اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

Discussion in 'Mohsin Naqvi' started by IQBAL HASSAN, May 10, 2017.

  1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  1. IQBAL HASSAN
    Online

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    <<<<>>>>

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
    برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا

    جب کوئی سمت سفر طے تھی نہ حد رہ گزر
    اے مرے رہ رو سفر تو رائیگاں ہونا ہی تھا

    مجھ کو رکنا تھا اسے جانا تھا اگلے موڑ تک
    فیصلہ یہ اس کے میرے درمیاں ہونا ہی تھا

    چاند کو چلنا تھا بہتی سیپیوں کے ساتھ ساتھ
    معجزہ یہ بھی تہہ آب رواں ہونا ہی تھا

    میں نئے چہروں پہ کہتا تھا نئی غزلیں سدا
    میری اس عادت سے اس کو بدگماں ہونا ہی تھا

    شہر سے باہر کی ویرانی بسانا تھی مجھے
    اپنی تنہائی پہ کچھ تو مہرباں ہونا ہی تھا

    اپنی آنکھیں دفن کرنا تھیں غبار خاک میں
    یہ ستم بھی ہم پہ زیر آسماں ہونا ہی تھا

    بے صدا بستی کی رسمیں تھیں یہی محسنؔ مرے
    میں زباں رکھتا تھا مجھ کو بے زباں ہونا ہی تھا
     

Share This Page