1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

شک و شبہ والے امور سے اجتناب بہتر ہے

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, May 23, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●

    شک و شبہ والے امور سے اجتناب بہتر ہے
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●


    بے عیب نعمتوں سے اعراض کرکے شک و شبہ والی باتوں میں گرفتار کیوں ہوا جائے؟
    شریعت ہر مسلمان کو اس کا حکم دیتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرے اور اپنے دامن کو گناہوں کی آلودگی سے محفوظ رکھے۔ لیکن کچھ امور ایسے ہیں جو اگرچہ حلال اور حرام کی قید سے آزاد ہیں لیکن شک و شبہ کی زد میں آتے ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہی مسلمان کےلئے پسندیدہ ہے کیونکہ ان کے کرنے سے انسان بھلائی کے راستے سے بھٹک کر گناہوں کی وادی میں کھوسکتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بعض لوگ اس قسم کے تردد کاشکار ہوتے ہیں کہ آیا وہ فلاں کام کریں یا نہ کریں؟ لیکن اگر وہ ان جیسے کاموں سے مکمل اجتناب کرکے اپنے آپ کو اس اشکال سے نجات دلا دیں تو یہ ان کے دین و ایمان کی سلامتی کےلئے بہتر ہے ۔ اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص رات کو بلاوجہ جاگنے کا عادی ہے اگرچہ وہ رات گناہوں میں بسر نہیں کرتا لیکن ممکن ہے کہ کچھ عرصہ بعد اس کا رات کو مسلسل جاگنا اسے گناہوں کی طرف کھینچ کر لے جائے ۔ اس لئے اس کےلئے یہی بہتر ہے کہ وہ دن کو محنت اور جدوجہد کرے اور رات کے وقت اپنے بستر پر دراز ہوجائے کیوں کہ رات آرام ہی کیلئے تخلیق کی گئی ہے ۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ رات کو بہت دیر سے سونے والے صبح کی نماز جماعت سے نہیں پڑھتے بلکہ بعض بدنصیب تو نماز پڑھے بغیر طلوعِ آفتاب کے بعد تک سوئے رہتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ہے کہ ایک لڑکا بہت دیر سے اپنے گھر آیا اور سو گیا ۔ صبح جب اس کے والد نماز کے لئے جارہے تھے تو اسے اُٹھایا ، وہ اُوں اُوں کرکے دوسری طرف کروٹ بدل کر سوگیا ۔ جب اس کے والد مسجد میں نماز و اذکار وغیرہ کے بعد واپس آئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا اور وہ لڑکا آرام سے خراٹے بھر رہا تھا ۔والد نے غصے سے کہا : اٹھو سورج نکل آیا ہے ۔
    لڑکا بولا: ابا جی ! اگر آدھی رات کو سورج نکل آئے تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟
    اس بدنصیب لڑکے کے نزدیک ابھی آدھی رات ہوئی تھی ۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو نمازِ عشاء کے بعد جلدی سلانے کی کوشش کریں۔
    اسی طرح کچھ لوگوں کو مکمل صحت اور تندرستی کے باوجود فارغ رہنے کی عادت ہوتی ہے ۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اس فراغت کو دین و دنیا کے کسی مفید کام میں صَرف کریں، کہیں ان کی یہ فراغت انہیں گناہوں کا راستہ نہ دکھا دے۔ احادیث مبارکہ میں شک و شبہ والے امور سے اجتناب کرنے کی بہت تاکید آئی ہے ۔
    سیدنا انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو راستے میں ایک کھجور دکھائی دی تو آپﷺ نے فرمایا : ((لولا أني أخاف أن تکون من الصدقۃ لأکلتھا.)) اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ یہ کھجور صدقہ کی ہے تو میں اسے کھالیتا ۔ (بخاری : ۲۴۳۱، مسلم : ۱۰۷۱)

    اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی آل و اولاد کیلئے لوگوں کے صدقہ کا استعمال حرام ہے ۔
    جس کام میں انسان شک و شبہ محسوس کرے اور پھر اسے یہ خوف لاحق ہوکہ کہیں میرے اس فعل سے لوگ مطلع نہ ہوجائیں تو ایسے کام سے دور رہنا ہرمسلمان کیلئے ضروری ہےکیونکہ جوبات دل میں تردد پیدا کرے اور پھر اس کے متعلق لوگوں کے باخبر ہوجانے کا خوف بھی ہوتو یہی بات گناہ کہلاتی ہے ۔ امام مسلم نیشاپوریؒ سیدنا نواس بن سمعانؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : ((البر حسن الخلق والإثم ما حاک في صدرک و کرھت أن یطلع علیہ الناس)) نیکی (یہ ہے ) کہ اچھے اخلاق سے پیش آیا جائے اور گناہ (یہ ہے ) کہ تم تردد میں مبتلا ہوجاؤ اور اس بات سے خوف کھاؤ کہ کہیں لوگوں کو اس کی خبر نہ ہوجائے ۔ (صحیح مسلم : ۲۵۵۳)
    اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بےشمار ایسی نعمتوں سے نوازا ہے ، جو شک وشبہ سے بالاتر ہیں تو پھر انسان ان بےعیب نعمتوں سےاعراض کرکے شک و شبہ والی باتوں میں کیوں گرفتار ہوتے ہیں؟!۔
    امام ترمذی ؒ سیدنا حسنؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :
    حفظت من رسول اللہ ﷺ: ((دع ما یریبک إلیٰ ما لا یریبک))
    میں نے رسول کریم ﷺ کی احادیث میں سے یہ حدیث حفظ کی ہے ، شک و شبہ والی بات کو بغیر شک و شبہ والی بات کیلئے ترک کردو۔ (سنن الترمذی: ۲۵۱۸ و قال:”ھٰذا حدیث صحیح” و سندہ صحیح و صححہ ابن خزیمہ : ۲۳۴۸ و ابن حبان : ۵۱۲ و الحاکم ۱۳/۲، ووافقہ الذہبی)
    اگر کوئی شخص غلطی سے حرام چیز کھالے جس کے متعلق اسے پہلے نہ بتایا گیا ہوتو اس کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے بدن کی اس حرام چیز سے نشونما نہ ہونے دے بلکہ اسے نکال باہر کرے۔ امام بخاریؒ سیدہ عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر الصدیقؓ ایک غلام انہیں روزانہ (اپنی غلامی کا ) معاوضہ دیا کرتا تھا اور وہ اس کے معاوضے سے (کچھ) کھایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ کوئی چیز لے کر آیا اور سیدنا ابوبکرؓ نے وہ چیز لے کر کھالی۔ غلام کہنے لگا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کیا کھایا ہے؟ سیدنا ابوبکر الصدیقؓ نے فرمایا (میں نے) کیا (کھایا ہے)؟ غلام نے کہا : میں نے جاہلیت میں ایک آدمی کو نجومی بن کر کوئی بات کہی تھی جبکہ میں اس میدان کا آدمی نہ تھا لیکن میں نے اسے دھوکا دیااور اسے اپنی طرف سے وہ بات بتا دی ۔ وہ شخص مجھے (آج) ملا ہے تو اس نے مجھے اس بات کے بدلہ میں یہ چیز دی ہے۔ تو انہوں نے اپنا ہاتھ (اپنے منہ میں) ڈالا اور جو کچھ ان کے پیٹ میں تھا اسے قے کرکے باہر نکال دیا ۔(صحیح بخاری: ۳۸۴۲)

    اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حرام باتوں سے بچائے اور شک و شبہ والے امور سے بھی اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین

     

Share This Page