1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

Islamic Hijri Calendar For May - 2017

Discussion in 'Shaban' started by PakArt, Apr 21, 2017.

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    Capture 1525.JPG Capture shaban.JPG
     
    Last edited: Apr 21, 2017
    Admin and Akram Naaz like this.
  2. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

  3. Akram Naaz
    Offline

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member
    • 63/65

    Bahut Pyari Sharing Ki Hy Shukriya..
     
  4. Admin
    Offline

    Admin Legend Staff Member
    • 63/65

    Thanks

    Sent from my S4 using یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں
     
  5. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

  6. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    :Aslam Alieykum2eng:
    1642.gif
    اسلامی مہینوں کے اعتبار سے آٹھواں مہینہ شعبان المعظم کہلاتاہے یہ مہینہ عبادت ومغفرت کاہوتاہے اسی مہینہ میں گناہگاراپنے دامن کورحمت خداوندی سے بھرسکتے ہیں -

    شعبان تشعب سے ہے جس کے معنیٰ تقریب یعنی پھسلانااورشاخ درشاخ ہوناہے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اس مہینہ کانام شعبان اس لیے رکھاگیاہے کہ اس میں روزہ رکھنے والے کوشاخ درشاخ بڑھنے والی خیروبرکت میسر ہوتی ہے حتٰی کہ وہ جنت میں داخل ہوجاتاہے ۔

    بعض کاکہناہے کہ شعبان شعب سے ہے یعنی وہ راستہ جوپہاڑ کوجاتاہواسے شعب کہتے ہیں ظاہر بات ہے کہ ایساراستہ ہمیں بلندی پہ لے جاتاہے اورشعبان بھی وہ پاکیزہ مہینہ ہے جوہمیں روحانیت کی بلندیوں تک پہنچادیتاہے ۔شعبان کالغوی معنیٰ جمع کرنااورمتفرق کرنادونوں آتاہے
    فضائل شعبان بزبانِ آقاخیرالانام

    حضوراکرم ﷺ نے فرمایاکہ رجب میرامہینہ ہے شعبان خداکامہینہ ہے اوررمضان میری امت کامہینہ ہے
    حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا:شعبان کی فضیلت تمام مہینوں پرایسی ہے جیسے تمام انبیاء کرام پہ میری فضیلت ہے اوردوسرے مہینوں پہ رمضان کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کائنات پراﷲ تعالیٰ کی فضیلت ۔ایک اورروایت میں ملتاہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ رجب اوررمضان کے درمیان شعبان ایک ایسامہینہ ہے جس کے فضائل کالوگوں کوعلم نہیں فرمایااس مہینے لوگوں کے اعمال اﷲ تک پہنچائے جاتے ہیں ۔

    آبپاشی کامہینہ
    حضرت صفوریؒ فرماتے ہیں کہ رجب المرجب بیج بونے کا،شعبان المعظم آبپاشی کا،اوررمضان المبارک فصل کاٹنے کامہینہ ہے لہٰذاجورجب المرجب میں عبادت کابیج نہیں بوتااورشعبان المعظم میں آنسوؤں سے سیراب نہیں کرتاوہ رمضان المبارک میں فصلِ رحمت کیوں کرکاٹ سکے گا؟مزید فرماتے ہیں رجب المرجب جسم کو،شعبان المعظم دل کواوررمضان المبارک روح کوپاک کرتاہے (نزہۃ المجالس)
    شعبان المعظم میں پیش آنے والے اہم واقعات
    اس مبارک مہینہ کی 5 تاریخ کونواسہ رسول ﷺحضرت علی ؓکے لختِ جگرحضرت فاطمہؓ کے نورِنظرسیدالشہداء سیدناحضرت امام حسینؓ کی ولادت ہوئی
    اسی مبار مہینہ میں مسجدضرار کونذرِآتش کیاگیا۔
    اسی مبارک مہینہ میں جھوٹامدعی نبوت مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا۔
    اسی مبارک مہینہ میں حضورِاکرم ﷺ نے ام المؤمنین حضرت صفیہ ؓ سے نکاح فرمایا
    اسی مبارک مہینہ میں تحویلِ کعبہ کاحکم نازل ہوا۔
    اسی مبارک مہینہ میں قرآنِ مجید کے نزول کافیصلہ ہوا
    اس مبارک مہینہ کی 15.16درمیانی شب شبِ برات کہلاتی ہے جس میں اﷲ تعالیٰ آسمان دنیاپہ نزول فرماتے ہیں
    شعبان المعظم کوفضیلت واہمیت اسی شب کی وجہ سے حاصل ہے برء ات کے معنیٰ چھٹکارانجات حاصل کرنے کے ہیں اگریوں بھی کہاجائے توبہتر ہوگاکہ یہ شب شبِ نجات ہے جس میں ہم جیسے گناہگاروں کوبھی بری کیاجاتاہے اوربخشش وعام معافی کااعلان بھی کیاجاتاہے اسی وجہ سے علماء نے اسے اورکئی نام بھی دیے ہیں مثلاً۔لیلۃ الکفر(گناہوں سے رہائی پانے والی رات)لیلۃ المغفرت(بخشش والی رات)لیلۃ الشفاعت(شفاعت والی رات)

    رات کاقیام اورآقاخیرالانامﷺ
    حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات آقاء نامدارﷺ میرے حجرے میں آرام فرماتھے رات کے کسی حصے میں میری آنکھ کھلی تومیں نے حضوراکرم ﷺ کواپنے حجرے میں موجود نہ پایا۔میں آپ ﷺ کی تلاش میں نکلی تمام ازواج مطہرات کے حجروں میں تلاش کیایہانتک کہ نبی کریم ﷺ کی تلاش میں جنت البقیع میں پہنچ گئی ،میں نے دیکھاکہ سرکاردوعالم ﷺ اپنے پروردگار سے اپنی امت کی بخشش کی دعا مانگ رہے ہیں ۔حضوراکرم ﷺ نے پوچھاکہ عائشہ !تجھے معلوم ہے کہ آج کونسی رات ہے؟

    آپ ؓ نے فرمایاکہ اﷲ اور اس کے رسولؐ بہتر جانتے ہیں ۔

    آقاء نامدارﷺ نے فرمایاآج شب برات ہے یہ اتنی رحمتوں اوربرکتوں والی رات ہے جس میں مولاء کریم اپنی شانِ کریمی کے صدقے بنوکلب قبیلے کی بھیڑوں اوربکریوں کے بالوں کے برابر گناہگاروں کوبخش دیتے ہیں ۔قبیلہ کلب کے پاس جوبھیڑیں بکریاں تھیں وہ اس وقت سارے عرب قبائل کی بھیڑوں بکریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ تھیں ۔

    رب کی رحمت سے دخول جنت
    حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:توجانتی ہے کہ یہ رات کیسی ہے ؟یعنی نصف شعبان کی رات؟میں نے کہایارسول اﷲ (ﷺ)اس میں کیاہوتاہے؟فرمایااولادآدم میں سے اس سال میں جوبچہ پیداہونے والاہو،اس کانام لکھ دیاجاتاہے اورسال بھر میں جتنے انسان مرنے والے ہوتے ہیں ،ان کانام لکھ دیاجاتاہے اوراس میں بندوں کے اعمال اُٹھائے جاتے ہیں اوراس رات میں بندوں کے رزق نازل کیے جاتے ہیں میں نے کہایارسول اﷲ !کیاکوئی شخص جنت میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے بغیرداخل نہیں ہوگا؟ارشاد فرمایاکہ نہیں !کوئی شخص بھی جنت میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے بغیرداخل نہیں ہوگا،تین مرتبہ فرمایا،میں نے کہایارسول اﷲ !آپ بھی نہیں ؟

    آنحضرت ﷺ نے اپنامبارک ہاتھ اپنے سر پہ رکھااورفرمایا:ـ’’میں بھی جنت میں داخل نہیں ہونگامگر یہ کہ اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ مجھ کوڈھانپ لیں ۔‘‘یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی(مشکٰوۃشریف)

    رحمت کے خزانے ،بخشش کے بہانے
    حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتواس رات کوقیام کرو۔اوردن کوروزہ رکھو۔کیونکہ اس دن اﷲ تعالیٰ کی رحمت آفتاب کے غروب ہوتے ہی آسمانِ دنیاپرظاہر ہوتی ہے اوراس کی رحمت سارے عالم میں پھیل جاتی ہے حضورِاکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس رات اپنے بندوں کوپکارتے ہیں
    ہے کوئی بخشش ،مغفرت طلب کرنے والا؟کہ میں اسے بخش دوں
    ہے کوئی مصیبت زدہ؟کہ میں اسے مشکلات سے آزاد کردوں
    ہے کوئی اپنی کسی خواہش،حاجت والا؟کہ میں اس کی حاجت اورمرادکوپوری کردوں
    حضوراکرم ﷺ اس شب کوقیام بھی فرمایاکرتے تھے اوراگلے دن روزے کابھی اہتمام کیاکرتے تھے
    حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ بیشک اﷲ تعالیٰ جھانکتے ہیں نصف شعبان کی رات میں ،پس مغفرت فرمادیتے ہیں اپنی تمام مخلوق کی ،مگر مشرک کی،یاکینہ رکھنے والے کی بخشش نہیں فرماتے (مشکوٰۃ شریف)
    ایک روایت میں ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے شعبان کی 13تاریخ کواپنی امت کی شفاعت کی دعا فرمائی تواس دعاکو شرف قبولیت اس طرح نصیب ہواکہ اس دعاکوتہائی ملی ،پھر 14شعبان کودعاکی تودوتہائی عطاہوا15شعبان کورحمت کائناتﷺنے دعافرمائی توامت کی بخشش اورمغفرت کے لیے وہ سب کچھ عطاہواجوآپ ﷺ نے اپنے خالق ومالک سے مانگاتھا۔

    شعبان المعظم برکتوں والا
    ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کودومہینے متواتر روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھامگر رمضان اورشعبان میں۔
    حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس ماہ میں آپ ﷺ بکثرت روزے رکھاکرتے تھے صحابہ کرام ؓ سے بھی یہی منقول ہے کہ ان دومہینوں یعنی رمضان اورشعبان میں آپﷺ نہایت اہتمام کے ساتھ روزے رکھاکرتے تھے
    حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم، ﷺ سے عرض کیاکہ آپؐشعبان میں کثرت سے روزے کیوں رکھاکرتے تھے؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اسامہ !یہ بہت ہی مبارک مہینہ ہے رجب المرجب اوررمضان المبارک کے درمیان واقع ہے جس سے لوگ غافل ہیں اس مہینے میں انسانوں کے اعمال کورب العزت کے حضور پیش کیاجاتاہے لہٰذامیں نے اس ماہ کوزیادہ محبوب رکھاہے میر ے اعمال بھی میرے پروردگار کے سامنے پیش ہوئے تواس حال میں مجھے روزہ سے ہوناچاہیے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اس مبارک مہینہ اورمبارک رات میں اپنے رب کومنالیں اﷲ تعالیٰ ہم سب کواس مبارک ماہ اورمبارک رات میں اپنی رحمتوں اورمہربانیوں سے خب لطف اندوز ہانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یارب العالمین)
     
  7. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    روایت ہے، مفہوم:
    اللہ تعالٰی نصف الشعبان کی رات اپنے بندوں پر نظر فرماتا ہے پھر مشرک اور مسلمان بھائی سے دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کو بخش دیتا ہے.
    (حوالہ: ابن ماجہ حدیث نمبر: 1390)

    تحقیق: یہ روایت سخت ضعیف ہے اس میں ولید بن مسلم مدلس راوی، ابن لہیعہ ضعیف جبکہ ضحاک بن ایمن مجہول ہے. دوسری سند میں ابن لہیعہ ضعیف کے علاوہ زبیر بن سلیم اور عبدالرحمن بن عزرب دونوں مجہول ہیں.

    اسی طرح ایک روایت ہے:
    "جب شعبان کی پندرھویں رات آتی ہے تو اللہ تعالی اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر مومنوں کو بخش دیتا ہے. کافروں کو مہلت دیتا ہے اور کینہ پروروں کو ان کے کینہ کی وجہ سے (ان کے حال پر) چھوڑ دیتا ہے... الخ
    (حوالہ: فضائل الاوقات رقم 23)

    یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اسکا بنیادی راوی احوص بن حکیم جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے التقریب التہذیب 290 میں کہا "ضعیف الحفظ" اسلۓ اس روایت سے استدلال جائز نہیں.
     
  8. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    ماہ شعبان: دیگر سکالر کے خیالات

    ماہ شعبان بطور خاص اس کی پندرہویں تاریخ سے متعلق امت مسلمہ میں بہت سی گمراہیاں پائی جاتی ہیں اس مختصر سے مضمون میں اس ماہ کی اصل حقیقت سے روشناس کرانا چاہتا ہوں تاکہ جو لوگ صحیح دین کو سمجھنا چاہتے ہیں ان پر اس کی حقیقت واضح ہوسکے ،ساتھ ساتھ جو لوگ جانے انجانے بدعات وخرافات کے شکار ہیں ان پر حجت پیش کرکے شعبان کی اصل حقیقت پر انہیں بھی مطلع کیا جاسکے ۔
    مندرجہ ذیل سطور میں شعبان کے حقائق کو دس نکات میں واشگاف کرنے کی کوشش کروں گا ،ان نکات کے ذریعہ اختصار کے ساتھ تقریبا سارے پہلو اجاگر ہوجائیں گے اور ایک عام قاری کو بھی اس ماہ کی اصل حقیقت کا اندازہ لگانا آسان ہوجائے گا۔
    پہلا نکتہ :ماہ شعبان کی فضیلت
    شعبان روزہ کی وجہ سے فضیلت وامتیاز والا مہینہ ہے ، اس ماہ میں کثرت سے روزہ رکھنے پر متعددصحیح احادیث مروی ہیں جن میں بخاری ومسلم کی روایات بھی ہیں ۔بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے :
    أن عائشةَ رضي الله عنها حدَّثَتْه قالتْ : لم يكنِ النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يصومُ شهرًا أكثرَ من شَعبانَ، فإنه كان يصومُ شعبانَ كلَّه(صحيح البخاري:1970)
    ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ نہیں رکھا کرتے تھے ، آپ ﷺ شعبان کے مہینے کا تقریبا پورا روزہ رکھا کرتے تھے ۔
    اور مسلم شریف میں امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
    سألتُ عائشةَ رضي اللهُ عنها عن صيامِ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فقالت : كان يصومُ حتى نقول : قد صام . ويفطر حتى نقول : قد أفطر . ولم أرَه صائمًا من شهرٍ قطُّ أكثرَ من صيامِه من شعبانَ . كان يصومُ شعبانَ كلَّه . كان يصومُ شعبانَ إلا قليلًا .(صحيح مسلم:1156)
    ترجمہ: میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نبیﷺ کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تووہ کہنے لگیں: آپﷺ روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتیں کہ آپ تو روزے ہی رکھتے ہیں، اورجب آپ ﷺ روزہ چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب نہيں رکھیں گے، میں نے نبی ﷺ کو شعبان کے مہینہ سے زيادہ کسی اورمہینہ میں زيادہ روزے رکھتے ہوئے نہيں دیکھا، آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، آپ ﷺ شعبان میں اکثر ایام روزہ رکھا کرتے تھے۔
    ترمذی شریف میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
    ما رأيتُ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يصومُ شَهرينِ متتابعينِ إلَّا شعبانَ ورمضانَ(صحيح الترمذي:736)
    ترجمہ: میں نے نبی ﷺ کو لگاتار دومہینوں کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان اور رمضان کے ۔
    یہی روایت نسائی میں ان الفاظ کے ساتھ ہے :
    ما رأيتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ يصومُ شهرينِ متتابعينِ ، إلَّا أنَّه كان يصِلُ شعبانَ برمضانَ(صحيح النسائي:2174)
    ترجمہ:میں نے نبیﷺ کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا لیکن آپ شعبان کو رمضان کے ساتھ ملایا کرتے تھے۔
    ان ساری احادیث سے صرف روزہ رکھنے کا ثبوت ملتا ہے یعنی شعبان کا اکثر روزہ رکھنااور جن روایتوں میں پورا شعبا ن روزہ رکھنے کا ذکر ہے ان سے بھی مراد شعبان کا اکثر روزہ رکھناہے ۔
    اس ماہ میں بکثرت روزہ رکھنے کی حکمت پراسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
    يا رسولَ اللَّهِ ! لم ارك تَصومُ شَهْرًا منَ الشُّهورِ ما تصومُ من شعبانَ ؟ ! قالَ : ذلِكَ شَهْرٌ يَغفُلُ النَّاسُ عنهُ بينَ رجبٍ ورمضانَ ، وَهوَ شَهْرٌ تُرفَعُ فيهِ الأعمالُ إلى ربِّ العالمينَ ، فأحبُّ أن يُرفَعَ عمَلي وأَنا صائمٌ(صحيح النسائي:2356)
    میں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ آپ جتنے روزے شعبان میں رکھتے ہیں کسی اورمہینہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے؟ آپﷺ نے جواب میں فرمایا:یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کاشکار ہوجاتے ہیں جو رجب اوررمضان کے مابین ہے، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں اٹھائے جائیں۔
    خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نبی ﷺ کی اقتدا ء میں ہمیں ماہ شعبان میں صرف روزے کا اہتمام کرنا چاہئے وہ بھی بکثرت اور کسی ایسے عمل کو انجام نہیں دینا چاہئے جن کا ثبوت نہیں ہے۔
    دوسرا نکتہ : نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا
    اوپر والی احادیث سے معلوم ہوا کہ شعبان کا اکثر روزہ رکھنا مسنون ہے مگر کچھ ایسی روایات بھی ہیں جن میں نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے ۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
    إذا بقيَ نِصفٌ من شعبانَ فلا تصوموا(صحيح الترمذي:738)
    ترجمہ:جب نصف شعبان باقی رہ جائے (یعنی نصف شعبان گزر جائے) تو روزہ نہ رکھو۔
    اس معنی کی کئی روایات ہیں جو الفاظ کے فرق کے ساتھ ابوداؤد، نسائی ، بیہقی، احمد ، ابن ابی شیبہ اور ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے ۔ اس حدیث کی صحت وضعف کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔صحیح قرار دینے والوں میں امام ترمذی ، امام ابن حبان،امام طحاوی ، ابوعوانہ،امام ابن عبدالبر،امام ابن حزم،علامہ احمد شاکر، علامہ البانی ، علامہ ابن باز اور علامہ شعیب ارناؤط وغیرہ ہیں جبکہ دوسری طرف ضعیف قرار دینے والوں میں عبدالرحمن بن مہدی، امام احمد، ابوزرعہ رازی ، امام اثرم ، ابن الجوزی ، بیہقی ، ابن معین اورشیخ ابن عثیمین وغیرہم ہیں۔
    ابن رجب نے کہا کہ اس حدیث کی صحت وعمل کے متعلق اختلاف ہے ۔ جنہوں نے تصحیح کی وہ ترمذی، ابن حبان،حاکم،طحاوی اور ابن عبدالبرہیںاور جنہوں نے اس حدیث پر کلام کیا ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ بڑے اور علم والے ہیں ۔ ان لوگوں نے حدیث کو منکر کہا ہے ، وہ ہیں عبدالرحمن بن مہدی،امام احمد،ابوزرعہ رازی،اثرم ۔ (لطائف المعارف ص: 135)
    اس وجہ سے یہ روایت منکر اور ناقابل حجت ہے، اگر ممانعت والی روایت کو صحیح مان لیا جائےجیساکہ بہت سے محدثین اس کی صحت کے بھی قائل ہیں تو اس بنا پر یہ کہا جائے گا کہ اس ممانعت سے چند لوگ مستثنی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔
    (1) جسے روزے رکھنے کی عادت ہو ، مثلا کوئي شخص پیر اورجمعرات کا روزہ رکھنے کا عادی ہو تووہ نصف شعبان کے بعد بھی روزے رکھے گا۔
    (2) جس نے نصف شعبان سے قبل روزے رکھنے شروع کردئے اورنصف شعبان سے پہلے کو بعدوالے سے ملادیا۔
    (3)اس سے رمضان کی قضاء اور نذر میں روزے رکھنے والا بھی مستثنی ہوگا ۔
    (4) نبی ﷺ کی اتباع میں شعبان کا اکثر روزہ رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے اس حال میں کہ رمضان کے روزے کے لئے کمزور نہ ہوجائے ۔
    تیسرا نکتہ: نصف شعبان کا روزہ
    ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے جس سے پندرہویں شعبان کو روزہ رکھنے کی دلیل بنتی ہو، صحیح احادیث سے شعبان کا اکثر روزہ رکھنے کی دلیل ملتی ہے جیساکہ اوپر متعدد احادیث گزری ہیں ۔ جو لوگ روزہ رکھنے کے لئے شعبان کی پندرہویں تاریخ متعین کرتے ہیں وہ دین میں بدعت کا ارتکاب کرتے ہیں اور بدعت موجب جہنم ہے ۔ اگر کوئی کہے کہ پندرہویں شعبان کو روزہ رکھنے سے متعلق حدیث ملتی ہے تو میں کہوں گا کہ ایسی روایت گھڑی ہوئی اور بناوٹی ہے۔ جو گھڑی ہوئی روایت کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
    چوتھا نکتہ : نصف شعبان کی رات قیام
    جھوٹی اور من گھرنت روایتوں کو بنیاد بناکر نصف شعبان کی رات مختلف قسم کی مخصوص عبادتیں انجام دی جاتی ہیں ۔ ابن ماجہ کی روایت ہے :
    إذا كانت ليلةُ النِّصفِ من شعبانَ فقوموا ليلَها ، وصوموا نَهارَها(ضعيف ابن ماجه:261)
    ترجمہ: جب نصف شعبان کی رات آئے تو ا س قیام کرو اور دن کا روزہ رکھو۔
    یہ روایت گھڑی ہوئی ہے کیونکہ اس میں ایک راوی ابوبکربن محمد روایتیں گھڑنے والا تھا۔
    اس رات صلاۃ الفیہ یعنی ایک ہزار رکعت والی مخصوص طریقے کی نماز پڑھی جاتی ہے ، کچھ لوگ سو رکعات اور کچھ لوگ چودہ اور کچھ بارہ رکعات بھی پڑھتے ہیں ۔ اس قسم کی کوئی مخصوص عبادت نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول نہیں ہے ۔اسی طرح اس رات اجتماعی ذکر، اجتماعی دعا، اجتماعی قرآن خوانی اور اجتماعی عمل کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔
    پانچواں نکتہ : شب برات کا تصور
    پندرہویں شعبان کی رات کو مختلف ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے ۔مثلا لیلۃ المبارکہ(برکتوں والی رات)، لیلۃ الصک(تقسیم امور کی رات )، لیلۃ الرحمۃ (نزول رحمت کی رات) ۔ ایک نام شب برات (جہنم سے نجات کی رات)بھی ہے جو زبان زد خاص وعام ہے ۔ حقیقت میں ان ناموں کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
    لیلۃ المبارکہ نصف شعبان کی رات کو نہیں کیا جاتا ہے بلکہ شب قدر کو کہاجاتا ہے ،اللہ کا فرمان ہے :
    إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ{الدخان:3}
    ترجمہ: یقیناً ہم نے اس (قرآن) کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہم ڈرانے والے ہیں۔
    اللہ تعالی نے قرآن کو لیلۃ المبارکہ یعنی لیلۃ القدر میں نازل کیا جیساکہ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :
    إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ[القدر:1]
    ترجمہ: ہم نے اس(قرآن) کو قدر والی رات میں نازل کیا ہے۔
    تقسیم امور بھی شب قدر میں ہی ہوتی ہے نہ کہ نصف شعبان کی رات اوراسےلیلۃ الرحمۃ کہنے کی بھی کوئی دلیل نہیں ۔ جہاں تک شب برات کی بات ہے ، تو وہ بھی ثابت نہیں ہے ، اس کے لئے جو دلیل دی جاتی ہے ضعیف ہے ۔ آگے اس حدیث کی وضاحت آئے گی ۔
    چھٹواں نکتہ: نصف شعبان کی رات قبرستان کی زیارت
    ترمذی میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
    فقَدتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ليلةً فخرجتُ فإذا هوَ في البقيعِ۔
    ترجمہ : ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پہلو سے غائب پایا ،تلاش کیا تو آپ کوبقیع [ قبرستان] میں پایا۔
    یہ روایت نصف شعبان سے متعلق ہے ، اس حدیث کوبنیاد بناکر پندرہویں شعبان کی رات قبرستان کی صفائی ہوتی ہے ، قبروں کی پوتائی کی جاتی ہے ، وہاں بجلی وقمقمے لگائے جاتے ہیں اور عورت ومرد ایک ساتھ اس رات قبرستان کی زیارت کرتے ہیں جبکہ مذکورہ حدیث ضعیف ہے ۔ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ قبروں کی زیارت کبھی بھی مسنون ہے اس کے لئے تاریخ متعین کرنا بدعت ہے اور عورت ومرد کےاختلاط کے ساتھ زیارت کرنا ، قبر پر میلہ ٹھیلہ لگاناکبھی بھی جائز نہیں ہے ۔
    ساتواں نکتہ : آتش بازی
    شعبان میں جس قدر بدعات وخرافات کی انجام دہی پر پیسے خرچ کئے جاتے ہیں اگر اس طرح رمضان المبارک میں صدقہ وخیرات کردیا جاتا تو بہت سے غریبوں کو راحت نصیب ہوتی اورذخیرہ آخرت بھی ہوجاتامگر جسے فضول خرچی یعنی شیطانی کام پسند ہو وہ رمضان کا صدقہ وخیرات کہاں، شعبان میں آتش بازی کو ہی پسند کرے گا۔ ماہ شعبان شروع ہوتے ہی پٹاخے چھوڑنے شروع ہوجاتے ہیں ذرا تصور کریں اس وقت سے لیکر شعبان بھر میں کس قدر فضول خرچی ہوتی ہوگی؟۔نصف شعبان کی رات کی پٹاخے بازی کی حد ہی نہیں ، اس سے ہونے والے مالی نقصانات کے علاوہ جسمانی نقصانات اپنی جگہ ۔
    آٹھواں نکتہ : مخصوص پکوان اور روحوں کی آمد
    نصف شعبان کی بدعات میں قسم قسم کے کھانے ، حلوے پوری اور نوع بنوع ڈنر تیار کرنا ہے ، اسے فقراء ومساکین میں تقسیم کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روحیں آتی ہیں،بایں سبب ان کے لئے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے ۔ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر آج حلوہ پوری نہ بنائی جائے تو روحیں دیواریں چاٹتی ہیں ۔ کھانا پکانے کے لئے تاریخ متعین کرنا اور متعین تاریخ میں فقراء میں تقسیم کرنا ، اس کھانے پرفاتحہ پڑھنا ، فاتحہ شدہ کھانامردوں کو ایصال ثواب کرنا سب کے سب بدعی امو ر ہیں ۔ اور یہ جان لیں کہ مرنے کے بعد روح دنیا میں لوٹ کر نہیں آتی ،قرآن میں متعدد آیات وارد ہیں جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
    کَلاَّ إِنَّها کَلِمَةٌ هُوَ قائِلُها وَ مِنْ وَرائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلي‏ يَوْمِ يُبْعَثُونَ(المومنون: 100)
    ترجمہ: ہرگز نہیں ، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہاہے اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔
    نواں نکتہ : کیانصف شعبان کو اللہ آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے ؟
    ایک روایت بڑے زور شور سے پیش کی جاتی ہے :
    ان الله ليطلع في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن(سنن ابن ماجه :1390 ) .
    ترجمہ: اللہ تعالی نصف شعبان کی رات (اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے ) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت کردیتا ہے ۔
    اس حدیث کو البانی صاحب نے حسن قرار دیا ہے جبکہ اس میںمشہور ضعیف راوی ابن لہیعہ ہے اور دوسرے جمیع طرق میں بھی ضعف ہے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے طریق سے یہ روایت آئی ہے ۔
    إنَّ اللَّهَ تعالى ينزِلُ ليلةَ النِّصفِ من شعبانَ إلى السَّماءِ الدُّنيا ، فيغفرُ لأكْثرَ من عددِ شَعرِ غنَمِ كلبٍ(ضعيف ابن ماجه:262)
    ترجمہ: للہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر اترتا ہےاور کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔
    اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی سند میں انقطاع کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہے ۔
    بہرکیف! نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر اللہ کے نزول کی کوئی خاص دلیل نہیں ہے البتہ اس حدیث کے عموم میں داخل ہے جس میں ذکر ہے کہ اللہ تعالی ہررات تہائی حصے میں آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے ۔
    دسواں نکتہ : پندرہویں شعبان سے متعلق احادیث کا حکم
    آخری نکتے میں یہ بات واضح کردوں کہ نصف شعبان کے دن یا اس کی رات سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ہے ۔قبیلہ کلب کی بکری کے بالوں کے برابر مغفرت والی حدیث، مشرک وبغض والے علاوہ سب کی مغفرت والی حدیث، سال بھر کے موت وحیات کا فیصلہ کرنے والی حدیث،اس دن کے روزہ سے ساٹھ سال اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کی حدیث ، بارہ –چودہ- سو اور ہزار رکعات نفل پڑھنے والی حدیث یانصف شعبان پہ قیام وصیام اور اجروثواب سے متعلق کوئی بھی حدیث قابل حجت نہیں ہے ۔
    اس وجہ سے پندرہ شعبان کے دن میں کوئی مخصوص عمل انجام دینا یا پندرہ شعبان کی رات میں کوئی مخصوص عبادت کرنا جائز نہیں ہے ۔ شعبان کے مہینے میں نبی ﷺسے صرف اور صرف بکثرت روزہ رکھنے کا ثبوت ملتا ہے لہذا مسلمانوں کو اسی عمل پر اکتفا کرنا چاہئے اور بدعات وخرافات کو انجام دے کر پہلے سے جمع کی ہوئی نیکی کوبھی ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔
     
    Last edited: May 11, 2017
  9. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    شب برأت (نجات کی رات) اور توبہ کی اہمیت

    ﴾ محبوب کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک اﷲ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فضل
    رحمت فرماتا ہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتا ہے ۔(ترمذی و ابن ماجہ حدیث ۱۳۸۵)معلوم ہوکہ بنی کلب عرب کا وہ قبیلہ تھا جہاں بکریاں زیادہ پالی جاتی تھیں ۔

    اعلان خدا وندی: بروایت حضرت علی ؓ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو اس میں قیام کرو(نوافل پڑھو) اور دن کو روزہ رکھو بے شک اﷲ تعالیٰ اس رات (ازراہِ شفقت )آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے (یعنی رحمت کے لحاظ سے اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے) اور غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک فرماتا ہے:اَلَا مِنْ مُّسْتَغْفِرْفَاَغْفِرْلَہٗ ہے کوئی طالب بخشش (معافی چاہنے توبہ کرنے والا) جسے میں بخشش دوں ۔اَلَا مِنْ مُسْتَرْزِقٍ فَاَرْزُقْہٗ ہے کوئی طالبِ رزق جسے میں روزی دوں ۔اَلَا مِنْ مُّبْتَلِی فَاَعَافِیْہ کیا کوئی آفت (مصیبت زدہ) ہے جسے میں عافیت عطا کردوں۔ ہے کوئی فلاح حاجت و طلب والا(ابن ماجہ)
    ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
    راہ دکھلا ئیں کسے رہ روِ منزل ہی نہیں

    اس حدیث پاک میں توبہ کا ذکر پہلے ہے قرآن میں بہت سی آیتیں توبہ کے بیان میں موجود ہیں۔
    اہلِ ایمان و اہلِ تقویٰ پر بھی توبہ و استغفار فرض ہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے نَبّئُی عِبَادِیْ اَنِّی اَنَا لْغَفُوْرُ الرَّحِیْم0وَاَنَّ عَذَابِی ھُوَ لْعَذَبُ الْعَلِیْم0(ترجمہ: خبر دو میرے بندوں کو کہ بے شک میں ہی ہوں بخشنے والا مہربان۔اور میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے (القرآن ،سورہ حجر۱۵/آیت ۴۹،۵۰)

    ایک بار نبی کریم ﷺ جماعت صحابہ پر گزرے جو آپس میں ہنس رہے تھے ۔آپ ؐنے صحابیوں سے فرمایا تم کو ہنستا ہوا کیوں دیکھتا ہوں۔ صحابہ کرام اس عتابانہ کلام سے ڈر گئے۔ اسی وقت یہ آیتیں اتریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا دارومدار خوف و امید پر ہے۔ اس کی رحمت سے امید یعنی توبہ و معافی مانگنے پر بخشش کا یقین اور اس کے عذاب سے ڈر و خوف لازم ہے۔ (نور العرفان صفحہ۱ ۴۲)توبہ میں تین چیزوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔ایک یہ کہ جو غلطی اور گناہ سرزد ہوجائے اس پر ندامت اور شرمندگی کرے دوسرے یہ کہ جو گناہ سرزد ہوا ہے اس کو فوراًچھوڑ دے تیسرے یہ کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا مکمل عزم و ارادہ کرے۔ جب اس طرح توبہ کرلے تو توبہ کرنے والا شخص گناہ سے پاک ہوگیا۔حدیث شریف میں ہے :اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ(ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر توبہ، حدیث نمبر ۴۳۰۴)جس نے گناہ سے توبہ کر لیا وہ ایسا ہو گیا جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ مولائے رحیم کا کرم دیکھئے صرف یہ ہی نہیں کہ اس کی توبہ قبول فرمایا بلکہ وہ گناہ بھی معاف کردیا اور نامہ اعمال سے وہ گناہ مٹا دیا۔ یہ اس کی رحمت ہی تو ہے ۔ ہم سب کو خصوصیت کے ساتھ نوجوانوں کو غور کرنا ہے کہ اس ’’شب برأت ‘‘ میں اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ اﷲ کی بارگاہ میں مغفرت چاہیں۔ جب رحمت الہٰی خود بندوں کو بلا رہی یہ اس کا کرم و احسان ہے۔
    جوانی میں توبہ کرنا پیغمبروں کی سنت ہے: صوفیا کرام فرماتے ہیں :جب انسان گناہ گار ہوجائے ،گناہ کا زہر چڑھ جائے تو فوراً توبہ و استغفار کا تریاق (زہر کی دوا جو فوراً اثر کرتی ہے) استعمال کرو،اسی وقت اس گناہ کا زہر اتر جائے گا۔ حدیثوں میں جوانی کی توبہ اور گناہ سے فوراً توبہ کی فضیلت موجود ہے۔ شیخ سعدی شیرازیؒ فرماتے ہیں:وقت پیری گرگ ظالم می شود پرہیز گار در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری(جوانی میں توبہ کرو یہ پیغمبروں کا طریقہ ہے بڑھاپے میں تو ظالم بھیڑیا بھی متقی و پرہیزگار بن جاتا ہے)۔اس لئے کہ اس وقت نہ منھ میں دانت رہے نہ پیٹ میں آنت رہیں۔ اب تو ظلم کرنے کی طاقت ہی نہیں ۔ اس لئے اب پرہیزگار نہیں بنے گا تو اور کیا بنے گا۔ آدمی جوانی میں توبہ کرے جب کی قوت اور طاقت موجود ہے اور گناہوں کا تقاضہ بھی شدت سے پیدا ہورہاہے لیکن یہ سب ہوتے ہوئے اﷲ کے خوف سے آدمی گناہوں سے بچ جائے یہ کمال ہے۔ توبہ کے لئے بوڑھے ہونے کی راہ دیکھنا یا متبرک دن و راتوں کا انتظار کرنا سستی اور کاہلی ہے۔ ہم اور خاص کر ہمارے نوجوانوں کی طبیعت میں سستی اور کاہلی آگئی ہے۔ ہم آج کے کام کل پر ٹالتے ہیں۔ ہم ’’پھر کبھی‘‘ کا شکار ہیں۔ٹال مٹول ، تاخیر، تساہلی، سست روی ہمارے دین و دنیا و مستقبل کے لئے انتہائی تباہ کن ہیں۔یہ نشہ آور چیزوں سے زیادہ نقصاندہ ہیں۔

    امام عبد الرحمن ابن جوزی ؒ (۵۱۱۔۵۹۷ھ) نے اپنی کتاب منہاج القاصدین میں توبہ کے باب میں الگ باب قائم فرمایا ہے۔ باب تسویف(آئندہ کر لوں گا) کے بارے میں لکھا ہے: آئندہ پر ٹالنے والے بالعموم ہلاک ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک ہی جیسی دو چیزوں میں فرق کر جاتے ہیں۔ آئندہ پر ٹالنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے جیسے ایک درخت ۔وہ دیکھے کہ درخت بہت مضبوط ہے، شدید مشقت سے اکھڑے گاتو وہ کہے کہ میں ایک سال بعد اس کو اکھاڑ نے آؤں گا۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ درخت جتنی مدت باقی رہے گا، مضبوط ہوتا جائے گا اور خود اس کی عمر گزرتی جائے گی، وہ کمزور ہوتا جائے گا۔ جب وہ طاقت ور ہونے کے باوجود درخت کی کمزوری کی حالت میں اسے نہیں اکھاڑ سکتا تو جب وہ کمزور ہوجائے گا اور درخت زیادہ طاقتور تو پھر اس پر کیسے غالب آسکے گا۔

    ایک حدیث پاک میں ہے کہ ٹال مٹول شیطان کاشعار ہے جس کو وہ مسلمانوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ امام جوزی ؒ فرماتے ہیں کہ عمر کے سانسوں میں ہر سانس ایک نفیس جوہر ہے جس کا معاوضہ کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ مسلمانوں کو اپنی جان کی خاطر اپنی جان کو آخرت کی خاطر ،دنیا کو بڑھاپے سے پہلے جوانی کو اور موت سے پہلے زندگی کو کام میں لانا چاہئے۔داناؤں کی رجسٹروں میں ’’کل‘‘ کا لفظ کہیں نہیں ملتا۔ البتہ بے وقوفوں کی جنتریوں میں یہ بکثرت مل سکتا ہے۔ کل کا لفظ ایسے لوگوں کے لئے ہے جو صبح سے شام تک خیالی پلاؤپکاتے رہتے ہیں اور شام سے صبح تک خواب دیکھتے رہتے ہیں۔

    شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: عقل مند وہ آدمی ہے جو اپنے نفس کو اپنے تابع رکھے اور موت کے بعد کام آنے والے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے لگ جائے اور اﷲ سے بھلائی کی امید رکھے۔

    حضرت عمرؓ نے فرمایا :قیامت کا حساب ہونے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرو اور اعمال کا وزن ہونے سے پہلے ان کو تولو اور بڑی پیشی کے لئے تیاری کرو۔ سورہ حاقہ میں ارشاد ربانی ہے: اس دن تم پیش کئے جاؤگے ،تم سے کوئی چیز مخفی نہ رہے گی۔

    توبہ ایمان والوں کے لئے تحفہ ربانی ہے: مولائے رحیم کا ارشاد ہے۔ھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَعَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْعَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَاتَفْعَلُوْن(ترجمہ: اور اﷲ وہی ہے جو بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے در گزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔القرآن،سورہ شوریٰ ۴۲/آیت ۲۵)۔اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ توبہ سے گناہ کبیرہ معاف ہوتے ہیں ۔ توبہ و استغفار کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ احادیث میں بھی اس کا ذکر کثرت سے موجودہے۔ ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: یَا اَیُّھَاالنَّاسُ تُوْبُوْاِلٰی رَبِّکُمْ فَاِنِّیْ اَسْتَغْفِرُواللّٰہُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃ0 لوگو بارگاہِ الہٰی میں توبہ استغفار کیا کرو میں بھی اﷲ کے حضور روزانہ ستّر (۷۰) بار سے زیادہ توبہ کرتاہوں۔(بخاری شریف باب استغفار ﷺ فی یو م لیل)حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے رسول ﷺ نے فرمایا :جادوگر، کاہن سود خور اور بدکار یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر ان کی مغفرت نہیں ہوتی۔(غنیتہ الطالبین صفحہ ۴۴۹)لہٰذا ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اپنے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں،اس مبارک شب برأت کے فیضان سے مالا مال ہوں۔

    محروم و کم نصیب لوگ:بلا شبہ شب برأت (نجات کی رات) کو رحمت خدا وندی وافر مقدار میں بندوں پر نازل ہوتی ہے اور گناہ گاروں کی بگڑی سنورتی ہے۔لیکن چند ایسے افراد بھی ہیں جو بعض گناہوں کی وجہ سے اس رات کی برکات اور فضلِ خداوندی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ رشوت لینے والا، ظالم سپاہی،کاہن ،لوگوں سے مال لے کر امراء کو دینے والا، لھو لعب کے لئے مزامیر رکھنے والا، مشرک، دنیاوی عداوت رکھنے والا قطع رحمی کرنے والا، ازراہِ تکبر کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا، والدین کا نافرمان، دائمی شرابی، جادو کرنے والا، بلا وجہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ سلام و کلام نہ کرنے والا،زناکار، جاندار کی تصویر بنانے والا، جھوٹی قسم کھاکر مال بیچنے والا، بدعتی جس کے دل میں صحابہ کرام کا بغض ہو۔(بیہقی ما شبتہ باسنہ، مسند امام احمد شعب الایمان جلد ۳/صفحہ ۳۸۳)

    توبہ کرنے والا اﷲ کا دوست ہوتا ہے: اﷲ پاک ہمیشہ ہر قوم کے گناہ معاف کرنے والا ہے۔ کافروں کی توبہ کفرسے، مومنوں کی توبہ گناہوں سے ،خیال رہے گناہوں سے انکار کرنا بے حیائی اور ڈھٹائی ہے۔ گناہ کا اقرار کرنا نادم ہونا اچھی بات ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ شب برأت اور دیگر مقدس ایام والی راتوں میں توبہ زیادہ قبول ہوتی ہے لیکن گناہ کرنے کے بعد توبہ کو ان مقدس دنوں اور راتوں کے لئے اٹھا رکھنا بدترین جرم و شقاوت ہے۔ کیا معلوم ایسے دن اور ایسی راتیں آنے سے قبل ہی موت آجائے اور گناہوں کا بوجھ لے کر خدا کے حضور پیش ہونا پڑے۔
    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    شب برأت اور دیگر مقدس راتوں کو عبادت کے لئے جاگنے والے حضرات نماز عشاء اور نماز فجر باجماعت اداکرنے کا خصوصی اہتمام کریں۔ اس رات زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھیں ، قرآن کی تلاوت کریں، زیارتِ قبور کو جائیں، تمام مرحومین کو ایصال ثواب کریں، کثرت سے توبہ کریں، آتش بازی خرافات اور رات بھر گھوم پھر کر وقت برباد نہ کریں۔ مسلمان اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں۔ سنجیدگی سے اس رات کی فضیلت و برکات کو دامن میں سمیٹیں ۔ اپنے اور تمام عالمِ اسلام کی بھلائی کے لئے دعا کریں۔ اﷲ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
     
  10. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    بہت اچھا لگا پڑھ کر
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔
     
    PakArt likes this.

Share This Page