1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

جمہوریت اورحکومت


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'حالاتِ حاضرہ' started by DilawerRizvi, Jul 23, 2017.

حالاتِ حاضرہ"/>Jul 23, 2017"/>
Tags:

Share This Page

  1. DilawerRizvi
    Offline

    DilawerRizvi Moderator Staff Member
    • 28/33

    ہم عوام کی بدقسمتی ملاحظۃ کیجئے کہ وہ جس بھی حکومت کی طرف اپنے دکھوں دردوں کی داد رسی کے لیے دیکھتے ہیں کچھ عرصہ بعد اِس بےچاری کی اپنی آہیں، سسکیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ حکومتیں کم اور وبائی امراض میں گِھرا ہوا مریض زیادہ دکھائی دیتی ہیں ۔ان کا حال جوڑوں کے درد کے اُس مریض جیسا ہوجاتا ہے جو چلتے پھرتے باقاعدہ ہائے ہائے درد ناک صدائیں لگا کر بتاتا ہے کہ اصل میں اسے بیماری کیا ہے ۔



    یہ بدنصیب عوام جس حکومت کو اپنی نجات دہندہ سمجھ کر اُس سے تھوڑی سی بھی آس اور امید باندھتے ہیں وہ احتیاط سے اپنا سامان باندھے نجات کی راہیں نکالتی رہتی ہے۔ اپنی رعایا کو گردش ایام کی تلخیوں سے بچانے کا عزم رکھنے والوں کے اپنے ستارے اِن کے نیک ارادوں سمیت ایسے گردش میں آتے ہیں کہ آخر تک گردش میں ہی رہتے ہیں۔ مالی اور اخلاقی اسیکنڈلز، سنگین بحران اور سیاسی آزمائشیں چاروں طرف سے ہر حکومت کو اِس طرح گھیر لیتے ہیں جیسے بدنصیبی اور مشکلات بارہ مہینے اُن کے غریب ووٹرز اور سپوٹرز کو کو گھیرے رکھتی ہیں۔ اب ایسی مصیبت ذدہ حکومت نہائے گی کیا اور نچوڑے کی کیا؟

    اسے ہمارے سیاست دانوں کی کرشمہ سازی کہیں یا ہمارے نظام سیاست کا طرہ امیتاز کہ یہاں جمہوریت سارا سال شدید تفکرات اور انتہائی سنجیدہ خطرات میں اکیلی (یعنی جمہور کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا) ہی گِھری رہتی ہے۔ یہ مسائل اور رکاوٹیں اندر ہی اندرکسی بھی جمہوری حکومت کو ایسے ہی پوپلا کردیتے ہیں، جیسے آم کے شوقین کھانے سے پہلے آم کو، یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں عوام کو حکومت اور بجلی جانے کا
    دھڑکا ہر وقت ہی لگا رہتا ہے۔
    اِن حالات نے ہمارے عوام کو اتنا سمجھ دار اور صابر و شاکر بنا دیا ہے کہ وہ جیسے ہی اپنی حکومت کو کسی سیاسی بحران یا کسی آئینی آزمائش میں گھرا ہوا دیکھتے ہیں تو اِس سے اپنی توقعات اسی طرح ختم کرلیتے ہیں جس طرح والدین گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی سے اپنا تعلق، کیونکہ جن حکومتوں کے اپنے حالات نادیدہ و دیدہ امداد ( اِس میں آئی ایم کی مالی امداد سرفہرست ہے) اور قوم کی دعاؤں کے طلب گار ہوں، اُن سے کسی عوامی ریلیف کی توقع رکھنا سراسر بے وقوفی ہے اور ہمارے عوام سب کچھ ہوسکتے ہیں وقوف نہیں۔ بقول مرزا غالب



    ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
    وہ ہم سے بھی زیاد ہ خستہ تیغ ستم نکلے

    اِس پھٹیچر نظام کی سب سے بڑی نحوست یہ ہے کہ یہاں آج تک خلاف توقع کوئی حکومت ایسی نہیں گزری جس نے کسی تاریخی داغ دھبے کے بغیر اپنی مدت اقتدار مکمل کرنے کی پوری ایمانداری سے کوشش کی ہو اور عوام توقعات کے مطابق ڈلیور کر کے بھرپورعوامی عزت اور پذیرائی سمیٹی ہو۔ ہماری سیاسی اقدار اور سیاسی روایات پر گہری نظر رکھنے والے اہل دانش اور سیاسی حکماء کو مستقبل میں بھی اِس صورت حال میں کسی خاطر خواہ بہتری کے کوئی معقول آثار دکھائی نہیں دیتے تاوقت یہ کہ اہل سیاست اپنے طرز سیاست اور سیاسی اخلاقیات اور اقدار پر خلوص نیت سے نظرثانی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرلیتے۔

    آزادی کے بعد تین نسلیں جوانی سے بڑھاپے کو پہنچ گئیں مگر ہماری سیاست کے حالات اور روزو شب ہنوز جوں کے توں ہی ہیں، وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ اہل سیاست نے اب تک کی غلطیوں سے صرف یہی سیکھا ہے کہ غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھنا۔ زبانی کلامی حد تک توسیاست کو باقاعدہ فن کا درجہ حاصل ہے لیکن عملی طور ایک بھرپور منافع بخش کاروبار ہے جس میں کمائے جانے والے اثاثے آنے والی نسلوں کو ہر قسم کے مادی احساس محرومی سے بچا کر رکھنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اِس لیے تو روز اول سے ہمارا سارا فوکس اقتدار کی سیاست کی بجائے صرف اور صرف اقتدار اور کاروبار کی سیاست پر ہے۔ بقول ساغر صدیقی

    بے وجہ تو نہیں چمن کی تباہیاں
    کچھ باغباں ہیں برق و شر سے ملے ہوئے

    تمام جماعتوں کی ٹاپ سیاسی لیڈرشپ کی تقاریر، فکرمندی اورخصوصاً انتخابی نعرے سنے تو لگتا ہے کہ اُن کی ساری جدوجہد اور دوڑ دھوپ کامقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ حقیقی جمہوری اقدار کا فروغ، عوام کی خوشحالی اور ملک کی ترقی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے زمینی حقائق جو بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں وہ مذکورہ بالا زبانی جمع خرچ سے تھوڑی بہت مشابہت بھی نہیں رکھتی۔ ہماری قومی سیاست کے منظر نامے پر ہمیشہ ایک ہی سین نظر آتا رہتا ہے، جو ہے جمہوریت کو الجھائے رکھنے اور عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھنے کا سین۔

    اِس پہلے کہ عوام کا اعتبار اور اعتماد تبدیلی کے اکلوتے ذریعے ووٹ پر سے مکمل طور پر اُٹھ جائے، تمام جمہوریت پسند قوتوں سے دراخوست ہے کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم سین ہی تبدیل کرلو۔ وہ تمام جمہوریت پسند قوتیں اور سیاست دان جو دل کی گہرائیوں سے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ وطنِ عزیز کے تمام مسائل کاحل، خوشحالی اور ترقی ایک صاف ستھرے اور حقیقی جمہوری نظام سے ہی ممکن ہے، انہیں چاہیے کہ اپنے اِس عقیدے کو اپنے قول کے ساتھ ساتھ اپنے فعل کے ذریعے عملی طور پر نافذ کرنے میں اپنا اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرکے اِس ملک و ملت پر احسان عظیم فرمائیں تاکہ آنے والی تمام جمہوری حکومتیں نحوستوں سے پاک رہ کر اپنی ساری توانائیاں اپنی کھال بچانے کے بجائے صرف اور صرف ملک و قوم کی خدمت اور ترقی پر صرف کرسکیں۔
     
    PakArt likes this.
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

Share This Page