1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعه

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by PakArt, Apr 5, 2017.

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعه

    تمام پیغمبر کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ(ع) کا واقعہ زیادہ آیا ھے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ(ع) و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ هوا ھے۔

    اگر ھم ان آیتوں کی الگ الگ شرح کریں ااس کے بعد ان سب کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیں تو بعض افراد کے اس توھم کے برخلاف کہ قرآن میں تکرار سے کام لیا گیا ھے،ھم کو معلوم هوگا کہ قرآن میں نہ صرف تکرار نھیں ھے بلکہ ھر سورہ میں جو بحث چھیڑی گئی ھے اس کی مناسبت سے اس سرگزشت کا ایک حصہ شاہد کے طور پر پیش کیا گیا ھے۔

    ضمناًیہ بات بھی ذہن میں رکھنا چائیے کہ اس زمانے میں مملکت مصر نسبتاً وسیع مملکت تھی۔وھاں کے رہنے والوں کا تمدن بھی حضرت نوح(ع)،هود(ع)اور شعیب(ع) کی اقوام سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ لہٰذا حکومت فراعنہ کی مقاومت بھی زیادہ تھی۔

    اسی بناء پر حضرت موسیٰ(ع) کی تحریک اور نہضت بھی اتنی اھمیت کی حامل هوئی کہ اس میں بہت زیادہ عبرت انگیز نکات پائے جاتے ھیں۔بنابریں اس قرآن میں حضرت موسیٰ(ع) کی زندگی اور بنی اسرائیل کے حالات کے مختلف پھلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ھے۔

    کلی طور پر اس عظیم پیغمبر(ص) کی زندگی کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ھے۔

     
    IQBAL HASSAN likes this.
  2. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    ولادت حضرت موسیٰ علیہ السلام

    حکومت فرعون نے بنی اسرئیل کے یھاں جو نومولود بیٹے هوتے تھے انھیں قتل کرنے کا ایک وسیع پروگرام بنایا تھا۔ یھاں تک کہ فرعون کی مقرر کردہ دائیاں بنی اسرائیل کی باردار عورتوں کی نگرانی کرتی تھیں۔

    ان دائیوں میں سے ایک والدہٴ موسیٰ(ع) کی دوست بن گئی تھی۔ (شکم مادر میں موسیٰ(ع) کا حمل مخفی رھا اوراس کے آثار ظاھر نہ هوئے) جس وقت مادر موسیٰ(ع) کو یہ احساس هوا کہ بچے کی ولادت کا وقت قریب ھے تو آپ نے کسی کے ذریعہ اپنی دوست دائی کو بلانے بھیجا۔جب وہ آگئی تو اس سے کھا:میرے پیٹ میں ایک فرزند ھے،آج مجھے تمھاری دوستی اور محبت کی ضرورت ھے۔

    جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا هوگئے تو آپ کی آنکھوں میں ایک خاص نور چمک رھا تھا،چنانچہ اسے دیکھ کر وہ دایہ کاپنے لگی اور اس کے دل کی گھرائی میں محبت کی ایک بجلی سماگئی،جس نے اس کے دل کی تمام فضاء کو روشن کردیا۔

    یہ دیکھ کر وہ دایہ، مادر موسیٰ(ع) سے مخاطب هوکر بولی کہ میرا یہ خیال تھا کہ حکومت کے دفتر میں جاکے اس بچے کے پیدا هونے کی خبر دوں تاکہ جلاد آئیں اور اسے قتل کردیں اور میں اپنا انعام پالوں۔ مگر میں کیا کروں کہ میں اپنے دل میں اس نوزائیدہ بچے کی شدید محبت کا احساس کرتی هوں۔ یھاں تک کہ میں یہ نھیں چاہتی کہ اس کا بال بھی بیکا هو۔اس کی اچھی طرح حفاظت کرو۔میرا خیال ھے کہ آخر کار یھی ھمارا دشمن هوگا۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  3. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    جناب موسیٰ علیہ السلام تنور میں

    وہ دایہ مادر موسیٰ(ع) کے گھر سے باھر نکلی۔ تو حکومت کے بعض جاسوسوں نے اسے دیکھ لیا۔ انھوںنے تھیہ کرلیا کہ وہ گھر میں داخل هوجائیں گے۔ موسیٰ(ع) کی بہن نے اپنی ماں کو اس خطرے سے آگاہ کردیا۔ ماں یہ سن کے گھبراگئی۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اب کیا کرے۔

    اس شدید پریشانی کے عالم میں جب کہ وہ بالکل حواس باختہ هورھی تھی۔اس نے بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹا او رتنور میں ڈال دیا۔ اس دوران میں حکومت کے آدمی آگئے۔مگر وھاں انھوں نے روشن تنور کے سوا کچھ نہ دیکھا۔ انھوں نے مادر موسیٰ(ع) سے تفتیش شرو ع کردی ۔ پوچھا۔دایہ یھاں کیا کررھی تھی۔؟ موسیٰ(ع) کی ماں نے کھا کہ وہ میری سھیلی ھے مجھ سے ملنے آئی تھی ۔حکومت کے کارندے مایوس هوکے واپس هوگئے۔

    اب موسیٰ(ع) کی ماں کو هوش آیا۔ آپ نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ بچہ کھاں ھے؟ اس نے لاعلمی کا اظھار کیا۔ ناگھاں تنور کے اندر سے بچہ کے رونے کی آواز آئی۔ اب ماں تنور کی طرف دوڑی ۔کیا دیکھتی ھے کہ خدا نے اس کے لئے آتش تنور کو ”ٹھنڈا اور سلامتی کہ جگہ“بنادیا ھے۔ وھی خدا جس نے حضرت ابراھیم(ع) کے لیے آتش نمرود کو ”برد وسلام“بنادیا تھا۔ اس نے اپنا ھاتھ بڑھایا اور بچے کو صحیح وسالم باھر نکال لیا۔

    لیکن پھر بھی ماں محفوظ نہ تھی۔کیونکہ حکومت کے کارندے دائیں بائیں پھرتے رہتے اور جستجو میںلگے رہتے تھے۔ کسی بڑے خطرے کے لیے یھی کافی تھا کہ وہ ایک نوزائید بچے کے رونے کی آواز سن لیتے۔

    اس حالت میں خدا کے ایک الھام نے ماں کے قلب کو روشن کردیا۔وہ الھام ایسا تھا کہ ماں کو بظاھر ایک خطرناک کام پر آمادہ کررھا تھا۔مگر پھر بھی ماں اس ارادے سے اپنے دل میں سکون محسوس کرتی تھی۔

    ”ھم نے موسیٰ(ع) کی ماں کی طرف وحی کی کہ اسے دودھ پلا اور جب تجھے اس کے بارے میںکچھ خوف پیدا هوتو اسے دریا میں ڈال دینا اور ڈرنا نھیں اور نہ غمگین هونا کیونکہ ھم اسے تیرے پاس لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے قرار دیں گے۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    اس نے کھا: ”خدا کی طرف سے مجھ پریہ فرض عائد هوا ھے۔ میں اسے ضرور انجام دوں گی“۔اس نے پختہ ارادہ کرلیا کہ میںاس الھام کو ضرور عملی جامہ پہناؤں گی اور اپنے نوزائیدہ بچے کو دریائے نیل میں ڈال دوںگی۔!!

    اس نے ایک مصری بڑھئی کو تلاش کیا (وہ بڑھئی قبطی اور فرعون کی قوم میںسے تھا)اس نے اس بڑھئی سے درخواست کی کہ میرے لیے ایک چھوٹا سا صندوق بنادے۔

    بڑھئی نے پوچھا:جس قسم کا صندوقچہ تم بنوانا چاہتی هو اسے کس کام میں لاؤگی؟

    موسیٰ(ع) کی ماں جو دروغ گوئی کی عادی نہ تھی اس نازک مقام پر بھی سچ بولنے سے باز نہ رھی۔اس نے کھا:میں بنی اسرائیل کی ایک عورت هوں۔میرا ایک نوزائید بچہ لڑکا ھے۔میںاس بچے کو اس صندوق میں چھپانا چاہتی هوں۔

    اس قبطی بڑھئی نے اپنے دل میں یہ پختہ ارادہ کرلیا کہ جلادوں کو یہ خبر پہنچادےگا۔وہ تلاش کرکے ان کے پاس پہنچ گیا۔ مگر جب وہ انھیں یہ خبر سنانے لگاتو اس کے دل پر ایسی وحشت طاری هوئی کہ اس کی زبان بند هوگئی۔ وہ صرف ھاتھوں سے اشارے کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ ان علامتوں سے انھیں اپنا مطلب سمجھا دے۔ حکومت کے کارندوں نے اس کی حرکات دیکھ کر یہ سمجھا کہ یہ شخص ھم سے مذاق کررھا ھے۔اس لیے اسے مارا اور باھر نکال دیا۔

    جیسے ھی وہ اس دفتر سے باھر نکلا اس کے هوش و حواس یکجاهوگئے، وہ پھر جلادوں کے پاس گیا اور اپنی حرکات سے پھر مارکھائی۔

    آخر اس نے یہ سمجھا کہ اس واقعے میں ضرور کوئی الٰھی راز پوشیدہ ھے۔چنانچہ اس نے صندوق بناکے حضرت موسیٰ(ع) کی والدہ کو دےدیا۔
     
  4. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    دریا کی موجیں گهوارے سے بہتر

    غالباًصبح کا وقت تھا۔ابھی اھل مصر محو خواب تھے۔مشرق سے پو پھٹ رھی تھی۔ماںنے نوزائیدہ بچے اور صندوق کو دریائے نیل کے کنارے لائی،بچے کو آخری مرتبہ دودھ پلایا۔پھر اسے،مخصوص صندوق میں رکھا(جس میں یہ خصوصیت تھی کہ ایک چھوٹی کشتی کی طرح پانی پر تیرسکے)پھر اس صندوق کو نیل کی موجوں کے سپرد کردیا۔

    نیل کی پر شور موجوںنے اس صندوق کوجلدھی ساحل سے دور کردیا۔ماں کنارے کھڑی دیکھ رھی تھی ۔ معاًاسے ایسا محسوس هوا کہ اس کا دل سینے سے نکل کر موجوںکے اوپر تیررھاھے۔اس دقت،اگر الطاف الٰھی اس کے دل کو سکون و قرار نہ بخشتا تو یقینا وہ زور زور سے رونے لگتی اور پھر سارا راز فاش هو جاتا،کسی آدمی میں یہ قدرت نھیں ھے کہ ان حساس لمحات میں ماںپر جو گزررھی تھی۔الفاظ میں اس کا نقشہ کھینچ سکے مگر ۔ ایک فارسی شاعرہ نے کسی حد تک اس منظر کو اپنے فصیح اور پر از جذبات اشعار میں مجسم کیا ھے۔

    ۱۔مادر موسیٰ چو موسیٰ (ع)رابہ نیل درفگند از گفتہٴ رب جلیل

    ۲۔خودز ساحل کرد باحسرت نگاہ گفت کای فرزند خرد بی گناہ!

    ۳۔گر فراموشت کند لطف خدای چون رھی زین کشتی بی ناخدای

    ۴۔وحی آمد کاین چہ فکر باطل است رھرو ما اینک اندر منزل است

    ۵۔ماگرفتیم آنچہ را انداختی دست حق را دیدی ونشاختی

    ۶۔سطح آب از گاهوارش خوشتراست دایہ اش سیلاب و موجش مادراست

    ۷۔رودھا از خودنہ طغیان می کنند آنچہ می گوئیم ما آن می کنند

    ۸۔ما بہ دریا حکم طوفان می دھیم ما بہ سیل وموج فرماں می دھیم

    ۹۔نقش ہستی نقشی از ایوان ما است خاک وباد وآب سرگردان ماست

    ۱۰۔بہ کہ برگردی بہ ما بسپاریش کی تو از ما دوسترمی داریش؟یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    ۱۔جب موسیٰ(ع) کی ماںنے حکم الٰھی کے مطابق موسیٰ(ع) کو دریائے نیل میں ڈال دیا۔

    ۲۔وہ ساحل پرکھڑی هوئی حسرت سے دیکھ رھی تھی اور کہہ رھی تھی کہ اے میرے بے گناہ ننھے بیٹے!

    ۳۔اگر لطف الٰھی تیرے شامل حال نہ هو تو ،تو اس کشتی میںکیسے سلامت رہ سکتا ھے جس کا کوئی نا خدا نھیں ھے۔

    ۴۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماںکو اس وقت وحی هوئی کہ تیری یہ کیا خام خیالی ھے۔ ھمارا مسافر تو سوئے منزل رواںھے۔

    ۵۔تونے جب اس بچے کو دریا میں ڈالاتھا تو ھم نے اسے اسی وقت سنبھال لیا تھا ۔ تو نے خدا کا ھاتھ دیکھا مگر اسے پہچانا نھیں۔

    ۶۔اس وقت پانی کی سطح(اس کے لیے)اس کے گهوارے سے زیادہ راحت بخش ھے۔دریا کا سیلاب اس کی دایہ گیری کررھا ھے اور اس کی موجیں آغوش مادر بنی هوئی ھیں۔

    ۷۔دیکھوں! دریاؤں میں ان کے ارادہ و اختیار سے طغیانی نھیں آتی۔وہ ھمارے حکم کے مطیع ھیں وہ وھی کرتے ھیں جو ھمارا امر هوتا ھے۔

    ۸۔ھم ھی سمندروں کو طوفانی هونے کاحکم دیتے ھیں اور ھم ھی سیل دریا کو روانی اور امواج بحر کو تلاطم کا فرمان بھیجتے ھیں۔

    ۹۔ہستی کا نقش ھمارے ایوان کے نقوش میں سے ایک نقش ھے جو کچھ ھے،یہ کائنات تو اس کامشتے ازخرواری نمونہ ھے۔ اور خاک،پانی،هوا اور آتش ھمارے ھی اشارے سے متحرک ھیں۔

    ۱۰۔بہتر یھی ھے کہ تو بچے کو ھمارے سپرد کردے اور خود واپس چلی جا۔ کیونکہ تو اس سے ھم سے زیادہ محبت نھیں کرتی۔
     
  5. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    دلوں میں حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی محبت

    اب دیکھناچاہئیے کہ فرعون کے محل میں کیا هورھا تھا؟

    روایات میں مذکور ھے کہ فرعون کی ایک اکلوتی بیٹی تھی۔وہ ایک سخت بیماری سے شدید تکلیف میں تھی۔فرعون نے اس کا بہت کچھ علاج کرایا مگر بے سود۔اس نے کاہنوں سے پوچھا۔ انھوں نے کھا:”اے فرعون ھم پیشن گوئی کرتے ھیں کہ اس دریا میں سے ایک آدمی تیرے محل میں داخل هوگا۔اگر اس کے منہ کی رال اس بیمار کے جسم پر ملی جائے گی تو اسے شفا هوجائیگی۔

    چنانچہ فرعون اور اس کی ملکہ آسیہ ایسے واقعے کے انتظار میں تھے کہ ناگھاں ایک روز انھیں ایک صندوق نظر آیا جو موجوں کی سطح پر تیر رھا تھا۔فرعون نے حکم دیا کہ سرکاری ملازمین فوراً دیکھیں کہ یہ صندوق کیسا ھے اور اسے پانی میں سے نکال لیں۔دیکھیں کہ اس میں کیا ھے؟

    نوکروں نے وہ عجیب صندوق فرعون کے سامنے لاکے رکھ دیا۔ کسی کو اس کا ڈھکنا کھولنے کی ھمت نہ هوئی۔ مطابق مشیت الٰھی،یہ لازمی تھا کہ حضرت موسیٰ(ع) کی نجات کے لیے صندوق کا ڈھکنا فرعون ھی کے ھاتھ سے کھولا جائے،چنانچہ ایسا ھی هوا۔

    جس وقت فرعون کی ملکہ نے اس بچے کو دیکھا تو اسے یوں محسوس هواکہ ایک بجلی چمکی ھے جس نے اس کے دل کو منور کردیا ھے۔

    ان دونوں بالخصوص فرعون کی ملکہ کے دل میں اس بچے کی محبت نے گھر بنالیا اور جب اس بچے کا آب دہن اس کے لیے موجب شفا هوگیا تو یہ محبت اور بھی زیادہ هوگئی ۔

    قرآن میں یہ واقعہ اس طرح مذکور ھے کہ:۔فرعون کے اھل خانہ نے موسیٰ(ع) کو نیل کی موجوں کے اوپر سے پکڑ لیا۔ تا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے باعث اندوہ هوجائے۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    ”یہ امر بدیھی ھے کہ فرعون کے اھل خانہ نے اس بچے کے قنداقہ(وہ کپڑاجس میں بچہ کو لپیٹتے ھیں)کو اس نیت سے دریا سے نھیں نکالا تھا کہ اپنے جانی دشمن کو اپنی گود میں پالیں ،بلکہ وہ لوگ بقول ملکہ فرعون،اپنے لیے ایک نور چشم حاصل کرناچاہتے تھے۔

    لیکن انجام کار ایسا ھی هوا،اس معنیٰ و مراد کی تعبیر میںلطافت یھی ھے کہ خدا اپنی قدرت کا اظھار کرنا چاہتا ھے کہ وہ کس طرح اس گروہ کو جنھوں نے اپنی تمام قوتیں اور وسائل،بنی اسرائیل کی اولاد ذکور کو قتل کرنے کے لیے وقف کردیا تھا،اس خدمت پر مامور کرے کہ جس بچے کو نابود کرنے کے لیے انھوں نے یہ پروگرام بنایا تھا،اسی کوو وہ اپنی جان کی طرح عزیز رکھیں اور اسی کی پرورش کریں۔

    قرآن کی آیات سے یہ معلوم هوتاھے کہ اس بچے کی بابت فرعون،اس کی ملکہ اور دیگر اھل خاندان میں باھم نزاع اور اختلاف بھی هوا تھا،کیونکہ قرآن شریف میں یوں بیان ھے:فرعون کی بیوی نے کھا کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کا نور ھے۔ اسے قتل نہ کرو۔ ممکن ھے یہ ھمارے لیے نفع بخش هو یا ھم اسے ھم اپنا بیٹابنا لیں۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    ایسا معلوم هوتا ھے کہ فرعون بچے کے چھرے اور ددیگر علامات سے،من جملہ ان کے اسے صندوق میں رکھنے اور دریائے نیل میںبھادینے سے یہ سمجھ گیا تھا کہ یہ بنی اسرائیل میں سے کسی کا بچہ ھے۔

    یہ سمجھ کر ناگھاں،بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی کی بغاوت اور اس کی سلطنت کے زوال کا کابوس اس کی روح پر مسلط هوگیا اور وہ اس امر کا خواھاں هوا کہ اس کا وہ ظالمانہ قانون،جو بنی اسرائیل کے تمام نوزاد اطفال کے لیے جاری کیا گیا تھا اس بچے پر بھی نافذ هو۔

    فرعون کے خوشامدی درباریوں او ررشتہ داروں نے بھی اس امر میں فرعون کی تائید و حمایت کی اور کھا اس کی کوئی دلیل نھیں ھے کہ یہ بچہ قانون سے مستثنیٰ رھے۔

    لیکن فرعون کی بیوی آسیہ جس کے بطن سے کوئی لڑکا نہ تھا اور اس کا پاک دل فرعون کے درباریوں کی مانند نہ تھا،اس بچے کے لیے محبت کا کان بن گیا تھا۔ چنانچہ وہ ان سب کی مخالفت پرآمادہ هوگئی اور چونکہ اس قسم کے گھریلو اختلافات میں فتح ھمیشہ عورتوں کی هوتی ھے،وہ بھی جیت گئی۔

    اگر اس گھریلو جھگڑے پر،دختر فرعون کی شفایابی کے واقعے کا بھی اضافہ کرلیا جائے تواس اختلاف باھمی میں آسیہ کی فتح کا امکان روشن تر هو جاتا ھے۔

    قرآن میںایک بہت ھی پر معنیٰ فقرہ ھے:”وہ نھیںجانتے تھے کہ کیا کررھے ھیں:“یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    البتہ وہ بالکل بے خبر تھے کہ خدا کا واجب النفوذ فرمان اور اس کی شکست ناپذیر مشیت نے یہ تھیہ کرلیا ھے کہ یہ طفل نوزاد انتھائی خطرات میں پرورش پائے۔ اور کسی آدمی میں بھی ارادہ و مشیت الٰھی سے سرتابی کی جراٴت اور طاقت نھیں ھے“۔
     
  6. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    اللہ کی عجیب قدرت

    اس چیز کانام قدرت نمائی نھیںھے کہ خداآسمان و زمین کے لشکروں کو مامور کرکے کسی پُرقوت اور ظالم قوم کو نیست و نابود کردے۔

    بلکہ قدرت نمائی یہ ھے کہ ان ھی جباران مستکبر سے یہ کا م لے کر وہ اپنے آپ کو خود ھی نیست و نابود کرلیں اور ان کے دل و دماغ میں ایسے خیالات پیدا هوجائیں کہ بڑے شوق سے لکڑیاں جمع کریں اور اس کی آگ میں جل مریں،اپنے لیے خودھی قیدخانہ بنائیں اور اسمیںاسیر هوکے جان دے دیں، اپنے لیے خود ھی صلیب کھڑی کریں اور اس پر چڑھ مرجائیں۔

    فرعون اوراسکے زور منداور ظالم ساتھیوں کے ساتھ بھی یھی پیش آیا۔ چنانچہ تمام مراحل میںحضرت موسیٰ(ع) کی نجات اور پرورش انھی کے ھاتھوں سے هوئی،حضرت موسیٰ(ع) کی دایہ قبطیوں میںسے تھی،صندوق موسیٰ(ع) کو امواج نیل سے نکالنے اور نجات دینے والے متعلقین فرعون تھے،صندوق کا ڈھکنا کھولنے والا خود فرعون یا اس کی اھلیہ تھی،اور آخر کا ر فرعون شکن اور مالک غلبہ و اقتدار موسیٰ(ع) کے لیے امن و آرام اور پرورش کی جگہ خود فرعون کا محل قرار پایا۔

    یہ ھے پروردگار عالم خدا کی قدرت!۔
     
  7. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    موسیٰ علیہ السلام پھر آغوش مادر میں

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے اس طرح سے جیسا کہ ھم نے پیشتر بیان کیا ھے،اپنے فرزند کو دریائے نیل کی لھروں کے سپرد کردیا۔ مگر اس عمل کے بعد اس کے دل میں جذبات کا یکایک شدید طوفان اٹھنے لگا،نوزائیدہ بیٹے کی یاد،جس کے سوا اس کے دل میں کچھ نہ تھا،اس کے احساسات پر غالب آگئی تھی،قریب تھا کہ وہ دھاڑیں مار کر رونے لگے اور اپنا راز فاش کردے،قریب تھا کہ چیخ مارے اور اپنے بیٹے کی جدائی میں نالے کرے۔

    لیکن عنایت خداوندی اس کے شامل حال رھی جیسا کہ قرآن میں مذکور ھے:”موسیٰ علیہ السلام کی ماں کا دل اپنے فرزند کی یاد کے سوا ھر چیز سے خالی هوگیا،اگر ھم نے اس کا دل ایمان اور امید کے نور سے روشن نہ کیا هوتا تو قریب تھا کہ وہ راز فاش کردیتی۔ لیکن ھم نے یہ اس لیے کیا تاکہ وہ اھل ایمان میں سے رھے“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    یہ قطعی فطری امر ھے کہ: ایک ماں جو اپنے بچے کو اس صورت حال سے اپنے پاس سے جدا کرے وہ اپنی اولاد کے سوا ھر شے کو بھول جائے گی۔ اور اس کے حواس ایسے باختہ هو جائیںگے کہ ان خطرات کا لحاظ

    کیے بغیر جو اس کے اور اس کے بیٹے دونوں کے سر پر منڈلارھے تھے فریاد کرے اور اپنے دل کا راز فاش کردے۔

    لیکن وہ خدا جس نے اس ماں کے سپرد یہ اھم فریضہ کیا تھا،اسی نے اس کے دل کو ایسا حوصلہ بھی بخشا کہ وعدہٴ الٰھی پر اس کا ایمان ثابت رھے اور اسے یہ یقین رھے کہ اس کا بچہ خدا کے ھاتھ میں ھے آخر کار وہ پھر اسی کے پاس آجائے گا اور پیغمبر بنے گا۔

    اس لطف خداوندی کے طفیل ماںکے دل کا سکون لوٹ آیامگر اسے آرزورھی کہ وہ اپنے فرزندکے حال سے باخبر رھے” اس لئے اس نے موسیٰ علیہ السلام کی بہن سے کھاکہ جا تو دیکھتی رہ کہ اس پر کیا گزرتی ھے“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    موسیٰ علیہ السلام کی بہن ماں کا حکم بجالائی اور اتنے فاصلہ سے جھاں سے سب کچھ نظر آتا تھا دیکھتی رھی ۔ اس نے دور سے دیکھا کہ فرعون کے عمال اس کے بھائی کے صندوق کو پانی میں سے نکال رھے ھیں اور موسیٰ علیہ السلام کو صندوق میں سے نکال کر گود میں لے رھے ھیں۔

    ”مگر وہ لوگ اس بہن کی ا س کیفیت حال سے بے خبر تھے۔“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    بھر حال ارادہ الٰھی یہ تھا کہ یہ طفل نوزاد جلد اپنی ماںکے پاس واپس جائے اور اس کے دل کو قرار آئے۔اس لیے فرمایا گیا ھے :”ھم نے تمام دودھ پلانے والی عورتوں کو اس پر حرام کردیا تھا“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    یہ طبیعی ھے کہ شیر خوار نوزاد چندگھنٹے گزرتے ھی بھوک سے رونے لگتا ھے اور بے تاب هوجاتا ھے۔ درین حال لازم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلانے کے لیے کسی عورت کی تلاش کی جاتی۔ خصوصاً جبکہ ملکہ مصر اس بچے سے نھایت دل بستگی رکھتی تھی اور اسے اپنی جان کے برابر عزیز رکھتی تھی۔

    محل کے تمام خدام حرکت میں آگئے اور دربدر کسی دودھ پلانے والی کو تلاش کرنے لگے۔مگر یہ عجیب بات تھی کہ وہ کسی کا دودھ پیتا ھی نہ تھا۔

    ممکن ھے کہ وہ بچہ ان عورتوں کی صورت ھی سے ڈرتا هو اور ان کے دودھ کا مزہ(جس سے وہ آشنا نہ تھا) اسے اس کا ذائقہ ناگوار اور تلخ محسوس هوتا هو۔اس بچے کا طور کچھ اس طرح کا تھا گویا کہ ان (دودھ پلانے والی)عورتوں کی گود سے اچھل کے دورجاگرے در اصل یہ خدا کی طرف سے”تحریم تکوینی“تھی کہ اس نے تمام عورتوںکو اس پر حرام کردیا تھا۔

    بچہ لحظہ بہ لحظہ زیادہ بھوکا اور زیادہ بیتاب هوتا جاتا تھا۔ بار بار رورھا تھا اور اس کی آواز سے فرعون کے محل میں شور هورھا تھا۔ اور ملکہ کا دل لرز رھا تھا۔

    خدمت پرمامور لوگوں نے اپنی تلاش کو تیز تر کردیا۔ ناگھاں قریب ھی انھیں ایک لڑکی مل جاتی ھے۔ وہ ان سے یہ کہتی ھے:میںایک ایسے خاندان کو جانتی هوں جو اس بچے کی کفالت کرسکتا ھے۔ وہ لوگ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔

    ”کیا تم لوگ یہ پسند کروگے کہ میں تمھیں وھاں لے چلوں“؟یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    میں بنی اسرائیل میں سے ایک عورت کو جانتی هوں جس کی چھاتیوں میں دودھ ھے اور اس کا دل محبت سے بھرا هوا ھے۔ اس کا ایک بچہ تھا وہ اسے کھو چکی ھے۔ وہ ضرور اس بچے کو جو محل میں پیدا هوا ھے،دودھ پلانے پر آمادہ هوجائے گی۔

    وہ تلاش کرنے والے خدام یہ سن کر خوش هوگئے اور موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو فرعون کے محل میں لے گئے۔ اس بچے نے جونھی اپنی ماں کی خوشبو سونگھی اس کا دودھ پینے لگا۔ اور اپنی ماں کا روحانی رس چوس کر اس میں جان تازہ آگئی۔اسکی آنکھوں میں خوشی کا نور چمکنے لگا۔

    اس وقت وہ خدام جو ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گئے تھے۔ بہت ھی زیادہ خوش و خرم تھے۔ فرعون کی بیوی بھی اس وقت اپنی خوشی کو نہ چھپا سکی۔ممکن ھے اس وقت لوگوں نے کھا هوکہ تو کھاں چلی گئی تھی۔ھم تجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گئے ۔ تجھ پر اورتیرے شیر مشکل کشا پر آفرین ھے۔
     
  8. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    صرف تیرا ھی دودھ کیوں پیا

    جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام ماں کا دودھ پینے لگے،فرعون کے وزیر ھامان نے کھا: مجھے لگتا ھے کہ تو ھی اسکی ماں ھے۔ بچے نے ان تمام عورتوں میں سے صرف تیرا ھی دودھ کیوں قبول کرلیا؟

    ماں نے کھا:اس کی وجہ یہ ھے کہ میں ایسی عورت هوں جس کے دودھ میں سے خوشبو آتی ھے۔ میرا دودھ نھایت شیریں ھے۔ اب تک جو بچہ بھی مجھے سپرد کیا گیا ھے۔ وہ فوراً ھی میرا دودھ پینے لگتا ھے۔

    حاضرین دربار نے اس قول کی صداقت کو تسلیم کرلیا اور ھر ایک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماںکو گراں بھا ہدیے اور تحفے دیے۔

    ایک حدیث جو امام باقر علیہ السلام سے مروی ھے اس میں منقول ھے کہ: ”تین دن سے زیادہ کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ خدانے کے بچے کواس کی ماں کے پاس لوٹا دیا“۔

    بعض اھل دانش کا قول ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہ”تحریم تکوینی“(یعنی دوسری عورتوں کا حرام کیا جانا)اس سبب سے تھاکہ خدا یہ نھیں چاہتا تھا کہ میرا فرستادہ پیغمبر ایسا دودھ پیئے جو حرام سے آلودہ هو اور ایسا مال کھاکے بنا هو جو چوری،نا جائز ذرائع،رشوت اور حق الناس کو غصب کرکے حاصل کیا گیا هو۔

    خدا کی مشیت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی صالحہ ماں کے پاک دودھ سے غذا حاصل کریں۔تاکہ وہ اھل دنیا کے شر کے خلاف ڈٹ جائیں اور اھل شروفساد سے نبردآزمائی کرسکیں۔

    ”ھم نے اس طرح موسیٰ علیہ السلام کو اس کی ماں کے پاس لوٹا دیا۔تاکہ اس کی آنکھیں روشن هوجائیں اور اس کے دل میں غم واندوہ باقی نہ رھے اور وہ یہ جان لے کہ خدا کا وعدہ حق ھے۔ اگر چہ اکثر لوگ یہ نھیں جانتے“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    اس مقام پر ایک سوال پیدا هوتا ھے اور وہ یہ ھے کہ:کیا وابستگان فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو پورے طور سے ماں کے سپرد کردیا تھا کہ وہ اسے گھر لے جائے اور دودھ پلایا کرے اور دوران رضاعت روزانہ یا کبھی کبھی بچے کو محل میں لایا کرے تا کہ ملکہ مصر اسے دیکھ لیا کرے یا یہ کہ بچہ محل ھی میں رہتا تھا اور موسیٰ علیہ السلام کی ماں معین اوقات میں آکر اسے دودھ پلاجاتی تھی؟

    مذکورہ بالا دونوں احتمالات کے لیے ھمارے پاس کوئی واضح دلیا نھیں ھے۔ لیکن احتمال اول زیادہ قرین قیاس ھے۔

    ایک اور سوال یہ ھے کہ:

    آیا عرصہٴ شیر خوارگی کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے محل میں چلے گئے یا ان کا تعلق اپنی ماں اور خاندان کے ساتھ باقی رھا اور محل سے وھاں آتے جاتے رھے؟

    اس مسئلے کے متعلق بعض صاحبان نے یہ کھا ھے کہ شیر خوار گی کے بعد آپ کی ماں نے انھیں فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کے سپرد کردیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ان دونوں کے پاس پرورش پاتے رھے۔

    اس ضمن میں راویوںنے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طفلانہ(مگر با معنیٰ)باتوں کا ذکر کیا ھے کہ اس مقام پر ھم ان کو بعذر طول کلام کے پیش نظر قلم انداز کرتے ھیں۔ لیکن فرعون کا یہ جملہ جے اس نے بعثت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کھا:

    ”کیا ھم نے تجھے بچپن میں پرورش نھیں کیا اور کیا تو برسوں تک ھمارے درمیان نھیں رھا“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    اس جملے سے معلوم هوتا ھے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام چند سال تک فرعون کے محل میں رہتے تھے۔

    علی ابن ابراھیم کی تفسیر سے استفادہ هوتا ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تازمانہٴ بلوغ فرعون کے محل میں نھایت احترام کے ساتھ رھے۔مگر ان کی توحید کے بارے میں واضح باتیں فرعون کو سخت ناگوار هوتی تھیں۔

    یھاں تک کہ اس نے انھیں قتل کرنے کا ارادہ کرلیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس خطرے کو بھاپ گئے اوربھاگ کر شھر میں آگئے۔ یھاں وہ اس واقعے سے دوچار هوئے کہ دو آدمی لڑرھے تھے جن میں سے ایک قبطی اور ایک سبطی تھا۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  9. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    موسیٰ علیہ السلام مظلوموںکے مددگار کے طورپر

    اب ھم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشیب و فراز سے بھرپور زندگی کے تیسرے دور کو ملاحظہ کر تے ھیں۔

    اس دور میں ان کے وہ واقعات ھیں جو انھیں دوران بلوغ اور مصر سے مدین کو سفر کرنے سے پھلے پیش آئے اور یہ وہ اسباب ھیں جو ان کی ہجرت کا باعث هوئے۔

    ”بھر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام شھر میں اس وقت داخل هوئے جب تمام اھل شھر غافل تھے“۔[14]

    یہ واضح نھیں ھے کہ یہ کونسا شھر تھا۔لیکن احتمال قوی یہ ھے کہ یہ مصر کا پایہٴ تخت تھا۔ بعض لوگوں کا قول ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس مخالفت کی وجہ سے جو ان میں فوعون اور اس کے وزراء میں تھی اور بڑھتی جارھی تھی،مصر کے پایہٴ تخت سے نکال دیا گیا تھا۔ مگر جب لوگ غفلت میں تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کو موقع مل گیا اور وہ شھر میں آگئے۔

    اس احتمال کی بھی گنجائش ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے محل سے نکل کر شھر میں آئے هوں کیونکہ عام طور پر فرعونیوں کے محلات شھر کے ایک کنارے پر ایسی جگہ بنائے جاتے تھے جھاں سے وہ شھر کی طرف آمدورفت کے راستوں کی نگرانی کرسکیں۔

    شھر کے لوگ اپنے مشاغل معمول سے فارغ هوچکے تھے اور کوئی بھی شھر کی حالت کی طرف متوجہ نہ تھا۔ مگر یہ کہ وہ وقت کونسا تھا؟بعض کا خیال ھے کہ”ابتدائے شب“تھی،جب کہ لوگ اپنے کاروبار سے فارغ هوجاتے ھیں،ایسے میں کچھ تو اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ھیں۔کچھ تفریح اور رات کوبیٹھ کے باتیں کرنے لگتے ھیں۔

    بھر کیف حضرت موسیٰ علیہ السلام شھر میں آئے اور وھاںایک ماجرے سے دوچار هوئے دیکھا :” دو آدمی آپس میں بھڑے هوئے ھیں اور ایک دوسرے کو مار رھے ھیں۔ان میں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کا طرف دار اور ان کا پیرو تھا اور دوسراان کا دشمن تھا“۔[15]

    کلمہ ”شیعتہ“ اس امر کا غماز ھے کہ جناب موسی (ع)اور بنی اسرائیل میں اسی زمانے سے مراسم هوگئے تھے اور کچھ لوگ ان کے پیرو بھی تھے احتمال یہ هوتا ھے کہ حضرت موسی علیہ السلام اپنے مقلدین اور شیعوں کی روح کو فرعون کی جابرانہ حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بطور ایک مرکزی طاقت کے تیار کررھے تھے ۔

    جس وقت بنی اسرائیل کے اس آدمی نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا:” تو ان سے اپنے ،دشمن کے مقابلے میں امداد چاھی“۔ [16]

    حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کی مدد کرنے کےلئے تیار هوگئے تاکہ اسے اس ظالم دشمن کے ھاتھ سے نجات دلائیں بعض علماء کا خیال ھے کہ وہ قبطی فرعون کا ایک باورچی تھا اور چاہتاتھا کہ اس بنی اسرائیل کو بیکار میں پکڑکے اس سے لکڑیاں اٹھوائے” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس فرعونی کے سینے پر ایک مکامارا وہ ایک ھی مکے میں مرگیا اور زمین پر گر پڑا “۔[17]

    اس میں شک نھیںکہ حضرت موسی کا اس فرعونی کو جان سے ماردینے کا ارادہ نہ تھا قرآن سے بھی یہ خوب واضح هوجاتاھے ایسا اس لئے نہ تھا کہ وہ لوگ مستحق قتل نہ تھے بلکہ انھیں ان نتائج کا خیال تھا جو خود حضرت موسی اور بنی اسرائیل کو پیش آسکتے تھے ۔

    لہٰذا حضرت موسٰی علیہ السلام نے فوراً کھا:” کہ یہ کام شیطان نے کرایا ھے کیونکہ وہ انسانوں کا دشمن اور واضح گمراہ کرنے والاھے “۔[18]

    اس واقعے کی دوسری تعبیر یہ ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چاہتے تھے کہ بنی اسرئیلی کا گریبان اس فرعونی کے ھاتھ سے چھڑا دیں ھر چند کہ وابستگان فرعون اس سے زیادہ سخت سلوک کے مستحق تھے لیکن ان حالات میں ایسا کام کر بیٹھنا قرین مصلحت نہ تھا اور جیسا کہ ھم آگے دیکھیں گے کہ حضرت موسی اسی عمل کے نتیجے میں پھر مصر میں نہ ٹھھرسکے اور مدین چلے گئے ۔

    پھر قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا گیا ھے اس نے کھا:”پروردگار ا!میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھے معاف کردے ،اور خدا نے اسے بخش دیا کیونکہ وہ غفورو رحیم ھے “۔[19]

    یقینا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس معاملے میں کسی گناہ کے مرتکب نھیں هوئے بلکہ حقیقت میں ان سے ترک اولی سرزد هوا کیونکہ انھیں ایسی بے احتیاطی نھیں کرنی چاھیئے تھی جس کے نتیجے میں وہ زحمت میں مبتلا هوں حضرت موسی نے اسی ترک اولی کے لئے خدا سے طلب عفو کیا اور خدا نے بھی انھیں اپنے لطف وعنایت سے بھرہ مند کیا ۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کھا: خداوندا تیرے اس احسان کے شکرانے میں کہ تونے میرے قصور کو معاف کردیا اور دشمنوں کے پنجے میںگرفتار نہ کیا اور ان تمام نعمتوں کے شکریہ میں جو مجھے ابتداء سے اب تک مرحمت کرتا رھا،میں عہد کرتا هوں کہ ھر گز مجرموں کی مدد نہ کروں گا اور ظالموں کا طرف دار نہ هوں گا “۔[20]

    بلکہ ھمیشہ مظلومین اور ستم دیدہ لوگوں کا مددگارر هوں گا ۔[21]
     
  10. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    موسیٰ علیہ السلام کی مخفیانہ مدین کی طرف روانگی

    فرعونیوں میں سے ایک آدمی کے قتل کی خبر شھر میں بڑی تیزی سے پھیل گئی قرائن سے شاید لوگ یہ سمجھ گئے تھے کہ اس کا قائل ایک بنی اسرائیل ھے اور شاید اس سلسلے میں لوگ موسیٰ علیہ السلام کا نام بھی لیتے تھے۔

    البتہ یہ قتل کوئی معمولی بات نہ تھی اسے انقلاب کی ایک چنگاری یا اس کا مقدمہ شمار کیا جاتاتھا اور حکومت کی مشینری اسے ایک معمولی واقعہ سمجھ کراسے چھوڑنے والی نہ تھی کہ بنی اسرائیل کے غلام اپنے آقاؤں کی جان لینے کا ارادہ کرنے لگیں۔

    لہٰذا ھم قرآن میں یہ پڑھتے ھیں کہ” اس واقعے کے بعد موسی شھر میں ڈررھے تھے اور ھر لحظہ انھیں کسی حادثے کا کھٹکا تھا اور وہ نئی خبروں کی جستجو میں تھے “۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    ناگھاں انھیں ایک معاملہ پیش آیا آپ نے دیکھا کہ وھی بنی اسرائیلی جس نے گزشتہ روز ان سے مدد طلب کی تھی انھیں پھر پکاررھا تھا اور مدد طلب کررھاتھا (وہ ایک اور قبطی سے لڑرھا تھا) ۔

    ”لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کھا کہ تو آشکارا طور پر ایک جاھل اور گمراہ شخص ھے“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    توھر روز کسی نہ کسی سے جھگڑ پڑتا ھے اور اپنے لئے مصیبت پیدا کرلیتا ھے اور ایسے کام شروع کردیتا ھے جن کا ابھی موقع ھی نھیں تھا کل جو کچھ گزری ھے میں تو ابھی اس کے عواقب کا انتظار کرھا هوں اور تونے وھی کام از سر نو شروع کردیا ھے !۔

    بھر حال وہ ایک مظلوم تھا جو ایک ظالم کے پنجے میں پھنسا هو تھا ( حواہ ابتداء اس سے کچھ قصور هوا هو یانہ هوا هو ) اس لئے حضرت موسی کے لئے یہ ضروری هوگیا کہ اس کی مدد کریں اور اسے اس قبطی کے رحم وکرم پر نہ چھوڑدیں لیکن جیسے ھی حضرت موسی نے یہ اراداہ کیا کہ اس قبطی آدمی کو (جو ان دونوں کا دشمن تھا )پکڑ کر اس بنی اسرائیل سے جدا کریں وہ قبطی چلایا، اس نے کھا :

    اے موسیٰ : کیا تو مجھے بھی اسی طرح قتل کرنا چاہتا ھے جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا“۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں ”تیری حرکات سے تو ایسا ظاھر هوتا ھے کہ تو زمین پر ایک ظالم بن کررھے گا اور یہ نھیں چاہتا کہ مصلحین میں سے هو “۔یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    اس جملے سے یہ معلوم هوتا ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے محل اور اس کے باھر ھر دو جگہ اپنے مصلحانہ خیالات کا اظھار شروع کردیا تھا بعض روایات سے یہ بھی معلوم هوتا ھے کہ اس موضوع پر ان کے فرعون سے اختلافات بھی پیدا هوگئے تھے اسی لئے تو اس قبطی آدمی نے یہ کھا :

    یہ کیسی اصلاح طلبی ھے کہ تو ھر روز ایک آدمی کو قتل کرتاھے ؟

    حالانکہ اگر حضرت موسی کا یہ ارادہ هوتا کہ اس اس ظالم کو بھی قتل کردیں تو یہ بھی راہ اصلاح میں ایک قدم هوتا ۔

    بھرکیف حضرت موسی کو یہ احساس هوا کہ گزشتہ روز کا واقعہ طشت ازبام هوگیا ھے اور اس خوف سے کہ اور زیادہ مشکلات پیدا نہ هوں ، انھوں نے اس معاملے میں دخل نہ دیا ۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.

Share This Page