1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعه

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by PakArt, Apr 5, 2017.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    جادو گروں کے دل میں ایمان کی چمک

    لیکن موسیٰ علیہ السلام نے اس کیفیت کو زیادہ دیر نھیں پنپنے دیا وہ آگے بڑھےاور اپنےعصا کو زمین پردے مارا تو وہ اچانک ایک اژدھےکی شکل میں بتدیل هوکر جادو گروں کےان کر شموں کو جلدی نگلنےلگا اور انھیں ایک ایک کرکے کھاگیا۔[103]

    اس میں کوئی شک نھیں کہ عصا کا ازدھا بن جانا ایک بیّن معجزہ ھے جس کی توجیہ مادی اصول سے نھیں کی جاسکتی، بلکہ ایک خدا پرست شخص کو اس سے کوئی تعجب بھی نہ هوگا کیونکہ وہ خدا کو قادر مطلق اور سارے عالم کے قوانین کو ارادہ الٰھی کے تابع سمجھتا ھے لہٰذا اس کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نھیں کہ لکڑی کا ایک ٹکڑا حیوان کی صورت اختیار کرلے کیونکہ ایک مافوق طبیعت قدرت کے زیر اثر ایسا هوناعین ممکن ھے ۔

    ساتھ ھی یہ بات بھی نہ بھولنا چاہئے کہ اس جھان طبیعت میں تمام حیوانات کی خلقت خاک سے هوئی ھے نیز لکڑی و نباتات کی خلقت بھی خاک سے هوئی ھے لیکن مٹی سے ایک بڑا سانپ بننے کے لئے عادتاًشاید کروڑوں سال کی مدت درکار ھے،لیکن اعجاز کے ذریعے یہ طولانی مدت اس قدر کوتاہ هوگئی کہ وہ تمام انقلابات ایک لحظہ میں طے هوگئے جن کی بنا پر مٹی سے سانپ بنتا ھے ،جس کی وجہ سے لکڑی کا ایک ٹکڑا جو قوانین طبیعت کے زیر اثر ایک طولانی مدت میں سانپ بنتا،چند لحظوں میں یہ شکل اختیار کرگیا۔

    اس مقام پر کچھ ایسے افراد بھی ھیں جو تمام معجزات انبیاء کی طبیعی اور مادی توجیھات کرتے ھیں جس سے ان کے اعجازی پھلوں کی نفی هوتی ھے،اور ان کی یہ سعی هوتی ھے کہ تمام معجزات کو معمول کے مسائل کی شکل میں ظاھر کریں،ھر چند وہ کتب آسمانی کی نص اور الفاظ صریحہ کے خلاف هو،ایسے لوگوں سے ھمارا یہ سوال ھے کہ وہ اپنی پوزیشن اچھی طرح سے واضح کریں۔کیا وہ واقعاً خدا کی عظیم قدرت پر ایمان رکھتے ھیںاور اسے قوانین طبیعت پر حاکم مانتے ھیں کہ نھیں؟ اگر وہ خدا کو قادر و توانا نھیں سمجھتے توان سے انبیاء کے حالات اور ان کے معجزات کی بات کرنا بالکل بے کار ھے اور اگر وہ خدا کو قادر جانتے ھیں تو پھر ذرا تاٴمل کریں کہ ان تکلف آمیز توجیهوں کی کیا ضرورت ھے جو سراسر آیات قرآنی کے خلاف ھیں (اگر چہ زیر بجث آیت میں میری نظر سے نھیں گزرا کہ کسی مفسر نے جس کا طریقہٴ تفسیر کیسا ھی مختلف کیوںنہ هو اس آیت کی مادی توجیہہ کی هو،تا ھم جو کچھ ھم نے بیان کیا وہ ایک قاعدہ کلی کے طور پر تھا۔

    اس موقع پر لوگوں پر یکدم سکوت طاری هوگیا حاضرین پر سناٹا چھا گیا، تعجب کی وجہ سے ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے آنکھیں پتھرا گئی گویا ان میں جان ھی نھیں رھی لیکن بہت جلد تعجب کے بجائے وحشت ناک چیخ و پکار شروع هوگئی،کچھ لوگ بھاگ کھڑے هوئے کچھ لوگ نتیجے کے انتظار میں رک گئے اور کچھ لوگ بے مقصد نعرے لگارھے تھے لیکن جادوگرں کے منہ تعجب کی وجہ سے کھلے هوئے تھے۔

    اس مرحلے پر سب کچھ تبدیل هوگیا جو جادوگر اس وقت تک شیطانی رستے پر گامزن ،فرعون کے ھم رکاب اور موسیٰ علیہ السلام کے مخالف تھے یک دم اپنے آپے میں آگئے اور کیونکہ جادو کے ھر قسم کے ٹونے ٹوٹکے او رمھارت اور فن سے واقف تھے اس لئے انھیں یقین آگیا کہ ایسا کام ھر گز جادو نھیں هوسکتا، بلکہ یہ خدا کا ایک عظیم معجزہ ھے ”لہٰذا اچانک وہ سارے کے سارے سجدے میں گر پڑے “۔[104]

    دلچسپ بات یہ ھے کہ قرآن نے یھاں پر ”القی“کا استعمال کیا ھے جس کا معنی ھے گرادیئے گئے یہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ وہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے اس قدر متاٴثر هوچکے تھے کہ بے اختیار زمین پر سجدے میں جاپڑے ۔

    اس عمل کے ساتھ ساتھ جو ان کے ایمان کی روشن دلیل تھا ؛انھوں نے زبان سے بھی کھا:”ھم عالمین کے پروردگار پر ایمان لے آئے“۔[105]

    اور ھر قسم کا ابھام وشک دور کرنے کے لئے انھوں نے ایک اور جملے کابھی اضافہ کیا تاکہ فرعون کے لئے کسی قسم کی تاویل باقی نہ رھے،انھوں نے کھا:”موسیٰ اور ھارون کے رب پر“ ۔[106]

    اس سے معلوم هوتا ھے کہ عصازمین پر مارنے اور ساحرین کے ساتھ گفتگو کرنے کا کام اگرچہ موسیٰ علیہ السلام نے انجام دیا لیکن ان کے بھائی ھارون علیہ السلام ان کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت اور مدد کررھے تھے۔

    یہ عجیب وغریب تبدیلی جادوگروں کے دل میں پیدا هوگئی اور انھوں نے ایک مختصر سے عرصے میں مطلق تاریکی سے نکل کر روشنی اور نور میں قدم رکھ دیا اور جن جن مفادات کا فرعون نے ان سے وعدہ کیا تھا ان سب کو ٹھکرادیا ،یہ بات تو آسان تھی، انھوں نے اس اقدام سے اپنی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا،یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ ان کے پاس علم و دانش تھا جس کے باعث وہ حق اور باطل میں تمیز کرنے میں کامیاب هوگئے اور حق کا دامن تھام لیا۔

    کیا میری اجازت کے بغیر موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے؟

    اس موقع پر اس طرف تو فرعون کے اوسان خطا هوچکے تھے اور دوسرے اسے اپنا اقتدار بلکہ اپنا وجود خطرے میں دکھائی دے رھا تھا خاص طور پر وہ جانتا تھا کہ جادوگرو ں کا ایمان لانا حاضرین کے دلوں پر کس قدر موٴثر هوسکتا ھے اور یہ بھی ممکن ھے کہ کافی سارے لوگ جادوگروں کی دیکھا دیکھی سجدے میں گر جائیں، لہٰذا اس نے بزعم خود ایک نئی اسکیم نکالی اور جادوگروں کی طرف منہ کرکے کھا:”تم میری اجازت کے بغیر ھی اس پر ایمان لے آئے هو[107] (۱)

    چونکہ وہ سالھا سال سے تخت استبداد پر براجمان چلاآرھا تھا لہٰذا اسے قطعاً یہ امید نھیں تھی کہ لوگ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کام انجام دیں گے بلکہ اسے تو یہ توقع تھی کہ لوگوں کے قلب و عقل اور اختیار اس کے قبضہٴ قدرت میں ھیں،جب تک وہ اجازت نہ دے وہ نہ تو کچھ سوچ سکتے ھیں اور نہ فیصلہ کرسکتے ھیں ،جابر حکمرانوں کے طریقے ایسے ھی هوا کرتے ھیں۔

    لیکن اس نے اسی بات کو کافی نھیں سمجھا بلکہ دو جملے اور بھی کھے تا کہ اپنے زعم باطل میں اپنی حیثیت اور شخصیت کو برقرار رکھ سکے اور ساتھ ھی عوام کے بیدار شدہ افکار کے آگے بند باندھ سکے اور انھیں دوبارہ خواب غفلت میں سلادے۔

    اس نے سب سے پھلے جادوگروں سے کھا:تمھاری موسیٰ سے یہ پھلے سے لگی بندھی سازش ھے ،بلکہ مصری عوام کے خلاف ایک خطرناک منصوبہ ھے اس نے کھا کہ وہ تمھارا بزرگ اور استاد ھے جس نے تمھیں جادو کی تعلیم دی ھے اور تم سب نے جادوگر ی کی تعلیم اسی سے حاصل کی ھے۔ “[108]

    تم نے پھلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت یہ ڈرامہ رچایا ھے تا کہ مصر کی عظیم قوم کو گمراہ کرکے اس پر اپنی حکومت چلاؤ اور اس ملک کے اصلی مالکوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کردو اور ان کی جگہ غلاموں اور کنیزوں کو ٹھھراؤ۔

    لیکن میں تمھیں کبھی اس بات کی اجازت نھیں دوں گا کہ تم اپنی سازش میں کامیاب هوجاؤ،میں اس سازش کو پنپنے سے پھلے ھی ناکام کردوں گا”تم بہت جلد جان لوگے کہ تمھیں ایسی سزادوں گا جس سے دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں گے تمھارے ھاتھ اور پاؤں کو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں کاٹ ڈالوں گا(دایاں ھاتھ اور بایاں پاؤں ،یا بایاں ھاتھ اور دایاں پاؤں)اور تم سب کو (کسی استثناء کے بغیر)سولی پر لٹکادوں گا“۔[109]

    یعنی صرف یھی نھیں کہ تم سب کو قتل کردوں گا بلکہ ایسا قتل کروں گا کہ جس میں دکھ،درد،تکلیف اور شکنجہ بھی هوگا اور وہ بھی سرعام کھجور کے بلند درختوںپرکیونکہ ھاتھ پاؤں کے مخالف سمت کے کاٹنے سے احتمالاًانسان کی دیر سے موت واقع هوتی ھے اور وہ تڑپ تڑپ کر جان دیتا ھے۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ھمیں اپنے محبوب کی طرف پلٹادے

    لیکن فرعون یھاں پر سخت غلط فھمی میں مبتلا تھا کیونکہ کچھ دیر قبل کے جادوگر اور اس وقت کے مومن افراد نور ایمان سے اس قدر منور هوچکے تھے اور خدائی عشق کی آگ ان کے دل میں اس قدر بھڑک چکی تھی کہ انھوں نے فرعون کی دھمکیوں کو ھر گز ھرگز کوئی وقعت نہ دی بلکہ بھرے مجمع میں اسے دو ٹوک جواب دے کر اس کے تمام شیطانی منصوبوں کو خاک میں ملادیا۔

    انھوں نے کھا:”کوئی بڑی بات نھیں اس سے ھمیں ھر گز کوئی نقصان نھیں پہنچے گا تم جو کچھ کرنا چاہتے هو کر لو، ھم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جائیں گے“۔

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!



    اس کام سے نہ صرف یہ کہ تم ھمارا کچھ بگاڑ نہ سکوگے بلکہ ھمیں اپنے حقیقی معشوق اور معبود تک بھی پہنچادوگے،تمھاری یہ دھمکیاں ھمارے لئے اس دقت موٴثر تھیں جب ھم نے خود کو نھیں پہچانا تھا،اپنے خدا سے نا آشنا تھے اور راہ حق کو بھلاکے زندگی کے بیابان میں سرگردان تھے لیکن آج ھم نے اپنی گمشدہ گراں بھا چیز کو پالیا ھے جو کرنا چاهو کرلو۔

    انھوں نے سلسلہٴ کلام آگے بڑھاتے هوئے کھا: ھم ماضی میں گناهوں کا ارتکاب کرچکے ھیں اور اس میدان میں بھی اللہ کے سچے رسول جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مقابلے میں پیش پیش تھے اور حق کے ساتھ لڑنے میں ھم پیش قدم تھے لیکن”ھم امید رکھتے ھیں کہ ھمارا پروردگار ھمارے گناہ معاف کردے گا کیونکہ ھم سب سے پھلے ایمان لانے والے ھیں“۔

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!



    ھم آج کسی چیز سے نھیں گھبراتے، نہ تو تمھاری دھمکیوں سے اور نہ ھی بلند و بالا کھجور کے درختوں کے تنوں پر سولی پر لٹک جانے کے بعد ھاتھ پاؤں مارنے سے۔

    اگر ھمیں خوف ھے تو اپنے گزشتہ گناهوں کا اور امید ھے کہ وہ بھی ایمان کے سائے اور حق تعالیٰ کی مھربانی سے معاف هوجائیںگے۔

    یہ کیسی طاقت ھے کہ جب کسی انسان کے دل میں پیدا هوجاتی ھے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کی نگاهوں میں حقیر هوجاتی ھے اوروہ سخت سے سخت شکنجوں سے بھی نھیں گھبراتا اور اپنی جان دیدینا اس کے لئے کوئی بات ھی نھیں رہتی۔

    یقینا یہ ایمانی طاقت هوتی ھے۔

    یہ عشق کے روشن ودرخشاں چراغ کا شعلہ هوتا ھے جو شھادت کے شربت کو انسان کے حلق میں شہد سے بھی زیادہ شیریں بنادیتا ھے اور محبوب کے وصال کو انسان کا ارفع و اعلیٰ مقصد بنا دیتا ھے۔

    بھر حال یہ منظر فرعون اور اس کے ارکان سلطنت کے لئے بہت ھی مہنگا ثابت هوا ھر چند کہ بعض روایات کے مطابق اس نے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ بھی پہنایا اور تازہ ایمان لانے والے جادوگروں کو شھید کردیا لیکن عوام کے جو جذبات موسیٰ علیہ السلام کے حق میں اور فرعون کے خلاف بھڑک اٹھے تھے وہ انھیں نہ صرف دبا نہ سکا بلکہ اور بھی بر انگیختہ کردیا۔

    اب جگہ جگہ اس خدائی پیغمبر کے تذکرے هونے لگے اور ھر جگہ ان با ایمان شہداء کے چرچے تھے بہت سے لوگ اس وجہ سے ایمان لے آئے۔جن میں فرعون کے کچھ نزدیکی لوگ بھی تھے حتٰی کہ خود اس کی زوجہ ان ایمان لانے والوں میں شامل هوگئی۔

    فرعون کی زوجہ ایمان لے آئی

    فرعون کی بیوی کا نام آسیہ اور باپ کا نام مزاحم تھا۔کہتے ھیں کہ جب اس نے جادوگروں کے مقابلہ میں موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو دیکھا تو اس کے دل کی گھرائیاں نور ایمان سے روشن هوگئیں،وہ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئی ۔وہ ھمیشہ اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتی تھی۔ لیکن ایمان اور خدا کا عشق ایسی چیز نھیں ھے جسے ھمیشہ چھپایا جاسکے۔جب فرعون کو اس کے ایمان کی خبر هوئی تو اس نے اسے بارھا سمجھایا اور منع کیا اور یہ اصرار کیا کہ موسیٰ کے دین سے دستبردار هوجائے اور اس کے خدا کو چھوڑدے،لیکن یہ با استقامت خاتون فرعون کی خواہش کے سامنے ھر گز نہ جھکی۔

    آخر کار فرعون نے حکم دیا کہ اس کے ھاتھ پاؤں میخوں ساتھ جکڑ کر اسے سورج کی جلتی هوئی دھوپ میں ڈال دیا جائے اور ایک بہت بڑا پتھر اس کے سینہ پر رکھ دیں۔جب وہ خاتون اپنی زندگی کے آخری لمحے گزار رھی تھی تو اس کی دعا یہ تھی:

    ”پروردگارا!میرے لئے جنت میں اپنے جوار رحمت میں ایک گھر بنادے۔ مجھے فرعون اور اس کے عمال سے رھائی بخش اور مجھے اس ظالم قوم سے نجات دے“۔

    خدا نے بھی اس پاکباز اور فدار کار مومنہ خاتون کی دعا قبول کی اور اسے مریم(ع) جیسی دنیا کی بہترین خاتون جناب مریم(ع) کے ھم ردیف قرار پائی ھے۔
    ختم شد
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  3. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
     
    PakArt likes this.
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    Click to expand...
    اقبال حسن آپکی ریپلائی کا شکریہ۔

    جزاک اللہ
     

Share This Page