" عجیب مانوس اجنبی تھا "

Discussion in 'Poetry' started by naponnamja, Feb 29, 2016.

  1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  1. naponnamja
    Offline

    naponnamja Newbi
    • 18/33

    گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
    عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

    بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
    ستارہء شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ

    خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
    وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ ء جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

    نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
    یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

    کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی
    جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

    بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
    یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

    شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
    جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

    مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
    جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

    وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
    یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

    وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
    سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

    وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
    تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

    وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
    تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
    ]
     

Share This Page