1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

نوجوان ون ویلنگ کی طرف مائل

Discussion in 'حالاتِ حاضرہ' started by DilawerRizvi, Sep 5, 2017.

Share This Page

  1. DilawerRizvi
    Offline

    DilawerRizvi Moderator Staff Member
    • 28/33

    ون ویلنگ معاشرتی روگ بن چکا ہے اس مکروہ کھیل کے بھی مگر کچھ محرکات ہوتے ہیں۔ اکثر الجھنوں کاشکار نوجوان ون ویلنگ سے کتھارسس کرتے ہیں‘اِن سطور میں اِسی کتھارسس کے کچھ پہلووں کا جائزہ لیاگیا ہے۔بڑے ہوتے ہوئے بچوں کوجرم کی دنیاکے خوابوں میں کھوجانے سے بچانے کیلئے ‘معاشرے میں خوشگوار ماحول کی برقراری میں حائل حقیقی مسائل کو دورکرناضروری ہے۔

    اِن بڑے ہوتے ہوئے بچوں کی عزت نفس ہی کو اگرمعاشرے میںموجود مختلف طبقات کی جانب سے مجروح کرنا شروع کر دیا جائے توپھراِس ردعمل کے طور پر نوجوان منفی سرگرمیوںمیں مبتلاءہوتے نظر نہ آئیں تو کیا کریں؟۔پاکستان کا دل کہلاتے لاہور کے مختلف علاقوں میں، نہر کنارے یا گنجان آبادیوں کے درمیاں قائم سرکاری ہسپتالوں میں بھی آنے والے لوگوں کی عزت نفس برقرار نہیں رہی ہے۔

    یہاںاپنے بیماربڑوںکے ساتھ پیش آنے والے عزت نفس کو مجروح کرتے واقعات کو دیکھ کر نوجوانوں میں غم و غصہ کی کیفیت نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔ اس پریشان کن کیفیت کا اظہار اِنہوں نے مختلف قسم کے خطرناک طریقوں سے کرنا شروع کر دیا ہے۔مختلف طریقوں کے ذریعے اپنے اوراپنے بڑوں کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں میںڈیوٹی پر موجود سرکاری ڈاکٹروںکے ہاتھوں ہوئی بے عزتی کے اظہار کا طریقے اکثر یت نے ون ویلنگ کی صورت میں بھی نکالا ہوا ہے۔

    سرکاری ہسپتالوں میں عزت نفس مجروح ہونے کے بعد ‘ نوجوانوں کی جانب سے جرم ِون ویلنگ کی طرف مائل ہونے کا انکشاف خود نوجوانوں کی جانب سے ہوا ہے!۔جیل روڈ، مال روڈ،رائیونڈروڈاور گلبرگ کے پوش علاقے میں رات کے وقت یہاں کی کھلی سڑکوں پر اپنی بائیکس کو تقریباً اڑا کر 5کلومیٹر کا فاصلہ ایک منٹ میں طے کرنے والے اقبال،اسحاق،منتجم ودیگرنے بتایا کہ بہتر ہے کہ کسی پر غصہ نکالنے کی بجائے ہم اپنے آپ پر ہی نکال لیں، ہم پڑھے لکھے انسان ہیں، ہم توقع کرتے ہیں کہ ہماری عزت کی جائے گی،مگر ہم نے دیکھا اور سہا کچھ اور ہے!“۔

    اقبال کو اپنی امی کے ساتھ گنگارام ہسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے مہذب انداز نہ اپنانے پر غصہ ہے۔ نوجوان اقبال نے بتایاکہ ”گنگارام ہسپتال میںڈاکٹرزکے نارواسلوک کا غصہ ون ویلنگ کر کے نکالتا ہوں“۔گنگاہ رام ہسپتال میں موجودڈاکٹروں کے اخلاق کے بارے میں جاننے کے لئے ڈاکٹر شازیہ سے رابطہ کیا ، شائستہ آداب و اطوار کے حوالے سے جانی جانے والی والی ماہر جگرڈاکٹر شازیہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہر مریض سے مہذب سلوک گنگارام کے ڈاکٹرزکا وطیرہ ہے۔

    کسی وقت کسی نے پریشانی میں کوئی بات کردی ہوتو وہ اپنی جگہ، گنگا رام ہسپتال کے تما م کے تمام ڈاکٹرز مگرمہذب انداز بیان رکھتے ہیں۔شعبہ جگرکی ہیڈ ڈاکٹر شازیہ کا شمار پاکستان کے ان پروفیشنل ڈاکٹروں میں ہوتا ہے جن کی طب میں خدمات کے قائل لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔لاہور کی سڑکوں پر ون ویلنگ کرنے والے ایک اورنوجوان اسحاق کو ان کے ابو کے ساتھ جنرل ہسپتال میں ہونے والے سلوک پر غم ہے، اسحاق نے اس بارے میں بتایا کہ ” جنرل ہسپتال میں مریض والد کےلئے جانا پڑتا ،یہاں پرحاصل ہوئی پریشانی کاغم سڑک پر غلط کرتاہوں، اپنے ابو کے ساتھ میں ہسپتال گیا،وہاں پر ایک ایک بیڈ پر دو، دو ، تین تین مریض لیٹے ، بیٹھے ہوتے ہیں۔

    یہ کیا سلوک ہے ؟ میرے ابو کی طبیعت خراب تھی، کسی ڈاکٹر نے بہت مشکل سے ڈرپ لگائی اور پھر ان کے لیٹنے کے لئے بستر بھی نہ دیا، اور بہت برے طریقے کے ساتھ سلوک کیا گیا“۔دلبرداشتہ نوجوانوں کی جانب سے جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں کے اعلیٰ اخلاق پر اٹھے سوالات کے بارے میں ڈاکٹر انور چوہدری نے آگاہی فراہم کی۔ ڈاکٹر انور چوہدری کے مطابق جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز اعلیٰ اخلاق رکھتے ہیں۔

    یہاں ہر مریض کے ساتھ برتاو¿‘ پیشہ وارانہ طریقے کے ساتھ کیا جاتاہے۔ ڈاکٹر انور چوہدری کا شمار پاکستان کے ٹاپ کے نیورولوجسٹ میں ہوتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق اور مدلل انداز بیان رکھنے والے ڈاکٹر انور چوہدری کہتے ہیں کہ وقتی طور پر کسی ڈاکٹر سے کسی مریض کے ساتھ کوئی غلط سلوک ہوجائے تو نوجوانوں کودل پر نہیں لینا چاہئے،حقیقی ڈاکٹر ہمیشہ آسانی پیدا کرتا ہے۔

    ون ویلنگ کے جرم کا شکار ہوئے نوجوان منتجم کے مطابق ”میری ون ویلنگ کی وجہ جناح ہسپتال کے ینگ ڈاکٹرزکی جانب سے کی گئی بدسلوکی ہے ، مجھے اپنے غصہ کا اظہار کرنے کا موقع صرف ون ویلنگ کرنے کی صورت میں نظر آتا ہے۔میں کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔عزت نفس مجروح ہونے کی وجہ سے اب کبھی بیمار بھی ہوا تو ہسپتال نہیں جاو¿ں گا“۔نوجوان منتجم کایہ خطرناک حال ینگ ڈاکٹرز کے رہنماءڈاکٹر خرم شہزاد کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے اس حوالے سے بتایاکہ ”جناح ہسپتال کے تمام ڈاکٹرز اعلیٰ پروفیشنل کردار کے حامل ہیں، اگر پھر بھی شکایت ہے تو ہم نوجوانوں کی شکایات دور کرنے کے لئے تیار ہیں“۔
     
    Akram Naaz and IQBAL HASSAN like this.
  2. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    اپ کی بات ٹھیک ہے یہ رجحان بہت زیادہ ہو رہا ہے
    نوجوان نسل میں یہ ایک زھر کے طرح پھیل رہا ہے
    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    بہت اچھا لگا پڑھ کر
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔
     
  3. Akram Naaz
    Offline

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member
    • 63/65

    بہت ہی پیاری شیئرنگ کی ہے
     
  4. IronMan
    Online

    IronMan My Name is Zain Khan from Islambad Staff Member
    • 28/33

Share This Page