1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعه

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by PakArt, Apr 5, 2017.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے سزا ئے موت

    اس واقعے کی فرعون اور اس کے اھل دربار کو اطلاع پہنچ گئی انھوں نے حضرت موسی سے اس عمل کے مکرر سرزد هونے کو اپنی شان سلطنت کے لئے ایک تہدید سمجھا ۔ وہ باھم مشورے کے لئے جمع هوئے اور حضرت موسی کے قتل کا حکم صادر کردیا ۔

    (جھاں فرعون اور اس کے اھل خانہ رہتے تھے)وھاں سے ایک شخص تیزی کے ساتھ حضرت موسی کے پاس آیا اور انھیں مطلع کیا کہ آپ کو قتل کرنے کا مشورہ هورھا ھے ، آپ فورا شھرسے نکل جائیں ، میں آپ کا خیر خواہ هوں۔“[26]

    یہ آدمی بظاھر وھی تھا جو بعد میں ”مومن آل فرعون “کے نام سے مشهور هوا ،کھا جاتاھے کہ اس کا نام حزقیل تھا وہ فرعون کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھا اور ان لوگوں سے اس کے ایسے قریبی روابط تھے کہ ایسے مشوروں میں شریک هوتا تھا ۔

    اسے فرعون کے جرائم اور اس کی کرتوتوں سے بڑا دکھ هوتا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ کوئی شخص اس کے خلاف بغاوت کرے اور وہ اس کار خیر میں شریک هوجائے ۔

    بظاھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ آس لگائے هوئے تھا اور ان کی پیشانی میں من جانب اللہ ایک انقلابی ہستی کی علامات دیکھ رھا تھا اسی وجہ سے جیسے ھی اسے یہ احساس هوا کہ حضرت موسیٰ خطرے میں ھیں ، نھایت سرعت سے ان کے پاس پہنچا اور انھیں خطرے سے بچالیا ۔

    ھم بعد میں دیکھیں گے کہ وہ شخص صرف اسی واقعے میں نھیں ، بلکہ دیگر خطرناک مواقع پر بھی حضرت موسی کے لئے بااعتماد اور ھمدرد ثابت هواحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس خبر کو قطعی درست سمجھا اور اس ایماندار آدمی کی خیرخواھی کو بہ نگاہ قدر دیکھا اور اس کی نصیحت کے مطابق شھر سے نکل گئے۔”اس وقت آپ خوف زدہ تھے اور ھر گھڑی انھیں کسی حادثے کا کھٹکا تھا“۔[27]

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نھایت خضوع قلب کے ساتھ متوجہ الی اللہ هوکر اس بلا کو ٹالنے کےلئے اس کے لطف وکرم کی درخواست کی :”اے میرے پروردگار : تو مجھے اس ظالم قوم سے رھائی بخش [28]

    میں جانتاهوں کہ وہ ظالم اور بے رحم ھیں میں تو مظلوموں کی مدافعت کررھاتھا اور ظالموں سے میرا کچھ تعلق نہ تھا اور جس طرح سے میں نے اپنی توانائی کے مطابق مظلوموں سے ظالموں کے شرکو دور کیا ھے تو بھی اے خدائے بزرگ ظالموں کے شرکو مجھ سے دور رکھ ۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پختہ ارادہ کرلیا کہ وہ شھرمدین کو چلے جائیں یہ شھر شام کے جنوب اور حجاز کے شمال میں تھا اور قلم رو مصر اور فراعنہ کی حکومت میں شامل نہ تھا ۔
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    مدین کھاں تھا؟

    ”مدین “ ایک شھر کانام تھا جس میں حضرت شعیب اور ان کا قبیلہ رہتا تھا یہ شھر خلیج عقبہ کے مشرق میں

    تھا (یعنی حجاز کے شمال اور شامات کے جنوب میں )وھاں کے باشندے حضرت اسماعیل (ع) کی نسل سے تھے وہ مصر، لبنان اور فلسطین سے تجارت کرتے تھے آج کل اس شھر کانام معان ھے [29]

    نقشے کو غور سے دبکھیں تو معلوم هوتا ھے کہ اس شھر کا مصر سے کچھ زبادہ فاصلہ نھیں ھے،اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام چند روز میں وھاں پہنچ گئے۔

    ملک اردن کے جغرافیائی نقشہ میں، جنوب غربی شھروں میں سے ایک شھر” معان “ نام کا ملتا ھے ، جس کا محل وقوع ھمارے مذکورہ بالا بیان کے مطابق ھے ۔

    لیکن وہ جوان جو محل کے اندار نازو نعم میں پلا تھا ایک ایسے سفر پر روانہ هو رھا تھا جیسے کہ سفر اسے کبھی زندگی بھر پیش نہ آیا تھا۔

    اس کے پاس نہ زادراہ تھا، نہ توشہٴ سفر، نہ کوئی سواری ، نہ رفیق راہ اور نہ کوئی راستہ بتانے والا ،ھردم یہ خطرہ لاحق تھا۔

    کہ حکومت کے اھلکار اس تک پہنچ جائیں اور پکڑکے قتل کردیں اس حالت میں ظاھر ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیا حال هوگا ۔

    لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے یہ مقدر هوچکا تھا کہ وہ سختی اور شدت کے دنوں کو پیچھے چھوڑدیں اور قصرفرعون انھیں جس جال میں پھنسانا چاہتا تھا۔

    اسے توڑکر باھر نکل آئیں اور وہ کمزور اور ستم دیدہ لوگوں کے پاس رھیں ان کے درد وغم کا بہ شدت احساس کریں ور مستکبرین کے خلاف ان کی منفعت کے لئے بحکم الٰھی قیام فرمائیں۔

    بعض اھل تحقیق نے اس شھر کی وجہ تسمیہ بھی لکھی ھے کہ حضرت ابراھیم (ع)کا ایک بیٹا جس کا نام ” مدین “ تھا اس شھر میں رہتا تھا۔

    اس طویل ، بے زادو راحلہ اور بے رفیق ورہنما سفر میں ایک عظیم سرمایہ ان کے پاس تھا اور وہ تھا ایمان اور توکل برخدا ۔

    ”لہٰذا جب وہ مدین کی طرف چلے تو کھا : خدا سے امید ھے کہ وہ مجھے راہ راست کی طرف ہدایت کرے گا“۔[30]

    ایک نیک عمل نے موسیٰ (ع) پر بھلائیوں کے دروازے کھول دئیے

    اس مقام پر ھم اس سرگزشت کے پانچوں حصے پر پہنچ گئے ھیں اور وہ موقع یہ ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شھرمدین میں پہنچ گئے ھیں ۔

    یہ جوان پاکباز انسان کئی روز تک تنھا چلتا رھا یہ راستہ وہ تھا جو نہ کبھی اس نے دیکھا تھا نہ اسے طے کیا تھا بعض لوگوں کے قول کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام مجبور تھے کہ پابرہنہ راستہ طے کریں، بیان کیا گیا ھے کہ مسلسل آٹھ روز تک چلتے رھے یھاں تک کہ چلتے چلتے ان کے پاؤں میں چھالے پڑگئے ۔

    جب بھوک لگتی تھی تو جنگل کی گھاس اور درختوں کے پتے کھالیتے تھے ان تمام مشکلات اور زحمات میں صرف ایک خیال سے ان کے دل کوراحت رہتی تھی کہ انھیں افق میں شھرمدین کا منظر نظر آنے لگا ان کے دل میں آسود گی کی ایک لھر اٹھنے لگی وہ شھر کے قریب پہنچے انهوں نے لوگوں کا ایک انبوہ دیکھا وہ فورا سمجھ گئے کہ یہ لوگ چرواھے ھیں کہ جو کنویں کے پاس اپنی بھیڑوں کو پانی پلانے آئے ھیں ۔

    ”جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کنویں کے قریب آئے تو انھوں نے وھاں بہت سے آمیوں کو دیکھا جو کنویں سے پانی بھر کے اپنے چوپایوں کو پلارھے تھے،انھوں نے اس کنویں کے پاس دو عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنی بھیڑوں کو لئے کھڑی تھیں مگر کنویں کے قریب نھیں آتی تھیں“۔ [31]

    ان باعفت لڑکیوں کی حالت قابل رحم تھی جو ایک گوشے میں کھڑی تھیں اور کوئی آدمی بھی ان کےساتھ انصاف نھیں کرتا تھا چرواھے صرف اپنی بھیڑوں کی فکر میں تھے اور کسی اور کو موقع نھیں دیتے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان لڑکیوں کی یہ حالت دیکھی تو ان کے نزدیک آئے اور پوچھا :

    ” تم یھاں کیسے کھڑی هو“۔[32]

    تم آگے کیوں نھیں بڑھتیںاور اپنی بھیڑوں کو پانی کیوں نھیں پلاتیں ؟

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے یہ حق کشی ، ظلم وستم ، بے عدالتی اور مظلوموں کے حقوق کی عدم پاسداری جو انھوں نے شھر مدین میں دیکھی، قابل برداشت نہ تھی ۔

    مظلوموں کو ظالم سے بچانا ان کی فطرت تھی اسی وجہ سے انھوں نے فرعون کے محل اور اس کی نعمتوں کو ٹھکرادیا تھا اور وطن سے بے وطن هوگئے تھے وہ اپنی اس روش حیات کو ترک نھیں کرسکتے تھے اور ظلم کو دیکھ کر خاموش نھیں رہ سکتے تھے ۔

    لڑکیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جواب میں کھا :” ھم اس وقت تک اپنی بھیڑوں کو پانی نھیں پلاسکتے، جب تک تمام چرواھے اپنے حیوانات کو پانی پلاکر نکل نہ جائیں “۔[33]

    ان لڑکیوںنے اس بات کی وضاحت کے لئے کہ ان باعفت لڑکیوں کے باپ نے انھیں تنھا اس کام کے لئے کیوں بھیج دیا ھے یہ بھی اضافہ کیا کہ ھمارا باپ نھایت ضعیف العمرھے ۔

    نہ تو اس میں اتنی طاقت ھے کہ بھیڑوں کو پانی پلاسکے اور نہ ھمارا کوئی بھائی ھے جو یہ کام کرلے اس خیال سے کہ کسی پر بارنہ هوں ھم خود ھی یہ کام کرتے ھیں ۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ باتیں سن کر بہت کوفت هوئی اور دل میں کھا کہ یہ کیسے بے انصاف لوگ ھیں کہ انھیں صرف اپنی فکر ھے اور کسی مظلوم کی ذرا بھی پرواہ نھیں کرتے ۔

    وہ آگے آئے ،بھاری ڈول اٹھایا اور اسے کنوئیں میں ڈالا، کہتے ھیں کہ وہ ڈول اتنا بڑا تھا کہ چند آدمی مل کر اسے کھینچ سکتے تھے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے قوی بازوؤں سے اسے اکیلے ھی کھینچ لیا اور ان دونوں عورتوں کی بھیڑوں کو پانی پلادیا “۔[34]

    بیان کیا جاتاھے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کنویں کے قریب آئے اورلوگوں کو ایک طرف کیا تو ان سے کھا:” تم کیسے لوگ هو کہ اپنے سوا کسی اور کی پرواہ ھی نھیں کرتے “۔

    یہ سن کر لوگ ایک طرف ہٹ گئے اور ڈول حضرت موسی کے حوالے کرکے بولے :

    ” لیجئے، بسم اللہ، اگرآپ پانی کھینچ سکتے ھیں،انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنھاچھوڑ دیا،لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام اس وقت اگرچہ تھکے هوئے تھے،اور انھیں بھوک لگ رھی تھی مگر قوت ایمانی ان کی مدد گار هوئی ، جس نے ان کی جسمانی قوت میں اضافہ کردیا اور کنویں سے ایک ھی ڈول کھینچ کر ان دنوں عورتوں کی بھیڑوںکو پانی پلادیا ۔

    اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سائے میں آبیٹھے اور بارگاہ ایزدی میں عرض کرنے لگے :” خداوند ا!تو مجھے جو بھی خیراور نیکی بخشے ، میں اس کا محتاج هوں “۔[35]

    حضرت موسیٰ علیہ السلام ( اس وقت ) تھکے هوئے اور بھوکے تھے اس شھر میں اجنبی اور تنھاتھے اور ان کے لیے کو ئی سرچھپانے کی جگہ بھی نہ تھی مگر پھر بھی وہ بے قرار نہ تھے آپ کا نفس ایسا مطمئن تھا کہ دعا کے وقت بھی یہ نھیں کھا کہ” خدایا تو میرے لیے ایسا یاویسا کر“ بلکہ یہ کھا کہ : تو جو خیر بھی مجھے بخشے میں اس کا محتاج هوں “ ۔

    یعنی صرف اپنی احتیاج اور نیاز کو عرض کرتے ھیں اور باقی امور الطاف خداوندی پر چھوڑدیتے ھیں ۔

    لیکن دیکھو کہ کار خیر کیا قدرت نمائی کرتا ھے اور اس میں کتنی عجیب برکات ھیں صرف ”لوجہ اللہ“ ایک قدم اٹھانے اور ایک نا آشنا مظلوم کی حمایت میں کنویں سے پانی کے ایک ڈول کھیچنے سے حضرت موسی کی زندگی میں ایک نیاباب کھل گیا اور یہ عمل خیران کے لیے برکات مادی اور روحانی دنیا بطور تحفہ لایا اور وہ ناپیدا نعمت (جس کے حصول کےلئے انھیں برسوں کوشش کرنا پڑتی ) اللہ نے انھیں بخش دی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے خوش نصیبی کا دور اس وقت شروع هوا جب انھوں نے یہ دیکھا کہ ان دونوں بہنوں میں سے ایک نھایت حیاسے قدم اٹھاتی هوئی آرھی ھے اس کی وضع سے ظاھر تھا کہ اسکوایک جوان سے باتیں کرتے هوئے شرم آتی ھے وہ لڑکی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب آئی اور صرف ایک جمکہ کھا : میرے والد صاحب آپ کو بلاتے ھیں تاکہ آپ نے ھماری بکریوں کے لئے کنویں سے جو پانی کھینچا تھا ، اس کا معاوضہ دیں “۔[36]

    یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں امید کی بجلی چمکی گویاانھیں یہ احساس هوا کہ ان کے لئے ایک عظیم خوش نصیبی کے اسباب فراھم هورھے ھیں وہ ایک بزرگ انسان سے ملیں گے وہ ایک ایسا حق شناس انسان معلوم هوتا ھے جو یہ بات پسند نھیں کرتا کہ انسان کی کسی زحمت کا، یھاں تک کہ پانی کے ایک ڈول کھیچنے کا بھی معاوضہ نہ دے یہ ضرور کوئی ملکوتی اور الٰھی انسان هوگا یا اللہ ! یہ کیسا عجیب اور نادر موقع ھے ؟

    بیشک وہ پیر مرد حضرت شعیب(ع) پیغمبر تھے انهوں نے برسوں تک اس شھر کے لوگوں کو” رجوع الی اللہ“کی دعوت دی تھی وہ حق پرستی اور حق شناسی کا نمونہ تھے ۔

    جب انھیں کل واقعے کا علم هوا تو انھوں نے تھیہ کرلیا کہ اس اجنبی جوان کو اپنے دین کی تبلیغ کریں گے ۔
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    حضرت موسیٰ(ع) جناب شعیب(ع) کے گھر میں

    چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس جگہ سے حضرت شعیب کے مکان کی طرف روانہ هوئے ۔

    بعض روایات کے مطابق وہ لڑکی رہنمائی کے لئے ان کے آگے چل رھی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے چل رھے تھے اس وقت تیز هوا سے اس لڑکی کا لباس اڑرھا تھا اور ممکن تھا کہ هوا کی تیزی لباس کو اس کے جسم سے اٹھادے حضرت موسیٰ(ع) کی پاکیزہ طبیعت اس منظر کو دیکھنے کی اجازت نھیں دیتی تھی،اس لڑکی سے کھا:میں آگے آگے چلتا هوں،تم راستہ بتاتے رہنا۔

    جب جناب موسیٰ علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر پہنچ گئے ایسا گھر جس سے نور نبوت ساطع تھا اور اس کے ھر گوشے سے روحانیت نمایاں تھی انھوں نے دیکھا کہ ایک پیر مرد، جس کے بال سفید ھیں ایک گوشے میں بیٹھا ھے اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خوش آمدید کھا اور پوچھا:

    ” تم کون هو ؟ کھاں سے آرھے هو ؟ کیا مشغلہ ھے ؟ اس شھر میں کیا کرتے هو ؟ اور آنے کا مقصد کیا ھے ؟ تنھا کیوں هو ؟

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس پہنچے اور انھیں اپنی سرگزشت سنائی تو حضرت شعیب علیہ السلام نے کھا مت ڈرو، تمھیں ظالموں کے گروہ سے نجات مل گئی ھے ۔“ [37]

    ھماری سرزمین ان کی حدود سلطنت سے باھر ھے یھاں ان کا کوئی اختیار نھیں چلتا اپنے دل میں ذرہ بھر پریشانی کو جگہ نہ دینا تم امن وامان سے پہنچ گئے هو مسافرت اور تنھائی کا بھی غم نہ کرو یہ تمام مشکلات خدا کے کرم سے دور هوجائیں گی ۔ حضرت مو سیٰ علیہ السلام فورا ًسمجھ گئے کہ انھیں ایک عالی مرتبہ استاد مل گیا ھے، جس کے وجود سے روحانیت ، تقویٰ ، معرفت اور زلال عظیم کے چشمے پھوٹ رھے ھیں اور یہ استاد ان کی تشنگی تحصیل علم ومعرفت کو سیراب کرسکتا ھے ۔

    حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی یہ سمجھ لیا کہ انھیں ایک لائق اور مستعد شاگرد مل گیا ھے، جسے وہ اپنے علم ودانش اور زندگی بھر کے تجربات سے فیض یاب کرسکتے ھیں ۔

    یہ مسلم ھے کہ ایک شاگرد کو ایک بزرگ اور قابل استاد پاکر جتنی مسرت هوتی ھے استاد کو بھی ایک لائق شاگرد پاکر اتنی ھی خوشی هوتی ھے۔

    جناب موسیٰ علیہ السلام حضرت شعیب (ع) کے داماد بن گئے

    اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے چھٹے دور کا ذکر شروع هوتا ھے حضرت موسیٰ علیہ السلام جناب شعیب علیہ السلام کے گھر آگئے یہ ایک سادہ سادیھاتی مکان تھا، مکان صاف ستھرا تھا اور روحانیت سے معمور تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جناب شعیب علیہ السلام کو اپنی سرگزشت سنائی تو ان کی ایک لڑکی نے ایک مختصر مگر پر معنی عبارت میں اپنے والد کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ موسیٰ علیہ السلام کو بھیڑوں کی حفاظت کے لئے ملازم رکھ لیں وہ الفاظ یہ تھے :

    اے بابا : آپ اس جوان کو ملازم رکھ لیں کیونکہ ایک بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھ سکتے ھیں وہ ایسا هونا چاہئے جو قوی اور امین هو اور اس نے اپنی طاقت اور نیک خصلت دونوں کا امتحان دے دیا ھے“ ۔[38]

    جس لڑکی نے ایک پیغمبر کے زیرسایہ تربیت پائی هوا سے ایسی ھی موٴدبانہ اور سوچی سمجھی بات کہنی چاہئے نیز چاہئے کہ مختصر الفاظ اور تھوڑی سی عبارت میں اپنا مطلب ادا کردے ۔

    اس لڑکی کو کیسے معلوم تھا کہ یہ جوان طاقتور بھی ھے اور نیک خصلت بھی کیونکہ اس نے پھلی بارکنویں پر ھی اسے دیکھا تھا اور اس کی گزشتہ زندگی کے حالات سے وہ بے خبر تھی؟

    اس سوال کا جواب واضح ھے اس لڑکی نے اس جوان کی قوت کو تو اسی وقت سمجھ لیا تھا جب اس نے ان مظلوم لڑکیوں کا حق دلانے کے لئے چرواهوں کو کنویں سے ایک طرف ہٹایا تھا اور اس بھاری ڈول کو اکیلے ھی کنویں سے کھینچ لیا تھا اور اس کی امانت اور نیک چلنی اس وقت معلوم هوگئی تھی کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر کی راہ میں اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ ایک جوان لڑکی اس کے آگے آگے چلے کیونکہ ممکن تھا کہ تیز هوا سے اس کا لباس جسم سے ہٹ جائے ۔

    علاوہ بریں اس نوجوان نے اپنی جو سرگزشت سنائی تھی اس کے ضمن میں قبطیوں سے لڑائی کے ذکر میں اس کی قوت کا حال معلوم هوگیا تھا اور اس امانت ودیانت کی یہ شھادت کافی تھی کہ اس نے ظالموں کی ھم نوائی نہ کی اور ان کی ستم رانی پر اظھار رضا مندی نہ کیا ۔

    حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی کی تجویز کو قبول کرلیا انھوں نے موسیٰ(ع) کی طرف رخ کرکے یوں کھا :”میرا ارادہ ھے کہ اپنی ان دولڑکیوں میں سے ایک کا تیرے ساتھ نکاح کردوں، اس شرط کے ساتھ کہ تو آٹھ سال تک میری خدمت کرے “۔[39]

    اس کے بعد یہ اضافہ کیا:” اگر تو آٹھ سال کی بجائے یہ خدمت دس سال کردے تو یہ تیرا احسان هوگا مگر تجھ پر واجب نھیں ھے :“[40]

    بھرحال میں یہ نھیں چاہتا کہ تم سے کوئی مشکل کام لوں انشاء اللہ تم جلد دیکھو گے کہ میں صالحین میں سے هوں ، اپنے عہدوپیمان میں وفادار هوں تیرے ساتھ ھرگز سخت گیری نہ کروں گا اور تیرے ساتھ خیراور نیکی کا سلوک کروں گا ۔[41]

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس تجویزاور شرط سے موافقت کرتے هوئے اور عقد کو قبول کرتے هوئے کھا : ” میرے اور آپ کے درمیان یہ عہد ھے “ ۔ البتہ” ان دومدتوں میں سے (آٹھ سال یا دس سال ) جس مدت تک بھی خدمت کروں ، مجھ پر کوئی زیادتی نہ هوگی اور میںاس کے انتخاب میں آزاد هوں“۔ [42]

    عہد کو پختہ اور خدا کے نام سے طلب مدد کے لئے یہ اضافہ کیا : ”جو کچھ ھم کہتے ھیں خدا اس پر شاہد ھے “۔[43]

    اوراس آسانی سے موسیٰ علیہ السلام داماد شعیب(ع) بن گئے حضرت شعیب علیہ السلام کی لڑکیوں کا نام ” صفورہ “( یا صفورا ) اور ” لیا “بتایا جاتاھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شادی ” صفورہ “ سے هوئی تھی ۔
     
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے بہترین ایام

    کوئی آدمی بھی حقیقتاً یہ نھیں جانتا کہ ان دس سال میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کیا گزری لیکن بلاشک یہ دس سال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے بہترین سال تھے یہ سال دلچسپ، شیریں اور آرام بخش تھے نیز یہ دس سال ایک منصب عظیم کی ذمہ داری کے لئے تربیت اور تیاری کے تھے ۔

    درحقیقت اس کی ضرورت بھی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام دس سال کا عرصہ عالم مسافرت اور ایک بزرگ پیغمبر کی صحبت میں بسر کریں اور چرواھے کاکام کریں تاکہ ان کے دل ودماغ سے محلول کی ناز پروردہ زندگی کا اثر بالکل محوهوجائے حضرت موسی کو اتنا عرصہ جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے ساتھ گزارنا ضروری تھا تاکہ ان کی تکالیف اور مشکلات سے آگاہ هوجائے اور ساکنان محلول کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آمادہ هوجائیں۔

    ایک اور بات یہ بھی ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اسرار آفرینش میں غور کرنے اور اپنی شخصیت کی تکمیل کے لئے بھی ایک طویل وقت کی ضرورت تھی اس مقصد کے لئے بیابان مدین اور خانہٴ شعیب سے بہتر اور کو نسی جگہ هوسکتی تھی ۔

    ایک اولوالعزم پیغمبر کی بعثت کوئی معمولی بات نھیں ھے کہ یہ مقام کسی کو نھایت آسانی سے نصیب هوجائے بلکہ یہ کہہ سکتے ھیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد تمام پیغمبروں میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذمہ داری ایک لحاظ سے سب سے زیادہ اھم تھی اس لئے کہ :

    روئے زمین کے ظالم ترین لوگوں سے مقابلہ کرنا، ایک کثیر الا فراد قوم کی مدت اسیری کو ختم کرنا ۔

    اور ان کے اندر سے ایام اسیری میں پیدا هوجانے والے نقائص کو محو کرنا کوئی آسان کام نھیں ھے ۔

    حضرت شعیب علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی مخلصانہ خدمات کی قدر شناسی کے طور پر یہ طے کرلیا تھا کہ بھیڑوں کے جو بچے ایک خاص علامت کے ساتھ پیداهوں گے، وہ موسیٰ علیہ السلام کو دیدیں گے،اتفاقاًمدت مو عود کے آخری سال میں جبکہ موسیٰ علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام سے رخصت هو کر مصر کو جانا چاہتے تھے تو تمام یا زیادہ تر بچے اسی علامت کے پیدا هوئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی انھیں بڑی محبت سے موسیٰ علیہ السلام کو دےدیا ۔

    یہ امر بدیھی ھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی ساری زندگی چرواھے بنے رہنے پر قناعت نھیں کرسکتے تھے ھر چند ان کے لئے حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس رہنا بہت ھی غنیمت تھا مگر وہ اپنا یہ فرض سمجھتے تھے کہ اپنی اس قوم کی مدد کے لئے جائیں جو غلامی کی زنجیروں میں گرفتارھے اور جھالت نادانی اور بے خبری میں غرق ھے ۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنا یہ فرض بھی سمجھتے تھے کہ مصر میں جو ظلم کا بازار گرم ھے اسے سرد کریں،طاغوتوںکو ذلیل کریں اور توفیق الٰھی سے مظلوموں کو عزت بخشیں ان کے قلب میں یھی احساس تھا جو انھیں مصر جانے پر آمادہ کررھا تھا ۔

    آخرکار انھوں نے اپنے اھل خانہ، سامان واسباب اور اپنی بھیڑوں کو ساتھ لیا اوراس وقت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی زوجہ کے علاوہ ان کا لڑکا یا کوئی اور اولاد بھی تھی، اسلامی روایات سے بھی اس کی تائید هوتی ھے تو ریت کے ” سفر خروج “ میں بھی ذکر مفصل موجود ھے علاوہ ازیں اس وقت ان کی زوجہ امید سے تھی ۔

    وحی کی تابش اول
     
  5. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    وحی کی تابش اول

    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے مصر کو جارھے تھے تو راستہ بھول گئے یا غالبا ًشام کے ڈاکوؤں کے ھاتھ میں گرفتار هوجانے کے خوف سے بوجہ احتیاط رائج راستے کو چھوڑکے سفر کررھے تھے ۔

    بھرکیف قرآن شریف میں یہ بیان اس طور سے ھے کہ :”جب موسیٰ علیہ السلام اپنی مدت کو ختم کرچکے اور اپنے خاندان کو ساتھ لے کر سفر پر روانہ هوگئے تو انھیں طور کی جانب سے شعلہ آتش نظر آیا ۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے اھل خاندان سے کھا :“ تم یھیں ٹھھرو“ مجھے آگ نظر آئی ھے میں جاتاهوں شاید تمھارے لئے وھاں سے کوئی خبرلاؤں یا آگ کا ایک انگارالے آؤں تاکہ تم اس سے گرم هوجاؤ“[44]

    ”خبر لاؤں“ سے یہ معلوم هوتا ھے کہ وہ راستہ بھول گئے تھے اور ”گرم هوجاؤ“یہ اشارہ کررھاھے کہ سرد اور تکلیف دہ رات تھی ۔

    قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ کی حالت کا کوئی ذکر نھیں ھے مگر تفاسیر اور روایات میں مذکورھے کہ وہ امید سے تھیں اور انھیں دروازہ هورھا تھا اس لئے موسیٰ علیہ السلام پریشان تھے ۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام جس وقت آگ کی تلاش میں نکلے تو انھوں نے دیکھا کہ آگ تو ھے مگر معمول جیسی آگ نھیں ھے، بلکہ حرارت اور سوزش سے خالی ھے وہ نور اور تابندگی کا ایک ٹکڑا معلوم هوتی تھی ،حضرت موسیٰ علیہ السلام اس منظر سے نھایت حیران تھے کہ ناگھاں اس بلندو پُر برکت سرزمین ِمیں وادی کے دا ھنی جانب سے ایک درخت میں سے آواز آئی: ”اے موسیٰ میں اللہ رب العالمین هوں! “۔ [45]

    اس میں شک نھیں کہ یہ خدا کے اختیار میں ھے کہ جس چیز میں چاھے قوت کلام پیدا کردے یھاں اللہ نے درخت میں یہ استعداد پیدا کردی کیونکہ اللہ موسیٰ علیہ السلام سے باتیں کرنا چاہتا تھا ظاھر ھے کہ موسیٰ علیہ السلام گوشت پوست کے انسان تھے، کان رکھتے تھے اور سننے کے لئے انھیں امواج صوت کی ضروت تھی البتہ انبیاء علیھم السلام پر اکثر یہ حالت بھی گزری ھے کہ وہ بطور الھام درونی پیغام الٰھی کو حاصل کرتے رھے ھیں ،اسی طرح کبھی انھیں خواب میں بھی ہدایت هوتی رھی ھے مگر کبھی وہ وحی کو بصورت صدا بھی سنتے رھے ھیں، بھر کیف حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو آواز سنی اس سے ھم ھرگز یہ نتیجہ نھیں نکال سکتے کہ خدا جسم رکھتا ھے ۔

    اے موسیٰ!جوتی اتاردو

    موسیٰ علیہ السلام جب آگ کے پاس گئے اور غور کیا تودیکھا کہ درخت کی سبز شاخوں میں آگ چمک رھی ھے اور لحظہ بہ لحظہ اس کی تابش اور درخشندگی بڑھتی جاتی ھے جو عصا ان کے ھاتھ میں تھا اس کے سھارے جھکے تاکہ اس میں سے تھوڑی سی آگ لے لیں تو آگ موسیٰ علیہ السلام کی طرف بڑھی موسیٰ علیہ السلام ڈرے اور پیچھے ہٹ گئے اس وقت حالت یہ تھی کہ کبھی موسیٰ علیہ السلام آگ کی طرف بڑھتے تھے اور کبھی آگ ان کی طرف، اسی کشمکش میں ناگھاں ایک صدا بلند هوئی ،اور انھیں وحی کی بشارت دی گئی ۔

    اس طرح ناقابل انکار قرائن سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یقین هوگیا کہ یہ آواز خدا ھی کی ھے، کسی غیر کی نھیں ھے ۔

    ”میں تیرا پروردگار هوں، اپنے جوتے اتاردے کیونکہ تو مقدس سرزمین ”طویٰ“ میں ھے “۔[46]

    موسیٰ علیہ السلام کو اس مقدس سرزمین کے احترام کا حکم دیا گیا کہ اپنے پاؤں سے جوتے اتاردے اور اس وادی میں نھایت عجزوانکساری کے ساتھ قدم رکھے حق کو سنے اور فرمان رسالت حاصل کرے ۔

    موسیٰ علیہ السلام نے یہ آوازکہ ” میں تیرا پروردگار هوں “ سنی تو حیران رہ گئے اور ایک ناقابل بیان پر کیف حالت ان پر طاری هوگئی، یہ کون ھے ؟ جو مجھ سے باتیں کررھا ھے ؟ یہ میرا پروردگارھے، کہ جس نے لفظ” ربک “ کے ساتھ مجھے افتخار بخشا ھے تاکہ یہ میرے لئے اس بات کی نشاندھی کرے کہ میں نے آغاز بچپن سے لے کر اب تک اس کی آغوش رحمت میں پرورش پائی ھے اور ایک عظیم رسالت کے لئے تیارکیا گیا هوں ۔“

    حکم ملاکہ پاؤں سے اپنا جوتا اتار دو، کیونکہ تو نے مقدس سرزمین میں قدم رکھا ھے وہ سرزمین کہ جس میں نور الٰھی جلوہ گرھے ، وھاں خدا کا پیغام سننا ھے ، اور رسالت کی ذمہ داری کو قبول کرنا ھے، لہٰذا انتھائی خضوع اور انکساری کے ساتھ اس سرزمین میں قدم رکھو ،یہ ھے دلیل پاؤں سے جوتا اتارنے کی ۔

    ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اس واقعہ سے متعلق ایک عمدہ مطلب نقل هوا ھے ،آپ فرماتے ھیں :

    جن چیزوں کی تمھیں امید نھیں ھے ان کی ان چیزوں سے بھی زیادہ امید رکھو کہ جن کی تمھیں امید ھے کیونکہ موسی بن عمران ایک چنگاری لینے کے لئے گئے تھے لیکن عہدہٴ نبوت ورسالت کے ساتھ واپس پلٹے یہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ اکثر ایسا هوتا ھے کہ انسان کسی چیز کی امید رکھتا ھے مگر وہ اسے حاصل نھیں هوتی لیکن بہت سی اھم ترین چیزیں جن کی اسے کوئی امید نھیں هوتی لطف پروردگار سے اسے مل جاتی ھیں ۔
     
  6. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ید بیضا

    اس میں شک نھیں کہ انبیاء علیھم السلام کو اپنے خدا کے ساتھ ربط ثابت کرنے کے لئے معجزے کی ضرورت ھے ، ورنہ ھر شخص پیغمبر ی کا دعویٰ کرسکتا ھے اس بناء پر سچے انبیاء علیھم السلام کا جھوٹوں سے امتیاز معجزے کے علاوہ نھیں هوسکتا، یہ معجزہ خود پیغمبر کی دعوت کے مطالب اور آسمانی کتاب کے اندر بھی هوسکتا ھے اور حسی اور جسمانی قسم کے معجزات اوردوسرے امور میں بھی هوسکتے ھیں علاوہ ازیں معجزہ خود پیغمبر کی روح پر بھی اثرانداز هوتا ھے اور وہ اسے قوت قلب، قدرت ایمان اور استقامت بخشتا ھے ۔

    بھرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرمان نبوت ملنے کے بعد اس کی سند بھی ملنی چاہئے، لہٰذا اسی پُر خطر رات میں جناب موسیٰ علیہ السلام نے دو عظیم معجزے خدا سے حاصل کئے ۔

    قرآن اس ماجرے کو اس طرح بیان کرتا ھے :

    ”خدا نے موسیٰ سے سوال کیا : اے موسیٰ یہ تیرے دائیں ھاتھ میں کیا ھے“؟۔[47]

    اس سادہ سے سوال ،میں لطف ومحبت کی چاشنی تھی ، فطرتاً موسیٰ علیہ السلام، کی روح میں اس وقت طوفانی لھریں موجزن تھیں ایسے میں یہ سوال اطمینان قلب کے لئے بھی تھا اورایک عظیم حقیقت کو بیان کرنے کی تمھید بھی تھا ۔”موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں کھا: یہ لکڑی میرا عصا ھے “۔[48]

    اور چونکہ محبوب نے ان کے سامنے پھلی مرتبہ یوں اپنا دروازہ کھولا تھا لہٰذا وہ اپنے محبوب سے باتیں جاری رکھنا اور انھیں طول دینا چاہتے تھے اور اس وجہ سے بھی کہ شاید وہ یہ سوچ رھے تھے کہ میرا صرف یہ کہنا کہ یہ میرا عصا ھے، کافی نہ هو بلکہ اس سوال کا مقصد اس عصا کے آثار و فوائد کو بیان کرنا مقصودهو، لہٰذا مزید کھا : ”میں اس پرٹیک لگاتاهوں، اور اس سے اپنی بھیڑوں کے لئے درختوں سے پتے جھاڑتا هوں ،اس کے علاوہ اس سے دوسرے کام بھی لیتا هوں “۔[49]

    البتہ یہ بات واضح اور ظاھر ھے کہ عصا سے کون کون سے کام لیتے ھیں کبھی اس سے موذی جانوروں اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک دفاعی، ہتھیار کے طور پر کام لیتے ھیں کبھی اس کے ذریعے بیابان میں سائبان بنا لیتے ھیں ، کبھی اس کے ساتھ برتن باندھ کر گھری نھرسے پانی نکالتے ھیں ۔

    بھرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک گھرے تعجب میں تھے کہ اس عظیم بارگاہ سے یہ کس قسم کا سوال ھے اور میرے پاس اس کا کیا جواب ھے ، پھلے جو فرمان دئیے گئے تھے وہ کیا تھے ، اور یہ پرسش کس لئے ھے ؟

    موسیٰ سے کھا گیا کہ : اپنے عصا کو زمین پرڈال دو “ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے عصا کو پھینک دیا اب کیا دیکھتے ھیں کہ وہ عصا سانپ کی طرح تیزی سے حرکت کررھا ھے یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام ڈرے اور پیچھے ہٹ گئے یھاں تک کہ مڑکے بھی نہ دیکھا “ ۔[50]

    جس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ عصا لیا تھا تاکہ تھکن کے وقت اس کا سھارا لے لیا کریں ،اور بھیڑوں کے لئے اس سے پتے جھاڑلیا کریں، انھیں یہ خیال بھی نہ تھا کہ قدرت خدا سے اس میں یہ خاصیت بھی چھپی هوئی هوگی اور یہ بھیڑوں کو چرانے کی لاٹھی ظالموں کے محل کو ھلادے گی ۔

    موجودات عالم کا یھی حال ھے کہ وہ بعض اوقات ھماری نظر میں بہت حقیر معلوم هوتی ھیں مگرا ن میں بڑی بڑی استعداد چھپی هوتی ھے جو کسی وقت خدا کے حکم سے ظاھر هوتی ھے ۔

    اب موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ آواز سنی جو ان سے کہہ رھی تھی :” واپس آ اور نہ ڈر توامان میں ھے“۔[51]

    بھرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ حقیقت آشکار هوگئی کہ درگاہ رب العزت میں مطلق امن وامان ھے اور کسی قسم کے خوف وخطر کا مقام نھیں ھے۔

    انذار وبشارت

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو معجزات عطا کئے گئے ان میں سے پھلا معجزہ خوف کی علامت پر مشتمل تھا اس کے بعد موسی کو حکم دیا گیا کہ اب ایک دوسرا معجزہ حاصل کرو جو نوروامید کی علامت هوگا اور یہ دونوں معجزہ گویا ”انذار اوربشارت“ تھے۔

    موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ” اپنا ھاتھ اپنے گریبان میں ڈالو اور باھر نکا،لو موسیٰ علیہ السلام نے جب گریبان میں سے ھاتھ باھر نکالا تو وہ سفید تھا اور چمک رھا تھا اور اس میں کوئی عیب اور نقص نہ تھا “۔[52]

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ھاتھ میں یہ سفیدی اور چمک کسی بیماری (مثلا ”برص یا کوئی اس جیسی چیز) کی وجہ سے نہ تھی بلکہ یہ نور الٰھی تھا جو بالکل ایک نئی قسم کا تھا۔

    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سنسان کو ہسار اور اس تاریک رات میں یہ دوخارق عادت ھم نے قبل ازیں کھا ھے کہ اس سانپ کے لئے جو یہ دوالفاظ استعمال هوئے ھیں ممکن ھے اس کی دو مختلف حالتوں کے لئے هوں کہ ابتدا میں وہ چھوٹا سا هو اور پھر ایک بڑا اژدھا بن گیا هو اس مقام پر یہ احتمال بھی هوسکتا ھے کہ موسی نے جب واویٴ طور میں اسے پھلی بار دیکھا تو چھوٹا سا سانپ تھا، رفتہ رفتہ وہ بڑا هوگیا ۔

    اور خلاف معمول چیزیں دیکھیں تو ان پر لرزہ طاری هوگیا، چنانچہ اس لئے کہ ان کا اطمینان قلب واپس آجائے انھیں حکم دیا گیا کہ” اپنے سینے پر اپنا ھاتھ پھریں تاکہ دل کو راحت هوجائے “۔[53]

    اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام نے پھروھی صدا سنی جو کہہ رھی تھی:” خدا کی طرف سے تجھے یہ دودلیلیں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے کے لئے دی جاری ھیں کیونکہ وہ سب لوگ فاسق تھے اور ھیں “۔[54]

    جی ھاں!یہ لوگ خدا کی طاعت سے نکل گئے ھیں اور سرکشی کی انتھا تک جاپہنچے ھیں تمھارا فرض ھے کہ انھیں نصیحت کرو اور راہ راست کی تبلغ کرو اور اگر وہ تمھاری بات نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو۔
     
  7. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    کامیابی کے اسباب کی درخواست

    موسیٰ علیہ السلام اس قسم کی سنگین مامورریت پر نہ صرف گھبرائے نھیں،بلکہ معمولی سی تخفیف کےلئے بھی خدا سے درخواست نہ کی، اور کھلے دل سے اس کا استقبال کیا ،زیادہ سے زیادہ اس ماموریت کے سلسلے میں کامیابی کے وسائل کی خدا سے درخواست کی اور چونکہ کامیابی کا پلااور ذریعہ، عظیم روح، فکر بلند اور عقل توانا ھے، اور دوسرے لفظوں میں سینہ کی کشاد گی وشرح صدر ھے لہٰذا ”عرض کیا میرے پروردگار! میرا سینہ کشادہ کردے “۔[55]

    ھاں ، ایک رھبر انقلاب کا سب سے اولین سرمایہ ، کشادہ دلی ، فراوان حوصلہ، استقامت وبرد باری اور مشکلات کے بوجھ کو اٹھاناھے ۔

    اور چونکہ اس راستے میں بے شمار مشکلات ھیں، جو خدا کے لطف وکرم کے بغیر حل نھیں هوتیں، لہٰذا خدا سے دوسرا سوال یہ کیا کہ میرے کاموں کو مجھ پر آسان کردے اور مشکلات کو راستے سے ہٹادے آپ نے عرض کیا : ”میرے کام کو آسان کردے “۔[56]

    اس کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام نے زیادہ سے زیادہ قوت بیان کا تقاضا کیا کہنے لگے:” میری زبان کی گرہ کھول دے“ ۔[57]

    یہ ٹھیک ھے کہ شرح صدر کا هونا بہت اھم بات ھے ، لیکن یہ سرمایہ اسی صورت میں کام دے سکتا ھے جب اس کو ظاھر کرنے کی قدرت بھی کامل طور پر موجود هو، اسی بناء پر جناب موسیٰ علیہ السلام نے شرح صدر اور رکاوٹوں کے دور هونے کی در خواستوں کے بعد یہ تقاضا کیا کہ خدا ان کی زبان کی گرہ کھول دے ۔

    اور خصوصیت کے ساتھ اس کی علت یہ بیان کی :” تاکہ وہ میری باتوں کو سمجھیں“۔ [58]

    یہ جملہ حقیقت میں پھلی بات کی تفسیر کرر ھاھے اس سے یہ بات واضح هورھی ھے کہ زبان کی گرہ کے کھلنے سے مراد یہ نہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بچپنے میں جل جانے کی وجہ سے کوئی لکنت آگئی تھی (جیسا کہ بعض مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیا ھے)بلکہ اس سے گفتگو میں ایسی رکاوٹ ھے جو سننے والے کے لئے سمجھنے میں مانع هوتی ھے یعنی میں ایسی فصیح وبلیغ اور ذہن میں بیٹھ جانے والی گفتگو کروں گہ ھر سننے والا میرا مقصد اچھی طرح سے سمجھ لے ۔

    میرا بھائی میراناصر ومددگار

    بھرحال ایک کامیاب رھبر ورہنما وہ هوتا ھے کہ جو سعیٴ، فکر اور قدرت روح کے علاووہ ایسی فصیح وبلیغ گفتگو کرسکے کہ جو ھر قسم کے ابھام اور نارسائی سے پاک هو ۔

    نیز اس بار سنگین کے لئے ۔ یعنی رسالت الٰھی، رھبری بشر اور طاغوتوں اور جابروں کے ساتھ مقابلے کے لئے یارومددگار کی ضرورت ھے اور یہ کام تنھاانجام دینا ممکن نھیں ھے لہٰذا حضرت موسیٰ(ع)نے پروردگار سے جو چوتھی درخواست کی :

    ”خداوندا!میرے لئے میرے خاندان میں سے ایک وزیراور مددگار قراردے“۔[59]

    البتہ یہ بات کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تقاضا کررھے ھیں کہ یہ وزیر ان ھی کے خاندان سے هو، اس کی دلیل واضح ھے چونکہ اس کے بارے میں معرفت اور شناخت بھی زیادہ هوگی اور اس کی ھمدردیاں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ هوں گی کتنی اچھی بات ھے کہ انسان کسی ایسے شخص کو اپنا شریک کار بنائے کہ جو روحانی اور جسمانی رشتوں کے حوالے سے اس سے مربوط هو۔

    اس کے بعد خصوصی التماس کے بعد خصوصی طور پر اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتے هوئے عرض کیا : ”یہ ذمہ داری میرے بھائی ھارون کے سپرد کردے “۔[60]

    ھارون بعض مفسرین کے قول کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بھائی تھے اور ان سے تین سال بڑے تھے بلند قامت فصیح البیان اور اعلیٰ علمی قابلیت کے مالک تھے، انهوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے تین سال پھلے رحلت فرمائی ۔[61]

    اور وہ نور اور باطنی روشنی کے بھی حامل تھے، اور حق وباطل میں خوب تمیز بھی رکھتے تھے ۔[62]

    آخری بات یہ ھے کہ وہ ایک ایسے پیغمبر تھے جنھیں خدا نے اپنی رحمت سے موسیٰ علیہ السلام کو بخشا تھا۔[63]

    وہ اس بھاری ذمہ داری کی انجام دھی میں اپنے بھائی موسیٰ علیہ السلام کے دوش بدوش مصروف کار ھے ۔

    یہ ٹھیک ھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اس اندھیری رات میں، اس وادیٴ مقدس کے اندر، جب خدا سے فرمان رسالت کے ملنے کے وقت یہ تقاضا کیا ، تو وہ اس وقت دس سال سے بھی زیادہ اپنے وطن سے دور گزار کر آرھے تھے، لیکن اصولی طور پر اس عرصہ میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ ان کارابطہ کامل طور پر منقطع نہ هو، اسی لئے اس صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان کے بارے میں بات کررھے ھیں، اور خدا کی درگاہ سے اس عظیم مشن میں اس کی شرکت کے لئے تقاضا رکرھے ھیں۔

    اس کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام ھارون کو وزارت ومعاونت پر متعین کرنے کےلئے اپنے مقصد کو اس طرح بیان کرتے ھیں : ”خداوندا! میری پشت اس کے ذریعے مضبوط کردے“۔[64]

    اس مقصد کی تکمیل کے لئے یہ تقاضا کرتے ھیں: ” اسے میرے کام میں شریک کردے۔“[65]

    وہ مرتبہ رسالت میں بھی شریک هو اور اس عظیم کام کو رو بہ عمل لانے میں بھی شریک رھیں، البتہ حضرت ھارون ھر حال میں تمام پروگراموں میں جناب موسیٰ علیہ السلام کے پیرو تھے او رموسیٰ علیہ السلام ان کے امام و پیشوا کی حیثیت رکھتے تھے۔

    آخر میں اپنی تمام درخواستوں کا نتیجہ اس طرح بیان کرتے ھیں: ” تاکہ ھم تیری بہت بہت تسبیح کریں اور تجھے بہت بہت یاد کریں، کیونکہ تو ھمیشہ ھی ھمارے حالات سے آگاہ رھا ھے۔“[66]

    تو ھماری ضروریات و حاجات کو اچھی طرح جانتا ھے اور اس راستہ کی مشکلات سے ھر کسی کی نسبت زیادہ آگاہ ھے، ھم تجھ سے یہ چاہتے ھیں کہ تو ھمیں اپنے فرمان کی اطاعت کی قدرت عطا فرمادے اور ھمارے فرائض، ذمہ داریوں اور فرائض انجام دینے کے لئے ھمیں توفیق اور کامیابی عطا فرما۔

    چونکہ جناب موسیٰ علیہ السلام کا اپنے مخلصانہ تقاضوں میں سوائے زیادہ سے زیادہ اور کامل تر خدمت کے اور کچھ مقصد نھیں تھا لہٰذا خداوندعالم نے ان کے تقاضوں کو اسی وقت قبول کرلیا،” اس نے کھا: اے موسیٰ ! تمھاری درخواستیں قبول ھیں۔“[67]

    حقیقت میں ان حساس اور تقدیر ساز لمحات میں چونکہ موسیٰ علیہ السلام پھلی مرتبہ خدائے عظیم کی بساط مھمانی پر قدم رکھ رھے تھے،لہٰذا جس جس چیز کی انھیں ضرورت تھی ان کا خدا سے اکٹھا ھی تقاضا کرلیا،اور اس نے بھی مھمان کا انتھائی احترام کیا،اور اس کی تمام درخواستوں اور تقاضوں کو ایک مختصر سے جملے میں حیات بخش ندا کے سا تھ قبول کرلیا اور اس میں کسی قسم کی قیدو شرط عائد نہ کی اور موسیٰ علیہ السلام کا نام مکرر لا کر،ھر قسم کے ابھام کو دور کرتے هوئے اس کی تکمیل کر دی ،یہ بات کس قدر شوق انگیز اور افتخار آفرین ھے کہ بندے کا نام مولا کی زبان پر بار بار آئے۔
     
  8. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    فرعون سے معرک آرا مقابلہ

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماموریت کا پھلا مرحلہ ختم هوا جس میں بتایا گیا ھے کہ انھیں وحی اور رسالت ملی اور انھوں نے اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وسائل کے حصول کی درخواست کی ۔

    اس کے ساتھ ھی زیر نظر دوسرے مرحلے کے بارے میں گفتگو هوتی ھے یعنی فرعون کے پاس جانا اور اس کے ساتھ گفتگو کرنا چنانچہ ان کے درمیان جو گفتگو هوئی ھے اسے یھاں پر بیان کیا جارھا ھے۔

    سب سے پھلے مقدمے کے طور پر فرمایا گیا ھے:اب جبکہ تمام حالات ساز گار ھیں تو تم فرعون کے پاس جاؤ ”اور اس سے کهو کہ ھم عالمین کے پروردگار کے رسول ھیں“۔[68]

    اور اپنی رسالت کا ذکر کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیجئے اور کہئیے :”کہ ھمیں حکم ملا ھے کہ تجھ سے مطالبہ کریں کہ تو بنی اسرائیل کو ھمارے ساتھ بھیج دے“۔[69]

    وہ مصر میں گئے اور اپنے بھائی ھارون کو مطلع کیا اور وہ رسالت جس کے لیے آپ(ع) مبعوث تھے،اس کا پیغام اسے پہنچایا۔پھر یہ دونوں بھائی فرعون سے ملاقات کے ارادے سے روانہ هوئے۔ آخر بڑی مشکل سے اس کے پاس پہنچ سکے۔اس وقت فرعون کے وزراء اور مخصوص لوگ اسے گھیرے هوئے تھے۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو خدا کا پیغام سنایا۔

    اس مقام پر فرعون نے زبان کھولی اور شیطنت پر مبنی چند ایک جچے تلے جملے کھے جس سے ان کی رسالت کی تکذیب کرنا مقصود تھا۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منہ کرکے کہنے لگا:”آیا بچپن میں ھم نے تجھے اپنے دامن محبت میں پروان نھیں چڑھایا “۔[70]

    ھم نے تجھے دریائے نیل کی ٹھاٹھیں مارتی هوئی خشمگین موجوں سے نجات دلائی وگرنہ تیری زندگی خطرے میں تھی۔تیرے لیے دائیوں کو بلایا اور ھم نے اولاد بنی اسرائیل کے قتل کردینے کا جو قانون مقرر کر رکھا تھا اس سے تجھے معاف کردیا اور امن و سکون اور نازونعمت میں تجھے پروان چڑھایا۔

    اور اس کے بعد بھی ”تو نے اپنی زندگی کے کئی سال ھم میں گزارے“۔[71]

    پھر وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایک اعتراض کرتے هوئے کہتا ھے:تو نے وہ اھم کام کیا ھے۔(فرعون کے حامی ایک قبطی کو قتل کیا ھے)۔[72]

    یہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ ایسا کام کرنے کے بعد تم کیونکررسول بن سکتے هو؟

    ان سب سے قطع نظر کرتے هوئے ”تو ھماری نعمتوں سے انکار کررھا ھے“۔[73]

    تو کئی سالوں تک ھمارے دسترخوان پر پلتا رھا ھے،ھمارا نمک کھانے کے بعد نمک حلالی کا حق اس طرح ادا کررھا ھے؟اس قدر کفران نعمت کے بعد تو کس منہ سے نبوت کا دعویٰ کررھاھے؟

    در حقیقت وہ بزعم خود اس طرح کی منطق سے ان کی کردار کشی کرکے موسیٰ علیہ السلام کو خاموش کرنا چاہتا تھا۔

    جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی شیطنت آمیز باتیں سن کر اس کے تینوں اعتراضات کے جواب دینا شروع کیے۔لیکن اھمیت کے لحاظ سے فرعون کے دوسرے اعتراض کا سب سے پھلے جواب دیا(یا پھلے اعتراض کو بالکل جواب کے لائق ھی نھیں سمجھا کیونکہ کسی کا کسی کی پرورش کرنا اس بات کی دلیل نھیں بن جاتا کہ اگر وہ گمراہ هوتو اسے راہ راست کی بھی ہدایت نہ کی جائے)۔

    بھر حال جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:”میں نے یہ کام اس وقت انجام دیا جب کہ میں بے خبر لوگوں میں سے تھا“۔[74]

    یعنی میں نے اسے جو مکا مارا تھا وہ اسے جان سے ماردینے کی غرض نھیں بلکہ مظلوم کی حمایت کے طور پر تھا ،میں تو نھیںسمجھتا تھا کہ اس طرح اس کی موت واقع هوجائے گی۔

    پھر موسیٰ علیہ السلام فرماتے ھیں:”اس حادثے کی وجہ سے جب میں نے تم سے خوف کیا تو تمھارے پاس سے بھاگ گیا اور میرے پروردگارنے مجھے دانش عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میںسے قرار دیا“۔[75]

    پھر موسیٰ علیہ السلام اس احسان کا جواب دیتے ھیں جو فرعون نے بچپن اور لڑکپن میںپرورش کی صورت میںان پر کیا تھادو ٹوک انداز میں اعتراض کی صورت میں فرماتے ھیں:”تو کیا جو احسان تو نے مجھ پر کیا ھے یھی ھے کہ تو بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنالے“۔[76]

    یہ ٹھیک ھے کہ حوادث زمانہ نے مجھے تیرے محل تک پہنچادیا اور مجھے مجبوراًتمھارے گھر میں پرورش پانا پڑی اور اس میں بھی خدا کی قدرت نمائی کار فرما تھی لیکن ذرا یہ تو سوچو کہ آخر ایسا کیوں هوا؟کیا وجہ ھے کہ میں نے اپنے باپ کے گھر میں اور ماں کی آغوش میں تربیت نھیں پائی؟ آخر کس لیے؟

    کیا تو نے بنی اسرائیل کو غلامی کی زنجیروں میں نھیں جکڑ رکھا؟یھاں تک کہ تو نے اپنے خودساختہ قوانین کے تحت ان کے لڑکوں کو قتل کردیا اور ان کی لڑکیوں کو کنیز بنایا۔

    تیرے بے حدوحساب مظالم اس بات کا سبب بن گئے کہ میری ماں اپنے نو مولود بچے کی جان بچانے کی غرض سے مجھے ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کی بے رحم موجوں کے حوالے کردے اور پھر منشائے ایزدی یھی تھا کہ میری چھوٹی سی کشتی تمھارے محل کے نزدیک لنگر ڈال دے۔ھاں تو یہ تمھارے بے اندازہ مظالم ھی تھے جن کی وجہ سے مجھے تمھارا مرهون منت هونا پڑا اور جنھوں نے مجھے اپنے باپ کے مقدس اور پاکیزہ گھر سے محروم کرکے تمھارے آلودہ محل تک پہنچادیا۔
     
  9. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    دیوانگی کی تھمت

    جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دوٹوک اور قاطع جواب دے دیا جس سے وہ لا جواب اور عاجز هوگیا تو اس نے کلام کا رخ بدلا اور موسیٰ علیہ السلام نے جو یہ کھا تھا”میں رب العالمین کا رسول هوں“تو اس نے اسی بات کو اپنے سوال کا محور بنایا اور کھا یہ رب العالمین کیا چیز ھے؟[77]

    بہت بعید ھے کہ فرعون نے و اقعاًیہ بات مطلب کے لئے کی هو بلکہ زیادہ تر یھی لگتا ھے کہ اس نے تجاھل عارفانہ سے کام لیا تھا اور تحقیر کے طور پر یہ بات کھی تھی۔

    لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیدار اور سمجھ دارافراد کی طرح اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ دیکھا کہ گفتگو کو سنجیدگی پر محمول کریں اور سنجیدہ هوکر اس کا جواب دیں اور چونکہ ذات پروردگار عالم انسانی افکار کی دسترس سے باھر ھے لہٰذا انھوں نے مناسب سمجھا کہ اس کے آثار کے ذریعے استدلال قائم کریں لہٰذا انھوں نے آیات آفاقی کا سھارا لیتے هوئے فرمایا:”(خدا)آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ھے سب کا پر وردگار ھے اگر تم یقین کا راستہ اختیار کرو“۔[78]

    اتنے وسیع و عریض اور باعظمت آسمان و زمین اور کائنات کی رنگ برنگی مخلوق جس کے سامنے تو اور تیرے چاہنے اور ماننے والے ایک ذرہٴ ناچیز سے زیادہ کی حیثیت نھیں رکھتے، میرے پروردگار کی آفرینش ھے اور ان اشیاء کا خالق ومدبر اور ناظم ھی عبادت کے لائق ھے نہ کہ تیرے جیسی کمزور اور ناچیز سی مخلوق۔

    لیکن عظیم آسمانی معلم کے اس قدر محکم بیان اورپختہ گفتگو کے بعد بھی فرعون خواب غفلت سے بیدار نہ هوا اس نے انپے ٹھٹھے مذاق اور استہزاء کو جاری رکھا اور مغرور مستکبرین کے پرانے طریقہ کار کو اپناتے هوئے ”اپنے اطراف میں بیٹھنے والوں کی طرف منہ کرکے کھا: کیا سن نھیں رھے هو(کہ یہ شخص کیا کہہ رھا ھے)“۔[79]

    معلوم ھے کہ فرعون کے گردکون لوگ بیٹھے ھیں اسی قماش کے لوگ تو ھیں۔صاحبان زوراور زرھیںیا پھرظالم اور جابر کے معاون ۔

    وھاں پر فرعون کے اطراف میں پانچ سوآدمی موجود تھے،جن کا شمار فرعون کے خواص میں هوتا تھا۔

    اس طرح کی گفتگو سے فرعون یہ چاہتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی منطقی اور دلنشین گفتگو اس گروہ کے تاریک دلوں میں ذرہ بھر بھی اثر نہ کرے اور لوگوں کو یہ باور کروائے کہ انکی باتیں بے ڈھنگی اور ناقابل فھم ھیں۔

    مگر جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی منطقی اور جچی تلی گفتگو کو بغیر کسی خوف وخطر کے جاری رکھتے هوئے فرمایا:”تمھارا بھی رب ھے اور تمھارے آباء واجداد کا رب ھے“۔[80]

    درحقیقت بات یہ ھے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے پھلے تو آفاقی آیات کے حوالے سے استدلال کیا اب یھاں پر” آیات انفس“اور خود انسان کے اپنے وجود میں تخلیق خالق کے اسرار اور انسانی روح اور جسم میں خداوند عالم کی ربوبیت کے آثار کی طرف اشارہ کررھے ھیں تاکہ وہ عاقبت نا اندیش مغرور کم از کم اپنے بارے میں تو کچھ سوچ سکیںخود کو اور پھر اپنے خدا کو پہچان سکیں۔

    لیکن فرعون اپنی ہٹ دھرمی سے پھر بھی باز نہ آیا،اب استہزاء اور مسخرہ پن سے چند قدم آگے بڑھ جاتا ھے اور موسیٰ علیہ السلام کو جنون اور دیوانگی کا الزام دیتا ھے چنانچہ اس نے کھا:”جو پیغمبر تمھاری طرف آیا ھے بالکل دیوانہ ھے“۔[81]

    وھی تھمت جو تاریخ کے ظالم اور جابر لوگ خدا کے بھیجے هوئے مصلحین پر لگاتے رہتے تھے۔

    یہ بھی لائق توجہ ھے کہ یہ مغرور فریبی اس حد تک بھی روادارنہ تھا کہ کھے”ھمارا رسول“اور” ھماری طرف بھیجا هوا “بلکہ کہتا ھے”تمھارا پیغمبر“اور ”تمھاری طرف بھیجا هوا“ کیونکہ”تمھارا پیغمبر“میں طنز اور استہزاء پایا جاتا ھے او رساتھ ھی اس میں غرور اور تکبر کا پھلو بھی نمایاں ھے کہ میں اس بات سے بالا تر هوں کہ کوئی پیغمبر مجھے دعوت دینے کے لئے آئے اور موسیٰ علیہ السلام پر جنون کی تھمت لگانے سے اس کا مقصد یہ تھا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے جاندار دلائل کو حاضرین کے اذھان میںبے اثر بنایا جائے۔

    لیکن یہ ناروا تھمت موسیٰ علیہ السلا م کے بلند حوصلوں کو پست نھیںکر سکی اور انھوں نے تخلیقات عالم میں آثار الٰھی اور آفاق و انفس کے حوالے سے اپنے دلائل کو برابر جاری رکھا اور کھا:”وہ مشرق ومغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ھے سب کا پروردگار ھے اگر تم عقل وشعور سے کام لو“۔[82]

    اگر تمھارے پاس مصر نامی محدود سے علاقے میں چھوٹی سی ظاھری حکومت ھے توکیا هوا؟میرے پروردگار کی حقیقی حکومت تو مشرق و مغرب اور اس کے تمام درمیانی علاقے پر محیط ھے اور اس کے آثار ھر جگہ موجودات عالم کی پیشانی پر چمک رھے ھیں اصولی طور پر خود مشرق و مغرب میں آفتاب کا طلوع و غروب اور کائنات عالم پر حاکم نظام شمسی ھی اس کی عظمت کی نشانیاں ھیں، لیکن عیب خود تمھارے اندر ھے کہ تم عقل سے کام نھیں لیتے بلکہ تمھارے اندر سوچنے کی عادت ھی نھیں ھے۔[83]

    درحقیقت یھاں پر حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے اپنی طرف جنون کی نسبت کا بڑے اچھے انداز میںجواب دیا ھے۔ دراصل وہ یہ کہنا چاہتے ھیں کہ دیوانہ میں نھیں هوں بلکہ دیوانہ اور بے عقل وہ شخص ھے جو اپنے پروردگار کے ان تمام آثار اور نشانات کو نھیں دیکھتا ۔

    عالم وجود کے ھر درودیوار پر ذات پروردگار کے اس قدر عجیب وغریب نقوش موجود ھیں پھر بھی جو شخص ذات پروردگار کے بارے میں نہ سوچے اسے خود نقش دیوار هوجانا چاہئے ۔

    ان طاقتور دلائل نے فرعون کو سخت بوکھلادیا، اب اس نے اسی حربے کا سھارا لیا جس کا سھارا ھربے منطق اور طاقتور لیتا ھے اور جب وہ دلائل سے عاجزهوجاتاھے تو اسے آزمانے کی کوشش کرتاھے۔

    ” فرعون نے کھا: اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور کو معبود بنایا تو تمھیں قیدیوں میں شامل کردوںگا“۔[84]میں تمھاری اور کوئی بات نھیں سننا چاہتا میں تو صرف ایک ھی عظیم الہٰ اور معبوے کو جانتاهوں اور وہ میں خود هوں اگر کوئی شخص اس کے علاوہ کہتا ھے تو بس سمجھ لے کہ اس کی سزا یا تو موت ھے یا عمر قید جس میں زندگی ھی ختم هوجائے۔

    درحقیقت فرعون چاہتا تھا کہ اس قسم کی تیزوتند گفتگو کرکے موسی علیہ السلام کو ھراساں کرے تاکہ وہ ڈرکر چپ هوجائیں کیونکہ اگر بحث جاری رھے گی تو لوگ اس سے بیدار هوں گے اور ظالم وجابر لوگوں کے لئے عوام کی بیداری اور شعور سے بڑھ کر کوئی اور چیز خطر ناک نھیں هوتی ۔

    تمھارا ملک خطرے میںھے

    گزشتہ صفحات میں ھم نے دیکھ لیا ھے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے منطق اور استدلال کی روسے فرعون پر کیونکر اپنی فوقیت اوربر تری کا سکہ منوالیا اور حاضرین پر ثابت کردیا کہ ان کا خدائی دین کس قدر عقلی ومنطقی ھے اور یہ بھی واضح کردیا کہ فرعون کے خدائی دعوے کس قدر پوچ اور عقل وخردسے عار ی ھیں کبھی تو وہ استہزاء کرتا ھے ،کبھی جنون اور دیوانگی کی تھمت لگاتاھے اور آخر کار طاقت کے نشے میں آکر قیدوبند اور موت کی دھمکی دیتا ھے ۔

    اس موقع پر گفتگو کارخ تبدیل هوجاتاھے اب جناب موسیٰ کو ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہئے تھا جس سے فرعون کی ناتوانی ظاھر هوجائے ۔

    موسیٰ علیہ السلام کو بھی کسی طاقت کے سھارے کی ضرورت تھی ایسی خدائی طاقت جس کے معجزانہ اندازهوں، چنانچہ آپ فرعون کی طرف منہ کرکے فرماتے ھیں :” آیا اگر میں اپنی رسالت کے لئے واضح نشانی لے آؤں پھر بھی تو مجھے زندان میں ڈالے گا “۔[85]

    اس موقع پر فرعون سخت مخمصے میں پڑگیا، کیونکہ جناب موسی علیہ السلام نے ایک نھایت ھی اھم اور عجیب وغریب منصوبے کی طرف اشارہ کرکے حاضرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی تھی اگر فرعون ان کی باتوں کو ان سنی کر کے ٹال دیتا تو سب حاضرین اس پر اعتراض کرتے اور کہتے کہ موسیٰ کو وہ کام کرنے کی اجازت دی جائے اگر وہ ایسا کرسکتا ھے تو معلوم هوجائے گا اور اس سے مقابلہ نھیں کیا جاسکے گا اور اگر ایسا نھیں کرسکتا تو بھی اس کی شخیی آشکار هوجائے گی بھرحال موسیٰ علیہ السلام کے اس دعوے کو آسانی سے مسترد نھیں کیا جاسکتا تھا آخرکار فرعون نے مجبور هوکر کھا” اگر سچ کہتے هو تو اسے لے آؤ“[86]

    ”اسی دوران میں موسیٰ علیہ السلام نے جو عصا ھاتھ میں لیا هوا تھا زمین پر پھینک دیا اور وہ (خدا کے حکم سے ) بہت بڑا اور واضح سانپ بن گیا“۔ [87]

    ”پھر اپنا ھاتھ آستین میں لے گئے اور باھر نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لئے سفید اور چمک دار بن چکا تھا“۔ [88]در حقیقت یہ دو عظیم معجزے تھے ایک خوف کا مظھر تھا تو دوسرا امید کا مظھر، پھلے میں انذار کا پھلو تھا تو دوسرے میں بشارت کا ،ایک خدائی عذاب کی علامت تھی تو دوسرا نور اور رحمت کی نشانی ،کیونکہ معجزے کو پیغمبر خدا کی دعوت کے مطابق هونا چاہئے۔

    فرعون نے جب صورت حال دیکھی تو سخت بوکھلا گیا اور وحشت کی گھری کھائی میں جاگرا ،لیکن اپنے شیطانی اقتدار کو بچانے کے لئے جو موسیٰ علیہ السلام کے ظهور کے ساتھ متزلزل هوچکا تھا اس نے ان معجزات کی توجیہ کرنا شروع کردی تاکہ اس طرح سے اطراف میں بیٹھنے والوں کے عقائد محفوظ اور ان کے حوصلے بلند کرسکے اس نے پھلے تو اپنے حواری سرداروں سے کھا: ”یہ شخص ماھر اور سمجھ دار جادو گر ھے“۔ [89]

    جس شخص کو تھوڑی دیر پھلے تک دیوانہ کہہ رھا تھا اب اسے ” علیم“ کے نام سے یاد کررھا ھے، ظالم اور جابر لوگوں کا طریقہ کار ایسا ھی هوتا ھے کہ بعض اوقات ایک ھی محفل میں کئی روپ تبدیل کرلیتے ھیں اور اپنی انا کی تسکین کے لئے نت نئے حیلے تراشتے رہتے ھیں ۔

    اس نے سوچا چونکہ اس زمانے میں جادوکادور دورہ ھے لہٰذا موسیٰ علیہ السلام کے معجزات پر جادو کا لیبل لگا دیا جائے تاکہ لوگ اس کی حقانیت کو تسلیم نہ کریں ۔

    پھر اس نے لوگوں کے جذبات بھڑکانے اور موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ان کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے لئے کھا : ”وہ اپنے جادو کے ذریعے تمھیں تمھارے ملک سے نکالنا چاہتا ھے،تم لوگ اس بارے میں کیا سوچ رھے هو اور کیا حکم دیتے هو “۔[90]

    یہ وھی فرعون ھے جو کچھ دیر پھلے تک تمام سرزمین مصر کو اپنی ملکیت سمجھ رھا تھا” کیا سرزمین مصر پر میری حکومت اور مالکیت نھیں ھے ؟“اب جبکہ اسے اپنا راج سنگھا سن ڈوبتا نظرآرھا ھے تو اپنی حکومت مطلقہ کو مکمل طور پر فراموش کر کے اسے عوامی ملکیت کے طور پر یاد کرکے کہتا ھے ” تمھارا ملک خطرات میں گھر چکا ھے اسے بچانے کی سوچو“۔وھی فرعون جو ایک لحظہ قبل کسی کی بات سننے پر تیار نھیں تھا بلکہ ایک مطلق العنان آمر کی حیثیت سے تخت حکومت پر براجمان تھا اب اس حد تک عاجز اور درماندہ هوچکا ھے کہ اپنے اطرافیوں سے درخواست کررھا ھے کہ تمھارا کیا حکم ھے نھایت ھی عاجز اور کمزور هوکر التجا کررھا ھے ۔

    قرآن سے معلوم هوتا ھے کہ اس کے درباری باھمی طور پر مشور ہ کرنے میںلگ گئے وہ اس قدر حواس باختہ هوچکے تھے کہ سوچنے کی طاقت بھی ان سے سلب هوگئی تھی ھر کوئی دوسرے کی طرف منہ کرکے کہتا :

    ”تمھاری کیا رائے ھے ؟“ [91]

    بھرحال کافی صلاح مشورے کے بعد درباریوں نے فرعون سے کھا:”موسی اور اس کے بھائی کو مھلت دو اور اس بارے میں جلدی نہ کرو اور تمام شھروں میں ھرکارندے روانہ کردو،تاکہ ھر ماھر اور منجھے هوئے جادوگر کو تمھارے پاس لے آئیں“۔[92]

    در اصل فرعون کے درباری یا تو غفلت کا شکار هوگئے یا موسیٰ علیہ السلام پر فرعون کی تھمت کو جان بوجھ کر قبول کرلیا اور موسی کو” ساحر“ (جادوگر) سمجھ کر پروگرام مرتب کیا کہ ساحر کے مقابلے میں ” سحار“ یعنی ماھر اور منجھے هوئے جادو گروں کو بلایا جائے چنانچہ انھوں نے کھا : ”خوش قسمتی سے ھمارے وسیع وعریض ملک (مصر) میں فن جادو کے بہت سے ماھر استاد موجود ھیں اگر موسیٰ ساحر ھے تو ھم اس کے مقابلے میں سحار لاکھڑا کریں گے اور فن سحر کے ایسے ایسے ماھرین کو لے آئیں گے جو ایک لمحہ میں موسیٰ کا بھرم کھول کر رکھ دیں گے“۔
     
  10. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ھر طرف سے جادو گر پہنچ گئے

    فرعون کے درباریوں کی تجویز کے بعد مصر کے مختلف شھروں کی طرف ملازمین روانہ کردئیے گئے اورانھوںنے ھر جگہ پر ماھر جادو گروں کی تلاش شروع کردی ” آخر کار ایک مقررہ دن کی میعادکے مطابق جادو گروں کی ایک جماعت اکٹھا کرلی گئی “[93]

    دوسرے لفظوں میں انھوں نے جادوگروں کو اس روزکے لئے پھلے ھی سے تیار کرلیا تاکہ ایک مقرر دن مقابلے کے لئے پہنچ جائیں ۔

    ”یوم معلوم “ سے کیا مراد ھے ؟جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیات سے معلوم هوتا ھے مصریوں کی کسی مشهور عید کا دن تھا جسے موسیٰ علیہ السلام نے مقابلے کے لئے مقرر کیا تھا اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس دن لوگوں کو فرصت هوگی اور وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں گے کیونکہ انھیں اپنی کامیابی کا مکمل یقین تھا اور وہ چاہتے تھے کہ آیات خداوندی کی طاقت اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کی کمزوری اور پستی پوری دنیا پر آشکار هوجائے ”اور زیادہ سے زیادہ لوگوں سے کھا گیا کہ آیا تم بھی اس میدان میں اکٹھے هوگے؟[94]

    اس طرزبیان سے معلوم هوتا ھے کہ فرعون کے کارندے اس سلسلے میں سوچی سمجھی ا سکیم کے تحت کام کررھے تھے انھیں معلوم تھا کہ لوگوں کو زبردستی میدان میں لانے کی کوشش کی جائے تو ممکن ھے کہ اس کا منفی رد عمل هو، کیونکہ ھر شخص فطری طور پر زبردستی کو قبول نھیں کرتا لہٰذا انھوں نے کھا اگر تمھاری جی چاھے تو اس اجتماع میں شرکت کرو اس طرح سے بہت سے لوگ اس اجتماع میں شریک هوئے ۔

    لوگوں کو بتایا گیا” مقصد یہ ھے کہ اگر جادو گر کامیاب هوگئے کہ جن کی کامیابی ھمارے خداؤں کی کامیابی ھے تو ھم ان کی پیروی کریں گے “[95]اور میدان کو اس قدر گرم کردیں گے کہ ھمارے خداؤں کا دشمن ھمیشہ ھمیشہ کے لئے میدان چھوڑجائے گا ۔

    واضح ھے کہ تماشائیوں کا زیادہ سے زیادہ اجتماع جو مقابلے کے ایک فریق کے ھمنوا بھی هوں ایک طرف توان کی دلچسپی کا سبب هوگا اور ان کے حوصلے بلند هوں گے اور ساتھ ھی وہ کامیابی کے لئے زبردست کوشش بھی کریں گے اورکامیابی کے موقع پر ایسا شور مچائیں گے کہ حریف ھمیشہ کے لئے گوشئہ گمنامی میں چلاجائے گا اور اپنی عددی کثرت کی وجہ سے مقابلے کے آغاز میں فریق مخالف کے دل میں خوف وھراس اور رعب ووحشت بھی پیدا کرسکیں گے۔

    یھی وجہ ھے کہ فرعون کے کارندے کوشش کررھے تھے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں موسیٰ علیہ السلام بھی ایسے کثیراجتماع کی خدا سے دعا کررھے تھے تاکہ اپنا مدعا اور مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکیں۔

    یہ سب کچھ ایک طرف، ادھر جب جادو گر فرعون کے پاس پہنچے اور اسے مشکل میں پھنسا هوا دیکھا تو موقع مناسب سمجھتے هوئے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور بھاری انعام وصول کرنے کی غرض سے اس سے کھا :” اگر ھم کامیاب هوگئے تو کیا ھمارے لئے کوئی اھم صلہ بھی هوگا ؟“ [96]

    فرعون جو بری طرح پھنس چکا تھا اور اپنے لئے کوئی راہ نھیں پاتاتھا انھیں زیادہ سے زیادہ مراعات اور اعزاز دینے پر تیار هوگیا اس نے فورا ًکھا: : ”ھاں ھاں جو کچھ تم چاہتے هومیں دوں گا اس کے علاوہ اس صورت میں تم میرے مقربین بھی بن جاؤگے“۔ [97]

    در حقیقت فرعون نے ان سے کھا :تم کیا چاہتے هو؟ مال ھے یا عہدہ: میں یہ دونوں تمھیں دوں گا ۔

    اس سے معلوم هوتا ھے کہ اس ماحول اورزمانے میں فرعون کا قرب کس حد تک اھم تھا کہ وہ ایک عظیم انعام کے طور پر اس کی پیش کش کررھا تھا درحقیقت اس سے بڑھ کر اور کوئی صلہ نھیں هوسکتا کہ انسان اپنے مطلوب کے زیادہ نزدیک هو۔

    جادو گروں کا عجیب وغریب منظر

    جب جادوگروں نے فرعون کے ساتھ اپنی بات پکی کرلی اور اس نے بھی انعام، اجرت اور اپنی بارگاہ کے مقرب هونے کا وعدہ کرکے انھیں خوش کردیا اور وہ بھی مطمئن هوگئے تواپنے فن کے مظاھرے اور اس کے اسباب کی فراھمی کے لئے تگ ودوکرنی شروع کردی، فرصت کے ان لمحات میں انھوں نے بہت سی رسیاں اور لاٹھیاں اکٹھی کرلیں اور بظاھر ان کے اندر کو کھوکھلاکر کے ان میں ایسا کوئی کیمیکل مواد (پارہ وغیرہ کی مانند)بھر دیا جس سے وہ سورج کی تپش میں ھلکی هوکر بھاگنے لگتی ۔

    آخرکاروعدے کا دن پہنچ گیا اور لوگوں کا اکثیر مجمع میدان میں جمع هوگیا تاکہ وہ اس تاریخی مقابلے کو دیکھ سکیں ،فرعون اور اس کے درباری، جادوگر اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ھارون علیہ السلام سب میدان میں پہنچ گئے۔

    لیکن حسب معمول قرآن مجید اس بحث کو خدف کرکے اصل بات کو بیان کرتا ھے ۔

    یھاں پر بھی اس تاریخ ساز منظر کی تصویر کشی کرتے هوئے کہتا ھے: ”موسیٰ نے جادو گروں کی طرف منہ کرکے کھا :جو کچھ پھینکنا چاہتے هو پھینکو اور جو کچھ تمھارے پاس ھے میدان میں لے آؤ “۔[98]

    قرآن سے معلوم هوتا ھے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات اس وقت کی جب جادوگروں نے ان سے کھا:” آپ پیش قدم هوکر اپنی چیز ڈالیں گے یا ھم؟“[99]

    موسیٰ علیہ السلام کی یہ پیش کش درحقیقت انھیں اپنی کامیابی پر یقین کی وجہ سے تھی اوراس بات کی مظھر تھی کہ فرعون کے زبردست حامیوں اور دشمن کے انبوہ کثیر سے وہ ذرہ برابر بھی خائف نھیں ،چنانچہ یہ پیش کش کرکے آپ نے جادوگروں پر سب سے پھلا کامیاب وار کیا جس سے جادو گروں کو بھی معلوم هوگیا کہ موسیٰ علیہ السلام ایک خاص نفسیاتی سکون سے بھرہ مند ھیں اور وہ کسی ذات خاص سے لولگائے هوئے ھیں کہ جوان کا حوصلہ بڑھارھی ھے ۔

    جادو گر تو غرور ونخوت کے سمندر میں غرق تھے انھوں نے اپنی انتھائی کوششیں اس کام کے لئے صرف کردی تھیں اور انھیںاپنی کامیابی کا بھی یقین تھا” لہٰذانھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینک دیں اور کھافرعون کی عزت کی قسم ھم یقینا کامیاب ھیں “۔[100]

    جی ھاں :انھوں نے دوسرے تمام چاپلوسیوں خوشامدیوں کی مانند فرعون کے نام سے شروع کیا اوراس کے کھوکھلے اقتدار کا سھارالیا ۔

    جیسا کہ قرآن مجید ایک اور مقام پر کہتا ھے :

    ” اس موقع پر انھوں نے جب رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیںتو وہ چھوٹے بڑے سانپوں کی طرح زمین پر حرکت کرنے لگیں“۔ [101]

    انھوں نے اپنے جادو کے ذرائع میں سے لاٹھیوں کا انتخاب کیا هوا تھا تاکہ وہ بزعم خود موسی کی عصا کی برابری کرسکیں اور مزید برتری کے لئے رسیوں کو بھی ساتھ شامل کرلیا تھا ۔

    اسی دوران میں حاضرین میں خوشی کی لھر دوڑگئی اور فرعون اور اس کے درباریوں کی آنکھیں خوشی کے مارے چمک اٹھیں اور وہ مارے خوشی کے پھولے نھیں سماتے تھے یہ منظر دیکھ کر ان کے اندر وجدو سرور کی کیفیت پیدا هوگئی اور وہ جھوم رھے تھے ۔ چنانچہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق ان ساحروں کی تعداد کئی ہزار تھی نیز ان کے وسائل سحر بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے چونکہ اس زمانے میں مصر میں سحرو ساحری کا کافی زور تھا اس بناپر اس بات پر کوئی جائے تعجب نھیں ھے ۔

    خصوصاً جیسا کہ قرآن [102]کہتا ھے کہ :

    وہ منظر اتنا عظیم ووحشتناک تھا کہ حضرت موسی نے بھی اس کی وجہ سے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا ۔

    اگرچہ نہج البلاغہ میں اس کی صراحت موجود ھے کہ حضرت موسی کو اس بات کا خوف لاحق هو گیا تھا کہ ان جادوگروں کو دیکھ کر لوگ اس قدر متاثر نہ هوجائیں کہ ان کو حق کی طرف متوجہ کرنا دشوار هوجائے بھرصورت یہ تمام باتیں اس بات کی مظھر ھیں کہ اس وقت ایک عظیم معرکہ درپیش تھا جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بفضل الٰھی سرکرنا تھا۔
     

Share This Page