حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے

Discussion in 'Poetry' started by naponnamja, Feb 29, 2016.

  1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  1. naponnamja
    Offline

    naponnamja Newbi
    • 18/33

    حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
    تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
    کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں تم
    کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے
    وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں
    تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے
    ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے
    نجانے ہم ہیں دوبارہ کہ یہ دوبارہ ہے
    وہ منکشف مری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
    ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارہ ہے
    عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دُنیا کے
    کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے
    کہیں پہ ہے کوئی خُوشبو کہ جس کے ہونے کا
    تمام عالمِ موجود استعارا ہے
    نجانے کب تھا! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے
    یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے
    یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ، ہم تم!
    مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے
    ]
     

Share This Page