں ہے )، تو ( اللہ تعالیٰ ) کہے گا تُم نہیں جانتے کہ اِنہوں نے تمہارے بعد کیا نئے کام کیئے ، تو میں کہوں گا دُور ہو دُور ہو ، جِس نے میرے بعد تبدیلی کی ) اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ::: سُحقاً یعنی دُور ہونا ، صحیح البُخاری/حدیث ٦٥٨٣ ، ٦٥٨٤/ کتاب الرقاق/ باب فی الحوض، صحیح مسلم / حدیث ٢٢٩٠، ٢٢٩١ /کتاب الفضائل/باب اِثبات حوض نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ ۔
     
  6. Mudasser afzal
    Offline

    Mudasser afzal Newbi
    • 1/8








    ::::::: عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آغاز :::::::
    قُران و سنّت ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کی روشنی میں ، عید میلاد منوانے اور مانے والے بھائیوں کے دلائل کا جواب آپ پڑھ چکے ، اب اِس عید میلاد کی شرعی حیثیت کے بارے میں بات کرنے سے پہلے آئیے تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر بھی دیکھ لیا جائے :::
    کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ کام کب ، کہاں اور کِس نے اور کیوں شروع کیا تھا ؟
    یہ بات تو پوری طرح سے واضح ہو چکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین ، تبع تابعین ،اُمت کے ائمہ و علماء رحمہم اللہ جمعیاًکی طرف سے قران کی کسی آیت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کِسی فرمان ، سابقہ انبیا ء علیہم السلام کے کسی واقعہ ، کا زُبانی یا عملی طور پرایسا کوئی مفہوم بیان نہیں ہوا جِس کو بُنیاد بنا کر ''' عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منائی '''جائے ، پس اس عید کے بدعت ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا ، پھر بھی آئیے ذرا تاریخ کی کتابوں میں جھانک کر دیکھیں :::
    اِمام عبدالرحمان بن اِسماعیل المَقدَ سیّ کی کتاب ''' الباعث علیٰ البدع و الحوادث ''' کے محقق بشیر محمد عیون نے لکھا ::: ''' میلاد منانے کی بدعت سب سے پہلے فاطمیوں نے شروع کی ، اُن کے پاس پورے سال کی عیدیں ہوا کرتی تھیں ، وہ لوگ نئے سال کی عید ، عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، علی ، فاطمہ ، حسن ، حسین رضی اللہ عنہم اجمعین ، کی عید میلاد اور خلیفہء وقت کی عید میلاد منایا کرتے تھے ، اور اِسکے علاوہ نصف رجب کی رات ، شعبان کی پہلی اور آخری رات ، رمضان کی پہلی ، درمیانی ، اور ختمِ قرآن کی رات ، فتح خلیج کا دِن ، نوروز کا دِن ، غطاس کا دِن ، غدیر کا دِن ، یہ سب عیدیں اور راتیں وہ لوگ ''' منایا ''' کرتے تھے پھر ایک فاطمی وزیر افضل شاہنشاہ آیا جِس نے چار عیدیں میلاد کی بند کر دیں ، یعنی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، میلادِ علی اور میلادِ فاطمہ رضی اللہ عنہما ، اور میلادِ خلیفہءِ وقت ، پھر المامون البطائحی نے خلیفہ الآمر باحکام اللہ کے دور میں اِن میلادوں کو دوبارہ چالو کیا ، یہاں تک سلطان صلاح الدین الایوبی کی خلافت قائم ہوئی تو یہ تمام کی تمام عیدیں ، میلادیں ، راتیں وغیرہ بند کر دی گئیں ، لیکن اربل کے حکمران مظفر الدین کوکبری ابو سعید نے جو سلطان صللاح الدین ایوبی کی بہن ربیع کا خاوند تھا اپنے ایک سرکاری مولوی عمر بن محمد موصلی کی ایما پر ٦٥٠ ہجری میں دوبارہ اِس بدعت کا آغاز کیا۔
    تو اِس تاریخی حوالے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اُمتِ اسلام میں ''' عید میلادیں ''' منانے کی بدعت ایک فاطمی ، عبیدی ، المعز لدین اللہ معد بن المنصور اِسماعیل کے دور میں شروع ہوئی ، اور اِسکا دورِ حکومت ٣٤١ہجری سے شروع ہوتا ہے ، (تاریخ الخلفاء جلد ١/صفحہ٥٢٤/فصل الدولۃ الخبیثیۃ العبیدیۃ /مؤلف اِمام عبدالرحمان السیوطی /مطبوعہ مبطع السعادۃ /مصر) اور اِس کے باپ اِسماعیل کی نسبت سے ہی اِن فاطمی عبیدیوں کو اِسماعیلی بھی کہا جاتا ہے ،
    کچھ مورخین ''' عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ''' کی بدعت کا آغاز فاطمیوں کے دور سے نہیں بلکہ اربل کے حکمران الکوکبری کے دور سے ہونا زیادہ صحیح قرار دیتے ہیں ،
    پہلی بات زیادہ مضبوط ہو یا دوسری ، دونوں صورتوں میں یہ بات یقینی ہے کہ ''' عید میلاد ''' نام کی کوئی چیز اللہ کی شریعت مکمل ہونے کے کم از کم ٣٤١ ہجری تک مُسلمانوں میں کہیں نہ تھی ،
    یہ تو ہم جانتے ہیں کہ کِسی خاص واقعہ کے دِن کو ''' تہوار ''' بنانا یہود و نصاری اور دیگر کافر قوموں کی عادت تھی اورہے ، اور اِسلام میں وہ سارے عیدیں اور تہوار منسوخ کر کے مُسلمانوں کے لیے دو تہوار، دو عیدیں دِی گِئیں اور اُن کے علاوہ کوئی تہوار ، یا عید منانے کے لیے نہیں دِی گئی ، جیسا کہ انس ابن مالک رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ''''' اہلِ جاھلیت (یعنی اِسلام سے پہلے مشرکوں اور کافروں )کے کھیلنے (خوشی منانے ) کے لیے سال میں دو دِن تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو فرمایا ( کان لَکُم یَومَانِ تَلعَبُونَ فِیہِمَا وقد اَبدَلَکُم اللَّہ بِہِمَا خَیرًا مِنہُمَا یوم الفِطرِ وَیَومَ الاضحَی ) ( تُم لوگوں کے لیے کھیلنے (خوشی منانے )کے دودِن تھے اور اللہ نے تُمارے اُن دو دِنوں سے زیادہ خیر والے دِنوں سے بدل دِیا ہے اور وہ خیر والے دِن فِطر کا دِن اور اضحی کا دِن ہیں) سنن النسائی / حدیث١٥٥٦ / کتاب صلاۃ العیدین ،السلسۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث 1021 ،
    اور پھر کم از کم تین سوا تین سو سال تک اُمت نے اِن دو عیدوں کے عِلاوہ کوئی عید نہیں ''''' منائی ''''' ، اِس حدیث سے پہلے ذِکر کیے گئے تاریخی حوالے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ میلاد منانا مسلمانوں میں یہودیوں کے روحانی پیروکار فرقے ( الفاطمین ) کی طرف سے داخل کیا گیا ، یہ فاطمین وہ ہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالیاں نکلوانا ، مسجدوں کے دروازوں پر اِن تینوں کے لیے لعنت کے اِلفاظ لکھوانا ، اپنے آپکو سجدے کروانا ، اور کئی دیگر مشرکانہ کام شروع کروائے ، اور جب صلاح الدین ایوبی علیہ رحمۃ اللہ نے اِنکو عیسائیوں کے ساتھ سازش کرنے کی سزا کے طور پر مصر سے نکالا تو یہ ایران اور ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں پھیل گئے ، اور آج دُنیا میں یہ لوگ اسماعیلی کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں اور اِنکا کفر کِسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔
    ہماری یہاں تک کی بات کا خلاصہ یہ ہوا کہ ، اِسلام کی اب تک کی تاریخ یعنی ٨ ١٤٢ سالہ تاریخ میں سے کم از کم سوا تین سو سال اِس بدعت کی کوئی خبر نہیں دیتے ، اگر کِسی کے پاس اِسکے عِلاوہ کوئی خبر ہو تو مجھے مکمل حوالہ کے ساتھ آگاہ کرے ،
    حیرت صد حیرت کہ اتنے لمبے عرصے تک ایک دو نہیں ، دس سو نہیں ، ہزاروں لاکھوں نہیں کڑوڑں نہیں ، بلکہ اربوں مسلمانوں میں سے کِسی کو بھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش ''' منایا ''' جانا چاہئیے ؟
    اور اب عید میلاد منوانے اور منانےوالے ، منع کرنے والوں کو عیسائیوں اور کافروں کی طرح مسلمانوں کی عالمی خوشی منانے میں روکاوٹ جانتے ہیں ،بے چارے شاید یہ تاریخ نہیں جانتے ، اگر جانتے تو سمجھ جاتے کہ ، ''' عید میلاد ''' یا کِسی بھی اور بدعت سے روکنے والے عیسائیوں اور کافروں کا وار روکنے کی کوشش کرتے ہیں ، کیونکہ شیطان اور اُس کے پیروکار کفار و مشرکین کے واروں میں سے یہ بھی ہے ''' حُبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''' کے مُثبت اور مطلوب جذبے کو منفی اور غیر مطلوب راہ پر چلا کر وہ مسلمانوں میں تفریق پیدا کی جائے ،
    رہا معاملہ مسلمانوں کے عالمی اجتماعی جشن کو روکنا تو ایسا وہ کر چکے ہیں ، مسلمانوں میں قمری تاریخوں میں اختلاف پیدا کر کے ، وہ اپنا یہ مقصد حاصل کر چکے ہیں ، اللہ کے دیئے ہوئے بے مثال نظام کو مسلمانوں میں پراگندہ خیال کر کے وہ مسلمانوں کو اس حال تک لا چکے ہیں ہیں اس معلومات کی منتقلی اور تکنیکی عُلوم کے جدید ترین دور میں بھی مسلمان ایک ہی مدار پر ایک ہی رات میں نکلنے والے ایک ہی چاند کو دو دو تین تین دِن کے وقفوں میں دیکھنا مانتے ہیں اور اپنی تاریخ ایک نہیں کر پاتے ، ایک ہی بستی میں روزہ بھی رکھا جارہا ہوتا ہے اور عید بھی کی جا رہی ہوتی ہے ، اس حال تک پہنچانے کے بعد ''' عید میلاد ''' مختلف دِنوں میں ہو یا ایک دِن کفار کو اِس سے کیا غرض ، اُن کی غرض و غایت تو ''' عید میلاد ''' ہونا ہے ، تا کہ اُمتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃُ و السلام ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتی رہے اور اُسے ''' محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''' سمجھ کر کرتی رہے ، چاند اور تاریخوں کی بات پھر کبھی سہی ، اِنشاء اللہ ۔ ::::::::::::::::ایک ضروری بات ::::::::::::::::
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے بارے میں جو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ بارہ ربیع الاول ہے ، تو یہ ایسی بات ہے جِسے محدثین ، محقیقن نے رد کیا ہے ، اِمام الالبانی نے ، اِمام ابنِ کثیر کی ''' سیرتِ نبویہ ''' کی تخریج و تحقیق کی اور ''' صحیح سیرتِ نبویہ ''' تیار کی ، اِس میں اُنہوں نے لکھا کہ '''' تاریخ ولادت کے بارے میں جتنے بھی اقوال ہیں سب کے سب علم مصطلح الحدیث کی کسوٹی پر عیب دار ہیں ، سوائے اُس روایت کے جو اِمام مالک نے صحیح سند سے نقل کی ہے اور وہ روایت بتاتی ہے کہ ::: ''' تاریخ ولادت آٹھ ربیع الاول ہے '''
    الاِمام المحدث عبدالرحمان السھیلی (وفات ٥٨١ہجری )نے ''' الروض الانف/مطبوعہ دار احیا التراث الاِسلامی /بیروت/لبنان ''' میں لکھا کہ ''' بارہ ربیع الاول والی روایات کا مدار زیاد بن عبداللہ البکائی نامی راوی ہے ، جو کہ ضعیف ہے ''' جیسا کہ اِمام محمد بن احمد بن عثمان شمس الدین الذہبی نے ''' من تکلم فیہ ''' میں بیان کیا ۔
    اور مزے کی بات جو کہ اِمام سحمد بن محمد ابنِ خلکان (وفات ٦٨١ ہجری)نے ''' وفیات الاعیان /ترجمہ ٥٤٧/جز ٤/صفحہ١١٨/مطبوعہ دارالثقافۃ /بیروت/لبنان ''' میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نشر کرنے والے مظفر الدین الکوکبری ابو سعید کے بارے میں بیان کی کہ ''' ایک سال آٹھ ربیع الاول کو اور ایک سال بارہ ربیع الاول کو میلاد کیا کرتا تھا کیونکہ یہ دو مختلف روایات ہیں '''
    میلاد ''' منوانے اورمنانے ''' والے میرے کلمہ گو بھائیوں سے یہ پوچھا جانا چاہئیے کہ وہ کِس بُنیاد پر بار ہ ربیع الاول کو ہی درست تاریخ جانتے ہیں ؟؟؟
    اِمام السھیلی نے ''' الروض الانف ''' میں مزید لکھا کہ ''' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات کے بارے میں صحیح اور حق بات یہ ہی ہے کہ وہ بارہ ربیع الاول ہے '''
    میلاد ''' منوانے اورمنانے ''' والے مسلمانوں سے یہ پوچھئیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش زیادہ بڑی خوشی ہے یا اُن کا دُنیا سے رخصت ہو جانا زیادہ غم و اندوہ ؟؟؟ جواب سے وہ خود ہی اپنی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ فرما لیں ۔
     
  7. Mudasser afzal
    Offline

    Mudasser afzal Newbi
    • 1/8

    نجم بھائی بدعت کیا ہوتی ہے؟ اس کی تعریف بیان فرما دیں تو کافی بہتری ہوگی بات سمجھنے میں کہ ہر بات کی تان اسی بات پر آکر ٹوٹتی ہے۔[​IMG]
    اس کے ساتھ یہ بھی کہ "عید میلاد النبی" کی نماز کتنی رکعات کی ہوتی ہے؟ اس کے اوقات کیا ہیں اور اس کے چھوٹ جانے پر قضا کیا ہے؟
    عید میلاد النبی کا مطلب کیا ہے؟ لفظ "عید" کا مطلب کیا ہے اور عربی زبان میں یہ کن معانی میں مستعمل ہے؟
     
  8. Mudasser afzal
    Offline

    Mudasser afzal Newbi
    • 1/8

    جشن عید میلاد النبی جیسی بدعات کو اچھا سمجھنے والے کا رد
    اور سب سے پہلا شخص جس نے اربل شہر ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ايجاد كى وہ ابو سعيد ملك مظفر تھا جس نے ساتويں صدى ہجرى ميں اربل كے اندر جشن میلاد النبی منائى، اور پھر يہ بدعت آج تك چل رہى ہے، بلكہ لوگوں نے تو اس ميں اور بھى وسعت دے دى ہے، اور ہر وہ چيز اس ميں ايجاد كر لى ہے جو ان كى خواہش تھى." ( الإبداع في مضار الابتداع " ( ص 251 )
    اب رہا شریعت اسلامیہ میں اس کے حکم کا سوال تو جب اس بحث سے یہ معلوم ہوگیا کہ میلادساتویں صدی کی پیداوار ہے , اورہر وہ چیز جورسو ل صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کے عہد میں دینی حیثیت سے نہ رہی ہو , وہ بعد والوں کے لئے بھی دینی حیثیت اختیار نہ کرے گی , اورجو مولود آج لوگوں کے درمیان رائج ہے,
    جشن عید میلاد النبی ﷺ ایک بدعت ہے ۔ سید المرسلین ﷺ نے ساری زندگی یہ جشن نہیں منایا اور نہ ہی صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے ۔ بد قسمتی سے مسلمان جشن بھی اس دن مناتے ہیں جس روز آپ ﷺ نے وفات پائی ۔ ۱۲ ربیع الاول تیز میوزک ، گانے اور قوالیوں سے منایا جاتا ہے ۔ جشن کے دنوں میں نعت خوانوں کا بھی خوب کاروبار چلتا ہے ۔نعتیں پڑھنے والوں کا حال یہ ہے کہ :" نبی پاک ﷺ کی سنتوں کے تارک اور اگر عورت ہے تو فل میک اپ اور بے پردہ ہو کر نعت پڑ رہی ہے "۔ کیا یہی رسول ﷺ کی تعلیم ہے ؟ اگر جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا دین ہوتا تو سب سے پہلے صحابہ کرامؓ مناتے ۔
     
  9. yaldaram
    Offline

    yaldaram New Member
    • 1/8

    بریلویوں کی کرسمس (میلاد) پر دلائل کے جوابات
    مولاناساجد خان صاحب نقشبندی
    دلیل:قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذالک فلیفرحوا(یونس ۔آیت ۵۸)
    اس آیت میں اللہ کی رحمت اور فضل پر خوش ہونے کا کہا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ سے بڑا فضل و رحمت رب کی طرف سے اور کیا ہوسکتا ہے؟
    جواب: مولنا یہ آیت تم پر نازل ہوئی یا نبی کریم ﷺ پر؟ اس آیت کے اولین مخاطب تم ہو یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین؟اگر اس آیت سے ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو رنڈیاں نچانا میلاد کرنا جھنڈیاں لگانا جلوس نکالنا او رمیلاد نہ کرنے والوں کو کافر وہابی گستاخ کہنا نبی اور ان کے صحابہ نے سمجھا ہو(معاذ اللہ) تو پیش کرو ورنہ تفسیر کے نام پر تحریف نہ کرو۔
    (۲)قرآن میں آتاہے فانقلبوا بنعمۃ من اللہ و فضل لم یمسسھم سوء (آل عمران آیت۷۴)
    رب صحابہ کو کہہ رہا ہے کہ اس کے فضل و نعمت کے ساتھ جہاد سے لوٹے تو بتاؤ کیا صحابہؓ نے بھی اس نعمت و فضل کی خوشی اسی طرح ہر سال منائی جس طرح تم مناتے ہو؟
    (۳) تمہارا صدر الافاضل سور ہ یونس کی آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے کہ:
    ’’فرح کسی پیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذت حاصل ہوتی ہے اسکو فرح کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ ایمان والوں کو اللہ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہئے کہ اس نے انہیں مواعظ اور شفاء صدور اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت و سکون عطا فرمائے حضرت ابن عباس و حسن و قتادہ نے کہ اللہ کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قرآن مراد ہے ایک قول یہ ہے کہ فضل اللہ سے قرآن اور رحمت سے احادیث مراد ہیں‘‘۔(خزائن العرفان ۔ص:۲۵۶ناشر المجدد احمد رضا اکیڈمی ملنے کا پتہ دارالعلوم امجدیہ کراچی)
    اس تفسیر سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ خوش ہونا دل کا معاملہ ہے نہ کہ جھنڈیاں لگانا جلوس کرنا بھنگڑے ڈالنا کیک کاٹنا،نیز اس آیت سے میلاد کی خوشی نہیں بلکہ مواعظ حسنہ کی خوشی کرنا معلوم ہوئی نیز یہاں فضل و رحمت سے مراد اسلام اور قرآن مراد ہے تو جو چیز آیت سے ثابت ہے اس پر خوشی کبھی زندگی میں نہیں کی اور جس کا آیت میں دور دور تک ذکر نہیں اس کی نام نہاد خوشی پر پورے ملک میں فساد مچایا ہواہے۔
    دلیل:واما بنعمۃ ربک فحدث (الضحی ۔آیت ۱۱)
    اپنے رب کی نعمتوں کا چرچا کرو۔اس آیت میں رب تعالی اپنی نعمتوں کا چرچا کرنے کا حکم فرمارہے ہیں اور نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر نعمت رب کی اور کیا ہوسکتی ہے اس لئے ہم میلا د کرتے ہیں۔
    جواب: مولوی صاحب خدا کا خوف کرو ترجمہ میں تحریف نہ کرو ’’حدث‘‘ واحد کا صیغہ ہے اور تم ترجمہ ’’کرو‘‘ جمع کاکررہے ہو۔اس آیت میں تو کہیں بھی دور دور تک ۱۲ ربیع الاول کو ہر سال جشن کرنے کا ذکر نہیں۔نیز اس آیت میں حکم نبی کریم ﷺ کو دیا جارہا ہے تو بتاؤ کیا نبی کریم ﷺ نے ۱۲ ربیع الاول کو اسی طرح چرچا کیا تھا جس طرح تم کرتے ہو یا نبی ﷺ نے اس آیت پر عمل نہیں کیا وہ تو معاذ اللہ آیت کا مطلب نہیں سمجھ سکے اور تمہیں سمجھ آگئی۔نیز کیا صحابہؓ نے بھی آیت کا یہی مطلب بیان کیا جو تم کررہے ہو؟
    (۲)نبی کریم ﷺ کے نعمت ہونے کا انکار نہیں لیکن اگر اس آیت سے نعمت پر جشن کرنا بھنگڑے ڈالنا معلوم ہورہا ہے تو اللہ فرماتا ہے و ان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم آیت ۳۴)اگر تم رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کرسکو گے معلوم ہوا کہ رب کی نعمتیں لا تعداد ہیں پھر تو انسان کو اپنی زندگی کا ہر پل ہر گھڑی جشن جھنڈیوں جلوسوں روڈوں کو بلاک کرنے میں گزاردینا چاہئے ان تمام نعمتوں پر جشن نہ کرنا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ تم رب کی نعمتوں کے منکر ہو اسی لئے تو مشرک ہو۔
    (۳) تمہارے مسلک کا مستند ترین مولوی غلام رسول سعیدی صاحب امام رازی ؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
    ’’نبی ﷺ کو کس نعمت کے بیان کا حکم دیا گیا ہے ؟۔۔مجاہد نے کہا اس نعمت سے مراد قرآن ہے کیونکہ اللہ تعالی نے سیدنا محمد ﷺ کو جوسب سے عظیم نعمت عطا فرمائی ہے وہ قرآن ہے ‘‘۔ (تبیان القرآن ج۱۲ ص ۸۳۶)
    لو جی جس نعمت کا چرچا کرنے کا رب نے خود نبی کو حکم دیا اس پر جشن تو کیا تم کو پڑھنے کی توفیق نہیں اور جس بات کا ذکر دور دور تک نہیں اس پر پورے ملک میں تم نے ہنگامہ بدتمیزی کھڑا کیا ہوا ہے۔
    (۴)تمہارے صدر الافاضل خلیفہ رضاخان نعیم الدین مراد آبادی لکھتا ہے کہ :
    ’’نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمائیں اور وہ بھی جن کا حضور ﷺ سے وعدہ فرمایا ‘‘۔(خزائن العرفان ص۷۰۹)
    لو جی بات ہی ختم یہاں نبی ﷺ کے نعمت ہونے کا ذکر نہیں بلکہ ان نعمتوں کا ذکر ہے جو نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائی گئی ہیں جیسے حوض کوثر شفاعت کبری لواء حمد وغیرہا مولوی غلام رسول سعیدی نے قریبا ایسی ۱۵ نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائی گئی ہیں اور جن کے بیان کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے (تبیان القرآن ج۱۲ ص ۸۳۷) مگر تم ان میں سے کسی ایک نعمت کا چرچا اس طرح نہیں کرتے جس طرح میلاد کا اب بتاؤ کون اقراری وہابی اور گستاخ بنا؟غرض قرآن میں تحریف نہ کرو تمہارا خود ساختہ مطلب تو خود تمہارے اکابر کو مسلم نہیں۔
    دلیل:وذکرھم بایام اللہ دیکھو قرآن میں اللہ فرمارہا ہے کہ دن مناو اس لئے ہم نبی ﷺ کا میلاد والا دن مناتے ہیں۔
    جواب: مولوی صاحب خدا کا خوف کرو ترجمہ میں تحریف نہ کرو۔تمہیں دیکھ کر تو یہودی بھی شرماجائیں۔پوری آیت اس طرح ہے:
    ولقد ارسلنا موسی بآیتنا ان اخرج قومک من الظلمات الی النور و ذکرھم بایام اللہ ان فی ذالک لایت لکل صبار شکور(سورہ ابراہیم آیت ۵)
    اس آیت میں اللہ تعالی حضرت موسی علیہ السلام کو ایام اللہ کی تذکیر کاحکم فرمارہے ہیں تو بتاؤ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی طرح اپنا میلاد ہر سال مانایاجس طرح تم مناتے ہو؟اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو رب کے کلام میں تحریف سے باز آجاؤ۔
    (۲) آیت میں تو ایام اللہ جمع ہے اور تم صرف ایک یوم مناتے ہو اگر آیت کا وہی مطلب لیا جائے جو تم کہہ رہے ہو تو اس طرح تو کم سے کم سال میں تین میلاد منانے چاہئیں تم صرف ایک کیوں مناتے ہو؟
    (۳)نبی کریم ﷺ ،آپ ﷺ کے صحابہؓ ،تابعین ،مسلم بین الفریقین مفسرین میں سے کسی ایک کا قول اس آیت کی تفسیر میں دکھا دو جس نے اس آیت سے ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو جشن منانا جلوس نکالنا کیک کاٹنا ماڈلز بنانا اور دیگر خرافات کے جواز کو نقل کیا ہو او ر منہ مانگا انعام وصول کرو۔
    (۴)عمدۃ المفسرین عماد الدین ابن کثیر ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
    ’’موسی علیہ السلام ان(بنی اسرائیل) کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا�ؤیعنی فرعون کے ظلم و قہر سے اللہ کا ان کو نجات دلانا،سمند ر کا ان کیلئے پھاڑ دینا ،ان پر بادل سے سایہ کیئے رکھنا ،آسمان سے ان کیلئے من و سلوی کا نزول اس کے علاوہ وہ دیگر نعمتیں جو بنی اسرائیل پر اللہ نے کی وہ سب ان کو یاد دلاؤ‘‘۔
    (تفسیر ابن کثیر ج۴ص۴۷۸)
    پس اگر اس آیت سے جشن منانا ثابت ہوتا ہے تو ان تمام چیزوں کا بھی جشن مناؤ جس کا حکم خود اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دے رہے ہیں۔
    (۵) نیز ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کا میلاد اس دن اس لئے کرتے ہیں کہ آپ ﷺ پیدا ہوئے میلاد کا معنی پیدائش تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو میلاد منانے کا حکم رب اس وقت دے رہا ہے جب آپ ﷺ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے؟ یہ میلاد تو نہ ہوا ؟
    دلیل:واذ اخذ اللہ میثا ق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ ثم جائکم رسول مصدق لما معکم ۔۔الآیۃ (آل عمران ۔۸۱۔۸۲) دیکھو خود رب تعالی نبی کریم ﷺ کا میلاد منارہا ہے تو ہم کیوں نہ منائیں؟
    جواب: مولوی صاحب خدا کا خوف کرو ترجمہ میں تحریف نہ کرو۔اس آیت کو پڑھ کر کیا نبی کریم ﷺ نے اس کا وہی مطلب سمجھا جو تم سمجھ رہے ہو ؟اس آیت کو پڑھ کر کیا صحابہ ہر سال اسی طرح جشن میلاد مناتے تھے؟اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ان کے صحابی کا قول یا کسی مستند تفسیر کا حوالہ پیش کرو کہ اس آیت کا مطلب ان ہستیوں نے وہی بیان کیا ہے جو تم کررہے ہو۔
    (۲) ضروری نہیں کہ جو کام اللہ کرے وہ ہم بھی کریں اللہ جسے چاہے زندگی دے جسے چاہے مو ت دے جس بستی کو چاہے برباد کردے تو کیا کل کو تم بھی لوگوں کو مارنا قتل و غارت گری کرناشروع کردو گے ؟یہ کہہ کر کہ اللہ بھی تو یہ سب کررہا ہے ہم تو سنت اللہ پر عمل کررہے ہیں ۔معاذ اللہ۔
    (۳)قرآن میں یہ بھی تو آتا ہے :و اذاخذ ربک من بنی آدم من ظھورھم و ذریتھم و اشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی (اعراف ۔آیت ۱۷۲) تو چاہئے کہ اس آیت کی رو سے تمام بنی آدم اور ان کی ذریت کا میلاد مناؤ۔
    (۴) ایک طرف تو کہتے ہوکہ نبی کریم ﷺ کی میلاد ان کی پیدائش کی خوشی میں منارہے ہیں دوسری طرف آیت وہ پیش کررہے ہو جس میں نبی کریم ﷺ کی پیدائش تو ذکر تو کیا آپ ﷺ خود ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے یہ تو عالم ارواح کا ذکر ہورہا ہے پھر تو میلاد سے پہلے جشن عالم ارواح اور جشن میثاق مناؤ۔
    (۵)کیا اللہ رب العزت جب میلاد منارہا تھا معاذ اللہ تو اسی طرح منایا تھا جس طرح تم نے منایا؟ کیا عالم ارواح میں سبز رنگ کی نعلین کے نقش والی جھنڈیاں لگائی گئیں؟ عالم ارواح کے تمام راستے بلاک کئے گئے ؟ وہاں جلوس نکالا گیا ، وہاں کے جلسے میں مخالفین کو منہ بھر کر گالیاں، سب و شتم کیا گیا؟کیک کاٹے گئے؟ ماڈلز لگائے گئے؟ہر سال اس میلاد کا اسی طرح اعادہ کیا جاتا ؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو تم یہ سب خرافات کیوں کرتے ہو؟ پھر جس طرح اللہ نے منایا اسی طرح مناؤ نا۔
    دلیل:واذ اخذ اللہ میثا ق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ ثم جائکم رسول مصدق لما معکم ۔۔الآیۃ (آل عمران ۔۸۱۔۸۲) دیکھو خود رب تعالی نبی کریم ﷺ کا میلاد منارہا ہے تو ہم کیوں نہ منائیں؟
    جواب: مولوی صاحب خدا کا خوف کرو ترجمہ میں تحریف نہ کرو۔اس آیت کو پڑھ کر کیا نبی کریم ﷺ نے اس کا وہی مطلب سمجھا جو تم سمجھ رہے ہو ؟اس آیت کو پڑھ کر کیا صحابہ ہر سال اسی طرح جشن میلاد مناتے تھے؟اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ان کے صحابی کا قول یا کسی مستند تفسیر کا حوالہ پیش کرو کہ اس آیت کا مطلب ان ہستیوں نے وہی بیان کیا ہے جو تم کررہے ہو۔
    (۲) ضروری نہیں کہ جو کام اللہ کرے وہ ہم بھی کریں اللہ جسے چاہے زندگی دے جسے چاہے مو ت دے جس بستی کو چاہے برباد کردے تو کیا کل کو تم بھی لوگوں کو مارنا قتل و غارت گری کرناشروع کردو گے ؟یہ کہہ کر کہ اللہ بھی تو یہ سب کررہا ہے ہم تو سنت اللہ پر عمل کررہے ہیں ۔معاذ اللہ۔
    (۳)قرآن میں یہ بھی تو آتا ہے :و اذاخذ ربک من بنی آدم من ظھورھم و ذریتھم و اشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی (اعراف ۔آیت ۱۷۲) تو چاہئے کہ اس آیت کی رو سے تمام بنی آدم اور ان کی ذریت کا میلاد مناؤ۔
    (۴) ایک طرف تو کہتے ہوکہ نبی کریم ﷺ کی میلاد ان کی پیدائش کی خوشی میں منارہے ہیں دوسری طرف آیت وہ پیش کررہے ہو جس میں نبی کریم ﷺ کی پیدائش تو ذکر تو کیا آپ ﷺ خود ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے یہ تو عالم ارواح کا ذکر ہورہا ہے پھر تو میلاد سے پہلے جشن عالم ارواح اور جشن میثاق مناؤ۔
    (۵)کیا اللہ رب العزت جب میلاد منارہا تھا معاذ اللہ تو اسی طرح منایا تھا جس طرح تم نے منایا؟ کیا عالم ارواح میں سبز رنگ کی نعلین کے نقش والی جھنڈیاں لگائی گئیں؟ عالم ارواح کے تمام راستے بلاک کئے گئے ؟ وہاں جلوس نکالا گیا ، وہاں کے جلسے میں مخالفین کو منہ بھر کر گالیاں، سب و شتم کیا گیا؟کیک کاٹے گئے؟ ماڈلز لگائے گئے؟ہر سال اس میلاد کا اسی طرح اعادہ کیا جاتا ؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو تم یہ سب خرافات کیوں کرتے ہو؟ پھر جس طرح اللہ نے منایا اسی طرح مناؤ نا۔
    دلیل:نبی کریم ﷺ ہرپیرکے دن کا روزہ رکھتے آپ سے پوچھا گیا کہ کیوں رکھتے ہیں تو فرمایا اس دن میں پیدا ہوا۔نبی کریم ﷺ نے خود اپنا میلاد منایا سو ہم بھی مناتے ہیں۔
    جواب: مولوی صاحب خدا کا خوف کرو حدیث کے متن و مطلب میں تحریف نہ کرو۔پوری حدیث اس طرح ہے
    سئل رسول اللہ ﷺ عن صوم الاثنین فقال فیہ ولدت و فیہ انزل علی رواہ مسلم (مشکوۃ ج۱ص۱۸۱)
    اگر یہاں ولدت سے میلاد منانا ثابت ہوا تو ’’انزل علی ‘‘ سے نزول وحی کا جشن منانا بھی تو ثابت ہوتا ہے کیونکہ آپ فرمارہے ہیں کہ اس دن مجھ پر وحی کا نزول ہوا اس لئے اس کے شکر میں روزہ رکھتا ہوں تو آپ ’’جشن عید نزول وحی‘‘ کیوں نہیں مناتے ؟آدھی حدیث پر عمل آدھی کو ترک کرنا کیا کھلی منافقت نہیں؟۔
    (۳)اس میں تو پیر کے دن کا ذکر ہے اور تم نے شائد ہی آج تک پیر کے دن جشن عید میلاد منایا ہوکیونکہ تمہارا میلاد پیر کو نہیں ۱۲ ربیع الاول کو ہوتا ہے اور اس دن اکثر پیر نہیں ہوتا۔نیز کسی شارح حدیث کا اس حدیث کی تشریح میں ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو جشن ،جلوس،کیک منانے کا ثبوت پیش کرو۔
    (۴) اگر اس حدیث سے میلاد منانا ثابت ہوتا ہے تو چاہئے کہ پھر ہر ماہ ہی کم سے کم ۳ ،۴ بار تو جشن میلاد منایا جائے کیونکہ اس میں پیر کے دن کا ذکر ہے اور پیر کا دن ہر ماہ میں کم سے کم تین چار بار تو آہی جاتا ہے تم اس سب میلادوں کو چھوڑ کر سال میں صرف ایک میلاد مناتے ہو توبتاو حقیقی میلاد کے تم منکر نہ ہوئے ؟جو نبی کے طریقے کوچھوڑ کر صرف ایک دن میلاد منائے وہ بھی اس تاریخ میں جس میں خود نبی ﷺ نے بھی نہیں منایا۔
    (۵)نبی تو بقول تمہارے میلاد کی خوشی میں روزہ رکھے اور تم میلادیوں پیٹوؤں حرا م خوروں کو شیرینی اور کیک کھلاؤکیا نبی نے کیک کھاکر روزہ توڑ کر میلاد منایاتھا؟
    (۶) آ پ کہتے ہیں کہ عید میلاد مسلمانوں کی دو عیدوں سے بھی افضل و برتر ہے جو جب مفضول عیدین یعنی عید الفطر و عید الاضحیٰ کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں او راس دن کے روزے کو شیطان کا روزہ کہاگیا ہے تو ان عیدوں سے افضل عید پر روز ہ رکھنا کیسے جائز ہوا ؟ اب ہم تمہاری عید درست مانیں یا نبی کریم ﷺ کا روزہ؟
    دلیل:نبی کریم ﷺ نے خود منبر پر کھڑے ہوکر اپنا میلاد منایا اور ایک بار حضرت حسانؓ کو منبر پر کھڑے ہوکر میلاد ماننے کا حکم دیا۔تو ہم کیوں میلاد نہ منائیں؟
    جواب: پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ غیر مقلد ہیں یا مقلدحنفی؟ اگر غیر مقلد ہیں تو پہلے تو ان دونوں حدیثوں کی مکمل سند پڑھیں اور اس کی توثیق بیان کریں ۔اور اگر مقلد ہیں تو آپ کو یہ اجازت کس نے دی کہ بلا واسطہ خود احادیث سے مسائل کشید کرنے لگ جائیں؟کسی مجتہد کا قول اس حدیث کی شرح میں یا فقہ حنفی کا مفتی بہ فتوی دکھائیں کہ اس سے ۱۲ ربیع الاول کی موجودہ خرافات پر استدلال کیا گیا ہو۔
    (۲) آپ کے مولوی عبد السمیع رامپوری لکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں ربیع الاول میں میلاد نہیں منایا جاتا (انوار ساطعہ ص۲۶۷)لیجئے آپ کا جھوٹ کہ صحابہ بھی نبی کریم ﷺ کا میلاد مناتے خود آ پ کے گھر سے واضح ہوگیا۔
    (۳)مولوی صاحب خدا کا خوف کرو حدیث میں تحریف نہ کرو۔پوری حدیث اس طرح ہے
    عن العباس انہ جاء الی النبی ﷺ فکانہ سمع شیئا فقام النبی ﷺ علی المنبر فقال من انا؟ قالوا انت رسول اللہ ۔۔الخ
    ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں ای من الطعن فی نسبہ او حسبہ (مرقاۃ ج۱۰ص۴۳۷)لیجئے منبر پر کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کا اپنا حسب و نسب بیان کرنے کیلئے نہ تھا بلکہ حضرت عباسؓ نے بعض کفار سے آپ کے بارے میں کچھ نازیبا کلما ت سنے جس کی شکایت لیکر آپ کے پاس آئے حضور ﷺ کو یہ ناگوار گذرا اور آپ نے منبر پر کھڑے ہوکر اس کی وضاحت فرمائی۔
    (۴)کیا یہ ۱۲ ربیع الاول کادن تھا کیا پھر جلوس نکلا ؟ شیرینی تقسیم ہوئی؟ جھنڈیاں لگیں ؟ اور پھر کیا ہر سال اسی طرح میلاد منایا جاتا؟
    (۴)حضرت حسانؓ والی حدیث میں بھی دور دور تک ۱۲ ربیع الاول جلوس جھنڈیوں جشن میلاد کا ذکر نہیں نہ ہی ہر سال یہ مجلس اسی طرح لگتی اس سے تو صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ کفار آپ ﷺ کے ہجو میں جو شعر کہتے حضرت حسانؓ اس کا جواب دیتے اور نبی کریم ﷺ اس کو پسند فرماتے اس کا کون کافر منکر ہے؟
    دلیل:علامہ سیوطی ؒ ، شاہ ولی اللہ ؒ ، شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ نے میلاد منانے کو جائز قرار دیا۔
    جواب: پہلی بات تو یہ کہ ہم حنفی ہیں اس لئے سیوطی ؒ کی بات ہمارے لئے حجت نہیں اگر آپ کو اس بات سے کوئی تکلیف ہوئی تو عرض کردیں انشاء اللہ آ پ ہی کے گھر سے ہم یہ اصول دکھادیں گے نیز کیا آپ کو سیوطی ؒ کی تمام باتوں سے اتفاق ہے؟ اگر ہاں تو ہم زیادہ نہیں دو تین مسئلے دکھادیں گے جس کو آپ نہیں مانتے وہاں سیوطی ؒ کی بات کیوں نہیں مانتے؟ نیز سیوطی ؒ نے تو یہ بھی کہا کہ میلاد منانے پر قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہیں سارا قیاس ہی قیاس ہے تو سیوطی ؒ کی اس بات کو کیوں نہیں مانتے؟ اور میلاد کو ثابت کرنے کیلئے قرآن وحدیث میں تحریف کیوں کرتے ہو؟
    (۲) جہاں تک بات شاہ ولی اللہ محدث دہلو ی ؒ کی ہے تو وہ تو آپ کے مذہب میں معاذاللہ کافر وہابی ہے اس کی بات کیسے معتبر؟ نیز یہ بھی جھوٹ ہے کہ شاہ صاحب ؒ نے میلاد منانے کو جائز لکھا ہے بلکہ وہ تو فرمارہے ہیں کہ مکہ میں جو جگہ آپ کی جائے پیدائش تھی جب فقیر وہاں گیا تو لوگ وہاں درود و سلام پڑھ رہے تھے اور عجیب و غریب قسم کے انوار و فیوضات کا نزول ہورہا تھا (ملخصا فیوض الحرمین ص۸۰)آج کل یہاں ایک عالیشان حجرہ بناہوا ہے اور سعودی حکومت نے اس میں ایک عظیم لائبریری قائم کی ہوئی ہے الحمد للہ آج بھی جانے پر ایک عجیب سی کیفیت مومن پر طاری ہوجاتی ہے اور واقعی فیوض و برکات کا نزول ہوتا ہے ۔اس سے کس کو انکار ہے ؟ کہاں ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو جشن منانا جھنڈیاں لگانا رنڈیاں نچانا ڈھول دھمکا کرنا کیک کاٹنا سڑکیں بلاک کرنا اہل سنت پر تبرا کرنا اوریہ سب خرافات نہ کرنے والوں کو کافر وہابی کہنا کہاں زیارت کیلئے نبی کریم ﷺ کی جائے پیدائش پر جانا ؟
    (۳)رہی بات شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ کی توآپ کے مستند ترین عالم دین غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
    ’’شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ اپنی تمام تر علمی خدمات اور عظمتوں کے باوجود بشر اور انسان تھے۔نبی اور رسول نہ تھے ۔ ان کی رائے میں خطا ہوسکتی ہے نیز اس کو ایک محدث کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے ان کو فقیہ نہیں مانا گیا نہ ان کی کسی کتاب کو کتب فتاوی میں شمار کیا گیا ہے (شرح مسلم ج۱ص۹۳۰۔۹۳۱)
    لو جی بات ہی ختم شیخ بھی انسان ہیں ان سے بھی خطا ہوسکتی ہے نیز جب شیخ فقیہ ہی نہیں تو کسی فقہی معاملے میں ان کی کوئی بات حجت نہیں۔نیز آپ کے اعلی حضرت اور مسلک کے علماء نے کئی جگہ شیخ کی باتوں سے اختلا ف کیا تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو ’’راہ سنت شمارہ نمبر ۷ مضمون شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور مسلک اعلی حضرت پر ایک نظر‘‘۔
    دلیل:تمہارے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی میلاد منانا۔
    جواب: جناب حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ صرف ہمارے نہیں بلکہ آپ کے عبد السمیع رامپوری اور پیر مہر علی شاہ کے بھی پیر ہیں اور آپ کے اکثر مولوی حاجی صاحب کا ادب و احترام کرتے ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ کیا حاجی صاحب نے اسی طرح میلاد منانے کا حکم دیا جس طرح تم مناتے ہو؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو ان سے استدلال کا فائدہ؟
    (۲) حاجی صاحب کی جو عبارت آپ پیش کرتے ہو اس سے متصل یہ عبارت بھی تو ہے :
    ’’وہ یہ ہے کہ ہر گاہ مسئلہ اختلافی اور ہر فریق کے پاس دلائل شرعی بھی ہیں‘‘ (فیصلہ ہفت مسئلہ مندرجہ کلیات امدایہ ص۸۰)
    اس میں اول تو انہوں نے اسے اختلافی مسئلہ بتایا(یاد رہے کہ رضاخانیوں والے میلاد کی بات یہاں حاجی صاحب نہیں کررہے ہیں بلکہ ایسی مجلس کو جو بلا کسی تداعی کے منعقد کی جائے اور اس میں صرف حضور ﷺ کے میلادکا ذکر ہوں) جبکہ آپ اسے اختلافی نہیں مانتے اور اس کا انکار کرنے والوں پر کفر کے فتوے برساتے ہیں ثانیا حاجی صاحب نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ جو منع کرتے ہیں ان کے پاس بھی اس پر دلائل ہیں تو جواب دیں کیاآپ اسے تسلیم کرتے ہیں؟
    (۳)نیز حاجی صاحب نے اسی ہفت مسئلہ میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ:
    ’’عزیزی جناب مولوی رشید احمدصاحب کے وجود بابرکت کو ہندوستان میں غنیمت کبری و نعمت عظمی سمجھ کر ان سے فیوض و برکات حاصل کریں کہ مولوی صاحب جامع کمالات ظاہر ی و باطنی ہیں اور ان کی تحقیقات محض للہیت کی راہ سے ہیں‘‘۔(فیصلہ ہفت مسئلہ مندرجہ کلیات امدادیہ ص۸۷)
    جواب دیں کیا آپ حضرت حاجی صاحب کی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ؟ اگر نہیں تو جو تاویل آپ یہاں کریں ہم حاجی صاحب کے متعلق میلاد کے مسئلہ میں کردیں گے ۔نیز یہاں خود حاجی صاحب نے ہندوستان کے لوگوں کیلئے حضرت گنگوہی ؒ کے وجود کو نعمت عظمی قرار دیا اور ان سے استفادہ کی تلقین کی تو حضرت گنگوہی ؒ نے اس مروجہ میلاد کو بدعت کہا اور حضرت حاجی صاحب کی رائے کے متعلق کہا کہ ان کو تسامح ہوا ہے وہ اصل صورتحال سے پر واقف نہ ہوسکے۔
    (۴) جناب حضرت حاجی صاحب ؒ کا ادب و احترام اپنی جگہ مگر غلام رسول سعیدی کا اصول یاد کرلیں حاجی صاحب نہ فقیہ ہیں نہ ان کی کسی کتاب کو فتاوی کی کتاب شمار کیا گیا ہے اس لئے فقہی معاملات میں ان کی رائے پر عمل نہیں کیا جائے گا رضاخان کے والد نقی علی خان لکھتا ہے کہ :
    ’’دلیل کتاب و سنت سے چاہئے نہ قول و فعل پیر سے ‘‘َ ۔(انوار جمال مصطفی ص:۵۴۱)
    تو آپ بھی قرآن وسنت سے دلیل پیش کریں جو یقیناًآپ کے پاس نہیں اور جو تھی ان کا منہ توڑ جواب ہوچکا ہے نہ کہ پیران صاحبان کے اقوال پیش کریں۔
    ہمارے جلسے جلوس پر اعتراض
    دلیل:تم بھی تو مختلف عنوانات سے جلسے جلوس کرتے ہو وہ بدعت نہیں اورہمارا میلاد کا جلسہ بدعت۔
    جواب:مولانا پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کا اپنے جلسے کو ہمارے جلسوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں اس لئے کہ آپ کے شیخ الحدیث عبد الرزاق بھترالوی لکھتا ہے کہ :
    ’’آجکل مختلف عنوانات سے ربیع الاول میں جلسے ہورہے ہیں ،کسی کا نام پیغمبر انقلاب کانفرنس ،کسی کا نام ذکر ولادت ﷺ کانفرنس اور کسی کا نام سیرت النبی ﷺ کسی کا نام حسن قرات و حمدو نعت کانفرنس ۔۔۔راقم نے کبھی کسی عنوان پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ خیال یہ ہوتا ہے کہ میرے پیارے مصطفی کریم ﷺ کا ذکر ہوتا رہے خواہ کسی نام سے بھی ہوتا رہے۔(میلادمصطفی ﷺ ص:۴مکتبہ امام احمد رضا)
    معلوم ہوا کہ ہمارے جلسوں پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں اور آپ بھی اسے درست سمجھتے ہیں تو جب ہمارے جلسے متفق علیہ ہیں او ر آ پ کے نزدیک بھی جائزتو اس جائزکام پر کسی بدعت کو کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک مروجہ جشن میلاد بدعت ہے۔
    دوسری بات یہ کہ مطلق وعظ و نصیحت تعلیم و تعلم سیرت رسول ﷺ کے بیان کیلئے جلسے خود نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوتا اور متواتر چلاآرہا ہے جس کا انکار بدیہات کاانکار ہے نبی کریم ﷺ صحابہ کی موجودگی میں کھڑے ہوکر وعظ و تذکیر کیا کرتے دینی امور کی تعلیم دیتے اداب و اخلاق سکھائے جاتے خود نبی کریمﷺ کے سینکڑوں صحابہ سے سینکڑوں احادیث کامنقول ہونا اسی جلسوں کی غمازی کرتا ہے پھر صحابہ نے نبی ﷺ کی سیرت کو بیان کیا اور آج نبی کریم ﷺ کی سیرت پر جو ضخیم کتابیں ہیں یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ ہر دور میں نبی کریم ﷺ کی سیرت مجمعوں میں بیان ہوتے حدیث کی کتابوں میں آپ کو یہ الفاظ مل جائیں گے
    سمعت عمر علی منبر النبی ﷺ ۔۔۔سمعت عثمان بن عفان خطیبا علی منبر رسو ل اللہ ﷺ ۔
    ۔قام موسی النبی خطیبا فی بن اسرائیل
    خود عبد الرزاق بھترالوی کہتا ہے کہ :
    ’’اس وقت جلسے دو قسم کے ہوتے تھے ایک وہ جس میں نبی کریم ﷺ کے اوصاف بیان ہوتے تھے وہ جلسہ اللہ نے منعقد فرمایا انبیا ء کرام نے آپ کے اوصاف بیان کئے صحابہ کرام نے آپ کے اوصاف کا تذکرہ کیا (میلاد مصطفی ص ۶)
    لہٰذا اتنا تو ثابت ہے کہ مطلق جلسہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ سے ثابت ہے اب رہا ان کیلئے کوئی دن یا وقت طے کردینا تو دیکھیں ایک ہوتا ہے تعین شرعی اور ایک ہوتا ہے تعین عرفی شریعت سے دونوں ثابت ہیں مثلا تعین شرعی جیسے نماز کیلئے وقت حج کیلئے جگہ زکوۃ کا نصاب وغیرہا اور تعین عرفی بھی جائز ہے جسے کسی کام کیلئے کوئی وقت انسان کی سہولت کیلئے مقرر کردیا کہ جی فلا ں کا نکاح فلاں دن وقت میں ہوگا اور خود نبی کریم ﷺ کی سیر ت سے بھی ثابت ہے کہ جب ایک عورت آپ کے پاس آئیں اور گزارش کی کہ کچھ احادیث ہم سے بھی بیان ہوجائیں تو آپ نے ان کو کہاکہ فلاں وقت میں فلاں جگہ جمع ہوجانا۔۔
    جاء ت امراۃ الی رسول اللہ ﷺ فقالت یا رسول اللہ ذھب الرجال بحدیثک فاجعل لنا من نفسک یوما ناتیک فیہ تعلمنا مما علمک اللہ تعالی فقال اجتمعن فی یوم کذا و کذا و فی مکان کذا و کذا فاجتمعن (بخاری ج۲ص۱۰۸۷)
    ظاہر ہے کہ یہ مکان و جگہ کی تعین عرفی ہی تھی کہ تاکہ وہاں جمع ہونے میں آسانی ہو مسئلہ تب بنتا ہے کہ جب ان دونوں تعینات کوان کے مقام سے ہٹادیا جائے یعنی تعین عرفی کو شرعی قرار دے دیا جائے کہ اگر فلاں وقت میں فلاں کام نہ ہوا تو تم وہابی گستاخ ہوجاؤ گے یا تعین شرعی کو معا ذ اللہ عرفی قرار دے دیا جائے ۔ہماراان جلسوں کیلئے وقت یا جگہ مقرر کردینا تعین عرفی کے طور پر ہے کہ لوگ اس تاریخ سے پہلے جلسے میں شرکت کیلئے تیاررہیں اور جگہ تک پہنچنے میں آسانی ہو ہم سے کسی نے آج تک ان تعینات کو شرعی درجہ قرار نہیں دیا اور اس میں ردو و بدل بھی ہوتا رہتا ہے اسی طرح ہم نے ان جلسوں کو کبھی ان کے مقام سے نہیں ہٹایا ان کا مقام ابھی بھی وہی تصور کیا جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ کے یا بعدکے زمانوں میں ہوتا تھا مگر دوسری طرف جشن عید میلاد النبی ﷺ کو دین کا ایک مستقل حصہ تسلیم کرلیا گیا ہے اس کیلئے ۱۲ ربیع الاول کے علاوہ کسی اور دن کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور کسی وجہ سے کسی وقت ان جلسوں جلوسوں کو بند کرنے کا کہہ دیا جائے تو قتل و قتال تک کی دھمکیاں دے دی جاتی ہیں خود رضاخانیوں نے اس بات اعتراف کیا ہے کہ ہمارے ہاں جمعہ کی نما ز کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی اس جشن کو پھر یہ جشن جن خرافات کا آج مجموعہ بن چکا ہے وہ اس پر متضاد تو کس طرح اس کا جائز قرار دے دیا جائے؟۔فی الحال ہماری طرف سے اتنی تفصیل کافی ہے اگر چہ ہم کچھ اور بھی کہنے کا ارادہ کرتے ہیں اگر مخالفین کی طرف سے کوئی جواب آیا تو انشاء اللہ مزید وضاحت پیش کی جائے گی
     
  10. yaldaram
    Offline

    yaldaram New Member
    • 1/8

    اوپر ایک محترم نے لکھا میلاد کے جواز میں کہ نبی علیہ السلام پیر والے دن روزہ رکھتے تھے اسلئے یہ دلیل ہے میلاد مناسنے کی ۔۔۔۔۔ تو میرے بھائی آپ بھی ہر پیر کو منایا کرو نا میلاد ۔۔۔ سال میں ایک ہی بار کیوں ؟
     

Share This Page

Thread Status:
Not open for further replies.