1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بہترین نمونہ کون؟

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, May 22, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    بہترین نمونہ کون؟

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●


    لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲﴾(مسلمانو!) تمہارے لئے اللہ کے رسول (ﷺ کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے جو بھی ہے اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو اور جب مومنوں نے ان لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے:”یہ تو وہی بات ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا ۔ اس واقعے نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری کو مزید بڑھا دیا۔ (الاحزاب: ۲۲،۲۱)

    فقہ القرآن:

    ٭لَقَدْ کَانَ لَکُمْ…. إلخ اس آیت کا تعلق شان نزول کے اعتبار سے اگرچہ جنگِ خندق سے ہے لیکن اس الفاظ کی وجہ سے عام ہے اسے کسی ایک اور خاص شعبہ سے وابستہ نہیں کیا جاسکتا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی مذکورہ آیت سے عام استدلال و اشتشہاد کرتے تھے ۔ جیسا کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حجر اسود کے متعلق فرمانا کہ بے شک میں جانتا ہوں تو پتھر ہے اور اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔ آخر میں یہ آیت تلاوت کی ﴿لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ ﴾ (مفہوماً) (مسند احمد ۲۱/۱ و الموسوعۃ الحدیثیۃ ۲۸۱/۱ ح ۱۳۱ و إسنادہ حسن) مزید دیکھئے جامع التفسیر (۱۶۰۲/۳)
    ٭قرآن مجید اور حدیثِ رسول ﷺ حجتِ شرعیہ ہیں بلکہ حدیث قرآن مجید کی تفسیر ہے اور انکارِ حدیث کفر ہے ۔
    ٭”روشن خیالیوں“ کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو آئیڈیل بناتے پھرتے ہیں۔
    ٭ نبی کریم ﷺ کو اپنا آئیڈیل اور حدیث و سنن کو اپنے سینے میں صرف وہی شخص لگائے گا جو آخرت میں اللہ کی ملاقات پر یقین رکھتا اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہو۔
    ٭ہم نے آیت نمبر ۱۲ کے تحت منافقین کے حالات اور لشکروں کو دیکھ کر ان کی کیفیت کے متعلق لکھا تھا کہ منافقین کے برعکس مومنین کے ایمان متزلزل ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھ گئے اور اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری سے فرار کے بجائے وہ زیادہ یقین و اطمینان کے ساتھ اپنا سب کچھ اسی کے حوالے کردینے پر آمادہ ہوگئے۔
    ٭ ایمان کم بھی ہوتا اور زیادہ بھی۔ یہی اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔ امام بخاریؒ نے آیت ﴿وَمَا زَادَھُمْ اِلَّا اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًا﴾ کو بطورِ دلیل پیش کیا ہے کہ (الایمان) یزید و ینقص کہ ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے اور کم بھی۔(دیکھئے صحیح البخاری کتاب الایمان قبل ح ۸) امام ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں کہ جمہور ائمہ کے نزدیک ایمان کم بھی ہوتا ہے اور زیادہ بھی۔ (تفسیر ابن کثیر بتحقیق عبدالرزاق المہدی ۱۵۷/۵)
     

Share This Page