1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

علم الغیب کو سمجھیے

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by deewan, Jul 27, 2017.

  1. deewan

    deewan Newbi

    تمہید
    مسئلہ علم غیب کو سمجھنے چند باتوں کا سمجھنا انتہائی ضروری ہے جس کے بعد اس مسئلے کو سمجھنے میں کسی طرح کی پیچیدگی باقی نہیں رہتی۔ آئیے سب سے پہلے ان بنیادی باتوں کو جان لیتے ہیں اس کے بعد اس مسئلے کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
    علم حاصل کرنے کے مختلف ذرائع
    علم حاصل کرنے کے مختلف ذرائع یا واسطے ہیں۔ جیسے حواس یعنی دیکھنے کی حس، سننے کی حس، سونگھنے کی حس، چکھنے کی حس، چھونے کی حس۔ ان کے ذریعے انسان کو ظاہری چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ علم حاصل کرنے کا ایک اور ذریعہ انسان کی ذہنی، عقلی و فکری صلاحیتیں ہیں۔ جیسے کسی کی ظاہری حالت کو دیکھ کر اس کی قلبی حالت کا اندازہ کرلینا۔ یہ ہمارے پانچ ظاہری حواس سے باہر کی چیز ہے۔ اس کا بڑا تعلق انسان کی ذہنی صلاحیت سے ہوتا ہے۔ علم حاصل کرنے کا اور ایک ذریعہ استدلال ہے۔ اس کی مثال چاند گرہن اور سورج گرہن کے حسابات ہیں۔ اتنا اور جان لیجیے کہ علم حاصل کرنے کے یہ ذرائع اسباب، وسائل اور واسطوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہر انسان کو یہ صلاحیتیں کم و زیادہ حاصل ہوتی ہیں۔ البتہ انبیا علیہم السلام اور اولیائے کرام میں ذہنی و فکری صلاحیتیں عام انسانوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے:
    اتقوا فراسۃ المومن فانہ ینظر بنور اللہ۔
    ترجمہ: مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
    اسی لیے وہ بہت سے امور جن کو کرامت کہہ دیا جاتا ہے دراصل ان کا تعلق اس گہری فراست سے ہوتا جو ان حضرات کو عطا کی جاتی ہے۔
    علم کے ذرائع سے آگہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ تمام علوم جن کی بنیاد پر کچھ پوشیدہ باتوں کا پتہ لگا لیا جاتا ہے وہ غیب قطعی نہیں کیونکہ یہ تمام علوم واسطوں اور ذریعوں کے محتاج ہیں۔ مثلا الٹراساؤنڈ سے بچے کی جنس بتا دینا غیب نہیں کیونکہ اس کا انحصار آلات پر ہے۔
    علم الغیب کی تعریف
    علم حاصل کرنے کے ذرائع جان لینے بعد یہ سمجھ لیجیے کہ علم غیب وہ ہے جو ظاہری حواس، ذہنی صلاحیتوں اور استدلال سے مخفی ہو۔ یعنی نہ ظاہری حواس، نہ ذہنی و فکری صلاحیتیں، اور نہ ہی استدلال کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ تمام کے تمام ذریعوں اور واسطوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہ ذرائع علم غیب کے لیے ناکافی ہیں۔ مثلا جنت و جہنم کے احوال کسی طور بھی اوپر بیان کیے گئے ذرائع سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ علم الغیب کا یہ امتیازی وصف اگر کسی پر صادق آتا ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور بس۔ وہی ایک ذات ایسی ہے جو وسائل اور واسطوں سے بالا اور بلند ہے۔ وہ نہ حواس کا محتاج ہے، نہ فکری، ذہنی صلاحیتوں کا اور نہ ہی اس کو کسی استدلال کی ضرورت ہے۔ بلکہ وہ بغیر ان تمام ذریعوں کے ذرہ ذرہ ، پتہ پتہ اور قطرہ قطرہ سے خود بخود ہر وقت اور ہر دم آگاہ ہے۔ مخلوق میں سے کسی کو یہ وصف کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ کسی کے متعلق ایسا عقیدہ شرک ہے۔
    اس مسئلہ کو مزید اجاگر کرنے کے لیے دو بنیادی باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ بنیادی باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
    اللہ تعالیٰ کا علم
    اللہ تعالیٰ کے علم بارے میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جابجا اپنی صفت علم کے بارے میں کہیں علیم فرمایا ہے اور کہیں عالم الغیب والشہادۃ فرمایا ہے جس کا مفہوم یوں بیان کیا جاتا ہے: تمام ظاہری و باطنی، لا محدود اور لامتناہی صفت قدیم کے ساتھ (دائماًابداً) بالذات احاطہ کرنے والی ذات اقدس۔ اس کی تفصیل یوں ہے:
    · صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات تمام علوم کا احاطہ کرنے والی یعنی جاننے والی ہے۔
    · تمام ظاہری و باطنی علوم ، لا محدود اور لامتناہی، یعنی اس کے علم کی نہ کوئی حد ہے نہ نہایت،
    · اس کا علم ہمیشہ ہمیشہ سے ہے یعنی ایسا نہیں کہ وہ پہلے کسی چیز کو نہیں جانتا تھا اور اب جاننے لگا ہے، بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ سے ہر چیز کو اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی، اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی اپنے علم تفصیلی سے جانتا ہے،
    · بالذات یعنی اس کا یہ علم اس کا ذاتی ہے کسی نے اس کو سکھایا نہیں ہے
    ان معنوں میں علم؛ اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے جس میں اس کا کوئی بھی شریک نہیں۔ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کے لیے بھی اس طرح علم ماننا شرک و کفر ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    آیت 1
    و عندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو (الانعام: 59)
    ترجمہ: اور اللہ ہی کے پاس ہیں خزانے تمام مخفی اشیاء کے۔ ان کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس (اللہ تعالیٰ) کے۔
    رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے:
    آیت 2
    قل لا یعلم من فی السمٰوات و الارض الغیب الا اللہ و ما یشعرون ایان یبعثون (نمل 65)
    ترجمہ: آپ فرما دیں کہ آسمان و زمین میں جتنے لوگ ہیں اللہ کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے انہیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
    آیت 3
    ان اللہ عندہ علم الساعۃ و ینزل الغیث و یعلم ما فی الارحام و ما تدری نفس ماذا تکسب غدا و ما تدری نفس بای ارض تموت ان اللٰہ علیم خبیر (لقمان: 34)
    ترجمہ: بلاشبہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی مینہ برساتا ہے وہی پیٹ کے بچے کو جانتا ہے کسی کو معلوم نہیں کہ کل کیا کمائے گا اور نہ یہ کہ کس زمین پر اس کی موت آئے گی۔ بے شک اللہ ہی جانے والا خبردار ہے۔
    ان کے علاوہ اور بھی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علم کے بارے میں کہیں علیم فرمایا ہے اور کہیں عالم الغیب والشہادۃ۔
    انبیا علیہم السلام کا علم
    انبیاء علیہم السلام جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں علم کے باب میں ان کا خصوصی مقام ہے۔ انبیا علیہم السلام کے علم بارے میں اہل سنت و الجماعت کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان خاص بندوں کو بے شمار علوم عطا کیے ہے جن کا احاطہ کرنا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ خاص طور پر خاتم الانبیا ﷺ کے بحر علم کے کنارے تک پہنچنا دیگر انبیائے کرامؑ کے لیے بھی ممکن نہیں ۔ لیکن ان کا علم،
    · لامتناہی (لامحدود) نہیں بلکہ محدود ہے۔
    · اللہ کی عطا سے ہے، بالذات (خود بخود) نہیں۔
    · ان کا علم اللہ کی مرضی پر موقوف ہے۔ بغیر مشیت (مرضی) کے نہیں یعنی یہ نہیں کہ جب چاہا جان لیا بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا ان کو علم حاصل ہوا۔
    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
    آیت 4
    عالم الغیب فلا یظہر علٰی غیبہ احد ا الا من ارتضٰی من رسول (الجن: 26)
    ترجمہ: وہی غیب کا جاننے والا ہے، وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ ہاں جس رسول کو پسند فرمائے (اس کو اطلاع دیتا ہے)۔
    اور اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
    آیت 5
    وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولٰکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء۔ (آل عمران: 179 )
    ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ غیبی امو ر پر تم کو مطلع نہیں کرتے لیکن ہاں جس کو وہ خود چاہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ان کو وہ منتخب فرما لیتے ہیں۔
    معراج کے واقعہ کے سلسلے میں آتا ہے:
    حدیث 1
    عن جابر سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لما كذبتني قريش قمت في الحجر فجلى الله لي بيت المقدس فطفقت اخبرهم عن آياته وانا انظر اليه
    ترجمہ: (معراج کے واقعہ کے سلسلے میں قریش نے) مجھ کو جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لئے بیت المقدس کو روشن کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کے پتے اور نشان بیان کرنا شروع کر دیئے

    · ان کا یہ وصف حدوثاً ہے قدیماً نہیں، یعنی ہمیشہ سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہے۔
    لیکن اس علم میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
    انبیاء علیہم السلام غیب پر مطلع ہیں؟
    البتہ ایک بات غور طلب ہے کہ اوپر جو چار آیتیں ذکر کی گئی ہیں ان میں سے ‏آیت 1 اور ‏آیت 2 سے یہ معلوم ہوا کہ غیب کی بات اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب کہ ‏آیت 4 اور ‏آیت 5 سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرامؑ غیب پر مطلع ہیں۔
    اب یہ احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
    حدیث 2
    قال رسول اللہ ﷺ لیردن علی اقوام اعرفھم و یعرفوننی ثم یحال بینی و بینھم فا قول انھم منی فیقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک فاقول سحقا سحقا لمن غیر بعدی۔ (مشکٰوۃ صفحہ۴۸۸-۴۸۷)
    ترجمہ: میری طرف ایسے لوگ آئیں گے جن کو میں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے پھر میرے اور ان کے درمیان حجاب حائل ہو جائے گا۔ میں کہوں گا یہ میری امت کے لوگ ہیں ۔ کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ، میں کہوں گا کہ (مجھ سے) دور ہو جائے دور ہو جائے وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کی۔
    حدیث 3
    عن عمر رضی اللہ عنہ قال قام فینا رسول اللہ ﷺ مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل اھل الجنۃ منا زلھم و اھل النار منازلھم حفظ ذالک من حفظ ونسیہ من نسیہ۔ (صحیح البخاری )
    ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مقام میں رسول اللہ ﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور ہم کو ابتدائے خلق سے خبر دی حتی کہ اہل جنت کے اپنے منازل میں داخل ہونے اور اہل نار کے اپنے منازل میں داخل ہونے تک خبر دی۔ جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔
    ‏حدیث 2 میں آپ ﷺ کے غیب جاننے کی نفی ہے جب کہ ‏حدیث 3 سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ ان غیوب کو جانتے تھے یعنی آپ ﷺ کا غیب جاننا ثابت ہوتا ہے۔ اور بھی واقعات ہیں جن سے آپ ﷺ کے غیب پر مطلع ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلا جنگ خندق کے دوران جب آپ ﷺ نے چٹان توڑی تب آپ ﷺ نے شام اور دوسرے ممالک کے فتح ہونے کی خبر دی جو بعد میں پوری ہوئی۔
    اسی طرح واقعات انبیاؑ بھی دو طرح کے ہیں جن میں بعض واقعات ایسے ہیں جن سے انبیا کے غیب جاننے کی نفی ہوتی ہے۔ مثلا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ملائکہ نوجوانوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے جانور ذبح کر کے کھانا تیار کر کے لائے اور ان کے نہ کھانے پر خوف زدہ بھی ہوئے بعد میں ان کے بتانے سے معلوم ہوا کہ یہ فرشتے ہیں ۔ یا حضرت یوسف علیہ السلام جب کنویں میں تھے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کو علم نہیں تھا۔ لیکن جب مصر سے بھائی قمیص یوسف لے کر روانہ ہوتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ بعض آیتوں میں علم غیب کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہونا بیان کیا گیا ہے اور غیر اللہ سے نفی کی گئی ہے۔ اسی طرح بعض احادیث میں آپ ﷺ کے غیوب پر مطلع ہونے کا بیان ہے اور بعض میں اس کی نفی ہے۔ اہل علم نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ لیکن ایک بار پھر اس فرق کو ذہن نشین ہونا ضروری ہے جو اس مضمون کے شروع میں بیان کیا گیا ہے۔ سہولت کے لیے دوبارہ پیش خدمت ہے۔
    · اللہ کا علم اس کی صفت ہے، ہمیشہ سے ہے، ذاتی ہے، لامتناہی ہے (کوئی انتہا نہیں )،
    اس ذات جل جلالہ کے علاوہ جس کے پاس جو علم ہے،
    · وہ اللہ کی عطا ہے ، اس کی مشیت (مرضی) کے تحت ہے یعنی کسی کے لیے ممکن نہیں کہ خود جان لے، متناہی ہے۔ پہلے نہیں تھا بعد میں اللہ تعالیٰ کے تعلیم کرنے سے حاصل ہوا۔
    اگر یہ فرق سامنے رہیں تو وہ آیات یا احادیث جن میں علم الغیب اللہ خاص تعالیٰ کے بتایا گیاہے ان کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جن آیات و احادیث میں علم الغیب خاص اللہ کے لیے بتایا ہے تو اس سے مراد اللہ رب العزت کا ذاتی، لامتناہی، ہمیشہ ہمیشہ ، اور ہر چیز کو محیط علم ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا اس صفت میں کوئی بھی شریک نہیں۔
    اور جن آیات میں انبیا علیہم السلام اور آپ ﷺ کے لیے غیب کا ثبوت ہے اس سے مراد اللہ کی مرضی کے تحت، اس کا بخشا ہوا، محدود علم مراد ہے۔ البتہ انبیائے کرام کے لیے یہ عطا و اطلاع ایسی ہے کہ مخلوق میں اس کا کوئی برابر نہیں۔
    اس کو مزید سمجھنے کے لیے اس بات پر غور کریں کہ وہ آیتیں جو یہاں پیش کی گئیں ہیں اور قرآن پاک میں دیگر مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں اپنی صفت علم کا ذکر کیا ہے وہاں لفظ علم یا اس سے بنے ہوئے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً دیکھیے ‏آیت 1 وہاں لفظ لایعلمھا آیا ہے یا ‏آیت 3 وہاں لفظ علم آیا ہے۔ نیز جہاں جہاں مخلوق سے غیب کی نفی کا ذکر ہے (کہ مخلوق کے پاس علم غیب نہیں ہے) وہاں بھی لفظ علم یا اس سے بنے ہوئے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مثلًا یہ آیت دیکھیے جس میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اپنے لیے علم غیب کی نفی بیان کی گئی ہے۔​
    یعنی اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جانا۔
    قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ و لا اعلم الغیب (الانعام:50)
    ترجمہ: (اے نبیؐ) کہہ دیجیے، میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب کا علم رکھتا ہوں۔
    آیت 6
    قل لا املک لنفسی نفعا و لا ضرا ا لا ماشاء اللہ ولو کنت اعلم الغیب لا استکثرت من الخیر و ما مسنی السوء ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یؤمنون۔ (سورہ اعراف ع ۲۳)
    ترجمہ: (اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ میں خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا مگر اتنا ہی جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا، اور اگرمیں غیب کی باتیں جانتا تو میں بہت سے منافع حاصل کرلیا کرتا اور کوئی مضرت ہی مجھ کو واقع نہ ہوتی میں تو محض نذیر و بشیر ہوں اس قوم کے لیے جو ایمان رکھتی ہے۔
    یہاں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے آپ ﷺ کے غیب نہ جاننے کا اقرار بغیر لفظ علم کے آیا ہے۔ یعنی، اگر میں علم الغیب جانتا نہیں فرمایا بلکہ کہلوایا گیا : ولو کنت اعلم الغیب (اگر میں غیب جانتا)۔
    البتہ جہاں مخلوق کی غیب سے آگہی کا ذکر ہے وہاں لفظ علم کے بجائے اطلاع و اظہار کے الفاظ استعمال ہوا ہے۔ اس مسئلے میں یہ انتہائی اہم نکتہ ہے۔ اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے لیے علم غیب کی نفی فرمائی ہے اور اظہار علم اور اطلاع علم کا اثبات (ہونا) فرمایا ہے۔
    اس بات پر بھی غور کیجیے کہ قرآن مجید میں عالم الغیب کی اصطلاح کا استعمال صرف ایک اللہ رب العزت ہی کے لیے فرمایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ لقب اس ذات جل و علا کا خاص وصف ہے جس کی وجہ سے اس کا اس قدر اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی کو بھی عالم الغیب تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ظاہر و باہر چیزوں کے جاننے کی کسی سے نفی نہیں فرمائی یعنی یہ کہیں نہیں آیاکہ کوئی عالم الشہادۃ نہیں ہے۔ اس کے برخلاف اس بات کا بار بار اظہار فرمایا گیا ہے کہ کوئی عالم الغیب نہیں ہے۔
    اسی طرح احادیث میں بھی ہے۔ پہلی حدیث آپ ﷺ کے غیب پر آگاہ ہونے کی دلیل ہے جب کہ دوسری حدیث سے اس سے عدم آگہی کا اظہار ہوتا ہے۔ اوپر انبیائے کرام کے علم کے حوالے سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے اگر اس کو سامنے رکھا جائے تو ان دونوں حدیثوں میں جو ظاہری تعارض ہے وہ دور ہو جاتا ہے۔ جس غیب کا آپ ﷺ کی لیے ثبوت ہے اس سے محدود غیب مراد ہے لامتناہی غیب و علوم مراد نہیں۔ بعض غیب و علوم مراد ہیں اور کل غیب و علوم نہیں، وہ غیوب مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا اور اطلاع کے طور پر ہیں۔ یہ عطا و اطلاع حق تعا لیٰ کی مشیت (مرضی) پر ہے۔ نیز یہ عطا و اطلاع حدوثاً ہے قدیماً نہیں۔ نیز وہی علوم مراد ہیں جو آپ ﷺ کی شان کے لائق ہوں۔ قرآن پاک میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق ارشاد ہے:
    وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ ) یس:(69
    ترجمہ: اور ہم نے نہیں سکھایا ان کو شعر کہنا اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے۔
    ما کان و ما یکون کا مطلب
    مسئلہ علم الغیب میں بنیادی بحث جملہ ما کان و ما یکون کے متعلق ہے۔ ما کان کا معنی ہے جو ماضی میں واقع ہو چکا اور ما یکون کے معنی جو مستقبل میں واقع ہو گا یعنی ماضی و مستقبل کا علم۔ یہ جملہ بظاہر حدیث عمرؓ (‏حدیث 1) کا عنوان ہے جس میں آپ ﷺ نے ابتدائے کائنات سے لے کر جنت دوزخ میں داخلے تک کی خبر دی۔ البتہ بعض اوقات ما کان و ما یکون کا استعمال کل کے معنی میں کیا جاتا ہے۔ ما کان و ما یکون کے اس مفہوم کو سامنے رکھا جائے تو یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ رسول ﷺ تمام علوم غیب کو جانتے تھے۔ درحقیقت یہ غلط فہمی سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ جو حضرات اس کو کل کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ان کی مراد بھی محدود غیب ہی ہے۔ مشہور بریلوی عالم علامہ سید احمد سعید کاظمی ؒ نے مقالات کاظمی ج 2 ص 17 میں لکھا ہے:
    ’’یاد رکھیئے! جب آپ ہمارے کلام میں حضور ﷺ کے علم اقدس کے متعلق لفظ ’’کل ‘‘ دیکھیں تو اس سے کل غیر متناہی (لامحدود) نہ سمجھیں بلکہ کل مخلوقات (جو متناہی ہے) اور اس کے علاوہ معرفت ذات و صفات کا علم کہ وہ بھی بالفعل متناہی ہے ہماری مراد ہو گا۔ ورنہ علم الہٰی کی بہ نسبت حضور ﷺ کے علم کو کل نہیں کہتے۔ کیونکہ علم الہٰی محیط الکل اور غیر متناہی ہے۔‘‘
    اعلیحضرت احمد رضا خان بریلویؒ کی یہ عبارت ملاحظہ ہو:
    ہمارا یہ دعویٰ نہیں کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے جمیع (تمام) معلومات الہیہ کا احاطہ کر لیا کہ یہ تو مخلوق کے لیے محال ہے جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے اور عنقریب ہم تم سے بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کو سکھانا بذریعہ قرآن عظیم ہوا اور قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے اترا اور ہر وقت نہیں اترتا تھا تو اوقات اورمعلومات دونوں میں بعض ہونا صادق ہوا۔‘‘
    ( الدولۃ المکیہ،صفحہ ۷۲ سے ۷۴ تک، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
    یعنی قرآن پاک آپ ﷺ پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔جو نازل ہوا علم میں آگیا اور جو نازل نہیں ہوا وہ غیب میں رہا۔
    اعلیحضرت احمد رضا خان بریلویؒ کے حوالے سے یہ عبارت انوار رضا میں موجود ہے:
    ’’علم غیب بالذات اللہ عز و جل کے لیے خاص ہے کفار اپنے معبودان باطل وغیرہم کے لیے مانتے تھے لہٰذا مخلوق کو عالم الغیب کہنا مکروہ اور یوں کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے امور غیب پر انہیں اطلاع ہے۔‘‘ (انوار رضا، ص 56)
    خلاصہ
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ علم غیب اللہ رب العزت ہی کو ہے اس میں اس کوئی شریک نہیں اور علم الغیب کلی یا ما کان و ما یکون بھی صرف اسی کے قبضہ قدرت اور اختیار میں ہے۔ لیکن اس نے اپنے رسول ﷺ اور دوسرے انبیائے کرام علیہم السلام کو وحی وغیرہ کے ذریعہ غیب کی ہزاروں، لاکھوں خبریں دی ہیں اور اولیائے کرام کو بھی کشف و الہام وغیرہ کے ذریعے ایسی بہت سی چیزوں کی خبر ہو جاتی ہے۔ لیکن نہ یہ علم الغیب ہے اور نہ اس کی وجہ سے کسی کو عالم الغیب کہا جاسکتا ہے۔
    گزارش
    آخر میں اتنی گزارش ہے کہ مقام رسول ﷺ ہماری آپ کی سوچ و فہم سے بالاتر ہے۔ آپ ﷺ کے اوصاف پر بحث و مباحثہ کرنا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ مثلا علم رسول ﷺ کو لیجیے۔ آپ ﷺ کے علم کی کیفیت و کمیت کسی کی سمجھ سے بالا ہے۔ اب جو اس لاعلمی کے باوجود اس پر رائے زنی کرے گا وہ دو طرح سے خطرے میں ہے۔ وہ یا تو علم رسول ﷺ کی وسعت کا اس طرح اظہار کرے گا کہ علم الہی سے ملا بیٹھے گا۔ اور اس کا رد کرنے والا اس طرح رد کر بیٹھے گا کہ شان رسول ﷺ کو گھٹا بیٹھے گا۔ دونوں ہی باتیں خطرہ ایمان ہے۔ اس لیے ایسی کسی بحث میں حصہ لینا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اس لیے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنے ایمان کو بچائیں اور ایسے لوگوں سے دور بھاگیں جو اس طرح کی بحثوں کو دین کا معیار بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپنا مسلک بس یہ رکھیں: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔ یہ اوصاف محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کے لیے، مختصر اور جامع ترین بات ہے! واللہ تعالیٰ اعلم۔​
     
  2. Admin

    Admin Cruise Member Staff Member

    Bahot Khoob Thanks For Share
     

Share This Page