1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

swal o jawab Melad Manana Durst He Ya Wrong?

Discussion in 'Baat Cheet' started by PariGul, Dec 18, 2015.

Thread Status:
Not open for further replies.
  1. yaldaram

    yaldaram New Member

    کہتے ہیں سوائے ا :pagal::yahoo:بلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یقین جانبئے اس سال کی ویڈیوز دیکھ کر تو ایسا لگ رہا ہے کہ صرف ابلیس ہی خوشیاں منا رہا ہے
     
  2. PariGul

    PariGul Guest

    me bhaion ke shukr guzar hn is trha mdlill jwabat k ley:)​
     
  3. Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    بے شک زاہد صاحب اس تھریڈ کو اس لیے اوپن رکھا گیا تھا کہ اصلاح کی جا سکے لیکن اخلاقیات کے دائرے کار میں رہتے ہوئے جو کچھ بھی آپ بیان کرنا چاہتے ہیں وہ کریں اس بات کا کیا مطلب ہوا کہ
    کہ اسلام کیا تیرے باپ کی جاگیر ہے
    یہودیوں نے بھی نبی پاک ﷺ سے مناظرہ کیا تھا تو کیا آپ نے کبھی صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے چھوڑا اور کسی کو بھی اس طرح کےاشتعال انگیر جوابات دئیے
    اس لیے ایسی کوئی بھی فضول پوسٹ اس تھریڈ میں رہنے نہیں دی جائے گی جس سے کسی کے بھی جذبات مجروح ہونے کا خدشہ ہو
    ہم نے صرف اصلاح کی جانب ایک تدبیر کی ہے جس میں آپ سب کو تحمل مزاجی اور صبر کے ساتھ ایک دوسرے کے سوالات کے جوابات دینے چاہیے تاکہ سبھی کے شہبات دور ہو سکیں
    اور یہ بھی درست ہے کہ سوال کرنے والا کوئی عالم نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ جواب دینے والا بھی کوئی عالم نہیں دونوں فریق ایک ہی کسوٹی پر ہیں پھر لڑائی جھگڑا کیوں
    یہ صرف ایک مناظرہ ہے جس میں آپ کو عید میلاد النبی ﷺ کے متعلق اختلافی سوالات کا تسلی بخش جواب دینا ہے
    آپ کے علم سے مستفید دوسرے ممبران بھی ہو رہے ہیں اس لیے آپ سب سے گزارش ہے کہ معاملے کو الجھائے بغیر حل کریں
    کوئی ایک ایسی لاجواب پوسٹ کریں جس سے مخالف فریق لاجواب ہو اور معا ملہ ختم ہو


    Click to expand...

    ساحل جان بھائی مجھے سات آٹھ سال کا تجربہ ہے کوئی بھی فریق لاجواب نہیں ہوگا اور نہ ہی مطمئن ہوگا
     
  • Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    نجم بھائی بدعت کیا ہوتی ہے؟ اس کی تعریف بیان فرما دیں تو کافی بہتری ہوگی بات سمجھنے میں کہ ہر بات کی تان اسی بات پر آکر ٹوٹتی ہے۔[​IMG]
    اس کے ساتھ یہ بھی کہ "عید میلاد النبی" کی نماز کتنی رکعات کی ہوتی ہے؟ اس کے اوقات کیا ہیں اور اس کے چھوٹ جانے پر قضا کیا ہے؟
    عید میلاد النبی کا مطلب کیا ہے؟ لفظ "عید" کا مطلب کیا ہے اور عربی زبان میں یہ کن معانی میں مستعمل ہے؟
    Click to expand...
    جی مدثر افضل بھائی میں کوشش کرتا ہوں آپ کے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے کی
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    بدعت کی حقیقت
    بدعت کے لغوی معنی ہیں نئی چیز( ایجاد)، انوکھا،اصطلاح شریعت میں بدعت کہتے ہیں دین میں نیا کام جو ثواب کیلئے ایجاد کیا جائے اگر یہ کام خلاف دین ہو تو حرام ہے اور اگر اس کے خلاف نہ ہو تودرست یہ دونوں معنی قرآن شریف میں استعمال ہوئے ہیں۔
    رب تعالیٰ فرماتا ہے۔
    (1) بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ (پ1،البقرۃ:117)
    ترجمہ:وہ اللہ آسمانوں اور زمین کا ایجاد فرمانے والا ہے۔
    (2)قُلْ مَا کُنۡتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ (پ26،الاحقاف:9)
    فرمادو کہ میں انوکھا رسول نہیں ہوں۔
    ان دونوں آیتو ں میں بدعت لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی انوکھا نیا ، رب تعالیٰ فرماتا ہے :
    وَ جَعَلْنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحْمَۃً ؕ وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابْتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبْنٰہَا عَلَیۡہِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾ (پ27،الحدید:27)
    ترجمہ:اور عیسیٰ علیہ السلام کے پیروؤں کے دل میں ہم نے نرمی اور رحمت رکھی اور ترک دنیا یہ بات جو انہوں نے دین میں اپنی طر ف سے نکالی ۔ ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے مومنوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں سے بہت سے فاسق ہیں۔
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ عیسائیوں نے رہبانیت اور تارک الدنیا ہونا اپنی طر ف سے ایجاد کیا ۔ رب تعالیٰ نے ان کو اس کا حکم نہ دیا ۔ بد عت حسنہ کے طور پر انہوں نے یہ عبادت ایجاد کی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بدعت کا ثواب دیا مگر جو اسے نباہ نہ سکے یا جو ایمان سے پھر گئے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے، معلوم ہوا کہ دین میں نئی بدعتیں ایجاد کرنا جو دین کے خلاف نہ ہوں ثواب کا با عث ہیں مگر انہیں ہمیشہ کرنا چاہیے جیسے چھ کلمے ، نماز میں زبان سے نیت ،قرآن کے رکوع وغیرہ ،علم حدیث، محفل میلا د شریف ،اور ختم بزرگان، کہ یہ دینی چیزیں اگر چہ حضور صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایجاد ہوئیں مگر چونکہ دین کے خلاف نہیں اور ان سے دینی فائدہ ہے لہٰذا باعث ثواب ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے بہت ثواب ہوگا ۔
    1۔عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَحْیٰی سُنَّۃً مِّنْ سُنَّتِیْ قَدْ اُمِیْتَتْ بَعْدِیْ فَاِنَّ لَہٗ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلَ اُجُوْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِ ھِمْ شَیْئًا وَّمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَۃَ ضَلَالَۃٍ لاَ یَرْضَاھَا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ اٰثَامِ مَنْ عَمِلَ بِھَا لَایَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اَوْزَارِ ھِمْ شَیْئًا رواہ الترمذی۔
    حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ کردی گئی ہو تو اس کو ان تمام لوگوں کے ثوابوں کے برابر ثواب ملے گاجو لو گ اس سنت پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے ثوابوں میں کچھ کمی نہیں ہوگی اور جو شخص کوئی گمراہی کی بدعت نکالے جس سے اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم راضی نہیں ہے تو اس شخص پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جو لوگ اس بدعت پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے گناہ میں کچھ بھی کمی نہیں ہوگی۔اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
    (مشکاۃالمصابیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام...الخ،الحدیث:۱۶۸،ج۱، ص۵۴)،
    (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۰)
    تشریحات و فوائد
    اس حدیث میں یہ فرمایا گیاہے کہ '' مَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَۃَ ضَلَالَۃٍ لاَ یَرْضَاھَا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ '' اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر نئی بات جو دین میں نکالی جائے وہ مذموم اور باعثِ گناہ نہیں ہوتی،بلکہ وہ نئی بات مذموم اورگناہ ہے جوبدعتِ ضلالت ہو اور اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس سے ناراض ہوں،اسی لئے شارحینِ حدیث نے فرمایاکہ بدعت کی دوقسمیں ہیں:ایک بدعتِ سیئہ(بری بدعت)دوسری بدعتِ حسنہ (اچھی بدعت)بدعت سیئہ گناہ کا کام ہے او ر بدعت حسنہ گناہ نہیں بلکہ کار ثواب ہے، چنانچہ صاحب مرقاۃ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ
    '' قُیِّدَ الْبِدْعَۃُ بِالضَّلاَلَۃِ لِاِخْرَاجِ الْبِدْعَۃِ الْحَسَنَۃِ ''
    (مرقاۃالمفاتیح،کتاب الایمان،تحت الحدیث:۱۶۸،ج۱،ص۴۱۴)
    یعنی بدعت ضلالت کی قید اس حدیث میں اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ بدعت حسنہ کو اس سے نکال دیں کیونکہ بدعت حسنہ مذموم اور گناہ نہیں ہے۔
    اسی طرح''بدعت ضلالت''کا بیان کرتے ہو ئے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا کہ وہ نئی چیز جو قرآن و حدیث یا اقوال و اعمال صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم یااجماع امت کے مخالف ہو وہ ضلالت و گمراہی ہے اور جو اچھی اچھی نئی نئی چیزیں ان میں سے کسی کے مخالف نہ ہوں وہ مذموم اورگمراہی نہیں۔چنانچہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کے ساتھ تراویح کو
    '' نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ'' فرمایا یعنی یہ اچھی بدعت ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ '' مَا رَاٰہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَھُوَ عِنْدَ اللہِ حَسَنٌ '' یعنی تمام مسلمان جس چیز کو اچھی مان لیں وہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ''لَا یَجْتَمِعُ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلَالَۃِ '' یعنی میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔
    (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،تحت الحدیث:۱۴۱، ج۱،ص۳۶۸)، (حاشیہ مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۷)
    ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ''مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَرَدٌّ ''
    (صحیح مسلم،کتاب الاقضیۃ،باب نقض الاحکام الباطلۃ...الخ،الحدیث:۱۷۱۸، ص۹۴۵)
    (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۷)
    یعنی جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالے جو دین میں سے نہ ہو وہ مردود ہے۔
    اس حدیث سے صاف صاف ظاہر ہے کہ دین میں وہ نئی بات جو دین کے مخالف نہ ہو وہ ہر گز ہرگز مردود نہیں ہے۔
    اس تقریر سے معلوم ہوا کہ مشکوۃ ج ۱ ص ۳۰ پر جو حدیث ہے کہ اِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ
    (مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام...الخ،الحدیث:۱۶۵،ج۱، ص۵۳) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۰)
    یعنی تم لوگ اپنے کو دین میں نئے نئے کاموں سے بچائے رکھو کیونکہ ہر نئی نکالی ہوئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
    اس سے مُراد وہی بدعت ہے جو قرآن و حدیث یا اقوال و اعمالِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے خلاف ہو ورنہ ظاہر ہے کہ ہر نئی نکالی ہوئی چیز گمراہی کیونکر ہوسکتی ہے؟ جب کہ اُوپر ذکر کی ہوئی حدیثوں میں صاف صاف تصریح موجود ہے کہ گمراہی وہی نئی نکالی ہوئی چیز ہوگی جو دین کے خلاف ہو اور اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس سے ناراض ہوں اور جو نئی نئی باتیں دین کے خلاف نہیں ہیں وہ ہر گز ہرگز کبھی بھی مذموم اور گمراہی نہیں ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ مسلم شریف کی ایک حدیث میں اس کی صراحت بھی موجود ہے جو مشکوۃ ج ۱ ص ۳۳ پر مذکور ہے کہ مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلاَمِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِ سْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْءٌ
    (مشکاۃالمصابیح،کتاب العلم،الفصل الاول،الحدیث:۲۱۰،ج۱،ص۶۱) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۳)
    جو اسلام میں کوئی اچھا طریقہ نکالے تو اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس اچھے طریقے پر عمل کریں گے ان کے ثوابوں کا اجر بھی اس کو ملے گا بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ نکالے تو اس پر اس کا گناہ ہے اور تمام ان لوگوں کے گناہوں کا وبال بھی اس پر ہوگا جو اس کے بعد اس برے طریقے پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے گناہوں میں سے کچھ کمی ہو۔
    بہرحال یہ بات سورج کی طرح روشن ہوگئی کہ دین میں ہر نئی بات جو نکالی جائے وہ گمراہی نہیں ہے بلکہ وہی نئی چیز گمراہی ہوگی جو دین کے مخالف ہو ورنہ ظاہر ہے کہ ہر نئی چیز گمراہی کس طرح ہوسکتی ہے؟ حالانکہ زمانہ نبوت کے بعد سینکڑوں چیزیں اولیائے امت و علمائے ملت نے نئی نئی ایجاد کی ہیں جو ہر گز ہر گز مذموم نہیں بلکہ باعث اجرو ثواب ہیں۔ مثلاً قرآن مجید پر اعراب لگانا، قرآن مجید کو تیس پاروں میں تقسیم کرنا، قرآن میں اوقاف کی علامتوں کو لکھنا، رکوع کی نشانی تحریر کرنا، اسی طرح قرآن مجید کے سمجھنے اور سمجھانے کے لئے نحوو صرف اور معانی و بیان نیز اصول فقہ و اصول حدیث کے قواعد و ضوابط کو مدون کرنا، ان فنون میں کتابیں تصنیف کرنا، ان کی تعلیم کے لئے مدارس قائم کرنا، نصاب مقرر کرنا، اسی طرح جمعہ و عیدین کے خطبوں میں خلفائے راشدین اور حضرت فاطمہ و حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دونوں چچاؤں حضرت حمزہ و حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا نام پڑھنا، مسجدوں کی عمارتوں کو پختہ اور عالی شان بنانا، مسجدوں پر مناروں اور مئذنہ کی تعمیرات وغیرہ اس قسم کی بہت سی نئی نئی چیزیں علمائے مِلت نے دین میں نکالی ہیں مگر چونکہ ان میں کوئی چیز بھی دین کے مخالف نہیں اس لئے ان چیزوں کو ہر گز ہرگز مذموم اور گمراہی نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ سب بدعتِ حسنہ اور ثواب کے کام ہیں۔ اسی طرح صوفیائے کرام کے معمولات مثلاً مُراقبات اورذکر کی محفلیں اور جلسات ، تسبیحات کا استعمال، ذکروں کی مقدار، حلقے اور ختم خواجگان ، میلاد شریف، مجالس وعظ، فاتحہ و اعراس اولیاء، مقابر پر گل پوشی وچادر پوشی، بلا شبہ یہ سب دین میں نئی نئی باتیں نکالی گئی ہیں، مگر چونکہ ان میں کوئی بھی قرآن مجید و حدیث یا اقوال و اعمال صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مخالف نہیں۔لہٰذا ہرگز ہرگز ان چیزوں کو مذموم اور گمراہی نہیں کہاجاسکتابلکہ یہ سب بدعت حسنہ اور سب ثواب کے کام ہیں۔ لہٰذا ازروئے حدیث جن لوگوں نے ان اچھی اچھی باتوں کو ایجاد کیا، ان کو ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور قیامت تک جتنے لوگ ان باتوں پر عمل کرکے ثواب حاصل کرتے رہیں گے ان سب لوگوں کے ثوابوں کے برابر بھی ان کو ثواب ملتا رہے گا اور کسی کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ یہ ہے ان حدیثوں کی تشریحات جو اہل حق کاطریقہ ہے۔خداوندکریم عزوجل سب کو اہل حق کے معمولات پر عمل کی توفیق عطافرمائے اوران لوگوں کوجوصرف ایک حدیث ''کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ ''(صحیح مسلم،کتاب الجمعۃ،باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ،الحدیث:۸۶۷،ص۴۳۰) پڑھ پڑھ کرمیلادشریف اورنیاز وفاتحہ کو حرام و گمراہی بتاتے ہیں انہیں اس حدیث کاصحیح مطلب سمجھنے اورحق کہنے اورحق پرعمل کرنے کی توفیق بخشے تاکہ یہ اُمت موجودہ دورکے افتراق اورجدال وشقاق کی بلاؤں سے محفوظ رہے۔(آمین)
    فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان میں ایک رات مسجد کو تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طور پر نماز پڑھتے پایا کوئی تنہا پڑھ رہا ہے، کسی کے ساتھ کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں، فرمایا: میں مناسب جانتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کر دوں تو بہتر ہو، سب کو ایک امام ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اکٹھا کر دیا پھر دوسرے دن تشریف لے گئے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں فرمایا نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ یہ اچھی بدعت ہے۔
    (صحيح البخاري، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث : ۲۰۱۰، ج۱، ص۶۵۸. )
    حالانکہ تراویح سنّتِ مؤکدہ ہے،اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ بدعت حسنہ جائز و ثواب کا کام ہے، ورنہ مخالفین کے مدارس اور اُن کے وعظ کے جلسے، اس ہیاتِ خاصہ کے ساتھ ضرور بدعت ہوں گے۔ پھر انھیں کیوں نہیں موقوف کرتے...؟ مگر ان کے یہاں تو یہ ٹھہری ہے کہ محبوبانِ خدا کی عظمت کے جتنے اُمور ہیں، سب بدعت اور جس میں اِن کا مطلب ہو، وہ حلال و سنت۔
    وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ.
    جو لوگ میلاد منانے کو بدعت و حرام کہتے ہیں ،جب ان سے بدعت و حرام ہونے پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم لوگوں نے احتیاطاً ان چیزوں کو حرام و بدعت لکھ دیا ہے تاکہ لوگ ڈر کر ان چیزوں کو چھوڑ دیں۔ خدا کے لئے کوئی ان سے پوچھے کہ اﷲتعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو بدعت وحرام و ناجائز ٹھہرانا یہ احتیاط ہے یا اعلیٰ درجے کی بے احتیاطی ہے؟ اﷲتعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال بتایا ہے ان کو بدعت و حرام بتانا۔ یہ اﷲتعالیٰ پر افتراء وتہمت ہے اور قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ۔فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللہِ ۔ (پ24،الزمر:32)
    یعنی اس سے زیادہ ظالم اور کون ہوگا؟ جو اﷲتعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائے۔
    بہر حال خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن رسموں کو اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حرام نہیں بتایا۔ ان کو خواہ مخواہ کھینچ تان کر بدعت و حرام ٹھہرانا یہ خود بہت بڑا گناہ ہے۔
    فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ اَجْرُہَا أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَامِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ ُ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْءٌ وَّمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃًُکَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَاوَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِاَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْءٌ ۔
    (مشکوۃ المصابیح ،کتاب العلم ، فصل اول ، الحدیث ۲۱۰ ، ج۱ ، ص ۶۱)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کاربند ہوں (۱)ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں برا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں بغیراس کے ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۔(۲)
    وضاحت :
    (۱)یعنی مُوجدِ خیر تمام عمل کرنے والوں کے برابر اجر پائے گا لہٰذا جن لوگوں نے علمِ فقہ، فنِ حدیث، میلادشریف، عرسِ بزرگانِ دین، ذکرِ خیر کی مجلسیں ،اسلامی مدرسے ،طریقت کے سلسلے ایجاد کئے انہیں قیامت تک ثواب ملتا رہے گا ۔یہاں اسلام میں اچھی بدعتیں ایجاد کرنے کا ذکر ہے نہ کہ چھوڑی ہوئی سنتیں زندہ کرنے کا اس حدیث سے بدعت حسنہ کے خیر ہونے کا اعلیٰ ثبوت ہو ا۔
    (۲)یہ حدیث ان تمام احادیث کی شرح ہے جن میں بدعت کی برائیاں آئیں صاف معلوم ہوا کہ بدعت سیئہ بری ہے اور ان احادیث میں یہی مراد ہے یہ حدیث بدعت کی دو قسمیں فرمارہی ہے بدعت حسنہ اور سیئہ اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی ان لوگوں پر افسوس ہے جو اس حدیـث سے آنکھیں بند کرکے ہر بدعت کو برا کہتے ہیں حالانکہ خود ہزاروں بدعتیں کرتے ہیں۔
    (مراٰۃ المناجیح ج ۱ص ۱۹۷)
    بدعت کسے کہتے ہیں؟
    بدعت کا لغوی معنیٰ ہے نئی چیزاور شرعی طور پر ہر وہ نئی چیزجو حضورِ پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانہ مبا رکہ کے بعد ایجا د ہوئی بدعت ہے ۔
    (مرقاۃ المفاتیح ،ج۱،ص۳۶۸)
    بدعت کی تعر یف میں '' زمانہ نبوی کی قید'' لگائی گئی ہے، چنانچہ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاکیزہ دور میں ایجاد شدہ نئے کام کوبھی بدعت ہی کہا جائے گا۔
    (ماخوذ از اشعۃ اللمعات ،ج۱،ص۱۳۵)
    بدعت کی (اصولِ شرع کے اعتبار سے)دواقسام ہیں :
    (۱) بدعتِ حسنہ: ہر وہ نیا کام جو اصول ِ شرع (یعنی قراٰن وحدیث اور اجماع) کے موافق ہو مخالف نہ ہو۔
    (۲)بدعتِ ضلالۃ : جو نیا کام اصولِ شرع کے مخالف ہو ۔
    اس حدیث "کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ "سے مراد دوسری قسم ہے یعنی ہر وہ نیا کام جو قرآن پاک،حدیث شریف،آثارِصحابہ یا اجماعِ امت کے خلاف ہو وہ بدعتِ سیئہ اور گمراہی ہے اور جو نیا اچھا کام ان میں سے کسی کے مخالف نہ ہوتو وہ کام مذموم نہیں ہے جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کی جماعت کے متعلق فرمایا نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ہٰذِہِ یعنی یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے۔

    پھربدعت کی مزید پانچ اقسام ہیں:
    ( 1)واجبہ(2)مستحبہ(3)مباحہ(4)مکروہہ(5)محرّمہ
    (1)واجبہ:
    جیسے علمِ نحووصرف کا سیکھنا سکھاناکہ اسی کے ذریعے آیات واحادیث کے معنی کی صحیح پہچان حاصل ہوتی ہے (اگرچہ یہ علوم مروّجہ انداز میں عہدِ رسالت میں موجود نہ تھے) ، اسی طرح دوسری بہت سی وہ چیزیں اور علوم جن پر دین وملت کی حفاظت موقوف ہے ۔ اسی طرح باطل فرقوں کا رد کہ ان کے عقائدِ باطلہ سے شریعت کی حفاظت فرضِ کفایہ ہے۔
    (2)مستحبہ:
    جیسے سراؤں(مسافر خانوں)کی تعمیر تاکہ مسافر وہاں آرام سے رات بسر کرسکیں،دینی مدارس کا قیام تاکہ علم کی روشنی ہر سو پھیلے،اجتماع میلادُ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور بزرگانِ دین کے عُرس کی محافل قائم کرنا۔اسی طرح مسلمانوں کی خیرخواہی کا ہر وہ نیا انداز جو پہلے زمانے (یعنی رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے)میں موجود نہ تھا ۔
    ( 3)مباحہ:
    جیسے کھانے پینے کی لذیذ چیزیں کثرت سے استعمال کرنا ، وسیع مکان میں رہنا،اچھا لباس پہنناجبکہ یہ چیزیں حلال وجائز ذرائع سے حاصل ہوئی ہوں نیزتکبر اور ایک دوسرے پر فخر کا باعث نہ بن رہی ہوں ۔اسی طرح آٹا چھان کر استعمال کرنااگر چہ عہد ِ رسالت میں اَن چھنے آٹے کی روٹی استعمال ہوتی تھی۔
    (4)مکروہہ:
    وہ کام جس میں اسراف ہو جیسے شافعیوں کے نزدیک قراٰن پاک کی جلد اور غلاف وغیرہ کی آرائش وزیبائش اورمساجد کو نقش و نگار سے مزیّن کرنا۔ حنفیوں کے نزدیک یہ سب کام بلا کراہت جائز ہیں ۔
    (5)محرّمہ:
    جیسے اہلِ بدعت کے مذاہب ِ باطلہ جو کہ کتاب وسنّت (اور اجماع)کے مخالف ہیں ۔
    (ماخوذ از اشعۃ اللمعات،ج۱،ص ۱۳۵ومرقاۃ المفاتیح ،ج۱،ص۳۶۸)
    کتاب'' نماز کے احکام ''سے بدعتِ حسنہ کی بارہ مثالیں ملاحظہ ہوں :
    (1)قرآنِ پاک پر نقطے اور اعراب حجاج بن یوسف نے ۹۵ھ میں لگوائے۔
    (2)اسی نے ختمِ آیات پرعلامات کے طورپرنُقطے لگوائے۔(3)قراٰن ِ پاک کی چھپائی
    (4)مسجد کے وسط میں امام کے کھڑے رہنے کیلئے طاق نُما محراب پہلے نہ تھی ولید مروانی کے دور میں سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایجاد کی،آج کوئی مسجد اس سے خالی نہیں۔
    (5)چھ کلمے۔ (6)علمِ صرف و نحو۔(7)علمِ حدیث اور احادیث کی اقسام۔
    (8)درسِ نظامی۔(9)زبان سے نماز کی نیت۔ (10) ہوائی جہازکے ذریعے سفرِحج۔
    (11) شریعت(حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) و طریقت (قادری، چشتی، نقشبندی، سہروردی) کے چار سلسلے۔ (12) جدید سائنسی ہتھیاروں کے ذریعے جہاد۔ (نماز کے احکام ، ص ۵۴)
    تراویح کی جماعت بدعت حَسنہ ہے
    اللہ کے محبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود بھی تراویح ادا فرمائی اور اس کوخوب پسند بھی فرمایا : چُنانچہِ صاحِبِ قراٰن، مدینے کے سلطان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے ، جو ایمان و طلبِ ثواب کے سبب سے رَمَضان میں قِیام کرے اُس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(یعنی صغیرہ گناہ) پھر اس اندیشے کی وجہ سے ترک فرمائی کہ کہیں امّت پر (تراویح)فرض نہ کر دی جائے ۔ پھرامیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اپنے دورِ خِلافت میں) ماہِ رَمَضان المُبَارَک کی ایک رات مسجد میں دیکھا کہ لوگ جُدا جُدا انداز پر (تراویح) اداکر رہے ہیں ، کوئی اکیلا تو کچھ حضرات کسی کی اقِتدا ء میں پڑھ رہے ہیں یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں مناسِب خیال کرتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کردوں ۔ لھٰذا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سِیدُنا اُبَیِّ ابْنِ کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوسب کا امام بنا دیا ۔ پھر جب دوسری رات تشریف لائے تو اوردیکھاکہ لوگ باجماعت (تراویح) ادا کر رہے ہیں( توبہت خوش ہوئے اور ) فرمایا : نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ۔ یعنی'' یہ اچھی بدعت ہے''۔
    (صحیح بخاری ج۱ص۶۵۸حدیث۲۰۱۰)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! محبوبِ ر بِّ ذُوالجَلال عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ہمارا کتنا خیال ہے ! محض اِس خوف سے تراویح پر ہمیشگی نہ فرمائی کہ کہیں اُمّت پر فرض نہ کر دی جائے۔ اِس حدیثِ پاک سے بعض وَساوِس کا علا ج بھی ہو گیا۔مثَلاً تراویح کی باقاعِدہ جماعت سرکارِ نامدا رصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی جاری فرما سکتے تھے مگر نہ فرمائی اور یوں اسلام میں اچّھے اچّھے طریقے رائج کرنے کا اپنے غلاموں کو موقع فراہم کیا ۔ جو کام شاہِ خیرُ الانام صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہیں کیا وہ کام سیّدُِنا فاروقِ اعظم رضی اﷲتعا لیٰ عنہ نے مَحض اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ سرکارِ عالمِ مدارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تا قِیا مت ایسے اچّھے اچّھے کام جاری کرتے رہنے کی اپنی حیاتِ ظاہِری میں ہی اجازت مَرحَمت فرمادی تھی۔چنانچِہ حُضُورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم،رسولِ مُحتَشَم،شافِعِ اُمَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے، ''جو کوئی اسلام میں اچّھا طریقہ جاری کرے اُس کو اس کا ثواب ملے گااور اُس کا بھی جو (لوگ) اِس کے بعداُس پر عمل کریں گے اور اُن کے ثواب سے کچھ کم نہ ہو گا اور جو شخص اِسلام میں بُرا طریقہ جار ی کرے اُس پر اِس کا گناہ بھی ہے اور ان (لوگوں)کا بھی جو اِس کے بعد اِس پر عمل کریں اور اُن کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہو گی ۔"
    (صحیح مُسلم ص۱۴۳۸، الحدیث ۱۰۱۷)
    اِس حدیثِ مبارَک سے معلو م ہوا، قِیامت تک اسلام میں اچّھے اچّھے نئے طریقے نکالنے کی اجازت ہے اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ نکالے بھی جار ہے ہیں جیسا کہ
    (۱) امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کی باقاعِدہ جماعت کا اہتِمام کیا اور اس کو خود اچّھی بدعت بھی قرار دیا۔ اِس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وِصال ظاہری کے بعد صحابہ کرام علیھم الرضوان بھی جو اچھا نیا کام جاری کریں وہ بھی بدعتِ حَسَنہ کہلاتا ہے۔
    (۲)مسجِد میں امام کیلئے طاق نُما محراب نہیں ہوتی تھی سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نیمسجدُ النَّبَوِی الشّریف علیٰ صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام میں محراب بنانے کی سعادت حاصل کی اِس نئی ایجاد( بد عتِ حَسَنہ) کو اس قَدَر مقبولیّت حاصل ہے کہ اب دنیابھر میں مسجد کی پہچان اِسی سے ہے ۔
    (۳) اِسی طرح مساجِد پرگُنبدومیناربنانابھی بعدکی ایجادہے۔ بلکہ کعبے کے مَنارے بھی سرکارمدینہ وصحابہ کرام صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم وعلیھم الرضوان کے دَور میں نہیں تھے (۴) ایمانِ مُفَصَّل
    (۵) ایمانِ مُجْمَل (۶) چھ کلمے ان کی تعداد و ترکیب کہ یہ پہلا یہ دوسرا اور ان کے نام
    (۷)قراٰنِ پاک کے تیس پارے بنانا،اِعراب لگانا ان میں رُکوع بنانا،رُمُوزِ اَوقاَف کی علامات لگانا۔بلکہ نُقطے بھی بعدمیں لگائے گئے،خوبصورت جِلدیں چھاپنا وغیرہ
    (۸)احادیثِ مبارَکہ کو کتابی شکل دینا،اس کی اَسناد پر جرِح کرنا،ان کی صحیح ، حَسَن، ضعیف اور مَوضُوع وغیرہ اَقسام بنانا (۹) فِقْہ ، اُصولِ فِقْہ وعِلْمِ کلام (۱۰)زکٰوۃ و فطر ہ سکّہ رائجُ الْوقت بلکہ با تصویر نوٹوں سے ادا کرنا(۱۱)اونٹوں وغیرہ کے بجائے سفینے یاہوائی جہازکے ذَرِیعے سفرِحج کرنا (۱۲) شریعت و طریقت کے چاروں سلسلے یعنی حنفی ،شافِعی، مالِکی ، حَنبلی اسی طرح قادِری نَقْشبندی،سُہروردی اور چشتی۔
    ہر بدعت گمراہی نہیں ہے
    ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں یہ سُوال پیدا ہو کہ ان دو احادیث مبارکہ
    (۱) کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَ لَۃٌ وَّ کُلُّ ضَلاَ لَۃٍ فِی النّار یعنی ہر بدعت (نئی بات) گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنّم میں (لے جانے والی) ہے۔ (سُنَنُ النَّسائی ج۲ص۱۸۹)
    (۲)شَرَّ الْاُمُوْر ِمُحْدَثَا تُھَاوَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلا لۃ یعنی بدترین کام نئے طریقے ہیں ہر بدعت (نئی بات)گمراہی ہے۔ (صحیح مسلم ص۴۳۰حدیث۸۶۷)
    کے کیا معنیٰ ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں احادیثِ مبارکہ حق ہیں۔یہاں بدعت سے مُراد بدعتِ سَیِّئَہَ (سَیْ۔یِ۔ءَ ہْ) یعنی بُری بدعت ہے اور یقینا "ہر وہ بدعت بُری ہے جو کسی سنّت کے خِلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہو۔جیسا کہ دیگر احادیث میں اس مسئلے کی مزید وضاحت موجود ہے چنانچِہ ہمارے پیارے پیار ے آقا مکّی مَدَنی مصطفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
    ہروہ گمراہ کرنے والی بدعت جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہ ہو تو اس گمراہی والی بدعت کو جاری کرنے والے پر اس بدعت پر عمل کرنے والوں کی مثل گناہ ہے، اسے گناہ مل جانا لوگوں کے گناہوں میں کمی نہیں کریگا۔ (جامع ترمذی ج۴ص۳۰۹ حدیث۲۶۸۶)
    ایک اورحدیثِ مبارک میں مزید وَضاحت ملاحَظہ فرمائیے چُنانچِہ اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے ،اللہ کے محبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''مَنْ أحْدثَ فِيْ أمْرِنَا ہَذَا مَا لَیْسَ فِیْہِ فَھُوَ رَدٌّ۔'' (صحیح بخاری شریف ج۶ص۲۱۱ حدیث ۲۶۹۷) یعنی ''جو ہمارے دین میں ایسی نئی بات نکالے جو اس(کی اصل ) میں سے نہ ہو وہ مردود ہے۔'' ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا ایسی نئی بات جو سنّت سے دُور کرکے گمراہ کرنے والی ہو، جس کی اصل دین میں نہ ہووہ بدعتِ سَیِّئَہ یعنی بُری بدعت ہے جبکہ دین میں ایسی نئی بات جو سنّت پر عمل کرنے میں مدد کرنے والی ہو اور جس کی اصل دین سے ثابت ہو وہ بدعتِ حَسَنہ یعنی اچّھی بدعت ہے ۔
    حضرتِ سیِّدُ نا شیخ عبدُالْحق مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی حدیثِ پاک ،'' وَّ کُلُّ ضَلالۃٍ فِی النّار'' کے تَحْت فرماتے ہیں،جو بِد عت کہ اُصول اور قوا عدِ سنّت کے مُوا فِق اور اُس کے مطابِق قِیاس کی ہوئی ہے (یعنی شریعت و سنّت سے نہیں ٹکراتی)اُس کو بدعتِ حَسَنہ کہتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہے وہ بدعتِ ضَلالت یعنی گمراہی والی بدعت کہلاتی ہے ۔
    (اَشِعَّۃُاللَّمعات ج اوّل ص ۱۳۵)
    بدعتِ حَسنہ کے بغیر گزارہ نہیں
    بَہَرحال اچّھی اور بُری بدعات کی تقسیم ضَروری ہے ورنہ کئی اچّھی اچّھی بدعتیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو صِرْف اس لئے تَرْک کر دیا جائے کہ قُرونِ ثلَاثہ یعنی شاہِ خیر الانام، صَحابہ کِرام و تابِعینِ عِظام ، صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم و علیھم الرضوان کے اَدوارِ پُر انوارمیں نہیں تھیں ،تو دین کا موجود ہ نِظام ہی نہ چل سکے۔جیسا کہ دینی مدارِس ، ان میں درسِ نظامی،قُراٰن و احادیث اور اسلامی کتابوں کی پریس میں چھپائی وغیرہ وغیرہ یہ تمام کام پہلے نہ تھے بعدمیں جاری ہوئے اور بدعتِ حَسَنہ میں شا مل ہیں۔
    بَہَرحال ربِّ ذُوالْجلال عزوجل کی عطا سے اُس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یقینا" یہ سارے اچّھے اچّھے کام اپنی حیاتِ ظاہِری میں بھی ر ائج فرما سکتے تھے۔مگر اﷲ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے غلاموں کے لئے ثوابِ جارِیّہ کمانے کے بے شمار مَواقِع فراہم کر دئیے اوراﷲ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں نے صَدَقہ جارِیّہ کی خاطر جو شریعت سے نہیں ٹکراتی ہیں ایسی نئی ایجادوں کی دھوم مچا دی۔کسی نے اذان سے پہلے دُرُو د و سلا م پڑھنے کا رَواج ڈالا ، کسی نے عیدِمِیلاد منانے کا طریقہ نکالا پھر اس میں چَراغاں اور سبز سبز پرچموں اور مرحبا کی دھومیں مچاتے مَدَنی جلوسوں کا سلسلہ ہوا،کسی نے گیارھویں شریف تو کسی نے اَعراسِ بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اﷲالمبین کی بنیاد رکھ دی اور اب بھی یہ سلسلے جاری ہیں۔
     
  • Najam Mirani

    Najam Mirani Management


    جشن ولادت کو ’’عید‘‘ کیوں کہتے ہو۔
    سوال: جشن ولادت کو ’’عید‘‘ کیوں کہتے ہو۔ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں، ایک عیدالفطر اور دوسری عیدالاضحی، یہ تیسری عید، عید میلاد النبی کہاں سے آگئی؟
    جواب: اصل میں آپ لوگ ’’عید‘‘ کی تعریف سے ہی واقف نہیں اگر کچھ علم پڑھ لیاہوتا تو ایسی بات نہ کرتے۔
    عید کی تعریف اور جشن میلاد کو عید کہنے کی وجہ
    ابوالقاسم امام راغب اصفہانی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ (المتوفی 502ھ) عید کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عید اسے کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے، شریعت میں یہ لفظ یوم الفطر اور یوم النحر کے لئے خاص نہیں ہے۔ عید کا دن خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’عید کے ایام کھانے پینے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے ہیں‘‘ اس لئے ہر وہ دن جس میں خوشی حاصل ہو، اس دن کے لئے عید کا لفظ مستعمل ہوگیا ہے جیسا کہ اﷲ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی دعا سے متعلق ارشاد ہے کہ ’’ہم پر آسمان سے خوان (کھانا) اتار کہ وہ ہمارے (اگلوں پچھلوں کے لئے) عید ہو‘‘ اور عید انسان کی اس حالت خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور ’’العائدۃ‘‘ ہر اس منفعت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی چیز سے حاصل ہو‘‘
    علامہ راغب اصفہانی رحمتہ اﷲ علیہ کے مذکورہ بالا کلام سے معلوم ہوا کہ عید ہر اس دن کو کہتے ہیں
    :1جس میں انسان کو کوئی خوشی حاصل ہو
    :2جس میں اﷲ عزوجل کی طرف سے کوئی خصوصی رحمت و نعمت عطا ہوئی ہو۔
    :3جسے کسی خوشی کے موقع سے کوئی خاص مناسبت ہو۔
    الحمدﷲ عزوجل جل علی احسانہ! بارہ ربیع الاول کے موقع پر یہ تینوں صورتیں ہی جمع ہوتی ہیں۔ آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ ایک مسلمان کے لئے حضور نبی کریمﷺ کے ولادت پاک کے دن سے بڑھ کر کیا خوشی ہوسکتی ہے؟ اس خوشی کے سبب بھی بارہ ربیع الاول کو عید کا دن قرار دیا جاتا ہے۔
    آپﷺ جن کے صدقے ہمیں خدا کی پہچان ملی، ایمان کی لازوال دولت ملی، قرآن جیسا بابرکت تحفہ ملا جن کے صدقے زندگی گزارنے کا ڈھنگ آیا اور جن کی ذات اقدس ہمارے لئے سراپا رحمت ہے ان سے بڑھ کر کون سی رحمت اور کون سی نعمت ہے؟ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حواری خوان رحمت عطا ہونے والے دن کو عید کہہ سکتے ہیں اور وہ دن ان کے اگلوں پچھلوں کے لئے یوم عید ہوسکتا ہے تو ہم بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ امام الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روز ولادت کو عید میلاد النبیﷺ کا نام دیں اور عید منائیں۔
    کہتے ہیں کہ ’’کسی معتبر کتاب میں یوم میلاد کو عید نہیں لکھا گیا‘‘ فی الوقت میرے پاس موجود کتاب کے اعتبار کے لئے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اشرف علی تھانوی صاحب نے اور تمام علمائے دیوبند نے اس کتاب کو اپنی تحریروں کی وقعت ظاہر کرنے کے لئے حوالہ دے کر جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے اور نشرالطیب تو اس کتاب کے حوالوں سے بھری ہوئی ہے اور معترضین کی مزید تسلی کے لئے عرض ہے کہ اس کتاب کے عربی متن کے اردو ترجمہ پر تعریفی تقاریظ علمائے دیوبند نے لکھی ہیں۔ اس کتاب کا نام ’’مواہب لدنیہ‘‘ ہے ترجمہ کو ’’سیرۃ محمدیہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    امام احمد بن محمد بن ابی بکر الخطیب قسطلانی رحمتہ اﷲ علیہ کی یہ کتاب پانچ سو برس پرانی ہے۔ اس کی شرح ’’زرقانی‘‘ آٹھ ضخیم جلدوں میں علامہ ابو عبداﷲ محمد زرقانی نے لکھی جو اہل علم میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ 1338 ہجری میں جن علمائے دیوبند نے اس کتاب پر تعریفی تقاریظ لکھیں ان کے نام بھی ملاحظہ فرمالیں۔
    * جناب محمد احمد مہتمم دارالعلوم دیوبند و مفتی عالیہ عدالت ممالک سرکار آصفیہ نظامیہ * جناب محمد حبیب الرحمن مددگار مہتمم دارالعلوم دیوبند * جناب اعزاز علی مدرس ، مدرسہ دیوبند * جناب سراج احمد رشیدی مدرس، مدرسہ دیوبند * جناب محمد انور معلم، دارالعلوم دیوبند
    اس کتاب کے صفحہ 75 پر امام قسطلانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ اس مرد پر رحم کرے جس نے آنحضرت ﷺ کی ولادت کے مبارک مہینہ کی راتوں کو ’’عیدین‘‘ اختیار کیا ہے تاکہ اس کا یہ (عید) اختیار کرنا ان لوگوں پر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لادوا بیماری، آپ کے مولد شریف کے سبب ہے۔ معتبر کتاب سے مطلوبہ لفظ ’’عید‘‘ ملاحظہ فرمالیا۔ اگر امام قسطلانی کی تحریر سے اتفاق نہیں تو مذکورہ علمائے دیوبند کو ملامت کیجئے جنہوں نے اس کتاب کو بہترین اور اس کے ترجمہ کو بہت بڑی نیکی لکھا ہے۔


    عیدمیلاد النبی ﷺ پر تیس اعتراضات کے جوابات
    اعتراض نمبر ۱: تینتیس سالہ دور نبوت میں ۱۲ ربیع الاول کو منائے جانے والی عیدیا نکالے جانے والے جلوس کا کوئی ثبوت ملتا ہے تو حوالہ دیجئے۔
    جواب: سب سے پہلے میلاد کے لغوی و اصطلاحی معنی پڑھئے: میلاد کے لغت میں معنی ہیں ”بچہ جننا“۔ اور اصطلاح میں اس کے معنی ہیں:” حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں آپ کے معجزات وخصائل اور سیرت و شمائل بیان کرنا “۔ اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا: حضرت ابو قتادہ بیان فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یَومَ وُلِدْتُ و یَومَ اُنْزَلُ عَلَیَّ
    یعنی اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی“
    (صحیح مسلم،2/819،رقم:1162/امام بیہقی: السنن الکبری،4/286، رقم:8182)
    نیز حدیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کیلئے بکرا ذبح فرمایا۔(امام سیوطی:الحاوی للفتاوٰی، 1/196/حسن المقصد فی عمل المولد، 65/امام نبہانی: حجۃ اللہ علی العالمین، 237) اس سے معلوم ہوا کہ میلاد منانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جہاں تک بات ہے مروجہ طریقے سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے یا جلوس نکالنے کی تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا رہا لوگ ہر چیز احسن سے احسن طریقے سے کرتے رہے، پہلے مساجد بالکل سادہ ہوتی تھیں اب اس میں فانوس، ٹائلز اور دیگر چراغاں کرکے اسے مزین کرکے بنایا جاتا ہے، پہلے قرآن پاک سادہ طباعت میں ہوتے تھے اب خوبصورت طباعت میں آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح پہلے میلاد سادہ انداز میں ہوتا تھا، صحابہ کرام اور تابعین اپنے گھروں پر محافل منعقد کیا کرتے تھے اور صدقہ وخیرات کیا کرتے تھے۔
    اعتراض نمبر ۲:تیس سالہ دور خلافت راشدہ میں ایک مرتبہ بھی اگر عید منائی گئی یا جلوس نکالا گیا تو
    معتبر حوالہ دیجئے۔
    جواب: جی ہاں! صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انکا میلاد منایااور میرے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ خوشی کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ جلیل القدر صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں قصیدہ پڑھ کر جشن ولادت منایا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201)” سرکار صلی اللہ علیہ وسلم خودحضرت حسان کیلئے منبر رکھا کرتے تھے تاکہ وہ اس پر کھڑے ہوکر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں فخریہ اشعار پڑھیں اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان کیلئے دعا فرماتے کہ اے اللہ! روح القدس (جبریل علیہ السلام) کے ذریعے حسان کی مدد فرما“۔(صحیح بخاری:1/ 65)۔ میلاد کے اصطلاحی معنی محافل منعقد کرکے میلاد کا تذکرہ کرنا ہے جو ہم نے مذکورہ احادیث سے ثابت کیا ہے، تم لوگ میلاد کی نفی میں ایک حدیث دکھادو جس میں واضح طور پر یہ لکھا ہو کہ میلاد نہ منائی جائے، حالانکہ کئی ایسے کام ہیں جو صحابہ کرام نے نہیں کئے مگر ہم اسے کرتے ہیں چونکہ انہیں منع نہیں کیا گیااور وہ دین کے خلاف بھی نہیں لہٰذا وہ جائز و روا ہیں۔
    اعتراض #3 : اس جلوس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ فرض، واجب، سنت یا مستحب؟
    اعتراض #4 : عید الفطر کے بارے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری عید ہے ، عید الاضحیٰ کے بارے میں بھی فرمایا کہ یہ دن تمہاری عید کا دن ہے۔ آپکی اس تیسری عید کے بارے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا ہے؟
    ﴿…جواب…﴾ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا اور اس میں محافل و جلوس نکالنااہل محبت کا تہوار ہے۔ نہ فرض ہے نہ واجب بلکہ سنت و مستحب ہے، جیسا کہ مذکورہ احادیث سے ثابت ہوانیز محبت والے کاموں کو واضح بیان نہیں کیا جاتا بلکہ اسکی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔”(القرآن. عیسٰی ابن مریم نے عرض کی کہ اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہوہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی“۔ (دلیل حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعہ ہم تک یہ سوچ منتقل ہوئی کہ جس دن خوان نعمت اترے اس دن عید منائی جائے تو جس دن جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اتریں تو اس دن عید کیوں نہ ہو؟ (حدیث. حضرت ابو لبابہ بن منذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے ہاں تمام سے عزیز ہے، اور یہ اللہ تعالی کے ہاں یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر سے افضل ہے“۔(مشکوة: باب الجمعۃ) اب جمعہ کا دن عید الاضحیٰ اور عید الفطر سے کیوں افضل ہے؟ ملاحظہ کیجئے۔ (حدیث. حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فضلیت جمعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اسی میں ان کا وصال ہوا“۔ (ابو داوٴد، ابن ماجہ، نسائی) تو یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اشارة فرماگئے یعنی اشارةالنص ہے کہ اے مسلمانوں! اب تم خود سمجھ لو کہ جس دن حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ہو وہ دن عید کا دن ہے تو پھر وہ دن کس قدر مقدس ہوگا جس دن اس دنیا میں میری ولادت ہوئی۔ سو اب ہمیں جان لینا چاہیئے کہ جس دن جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی وہ دن عید الفطر، عید الاضحی، یوم الجمعۃ اور شب قدر سے بھی افضل ہے، کیونکہ اسی جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل میں تمام تہوار نصیب ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا میلاد خود منایا جس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔
    اعتراض نمبر ۵: ائمہ اربعہ رحمہم اللہ میں سے بھی کسی نے یہ عید منائی تھی؟ اور جلوس میں شرکت کی تھی ؟ اور میلاد کی مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر کھڑے ہوئے تھے؟ صرف ایک ہی معتبر حوالہ پیش کردیں۔
    اعتراض نمبر ۶ : شیخ عبد القادر جیلانی (پیران پیر) نے اگر زندگی میں ایک دفعہ بھی یہ عید منائی ہو تو معتبر حوالہ دیجئے۔
    ﴿جواب…﴾ الحمد للہ ہمارے ائمہ اربعہ اور سیدنا غوث اعظم سے میلاد شریف منانا ثات ہے، مگر اسے ثابت کرنے سے پہلے ہمارا غیر مقلدین و اہل حدیث حضرات سے سوال ہے کہ آ پ لوگ تو ائمہ اربعہ کا ہی سرے سے انکار کرتے ہو ۔ اگر ہم ثابت کر بھی دیں تو آپ لوگ اسے تسلیم نہیں کروگے کیونکہ جب کوئی شخص کسی کی ذات کا انکار کرتا ہوتو وہ اس کے عمل کو کیسے تسلیم کرے گا؟ اس کے بعد ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ میلاد سے عداوت میں تم لوگ یہ بھول گئے کہ تمہارے نزدیک تو ائمہ اربعہ امام ہی نہیں، پھر تم نے چاروں کو امام کیسے لکھ دیا؟ نیز جب ہم نے صحابہ کرام اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میلاد کا ثبوت پیش کردیا ہے اور تم پھر بھی نہیں مان رہے ہو تو ائمہ اربعہ اور غوث اعظم کا مرتبہ ان سے زیادہ کوئی ہے؟ اگر واقعی ماننا چاہتے تو یہی دلیل کافی ہوتی مگر تم لوگ فتنہ و فساد پھیلانے اور عوام اہل سنت کا ذہن خراب کرنے کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہو؟ واہ رے وھابی تیرے کیا کہنے
    اعتراض نمبر 7: اس عید کو منانے کی وجہ سے صرف ہم آپ کے معتوب ہیں یا صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین، تابعین، ائمہ مجتہدین اور محدثین رحمہم اللہ بھی؟
    اعتراض #8 : سب سے پہلے یہ عید کب اور کہاں منائی گئی؟ جلوس کب نکلا، صدارت کس نے کی؟ جلوس کہاں سے نکل کر کہاں پر اختتام پذیر ہوا؟
    ﴿جواب…﴾ ہاں تم نے صحیح کہا۔ اس عید کو نہ منانے کی وجہ سے صرف تم لوگ ہی معتوب ہو ورنہ رہے صحابہ کرام علیھم الرضوان، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین و محدثین رحمہم اللہ، تووہ تمام لوگ الحمد للہ اپنے اپنے انداز میں میلاد منایا کرتے تھے۔ اوروہ تمام اہل سنت تھے جیسا کہ پہلے ذکر کردیا گیا۔ رہا مسئلہ کہ سب سے پہلے کس نے عید منائی؟ تو پیچھے حدیث مذکور ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود میلاد منایا کرتے تھے، تو اسکی ابتداء گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمائی۔نیز جلوس وغیرہ شرعاً جائز و روا ہیں۔ ”(حدیث. امام مسلم کی روایت کے مطابق جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ پہنچے تو فَصَعِدَ الرِّجَالُ وَ النِّسَاءُ فَوْقَ البُیُوتِ وَ تَفَرَّقَ الْغِلْمَانُ وَالخَدَمُ فِی الطُرُقِ یُنَادُونَ: یَا مُحَمَّدُ، یَا رَسُولَ اللہِ، یَا مُحَمَّدُ، یَا رَسُولَ اللہِ۔“ (صحیح مسلم، رقم:2009، کتاب الزھد) یعنی تمام مرد و عورتیں چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور خدّام راستوں پر بکھر گئے اور وہ سب یہ نعرے لگا رہے تھے کہ یَا مُحَمَّدُ ، یَا رَسُولَ اللہ ، یَا مُحَمَّدُ ، یَا رَسُولَ اللہ۔ تو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نعرے اور جلوس نکالنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ہوا مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ منکرین اس حدیث کے جواب میں کوئی حدیث پیش کریں جس سے عدم جواز ثابت ہو۔
    اعتراض نمبر 9: دونوں عیدوں کے خطبے تو مشہور ہیں اس عید کا خطبہ کونسا ہے؟
    اعتراض #10 : دونوں عیدوں کی تو نمازیں بھی ہیں یہ بھی اگر عید ہے تو اس عید کی نماز کیوں نہیں؟
    اعتراض #11 : دونوں عیدوں کے احکام حدیثوں میں بھی ملتے ہیں۔ یہ عید احکام سے محروم کیوں؟
    ﴿…جواب…﴾ ان سوالات میں غیر مقلدین حضرات نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے یہ گھڑ لیا ہے کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم عید الاضحی اور عید الفطر پر قیاس کرتے ہیں، تو جس طرح ان کے خطبات اور نمازیں ہوتی ہیں اسی طرح عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی بیان کرو؟ تو آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اصطلاحی عید نہیں ہے کہ جس میں مخصوص عبادات لازم کی گئی ہوں اور روزہ رکھنا حرام کیا گیا ہوبلکہ یہ عرفی عید ہے یعنی عرفاً دنیا بھر کے تمام مسلمان اس دن جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی خوشی میں اہتمام کرتے ہیں۔ نیز ایسا نہیں ہے کہ ہم عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کومقیس اور عید الفطر اور عیدالاضحی کو مقیس علیہ قرار دیتے ہیں بلکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے لفظ عید کا استعمال بمعنی خوشی ہے اور اسکی اپنی جگہ ایک مسلّم حیثیت ہے جیسا کہ مذکورہ احادیث سے صراحۃ پتا چلتا ہے۔ اس سے انکی جہالت و عداوت بخوبی عیاں ہوجاتی ہے۔ ان اعتراضات کے جوابات کی تفصیل جواب نمبر3، 4کے ضمن میں ذکر کردیئے گئے ہیں، ملاحظہ ہوں۔
    اعتراض نمبر 12: اگر یہ عید مسلمانوں میں شروع سے چلی آرہی ہے تو پھر مؤرخین کا پیدائش کی تاریخ میں شدید اختلاف کیوں؟ کوئی اگر اس تاریخ کو پیدائش ہی نہ مانے اور ہو بھی بریلوی رہنما تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    ﴿…جواب…﴾ اگرچہ مؤرخین کا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ میں اختلاف ہے مگر جمہور صحابہ، فقہاء و مسلمین کا اس بات پر اجماع ہے کہ تاریخ میلاد بارہ ربیع الاول بروز پیر ہے۔ اس بارے میں چن...د دلائل درج ذیل ہیں: (i) حضرت جابر بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل بروز دو شنبہ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے، اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اسی روز معراج ہوئی اور اسی روز ہجرت کی اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہے۔ (سیرت ابن کثیر:/199)۔ (ii) امام ابن جریر طبری علیہ الرحمۃ جو کہ مؤرخ ہیں اپنی کتاب تاریخ طبری جلد 2، صفحہ125پر لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پیر کے دن ربیع الاول شریف کی بارہویں تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی۔ (iii) اہل حدیث کے مشہور عالم نواب سید محمد صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں کہ ولادت شریف مکہ مکرمہ میں وقت طلوع فجر بروز دو شنبہ شب دوازدہم (۱۲) ربیع الاول عام الفیل کو ہوئی، جمہور علماء کا یہی قول ہے، ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے۔ (الشمامۃ العنبریۃ فی مولد خیر البریۃ، 7) (غیرمقلدوں! اپنے مشہور عالم کی تو تقلید کرلو) (iv) مصری ماہر فلکیات کے نزدیک بھی ولادت کی تاریخ بارہ ہے، مصر کے علماء بھی بارہ ربیع الاول کو جشن ولادت مناتے ہیں۔ (v) بر صغیر کے مشہور محدّث شاہ عبد الحق محدّث دہلوی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب مدارج النبوة دوسری جلد صفحہ نمبر ۱۵ پر میلاد کا دن پیر کا اور تاریخ بارہ ربیع الاول لکھتے ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ بارہ ربیع الاول پر جمہور کا اتفاق ہے اور اگر کوئی اپنی دلیل سے اسے نہ مانے توبالدلیل اختلاف کرنے کا حق کسی کو بھی ہے۔—
    اعتراض #13 : جو عیدیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیں، کیا اس سے کم زیادہ کرنے کا ہمیں اختیار ہے؟ اعتراض #14 : عید جیسی خوشی ہونا اور عید منانا کیا دونوں میں فرق نہیں؟
    ﴿…جواب…﴾ یہ دونوں اعتراض بھی غیر مقلدین اور وھابیوں کی خرافاتی ذہن کی پیداوار ہیں۔ بہر حال جیسا کہ ثابت ہوچکا کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہے، بلکہ ہم تو سالانہ صرف اسی دن کو مناتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر پیر کو ولادت اور نزول وحی کی خوشی میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ تو اس دن عید جیسی خوشی منانا یا عید منانا ایک ہی معنی رکھتا ہے کوئی بھی عقلمند یہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اس میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ یہ اہل محبت کا تہوار ہے اہل عداوت کا نہیں۔
    اعتراض #15 : اپنے رہنما کی پیدائش پر عید منانا یہود و نصاری کا طریقہ ہے یا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت؟
    اعتراض #16 : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مکمل دین پہنچایا کیا اس میں یہ ربیع الاول والی عید بھی تھی
    ؟ اعتراض #17: مَن تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَھُوَ مِنھُمْ کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ کا یہ فعل یہودی اور عیسائیوں کے مشابہ نہیں کہ وہ بھی اپنے نبی کی پیدائش پر عید مناتے ہیں اور آپ بھی۔
    اعتراض #18:... اگر یہ عید محبت کا معیار ہے تو کیا امہات المومنین، بنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ جتنی بھی محبت نہیں تھی؟ انہوں نے تو زندگی میں یہ عید ایک مرتبہ بھی نہیں منائی۔
    ﴿…جواب…﴾ غیر مقلدین حضرات کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جانے کیا عداوت ہے کہ وہ اس جائز ومستحب کا م کو یہود و نصاری سے مشابہ قرار دے کر ناجائز قرار دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو اتنی تگ و دو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ صرف اتنا کریں کہ ایک حدیث سے یہ ثابت کردیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی نے میلاد منانے سے منع فرمایا ہو۔ مگر ان عقلمندوں سے یہ آسان کام نہیں ہوتا، اور ہو بھی کیسے؟ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، ائمہ، فقہاء اور اہل محبت مسلمین و مسلمات بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میلاد منانا ثابت ہے جیسا کہ ما قبل ذکر ہوچکا۔مزید یہ کہ ہم یوم ولادت مناتے ہیں اور یوم ولادت منانا یہود و نصاری کی رسم نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جو مکمل دین پہنچایا اس میں عید میلاد بھی ہے اور مَن تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَھُوَ مِنھُم، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اس کے ساتھ ہوگا۔ چنانچہ ہم اہل سنت و جماعت تو الحمدللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور میلاد منانے کی وجہ سے اُن کے اور انکے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ ہونگے جبکہ یہ غیر مقلدین اپنا حشر سوچ لیں کہ وہ عداوت میں ایک تو میلاد نہیں منا رہے بلکہ اس طرح کی خرافات و بکواسات کرکے اپنی آخرت اور تباہ کر رہے ہیں۔ نیز اس اعتراض کا جواب بھی گزر گیا کہ صحابہ کرام، امہات المومنین و بنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہم علیہم الرضوان نے اپنے اپنے انداز میں اپنی محبت کے مطابق میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم منایا جیسا کہ سیرت و احادیث کی کتب سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل و خصائل، اخلاق و معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے واقعات بڑے جوش و فخر سے بیان کیا کرتے تھے اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مدح سرائی کیا کرتے تھے یہی تو وجہ ہے کہ یہ کتب سیرت اور احادیث(مثلاً صحاح ستہ) ہم تک متواتراً پہنچیں جن کے بغیر غیر مقلدین کے دلائل مکمل نہیں ہوتے۔ تو اےغیر مقلدوں! یہ درحقیقت میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تو اور کیا ہے؟
    اعتراض #19: کیا عید بھی قیاسی چیز ہے ؟ کسی کے فعل پر قیاس کر کے ہم ایک نئی عید نکال لیں؟ نیز قیاس کرنا مجتہدین کا کام ہے یا ایرے غیرے نتھو خیرے کا کام ہے؟
    اعتراض #20: کیا قیاس اور مقیس علیہ میں من کل الوجوہ مطابقت ضروری نہیں ہوتی؟
    اعتراض #21 : جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اس دن آپ عید کیوں نہیں مناتے؟ اگر عید منائے بغیر خوشی نہیں ہوسکتی تو اس دن عید کیوں نہیں مناتے؟
    اعتراض #22 : معراج کے دن آپ خوشی کیوں نہیں مناتے؟ کیا معراج کی آپ کو خوشی نہیں؟ اعتراض#23 : کیا عیسائی اور یہودیوں کے ناجائز فعل پر قیاس کرنا جائز ہے؟
    ﴿…جواب…﴾ اعتراض نمبر 19، 20 اور23میں پھر ان غیر مقلدین حضرات نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں اور عیسائیوں پر قیاس کرکے ثابت کی گئی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ پچھلے بے شمار دلائل سے یہ بخوبی ثابت ہوگیا کہ عید میلاد کو کسی اور پر قیاس کرکے جائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ یہ خود ہی اصل ہے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ جبکہ غیر مقلدین اس جائز اصل کو یہودیوں اور عیسائیوں کے ناجائز فعل پر قیاس کیا ہوا سمجھتے ہیں۔ واہ !کیا ایماندار لوگ ہیں؟ اور اعتراض نمبر 19میں یہ بات بہت شاندار کہی کہ قیاس کرنا مجتہدین کا کام ہے یا ایرے غیرے نتھو خیرے کا کام ہے؟ تو واقعی یہ مجتہدین کا کام ہے اور ایرا غیرا نتھو خیرا کون ہے؟ یہ سوال نمبر 20 سے واضح ہورہا ہے کہ کیا قیاس اور مقیس علیہ میں من کل الوجوہ مطابقت ضروری نہیں ہوتی؟ تو ان عقلمند و دانشمند غیر مقلدین کی جناب میں عرض ہے کہ یہاں قیاس کی جگہ مقیس کا لفظ آئے گا اور سوال یہ ہونا چاہیئے تھا کہ کیا مقیس اور مقیس علیہ میں من کل الوجوہ مطابقت ضروری نہیں ہوتی؟ سو واقعی یہ ایرے غیرے نتھو خیرے کا کام نہیں ہے۔ نیز اعتراض نمبر 21 کا جواب یہ ہے کہ جس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی وہ دن بتادیں؟ تاکہ ہم اس دن بھی خوشی منائیں۔ کیونکہ الحمد للہ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے (جامع ترمذی، رقم: 3609) تو اس وقت دن تو متعین ہی نہیں ہوئے تھے تو اب کیا کریں؟ ہم جواب کے منتظر رہیں گے۔ اور اعتراض نمبر 22کا جواب یہ ہے کہ ہم الحمد للہ معراج کی رات بھی عید مناتے ہیں اور اس رات تقریب تمام مساجد و مدارس میں معراج کے واقعات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات وشمائل بیان کئے جاتے ہیں اور غالباً ہمارے نزدیک یہی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے۔ اور ہم الحمد للہ معراج پر یہ کیا کرتے ہیں۔وہابیوں تم کیا کرتے ہیں یہ سننے کیلئے ہمارے کان بے تاب رہیں گے
    اعتراض #24 : قرآن کریم کا ہم سے مطالبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کا؟
    اعتراض #25 : اگر ایک صف میں میلاد منانے والے ہوں اور ایک صف میں عید میلاد نہ منانے والے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام، امہات المومنین اور آل رسول رضی اللہ عنہم کس صف میں ہونگے؟ ﴿…جواب…﴾ غیر مقلدین حضرات کا ہم پر یہ اعتراض کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا مطالبہ ہے ی...ا میلاد کا تو یہ الحمد للہ ثابت ہوچکا کہ میلاد منانے میں ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے جیسا کہ احادیث کی روشنی میں گزرچکا، نیز اگلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک صف میں میلاد نہ منانے والے غیر مقلدین ہوں اور دوسری صف میں میلاد منانے والے مسلمان ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان اسی صف کے امام ہونگے جس میں انکے مقلدین و مسلمین موجود ہوں اور وہ وہ ہیں جن کے بارے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَا اَنَا عَلَیہِ وَ اَصْحَابِی یعنی اہل سنت و جماعت۔
    اعتراض #26 : وہ انداز اختیار کرنا کیسا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ہر بارہ ربیع الاول اعادہ ولادت ہوتا ہے؟
    >اعتراض #27 : احمد رضا کے نزدیک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کیا ہے؟
    :28 آپ لوگوں کا عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شدید التزام پایا جاتا ہے جبکہ التزام و اصرار تو امور مستحبہ میں بدعت ہے تو پھر یہ بدعت کیوں نہیں؟
    جواب…﴾ یہ اعتراض سرے سے ہی غلط ہے۔ کیونکہ اہل سنت و جماعت کے کسی بھی عمل و عقیدے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر سال بارہ ربیع الاول کو پیدا ہونا ثابت ہوتا ہو۔ بلکہ ہم تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی مناتے ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ نیز اعتراض نمبر 27کا جواب یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت، عظیم المرتبت، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ: ” ولادت کے بارے میں سات اقوال ہیں، مگر زیادہ مشہور و معتبر قول بارہویں تاریخ ہے(فتاوی رضویہ:26/411) (مزید فرماتے ہیں…) جمہور کے نزدیک یہی مشہور ہے اور اسی پر عمل ہے۔ (فتاوی رضویہ:26/412) (مزید فرماتے ہیں…) جو چیز جمہور کے نزدیک مشہور ہو اس کو بڑی وقعت حاصل ہوتی ہے اور وہ بارہویں تاریخ ہی ہے۔ (فتاوی رضویہ:26/427) (نیز فرماتے ہیں…) حرمین شریفین، مصر و شام، بلادِ اسلام اور ہندوستان میں مسلمانوں کا معمول بارہویں تاریخ ہے، اسی پر عمل کیا جائے۔ (فتاوی رضویہ:26/428)“۔ تو ان صریح دلائل سے ثابت ہوگیا کہ اعلیٰ حضرت کا قول و عمل بھی بارہویں تاریخ ہی تھا۔ اور اعتراض نمبر 28 کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں التزام و اکراہ نہیں ہے۔ جو خوشی سے کرنا چاہے وہ کرے اور جو نہ کرنا چاہے وہ نہ کرے۔ نیز یہ کہاں سے ثابت ہے کہ مستحبات میں التزام و اصرار بدعت ہے بلکہ حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: خَیرُ العَمَلِ اَدوَمُ وَاِنْ قَلَّ یعنی بہترین عمل وہ جوہے ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔ تو یہاں حدیث میں بہترین عمل سے مراد فرائض نہیں ہوسکتے کیونکہ فرائض میں کمی نہیں ہوسکتی، یقیناً یہاں مراد نفل و مستحب ہی ہیں۔ تویہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خود ہی مستحب کام کو التزام کے ساتھ کرنے کا حکم دے رہے ہیں اورغیر مقلدین حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ اور اگر یہ اپنے اس قول میں صحیح ہیں کہ کسی مستحب کام کو التزام کے ساتھ کرنا بدعت ہے تو اس پر دلیل پیش کریں۔ ہم منتظر ہیں۔
    اعتراض#29 : قُل بِفضلِ اللہِ وَ بِرَحمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفرَحُوْا O
    ترجمہ:۔ تم فرماوٴ کہ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور
    اسی پر چاہیئے کہ خوشی کریں۔ (کنز الایمان) آپ لوگ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ثواب کیلئے اس آیت کو پیش کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، ائمہ تفاسیر اور اکابرین اہل سنت میں سے کس نے اس آیت سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم والی تیسری عید مراد لی ہے؟ خود آپ کے صدر الافاضل نعیم الدین حضرت ابن عباس اور قتادہ کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ فضل سے مراد اسلام ہے اور رحمت سے مراد حدیث ہے۔ فرح کے معنی مفتی نعیم الدین صاحب خوش ہونا لکھتے ہیں عید منانا نہیں، اگر فرحت و خوشی کیلئے عید منانا ضروری ہے تو پھر اسلام ملنے پر، احادیث ملنے پر بھی ایک ایک عید ہوگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت ملنے پر،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام شادیوں پر، اولاد میں سے ہر ایک کی پیدائش پر عید منائیں۔ کیا آپ کو ان چیزوں کی خوشی نہیں ہے؟
    ﴿…جواب…﴾ غیر مقلدین حضرات نے خود تسلیم کرلیا کہ اس آیت میں جو فضل ہے اس سے مراد اسلام ہے اور رحمت سے مراد حدیث ہے اور دلالة النص اور اشارة النص سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ جب حدیث رحمت ہے تو جو حدیث والا ہے وہ یقیناً حدیث سے بڑی رحمت ہے اور جو جتنی بڑی رحمت ہے اسکی خوشی اتنی ہی زیادہ ہوگی نیز اس بات کی تائید قرآن پاک کی مشہور و معروف آیت ہے فرمایا کہ: وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلعٰلَمِینَo تو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالمین کیلئے رحمت ہیں تو تمام ہی کو اسکی خوشی منانی چاہیئے، خصوصاً ان حضرات کوجو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں!!! نیز اس بات پر دلیل کہ رحمت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک ہے تو آیئے ہم حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہی ثابت کئے دیتے ہیں ملاحظہ ہو۔ چنانچہ علامہ آلوسی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ”عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما اَنَّ الفَضْلَ العِلمُ وَالرَّحْمَۃَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم“۔ (تفسیر روح المعانی: سورہ یونس آیت 58) یعنی حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فضل سے مراد علم ہے اور رحمت سے مراد سیدنامحمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ لو غیر مقلدوں! عقل کے اندھوں! اپنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت کو پرے رکھ کر آنکھیں کھول کر اس روایت کو دیکھو کہ حضرت ابن عباس رحمت کی تفسیر جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک سے کر رہے ہیں۔ ارے ظالموں! اب تو اہل حق میں شامل ہوجاوٴ۔ رہی بات یہ کہ معراج ہونے، اسلام ملنے، احادیث ملنے وغیرہ رغیرہ پر عید کیوں نہیں منائی جاتی؟ تو یہ بات عیاں ہے کہ ہم اہل سنت و جماعت کو ہی تو ان تمام چیزوں کی خوشی ہوتی ہے ورنہ ہمارے علاوہ اور کسے ہوتی ہے؟ کیا ان غیر مقلدین اور نام نہاد اہل حدیث کو ہوتی ہے؟ جو ان تمام اصول کی بھی اصل یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کو ہی عداوت کی وجہ سے اعتراضات کا نشانہ بناتے ہیں اور جب وہ اصل الاصول کے میلاد کی خوشی نہیں مناتے تو اصول کا درجہ تو اصل الاصول سے کم ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی نعمت عظمٰی ہیں اور وہ بھی ایسی نعمت جسے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو جتایا ورنہ اور کسی نعمت کو نہ جتایا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ”لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی المُؤْمِنِینَ اِذْ بَعَثَ فِیھِمْ رَسُوْلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ“(الایۃ) یعنی تحقیق اللہ نے مومنین پر احسان(عظیم) فرمایا کہ جب ان میں انہی میں سے (اپنا)رسول بھیجا۔ تو اے غیر مقلدوں وھابیوں! بتاوٴ ہم اس نعمت عظمٰی کا خوب چرچا کیوں نہ کریں؟ جواب دو
    اعتراض نمبر 30: کیا وجہ ہے کہ جہاں قربانی دینی پڑے وہاں جہاد کی فرضیت بھی نظر نہیں آتی۔ جہاں کھانے پینے کا مسئلہ ہو تو بدعت بھی واجب نظر آتی ہے؟
    ﴿…جواب…﴾ یہ غیر مقلدین کا ہم اہل سنت و جماعت پر سراسربہتان و الزامِ عظیم ہے کہ ہم جہاد کی فرضیت کے وقت قربانی نہیں دیتے۔ کیونکہ 1857ء کی جنگ آزادی میں سب سے پہلے انگریز حکومت کے خلاف فتوی دینے والے علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ ہی تھے اور اس جنگ آزادی میں ایک کثیر علمائے اہل سنت و جماعت کو شہید کیا گیا تھا۔ اور جس وقت علمائے اہل سنت و جماعت کی لاشوں کو درختوں اور کھمبوں پر لٹکایا جارہا تھا اس وقت یہ وہابی غیر مقلد حضرات انگریز حکومت کو امن وسلامتی والی حکومت کہہ رہے تھے اور اس انگریز حکومت کے سامنے دست بستہ (ہاتھ باند کر) کھڑے ہوکر یہ مطالبہ پیش کر رہے تھے کہ اب ہمیں وھابی کے بجائے محمدی کا نام دیا جائے۔ تو اس وقت انہیں جہاد یاد نہ آیا کیونکہ اس وقت انکا خرچہ پانی جو بندھا ہوا تھا( جو چاہے ان غیر مقلدین کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لے) اور آج کی دہشت گردی کو یہ جہاد کا نام دیتے ہیں؟ یہ کہاں کا جہاد ہے کہ مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے اور انکی املاک کو نقصان پہنچایا جائے۔ اس جہاد کا ثبوت یہ لوگ ہمیں قرآن و حدیث سے دیدیں!!! یہ کہاں لکھا ہے کہ کسی کی عبادت گاہوں کو بم سے اڑادیا جائے ؟ بلکہ ہمیں حدیث میں تو یہ ملتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ یہودو نصاری کی عبادت گاہوں کو تباہ نہ کرنا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تو یہود و نصاری کی عبادت گاہوں کی حفاظت کا حکم ارشاد فرمارہے ہیں اور یہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو بموں سے اڑاکر کہاں کا جہاد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ جو غیر مقلدوں نے ہمیں کھانے پینے کا طعنہ دیا ہے تو الحمد للہ ہم اہل سنت و جماعت تو میلاد اور فاتحہ کا پاکیزہ کھانا کھاتے ہیں جبکہ ان بد نصیبوں کے مقدر میں کیا ہے اس کے لئے انہی کی گھر کی کتاب ”فتاوی اہل حدیث“ کی یہ عبارت پڑھیئے۔ ”ماکول اللحم (جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے جیسے گائے، بکری وغیرہ) کا گوبر، پیشاب تک پاک اور حلال ہے“۔ (فتاوی اہل حدیث، 2/566، مطبوعہ سرگودھا)۔ اور علمائے دیوبند کا یہ فتویٰ بھی ملاحظہ کرلیں کہ: ’’عام پایا جانے والا کوا نہ صرف حلال ہے بلکہ باعث ثواب ہے‘‘۔(فتاوی رشیدیہ (کامل):598)۔ نیز میلاد کو حرام کہنے والوں کی یہ ’’پسند‘‘ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ: ’’ہندو تہوار (ہولی/دیوالی) کی پوری کھانا جائز ہے، اور سودی رقم سے لگائی ہوئی ہندوؤں کی سبیل سے پانی پینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے‘‘۔ (فتاوی رشیدیہ (کامل):575)۔سواے منکرینِ میلاد! تمہیں جانوروں کا گوبر و پیشاب، اڑتے ہوئے کوے اور ہندو تہوار کی پوریاں مبارک ہوں اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی پاکیزہ نیاز۔
     
  • Najam Mirani

    Najam Mirani Management


    علمائے امت کے اقوال و افعال سے جشن عیدمیلاد النبیﷺ کا ثبوت
    سوال: کیا علمائے امت کے اقوال و افعال سے جشن عیدمیلاد النبیﷺ کا ثبوت ملتا ہے؟
    جواب: اس امت کے بڑے بڑے مفتیان کرام، علماء کرام، مفسرین، محدثین، شارحین اور فقہاء نے اپنی اپنی کتابوں میں جشن عید میلاد النبیﷺ منانے کو باعث اجر وثواب لکھا ہے، چنانچہ علمائے امت کے اقوال ملاحظہ ہوں۔
    1۔ حضرت امام اعظم علیہ الرحمہ (المتوفی 150ھ) آپ رحمتہ اﷲ علیہ کا نام تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کی دینی خدمات اس قدر ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمان ان شاء اﷲ عزوجل تا قیامت کے علم سے مستفید رہیں گے۔ آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اپنے ’’قصیدہ نعمانیہ‘‘ میں حضور نبی اکرمﷺ کا میلاد شریف یوں بیان کرتے ہیں:
    یعنی! ’’آپ ﷺ ہی وہ ہیں کہ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا اور آپ پیدا نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ پیدا کیا جاتا۔ وہ ہیں جن کے نور سے چودھویں کا چاند منور ہے اور آپ ﷺ ہی کے نور سے یہ سورج روشن ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام آپ کی خوش خبری سنانے آئے اور آپ ﷺ کے حسن صفات کی خبر لے کر آئے‘‘ (قصیدۂ نعمانیہ، صفحہ 196، 195ء)
    2۔ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ (المتوفی 204ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میلاد شریف منانے والا صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا‘‘ (النعمتہ الکبریٰ بحوالہ ’’برکات میلاد شریف‘‘ ص 6)
    3۔ حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ (المتوفی 241ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں ’’شب جمعہ، شب قدر سے افضل ہے کیونکہ جمعہ کی رات سرکار علیہ السلام کا وہ نور پاک اپنی والدہ سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنہا کے مبارک رحم میں منتقل ہوا جو دنیا و آخرت میں ایسی برکات و خیرات کا سبب ہے جوکسی گنتی و شمار میں نہیں آسکتا‘‘ (اشعتہ اللمعات)
    4۔ امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (المتوفی 606ھ) فرماتے ہیں کہ ’’جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا۔ اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا تو ایسا شخص برکت نبوی سے محتاج نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا ہاتھ خالی رہے گا‘‘ (النعمتہ الکبری، بحوالہ برکات میلاد شریف ص 5)
    5۔ حضرت امام سبکی رحمتہ اﷲ علیہ (المتوفی 756ھ) آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے ’’قصیدہ تائیہ‘‘ کے آخر میں حضور نبی کریمﷺ کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے۔
    ترجمہ ’’میں قسم اٹھاتا ہوں کہ اگر تمام دریا و سمندر میری سیاہی ہوتے اور درخت میرا قلم ہوتے اور میں آپ ﷺ کی عمر بھر نشانیاں لکھتا تو ان کا دسواں حصہ بھی نہ لکھ پاتا کیونکہ آپ کی آیات و صفات ان چمکتے ستاروں سے بھی کہیں زیادہ ہیں‘‘ (نثرالدرر علی مولد ابن حجر، ص 75)
    6۔ حافظ ابن کثیر (المتوفی 774ھ) فرماتے ہیں ’’
    رسول اﷲﷺ کی ولادت کی شب اہل ایمان کے لئے بڑی شرافت، عظمت، برکت اور سعادت کی شب ہے۔ یہ رات پاکی ونظافت رکھنے والی، انوار کو ظاہر کرنے والی، جلیل القدر رات ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس رات میں وہ محفوظ پوشیدہ جوہر ظاہر فرمایا جس کے انوار کبھی ختم ہونے والے نہیں‘‘
    مولد رسول ﷺ، صفحہ 262)
    7۔ امام حافظ بن حجر رحمتہ اﷲ علیہ (المتوفی 852ھ) نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ’’میرے لئے اس (محفل میلاد) کی تخریج ایک اصل ثابت سے ظاہر ہوئی، دراصل وہ ہے جو بخاری و مسلم میں موجود ہے:
    ترجمہ ’’حضور نبی کریمﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو دسویں محرم کا روزہ رکھتے دیکھا۔ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے، جس دن اﷲ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی، ہم اس دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھتے تھے‘‘
    (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء ، رقم الحدیث 2004،
    ص 321)
    (صحیح المسلم، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء رقم الحدیث 2656، ص 462)
    علامہ ابن حجر فرماتے ہیں: اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے کسی معین دن میں احسان فرمانے پر عملی طور پر شکر ادا کرنا چاہئے۔ پھر فرماتے ہیں حضور سرور کائنات نبی رحمت ﷺ کی تشریف آوری سے بڑی نعمت اور کیا ہوسکتی ہے (نثرالدر علی مولد ابن حجر، ص 47)
    8۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (المتوفی 911ھ) آپ فرماتے ہیں کہ میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں منعقد کی جانے والی یہ تقریب سعید (مروجہ محافل میلاد) بدعت حسنہ ہے جس کا اہتمام کرنے والے کو ثواب ملے گا۔ اس لئے کہ اس میں حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم، شان اور آپ کی ولادت باسعادت پر فرحت و مسرت کا اظہار پایا جاتا ہے (حسن المقصد فی عمل المولد، ص 173)
    9۔ امام ملا علی قاری علیہ رحمتہ الباری (المتوفی 1014ھ) آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’جب میں ظاہری دعوت وضیافت سے عاجز ہوا تو یہ اوراق میں نے لکھ دیئے تاکہ یہ معنوی ضیافت ہوجائے اور زمانہ کے صفحات پر ہمیشہ رہے، سال کے کسی مہینے سے مختص نہ ہو اور میں نے اس کا نام ’’الموردالروی فی مولد النبیﷺ‘‘ رکھا ہے (المورد الروی ص 34)
    10۔ حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’ہمیشہ مسلمان ولادت پاک کے مہینے میں محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں اور دعوتیں کرتے ہیں اور اس ماہ کی راتوں میں ہر قسم کا صدقہ کرتے ہیں، خوشی مناتے ہیں، نیکی زیادہ کرتے ہیں اور میلاد شریف پڑھنے کا بہت اہتمام کرتے ہیں‘‘ (انوار محمدیہ ص 29)
    11۔ مفتی مکہ مکرمہ حضرت سید احمد زینی شافعی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’میلاد شریف کرنا اور لوگوں کا اس میں جمع ہونا بہت اچھا ہے‘‘ (سیرۃ نبوی ص 45)
    ایک اور جگہ حضور مفتی مکہ مکرمہ فرماتے ہیں ’’محافل میلاد اور افکار اور اذکار جو ہمارے ہاں کئے جاتے ہیں ان میں سے اکثر بھلائی پر مشتمل ہیں جیسے صدقہ ذکر، صلوٰۃ و سلام، رسول خداﷺ پر اور آپ کی مدح پر‘‘ (فتاویٰ حدیثیہ ص 129)
    12۔ محدث کبیر علامہ ابن جوزی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’یہ عمل حسن (محفل میلاد) ہمیشہ سے حرمین شریفین یعنی مکہ و مدینہ، مصر، یمن و شام تمام بلاد عرب اور مشرق و مغرب کے رہنے والے مسلمانوں میں جاری ہے اور وہ میلاد النبیﷺ کی محفلیں قائم کرتے اور لوگ جمع ہوتے ہیں‘‘ (المیلاد النبوی ص 35-34)
    13۔ استاد مسجد حرام مکہ مکرمہ شیخ محمد بن علوی المالکی الحسنی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’حضورﷺ اپنی میلاد شریف کے دن کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر اسے بہت بڑا اور عظیم واقعہ قرار دیتے ہیں اور اﷲ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا فرماتے کہ یہ آپ کے لئے بہت بڑا انعام و اکرام و نعمت ہے۔ نیز اس لئے کہ تمام کائنات پر آپ کے وجود مسعود کو فضیلت حاصل ہے‘‘ (حوال الامتفال بالمولد النبوی شریف ص 9,8)
    14۔ علامہ شہاب الدین احمد بن محمد المعروف امام قسطلانی فرماتے ہیں ’’حضورﷺ کے پیدائش کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں اور خوشی کے ساتھ کھانے پکاتے رہے اور دعوت طعام کرتے رہے ہیں۔ اور ان راتوں میں انواع و اقسام کی خیرات کرتے رہے اور سرور ظاہر کرتے چلے آئے ہیں‘‘ (مواہب لدنیہ جلد 1ص 27)
    15۔ حضرت امام ابن جوزی رحمتہ اﷲ علیہ کے پوتے فرماتے ہیں ’’مجھے لوگوں نے بتایا کہ جو ملک مظفر (بادشاہ وقت) کے دسترخوان پر میلاد شریف کے موقع پر حاضر ہوئے کہ اس کے دسترخوان پر پانچ ہزار بکریوں کے بھنے ہوئے سر، دس ہزار مرغ، ایک لاکھ پیالی مکھن کی اور تیس طباق حلوے کئے تھے اور میلاد میں اس کے ہاں مشاہیر علماء اور صوفی حضرات حاضر تھے۔ ان سب کو خلعتیں عطا کرتا تھا۔ اور خوشبودار چیزیں سنگھاتا تھا اور میلاد پاک پر تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا (سیرۃ النبوی 45)
    16۔ حضرت شاہ احمد سعید مجددی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’جس طرح آپ خود اپنی ذات پر درود وسلام بھیجا کرتے تھے، ہمیں چاہئے کہ ہم آپ کے میلاد کی خوشی میں جلسہ کریں، کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات اور خوشی کے جو طریقے ہیں (ان کے) ذریعے شکر بجالائیں‘‘ (اثبات المولد والقیام ص 24)
    17۔ پیران پیر حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو سرکار دوعالمﷺ کے حضور نذرونیاز پیش فرماتے تھے (قرۃ الناظر ص 11)
    18۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے والد شاہ عبدالرحیم رحمتہ اﷲ علیہ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں ’’میرے والد نے مجھے خبر دی کہ میں عید میلاد النبی ﷺ کے روز کھانا پکوایا کرتا تھا۔ ایک سال تنگدست تھا کہ میرے پاس کچھ نہ تھا مگر صرف بھنے ہوئے چنے تھے۔ میں نے وہی چنے تقسیم کردیئے۔ رات کو سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا اور کیا دیکھتا ہوں کہ حضورﷺ کے سامنے وہی چنے رکھے ہیں اور آپ خوش ہیں‘‘ (درثمین ص 8)
    19۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا معمول تھا کہ 12 ربیع الاول کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے، آپ ذکر ولادت فرماتے پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے (الدرالمنظم ص 89)
    20۔ مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اﷲ دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ 12 ربیع الاول کو ہر سال بڑے تزک احتشام سے محفل میلاد منعقد کراتے، جو نماز عشاء سے نماز فجر تک جاری رہتی پھر کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کیا جاتا اور مٹھائی تقسیم ہوتی، کھانا کھلایا جاتا (تذکرہ مظہر مسعود ص 176)
    علامہ ابن جوزی مولد العروس کے ص 9 پر فرماتے ہیں:
    وجعل لمن فرح بمولدہ حجابا من النار و سترا، ومن انفق فی مولدہ درہما کان المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم لہ شافعا ومشفعا
    (اور جو پیارے مصطفی ﷺ کے میلاد شریف کی خوشی کرے، وہ خوشی، دوزخ کی آگ کے لئے پردہ بن جائے اور جو میلاد رسول اﷲﷺ میں ایک درہم بھی خرچ کرے، حضورﷺ اس کی شفاعت فرمائیں گے اور ان کی شفاعت مقبول ہوگی)
    اور ص 28پر محدث ابن جوزی یہ اشعار لکھتے ہیں
    یا مولد المختار کم لک من ثنا۔۔۔ ومدائح تعلو وذکر یحمد
    یالیت طول الدھر عندی ذکرہ۔۔۔ یالیت طول الدھر عندی مولد
    (اے میلاد رسول ﷺ تیرے لئے بہت ہی تعریف ہے اور تعریف بھی ایسی جو بہت اعلیٰ اور ذکر ایسا جو بہت ہی اچھا ہے۔ اے کاش طویل عرصے تک میرے پاس نبی پاک ﷺ کا تذکرہ ہوتا، اے کاش طویل عرصے تک میرے پاس ان کا میلاد شریف بیان ہوتا)
    اور ص 6 پر یہ شعر لکھتے ہیں
    فلوانا عملنا کل یوم۔۔۔ لاحمد مولدا فدکان واجب
    (اگر ہم رسول کریم ﷺ کا روزانہ میلاد شریف منائیں تو بلاشبہ یہ ہمارے لئے واجب ہے)
    23۔محدث ابن جوزی اپنے رسالہ المولد کے آخر میں لکھتے ہیں
    اہل حرمین شریفین اور مصرویمن اور شام اور عرب کے مشرق ومغربی شہروں کے لوگ نبی ﷺ کے میلاد کی محفلیں کرتے ہیں، ربیع الاول کا چاند دیکھ کر خوشیاں مناتے ہیں، غسل کرکے اچھے کپڑے پہنتے ہیں طرح طرح کی زینت کرتے ہیں اور خوشبو لگاتے ہیں اور نہایت خوشی سے فقراء پر صدقہ خیرات کرتے ہیں اور نبی ﷺ کے میلاد شریف کا ذکر سننے کے لئے اہتمام بلیغ کرتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے سے بے پناہ اجر اور عظیم کامیابی پہنچتی ہے جیسا کہ تجربہ ہوچکا کہ نبی ﷺ کے میلاد شریف منانے کی برکت سے اس سال میں خیروبرکت کی کثرت، سلامتی و عافیت، رزق میں کشادگی، اولاد میں مال میں زیادتی اور شہروں میں امن اور گھروں میں سکون و قرار پایا جاتا ہے (الدرالمنظم ص 101-100)
    24۔ حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
    ’’حضرت ایشاں فرموند کہ دوازدہم ربیع الاول‘‘ بہ حسب دستور قدیم ’’قرآن واندم و چیزے نیاز آں حضرت ﷺ قسمت کردم وزیارت موئے شریف نمودم، در اثنائے تلاوت ملاء اعلیٰ حاضر شدند وروح پرفتوح آن حضرت ﷺ بہ جانب ایں فقیر و دست واران ایں فقیر بہ غایت التفات فرموداراں ساعت کہ ملاء اعلیٰ و جماعت مسلمین کہ بافقیر بود بہ ناز ونیائش صعودی کنندہ برکات ونفحات ازاں حال نزول می فرماید‘‘ (ص 74، القول الجلی)
    (حضرت شاہ ولی اﷲ نے فرمایا کہ قدیم طریقہ کے موافق بارہ ربیع الاول (یوم میلاد مصطفی ﷺ) کو میں نے قرآن مجید کی تلاوت کی اور آن حضرت ﷺ کی نیاز کی چیز کھانا وغیرہ) تقسیم کی اور آپ ﷺ کے بال مبارک کی زیارت کروائی۔ تلاوت کے دوران (مقرب فرشتے) ملاء اعلیٰ (محفل میلاد میں) آئے اور رسول اﷲﷺ کی روح مبارک نے اس فقیر (شاہ ولی اﷲ) اور میرے دوستوں پر نہایت التفات فرمائی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ ملاء اعلیٰ (مقرب فرشتے) اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی جماعت (التفات نبوی ﷺ کی برکت سے) ناز ونیائش کے ساتھ بلند ہورہی ہے اور (محفل میلاد میں) اس کیفیت کی برکات نازل ہورہی ہیں)
    فیوض الحرمین میں حضرت شاہ ولی اﷲ نے مکہ مکرمہ میں مولد رسول ﷺ میں اہل مکہ کا میلاد شریف منانا اور انوار وبرکات منانے کی برکتیں پانے کا تذکرہ حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی کی اپنی زبان سے ملاحظہ کرنے کے بعد خود کو ولی اللہی افکار و نظریات کے پیروکار کہلانے والے مزید ملاحظہ فرمائیں۔
    شیخ الدلائل مولانا شیخ عبدالحق محدث الہ آبادی نے میلاد و قیام کے موضوع پر ایک تحقیقی کتاب لکھی جس کا نام ’’الدرالمنظم فی بیان حکم مولد النبی الاعظم‘‘ﷺ ہے۔ اس کتاب کے بارے میں علمائے دیوبند کے پیرحضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی فرماتے ہیں:
    ’’مولف علامہ جامع الشریعہ والطریقہ نے جو کچھ رسالہ الدر المنظم فی بیان حکم مولد النبی الاعظم میں تحریر کیا، وہ عین صواب ہے، فقیر کا بھی یہی اعتقاد ہے اور اکثر مشائخ عظام کو اسی طریقہ پر پایا، خداوند تعالیٰ مولف کے علم و عمل میں برکت زیادہ عطا فرماوے‘‘ (الدرالمنظم ص 146)
    یہ کتاب ’’الدرالمنظم‘‘ علمائے دیوبند کی مصدقہ ہے۔ جناب محمد رحمت اﷲ مہاجر مکی، جناب سید حمزہ شاگرد جناب رشید احمد گنگوہی، جناب عبداﷲ انصاری داماد جناب محمد قاسم نانوتوی، جناب محمد جمیل الرحمن خان ابن جناب عبدالرحیم خان علمائے دیوبند کی تعریف وتقاریظ اس کتاب میں شامل ہیں۔ جناب محمد قاسم نانوتوی کے داماد نے اپنی تحریر میں جناب احمد علی محدث، جناب عنایت احمد، جناب عبدالحئی، جناب محمد لطف اﷲ، جناب ارشاد حسین، جناب محمد ملا نواب، جناب محمد یعقوب مدرس، اکابر علمائے دیوبند کا محافل میلاد میں شریف ہونا، سلام وقیام اور مہتمم مدرسہ دیوبند حاجی سید محمد عابد کا اپنے گھر میں محفل میلاد کروانے کا تذکرہ کیا اور جناب محمد قاسم نانوتوی کے لئے اپنی اور پیر جی واجد علی صاحب کی گواہی دی ہے کہ نانوتوی صاحب محفل میلاد میں شریک ہوتے تھے۔
    الدر المنظم کتاب کا ساتواں باب ان اعتراضات کے جواب میں ہے جو میلاد شریف کے مخالفین کرتے ہیں یا کرسکتے ہیں۔ جی تو میرا یہی چاہتا ہے کہ یہ باب پورا ہی نقل کردوں تاہم مولانا عبدالحق محدث الہ آبادی نے اپنی کتاب کے ساتویں باب میں جن اہل علم ہستیوں کی تحریروں سے میلاد شریف کا جواز (جائز ہونا)پیش کیا ہے، ان تمام کے نام اور ان کی کتابوں کے نام اسی ترتیب سے نقل کررہا ہوں جس ترتیب سے مولانا عبدالحق نے نقل کئے ہیں۔ ملاحظہ ہوں:
    1۔ مولانا محمد سلامت اﷲ مصنف اشباع الکلام فی اثبات المولد والقیام
    2۔ امام ابو محمد عبدالرحمن بن اسمٰعیل المعروف ابی شامہ، المصنف الباعث علی انکار البدع والحوادث
    3۔ علامہ محمد بن یوسف شامی، سبل الہدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد (سیرۃ شامی)
    4۔ علامہ امام جلال الدین سیوطی، مصباح الزجاجہ علی سنن ابن ماجہ، الرسالہ حسن المقصد فی عمل المولد
    5۔ امام حافظ ابو الخیر شمس الدین الجزری، عرف التعریف بالمولد الشریف
    6۔ شیخ ابوالخطاب بن عمر بن حسن کلبی المعروف ابن وجیہ اندلسی، سماہ التنویر فی مولد البشیر النذیر
    7۔ امام ناصر الدین المبارک المعروف ابن بطاح، فی فتویٰ
    8۔ امام جمال الدین بن عبدالرحمن بن عبدالملک
    9۔ امام ظہیر الدین بن جعفر
    10۔ علامہ شیخ نصیر الدین طیالسی
    11۔ امام صدر الدین موہوب بن عمر الشافعی
    12۔ امام محدث ابن جوزی، المولد العروس، المیلاد النبوی
    13۔ امام ملا علی قاری حنفی، المورد الروی فی موالد النبوی
    14۔ امام شمس الدین سخاوی
    15۔ علامہ شیخ شاہ عبدالحق محدث دہلوی، ماثبت من السنہ ومدارج النبوۃ
    16۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی، الدر الثمین، فیوض الحرمین، الانبتاہ
    17۔ شاہ اسماعیل دہلوی فی فتویٰ
    18۔ علامہ شاہ محمد اسحق، فی فتویٰ
    19۔ علامہ جمال الدین مرزا احسن علی لکھنؤی فی فتویٰ
    20۔ مفتی محمد سعد اﷲ فی فتویٰ
    21۔ علامہ شیخ جمال الفتنی حفنی، مفتی مکہ فی فتویٰ
    22۔ علامہ شہاب الدین خفاجی، رسالہ عمل المولد
    23۔ علامہ عبدالرحمن سراج بن عبداﷲ حنفی، مفتی مکہ فی فتویٰ
    24۔ علامہ ابوبکر حجی بسیونی مالکی، مکہ فی فتویٰ
    25۔ علامہ محمد رحمتہ اﷲ مفتی مکہ فی فتویٰ
    26۔ علامہ محمد سعید بن محمد باصیل شافعی، مفتی مکہ فی فتویٰ
    27۔ علامہ خلف بن ابراہیم حنبلی، مفتی مکہ فی فتویٰ
    28۔ شاہ عبدالغنی نقشبندی فی فتویٰ
    29۔ علامہ حافظ شمس الدین ابن ناصر الدین الد مشقی، مورد الصاوی فی مولد الہادی، جامع الاسرار فی مولد النبی المختار، اللفظ الرائق
    30۔ علامہ ابو عبداﷲ محمد زرقانی، شرح مواہب لدنیہ
    31۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی، فی فتویٰ
    32۔ شاہ رفیع الدین دہلوی، فی فتویٰ
    33۔ امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی،مکتوبات
    34۔ مولانا محمد مظہر، مقامات سعیدیہ
    35۔ مولانا کرامت علی جون پوری، رسالتہ الفیصلہ
    36۔ امام بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح بخاری
    کتاب المدرالمنظم کا ساتواں باب ص 93 سے شروع ہوکر ص 136 تک چالیس صفحات کی ضخامت میں سمایا ہوا ہے۔ اہل علم شخصیات کے ناموں کی مذکورہ فہرست میں ان ہستیوں اور کتابوں کے نام نہیں لکھے گئے جن کی تحریروں سے دلائل کو ثابت کرنے کے لئے استفادہ کیا گیا ہے.
    غیرمقلدین اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب محمد صدیق حسن خان لکھتے ہیں کہ میلاد کا ذکر سن کر جس کے دل کو فرحت حاصل نہ ہو وہ مسلمان نہیں.
     
  • Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    گیارہ باتیں جن کا جواب کسی مفتی کے پاس نہیں

    1۔ہر سال جشنِ سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہے یا سنت؟
    2۔ہر سال غسلِ کعبہ ہوتاہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہے یا سنت؟
    3۔ہر سال غلافِ کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہے یا سنت؟
    4۔غلاف کعبہ پر آیات لکھی جاتی ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہےیا سنت؟
    5۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہے یا سنت؟
    6۔مدارس میں ختمِ بخاری شریف ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہے یا سنت؟
    7۔ہر سال دیو بندوں اور غیر مقلدوں کا اجتماع ہوتا ہے،چلے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہےسنت؟
    8۔سیرت نبیﷺکانفرنس نامی اجتماعات ہوتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہےسنت؟
    9۔جشن دیو بند و اہل حدیث منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہےسنت؟
    10۔صحابہ کرام علیہم الرضوان اجمعین کے وصال کےایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، آیا یہ بدعت ہےسنت؟
    11۔ذکر میلادِ مصطفیٰﷺ منانے کا کسی صحابی،آئمہ یا محدث نے منع کیا ہو اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔
    لیکن جیسے ہی میلادِ نبیﷺ منانےکی بات آجائے توسارے نام نہاد دین کے ٹھیکیدارمفتے کھڑے ہوجاتے ہیںاور شرک و بدعت کا شور آلاپنا شروع کر دیتے ہیں۔آخر کیوں ؟
     
  • sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ دین میں ہر وہ نیا کام بدعت کہلاتا ہے جو نبی پاک ﷺ کے گزر جانے کے بعد کے زمانے میں ہوا ہو یا ان کے اصحاب میں سے کسی نے ایسا کوئی نیا کام دین میں نکالا ہو وہی بدعت کہلاتا ہے
    چاہے وہ عام آدمی کرے یا اصحاب میں سے کوئی
    وہ بدعت ہی کہلاتا ہے
    اب جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی تراویح ایجاد کی تھی جو دین میں ایک نئی چیز تھی بدعت بھی تھی لیکن اس سے لوگوں کو فائدہ تھا اور سب اکٹھے نماز پڑھ کر قرآن پاک سن لیا کرتے تھے تو یہ ایک اچھی بدعت تھی جو کہ احادیث سے بھی ثابت ہے
    لیکن عید میلاد النبی ﷺ چاہے بدعت ہے لیکن اس کے منانے کی کوئی بھی سند کسی اصحاب سے یا آپ ﷺ کی حیات میں منقول نہیں ہے
    یہ بدعت آپ کے بعد بہت عرصہ گزر جانے کے بعد شروع کی گئی تھی اور تب سے چلی آ رہی ہے
    اس کی وجہ سے بہت سے فائدے ہیں
    سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عالم اسلام ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہوتا ہے اورمسلمانوں کا اکثریت اور غلبہ دکھائی دیتا ہے
    دوسری غیر مسلم قوموں کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مسلمانیت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے
    دوسرا فائدہ لوگوں کا ایمان تازہ ہوتا ہے اور جذبہ ایمانی بڑھ جاتا ہے
    تیسرا فائدہ اس سے لوگوں کو روزگار بھی مل جاتا ہے
    چوتھا فائدہ مساجد آباد ہوتی ہیں اور گھر گھر قرآن خوانی اورنعت کی محافل سجائی جاتی ہیں
    اس کے علاوہ اس کے کرنے سے نقصان تو میں نے آج تک نہیں دیکھا ہے
    اس لیے اگر یہ بدعت بھی ہے تو بھی ایک اچھی بدعت ہے اگر کسی کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے جس سے یہ بدعت بری ثابت ہو یا اس کے نقصانات ہوں تو وہ ثبوت پیش کرے
    جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شروع کی ہوئی بدعت تراویح چلی آ رہی ہے تو عید میلاد النبی ﷺ منانےمیں کیا عار ہے
    دوسری بات کنفیوذن کیا ہے وہ یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ کی وفات بھی اسی دن ہوئی اور پیدائش بھی اسی دن ہوئی
    اب مسلمان بندہ اس دن کو کیسے منائے کہ پیدائش کی خوشی منائے یا وفات کا غم
    کیونکہ پیدائش کی خوشی اپنی جگہ مسلم ہے لیکن وفات کا غم پیدائیش کی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا اس لیے کیا کرنا چاہیے
    اگر پیدائیش کی خوشی منانے میں پورا دن گزر جائے تو وفات کا غم کب منایا جائے
    اگر کبھی قیامت میں نبی پاکﷺ یہ پوچھ ہی لیں کہ مسلمانو تم میری پیدائش کی خوشی تو بے شک مناتے رہے لیکن میرے جانے کا غم کسی نے نہیں منایا
    تو ہم کیا جواب پیش کر سکتے ہیں
    یہ بھی کنفیوزن دور ہو جائے تو اچھی بات ہے
     
  • Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ دین میں ہر وہ نیا کام بدعت کہلاتا ہے جو نبی پاک ﷺ کے گزر جانے کے بعد کے زمانے میں ہوا ہو یا ان کے اصحاب میں سے کسی نے ایسا کوئی نیا کام دین میں نکالا ہو وہی بدعت کہلاتا ہے
    چاہے وہ عام آدمی کرے یا اصحاب میں سے کوئی
    وہ بدعت ہی کہلاتا ہے
    اب جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی تراویح ایجاد کی تھی جو دین میں ایک نئی چیز تھی بدعت بھی تھی لیکن اس سے لوگوں کو فائدہ تھا اور سب اکٹھے نماز پڑھ کر قرآن پاک سن لیا کرتے تھے تو یہ ایک اچھی بدعت تھی جو کہ احادیث سے بھی ثابت ہے
    لیکن عید میلاد النبی ﷺ چاہے بدعت ہے لیکن اس کے منانے کی کوئی بھی سند کسی اصحاب سے یا آپ ﷺ کی حیات میں منقول نہیں ہے
    یہ بدعت آپ کے بعد بہت عرصہ گزر جانے کے بعد شروع کی گئی تھی اور تب سے چلی آ رہی ہے
    اس کی وجہ سے بہت سے فائدے ہیں
    سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عالم اسلام ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہوتا ہے اورمسلمانوں کا اکثریت اور غلبہ دکھائی دیتا ہے
    دوسری غیر مسلم قوموں کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مسلمانیت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے
    دوسرا فائدہ لوگوں کا ایمان تازہ ہوتا ہے اور جذبہ ایمانی بڑھ جاتا ہے
    تیسرا فائدہ اس سے لوگوں کو روزگار بھی مل جاتا ہے
    چوتھا فائدہ مساجد آباد ہوتی ہیں اور گھر گھر قرآن خوانی اورنعت کی محافل سجائی جاتی ہیں
    اس کے علاوہ اس کے کرنے سے نقصان تو میں نے آج تک نہیں دیکھا ہے
    اس لیے اگر یہ بدعت بھی ہے تو بھی ایک اچھی بدعت ہے اگر کسی کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے جس سے یہ بدعت بری ثابت ہو یا اس کے نقصانات ہوں تو وہ ثبوت پیش کرے
    جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شروع کی ہوئی بدعت تراویح چلی آ رہی ہے تو عید میلاد النبی ﷺ منانےمیں کیا عار ہے
    دوسری بات کنفیوذن کیا ہے وہ یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ کی وفات بھی اسی دن ہوئی اور پیدائش بھی اسی دن ہوئی
    اب مسلمان بندہ اس دن کو کیسے منائے کہ پیدائش کی خوشی منائے یا وفات کا غم
    کیونکہ پیدائش کی خوشی اپنی جگہ مسلم ہے لیکن وفات کا غم پیدائیش کی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا اس لیے کیا کرنا چاہیے
    اگر پیدائیش کی خوشی منانے میں پورا دن گزر جائے تو وفات کا غم کب منایا جائے
    اگر کبھی قیامت میں نبی پاکﷺ یہ پوچھ ہی لیں کہ مسلمانو تم میری پیدائش کی خوشی تو بے شک مناتے رہے لیکن میرے جانے کا غم کسی نے نہیں منایا
    تو ہم کیا جواب پیش کر سکتے ہیں
    یہ بھی کنفیوزن دور ہو جائے تو اچھی بات ہے
    Click to expand...

    ایک اعتراض:نبی ﷺ کے وصال کے دن یعنی بارہ ربیع الاول کو جشن مناتے ہو؟

    جواب: اگر بالفرض اس بات کو تسلیم کربھی لیا جائے کہ بارہ ربیع الاول شریف کو ہی آپ ﷺ کا وصال شریف ہوا تھا تو وفات کا غم وفات سے تین دن کے بعد منانا قطعا جائز نہیں۔ اسلام میں سوگ صرف تین دن ہے چنانچہ حدیث شریف ملاحظہ ہو۔
    حدیث شریف: ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم کسی وفات یافتہ پر تین روز کے بعد غم نہ منائیں مگر شوہر پرچار ماہ دس دن تک بیوی غم منائے گی (بحوالہ: بخاری جلد اول ص 804، مسلم جلد اول ص 486)
    فائدہ: ثابت ہوا کہ تین دن کے بعد وفات کا سوگ منانا ناجائز ہے۔ نبی کے وصال کا غم منانے کا حکم ہوتا تو تاجدار کائناتﷺ ہر جمعہ (یوم ولادت حضرت آدم علیہ السلام) منانے کے بجائے یوم سوگ منانے کا حکم دیتے چنانچہ حدیث ملاحظہ ہو۔
    حدیث شریف: حضرت اوس بن اوس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ نے فضیلت جمعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلا کو پیدا کیا اور اسی میں ان کا وصال ہوا (بحوالہ: ابو داؤد شریف، ابن ماجہ، نسائی شریف)
    الحمدﷲ! قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء کرام، شہداء اور صالحین اپنی قبور میں جسم و جسمانیت کے ساتھ حیات ہیں۔ جب حضورﷺ حیات ہیں تو پھر سوگ اور غم کیسا؟ خود حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں چنانچہ حدیث شریف ملاحظہ ہو۔
    حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدار کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا:
    میری ظاہری حیات اور وصال دونوں تمہارے لئے باعث خیر ہے (بحوالہ کتاب الشفاء از: امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ)
    الزام لگانے والو! ذرا سوچو اور یاد کرو بخاری شریف کی پہلی حدیث ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘ لہذا ہم جشن ولادت کی خوشی کی نیت سے میلاد مناتے ہیں نہ کہ وصال کی خوشی پر جشن مناتے ہیں۔
    البتہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ’’نبی پاکﷺ کی ولادت کے وقت شیطان ’’جبل ابی قبیس‘‘ پر چڑھ کر چلایا‘‘ اس کو تکلیف ہوئی جبکہ ساری کائنات خوش تھی یعنی صرف ابلیس اور ابلیسیوں کو خوشی نہ ہوئی
     
  • Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    میں نے اس تھریڈ میں پول ایڈ کیا ہے۔۔آپ سب لوگ اپنے اپنے علم کے مطابق اس کا ہاں یا نہیں میں جواب دیں۔۔شکریہ

    نوٹ : یہ پول پبلک والا ہے۔۔کوئی بھی یوزر دیکھ سکتا ہے کہ کس نے ہاں کو منتخب کیا اور کس نے نہیں کو۔۔۔
     
  • Thread Status:
    Not open for further replies.

    Share This Page