1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

"""ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائ"""

Discussion in 'Poetry' started by naponnamja, Feb 29, 2016.

  1. naponnamja

    naponnamja Superior Member

    ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی
    شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

    تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
    اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی

    پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
    بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی

    ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو
    مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی

    رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے
    یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی

    یہ سانحہ بھی محبّت میں بارہا گزرا
    کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی

    دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
    یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی

    میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا
    تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

    جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا
    تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی

    کھُلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
    وہ لوگ تھے، نہ وہ جلسے، نہ شہرِ رعنائی

    وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں
    اُنہی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی

    پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر
    بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائ
     

Share This Page