1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. تمام ممبران سے گزارش ہے کہ ہمارا نیا فورم جوائن کریں
    join our new Forum

دُنیا کی تاریخ میں اہم شخصیات

Discussion in 'باتیں ملاقاتیں' started by UrduLover, Sep 27, 2017.

  1. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    دُنیا کی تاریخ میں اہم شخصیات

    ******
    ہم لوگ کئی ایسے لوگوں کے نام جانتے ہین جن کے ناموں کی مثالیں اپنے بڑوں سے سنا کرتے ہیں مگر ان کی ذندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے میں اس میں کچھ شخصیات کا تعارف کروا رہے ہیں۔ جو کہ میں روزانہ کی بنیاد پر کروانا چاہیں گے۔ امید ہے میرے اس سلسلے کو تمام دوستوں کی جانب سے پریزائی ملے گی۔آپ بھی اہم شخصیات کے بارے میں اشتراک کریں گےکوئی بھی شخصیت کے بارے میں تحریر شیئر کیجئے بیشک چنگیز خان۔فرعون۔ اور ظالمین و سائنس دان۔قومی ھیرو وغیرہ کے بارے کہانیاں و مضمون کا اشتراک کیجئے۔
    شکریہ
    :Aslam Alieykum2:
    سب سے پہلے تو میں حضرت محمد [​IMG] کے زندگی کے تھوڑے سے حالا ت پیش کروں گا کیونکہ آپ [​IMG] سے ذیادہ دنیا کی کوئی شخصیت ایسی نہیں جو ہر لحاظ سے کامیاب اور بہترین ہو اور ہر مکتبہ فکر ہر مذہب کے لوگ بھی اس بات پر متفق ہیں۔
    ------------------------------------------------------------------------------------------------------
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (570ء یا 571ء تا 632ء) دنیاوی تاریخ میں اہم ترین شخصیت کے طور پرنمودار ہوئے اور انکی یہ خصوصیت عالمی طور (مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں جانب) مصدقہ طور پر تسلیم شدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔[1] آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیاءاکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جنکو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کیلیۓ دنیا میں بھیجا۔ انسائکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ [2] 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔ انکا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبدمناف کے والد کا انتقال انکی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب انکی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہرضی اللہ عنہا بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جسکا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمت اللعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ نبوت کے اظہار سے قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی ، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عرب قبائل میں صادق اور امین کے القابات سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنا کثیر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل علیہ سلام نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام انسان کو پہنچایا وہ یہ ہے
    اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) -- القرآن
    ترجمہ: پڑھو (اے نبی) اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا (1) پیدا کیا انسان کو (نطفۂ مخلوط کے) جمے ہوئے خون سے (2)
    سورۃ 96 ( الْعَلَق ) آیات 1 تا 2
    یہ ابتدائی آیات بعد میں قرآن کا حصہ بنیں۔ اس واقعہ کے بعد سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رسول کی حیثیت سے تبلیغ اسلام کی ابتداء کی اور لوگوں کو خالق کی وحدانیت کی دعوت دینا شروع کی۔ انہوں نے لوگوں کو روزقیامت کی فکر کرنے کی تعلیم دی کہ جب تمام مخلوق اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیۓ خالق کے سامنے ہوگی۔ اپنی مختصر مدتِ تبلیغ کے دوران ہی انہوں نے پورے جزیرہ نما عرب میں اسلام کو ایک مضبوط دین بنا دیا، اسلامی ریاست قائم کی اور عرب میں اتحاد پیدا کر دیا جس کے بارے میں اس سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور قرآن کے مطابق کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ ان کو اپنی جان و مال اور پسندیدہ چیزوں پر فوقیت نہ دے۔ قیامت تک کے لوگ ان کی امت میں شامل ہیں۔

    ابتدائی حالات
    ولادت با سعادت
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سن ایک عام الفیل (570ء) میں ربیع الاول کے مبارک مہینےمیں بعثت سے چالیس سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش پر معجزات نمودار ہوئے جن کا ذکر قدیم آسمانی کتب میں تھا۔ مثلاً آتشکدہ فارس جو ھزار سال سے زیادہ سے روشن تھا بجھ گیا۔ مشکوٰۃ کی ایک حدیث ہے جس کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ' میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔ ۔ ۔ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا اور ان سے ایک ایسا نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے'[3][4]۔
    جس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش ہوئی اس سے پہلے قریش معاشی بدحالی کا شکار تھےمگر اس سال ویران زمین سرسبز و شاداب ہوئی، سوکھے ہوئے درخت ہرے ہو گئے اور قریش خوشحال ہو گئے[5] ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک زیادہ روایات 12 ربیع الاول کی ہیں اگرچہ کچھ علماء 9 ربیع الاول کو درست مانتے ہیں۔ اہلِ تشیع 17 ربیع الاول کو درست سمجھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا۔ یہ نام اس سے پہلے کبھی نہیں رکھا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت مکہ کے علاقے شعب ابی طالب کے جس گھر میں ہوئی وہ بعد میں کافی عرصہ ایک مسجد رہی جسے آج کل ایک کتاب خانہ (لائبریری) بنا دیا گیا ہے۔
    خاندانِ مبارک
    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعلق قریشِ عرب کے معزز ترین قبیلہ بنو ھاشم سے تھا۔ اس خاندان کی شرافت ، ایمانداری اور سخاوت بہت مشہور تھی۔ یہ خاندان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھا جسے دینِ حنیف کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھے مگر ان کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہوگیا تھا۔ والدہ کا نام حضرت آمنہ بنت وھب تھا جو قبیلہ بنی زھرہ کے سردار وھب بن عبدمناف بن قصی بن کلاب کی بیٹی تھیں۔ یعنی ان کا شجرہ ان کے شوھر عبداللہ بن عبدالمطلب کے ساتھ عبد مناف بن قصی کے ساتھ مل جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دادا عبدالمطلب قریش کے سردار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا شجرہ نسب حضرت عدنان سے جا ملتا ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام ابن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اور مشہور ترین عربوں میں سے تھے۔ حضرت عدنان کی اولاد کو بنو عدنان کہا جاتا ہے۔ یہ شجرہ یوں ہے۔
    محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فھر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان
    (عربی میں : محمد بن عبدالله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان )
    بچپن
    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد محترم حضرت عبداللہ ابن عبدالمطلب آپ کی ولادت سے چھ ماہ قبل وفات پا چکے تھے اور آپ کی پرورش آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کی۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کچھ مدت ایک بدوی قبیلہ کے ساتھ بسر کی جیسا عرب کا رواج تھا۔ اس کا مقصد بچوں کو فصیح عربی زبان سکھانا اور کھلی آب و ہوا میں صحت مند طریقے سے پرورش کرنا تھا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حضرت حلیمہ بنت عبداللہ اور حضرت ثویبہ(درست تلفظ: ثُوَیبہ) نے دودھ پلایا۔ چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ اور آٹھ سال کی عمر میں آپ کے دادا بھی وفات پا گئے۔ اس کے بعد آپ کی پرورش کی ذمہ داریاں آپ کے چچا اور بنو ہاشم کے نۓ سردار حضرت ابو طالب نے سرانجام دیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ابو طالب کے ساتھ شام کا تجارتی سفر بھی اختیار کیا اور تجارت کے امور سے واقفیت حاصل کی۔ اس سفر کے دوران ایک بحیرا نامی عیسائی راہب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں کچھ ایسی نشانیاں دیکھیں جو ایک آنے والے پیغمبر کے بارے میں قدیم آسمانی کتب میں لکھی تھیں۔ اس نے حضرت ابوطالب کو بتایا کہ اگر شام کے یہود یا نصاریٰ نے یہ نشانیاں پا لیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوطالب نے یہ سفر ملتوی کر دیا اور واپس مکہ آ گئے۔[6] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بچپن عام بچوں کی طرح کھیل کود میں نہیں گذرا ہوگا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نبوت کی نشانیاں شروع سے موجود تھیں۔ اس قسم کا ایک واقعہ اس وقت بھی پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بدوی قبیلہ میں اپنی دایہ کے پاس تھے۔ وہاں حبشہ کے کچھ عیسائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بغور دیکھا اور کچھ سوالات کیے یہاں تک کہ نبوت کی نشانیاں پائیں اور پھر کہنے لگے کہ ہم اس بچے کو پکڑ کر اپنی سرزمین میں لے جائیں گے۔ اس واقعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مکہ لوٹا دیا گیا۔ [7]۔[8]۔
    شام کا دوسرا سفر اور شادی
    تقریباًً 25 سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شام کا دوسرا بڑا سفر کیا جو حضرت خدیجہ علیہا السلام کے تجارتی قافلہ کے لیے تھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایمانداری کی بنا پر اپنے آپ کو ایک اچھا تاجر ثابت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوسرے لوگوں کا مال تجارت بھی تجارت کی غرض سے لے کر جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ خدمات حضرت خدیجہ علیہا السلام کے لیۓ بھی انجام دیا کرتے تھے۔ اس سفر سے واپسی پر حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایمانداری اور اخلاق کی کچھ باتیں بتائیں۔ انہوں نے جب یہ باتیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کو بتائیں تو ورقہ بن نوفل نے کہا کہ جو باتیں آپ نے بتائیں ہیں اگر صحیح ہیں تو یہ شخص یقیناً نبی ہیں[9]۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اچھے اخلاق اور ایمانداری سے بہت متاثر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو شادی کا پیغام دیا جس کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ابوطالب کے مشورے سے قبول کر لیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عمر 25 سال تھی۔حضرت خدیجہ علیہا السلام قریش کی مالدار ترین اور معزز ترین خواتین میں سے تھیں۔ حضرت خدیجہ علیہا السلام سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی چار بیٹیاں حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں۔ بعض علمائے اہلِ تشیع کے مطابق حضرت فاطمہ علیہا السلام کے علاوہ باقی بیٹیاں حضرت خدیجہ علیہا السلام کے پہلے خاوند سے تھیں۔
    بعثت (پہلی وحی)
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غوروفکر کے لیۓ مکہ سے باہر ایک غار حرا میں تشریف لے جاتے تھے۔ یہ کوہ حرا کا ایک غار ہے جسے کوہِ فاران بھی کہا جاتا تھا۔ 610ء میں فرشتہ جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر تشریف لائے، اس وقت سورۃ العلق کی وہ آیات نازل ہوئیں جن کا تذکرہ شروع میں ہوا ہے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عمر مبارک تقریباً چالیس برس تھی۔ شروع ہی میں حضرت خدیجہرضی اللہ عنہا، آپ کے چچا زاد حضرت علیرضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریبی دوست حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ، اور آپ کے آزاد کردہ غلام اور صحابی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لے آئے۔ مکہ کے باہر سے پہلے شخص حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ تھے جو اسلام لائے۔ پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قریبی ساتھیوں میں تبلیغ کی پھر تقریباً پہلی وحی کے تین سال بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعوتِ ذوالعشیرہ کے بعد سے اسلام کے پیغام کی کھلی تبلیغ شروع کی۔ اکثر لوگوں نے مخالفت کی مگر کچھ لوگ آہستہ آہستہ اسلام کی دعوت قبول کرتے گئے۔
    مخالفت
    جیسے جیسے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی مقامی قبیلوں اور لیڈروں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے لیۓ خطرہ سمجھنا شروع کر دیا۔ ان کی دولت اور عزت کعبہ کی وجہ سے تھی۔ اگر وہ اپنے بت کعبے سے باہر پھینک کر ایک اللہ کی عبادت کرنے لگتے تو انہیں خوف تھا کہ تجارت کا مرکز ان کے ہاتھ سے نکل جاۓ گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے قبیلے سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کونکہ وہ ہی کعبے کے رکھوالے تھے۔ قبائل نے ایک معاہدہ کے تحت مسلمانوں کا معاشی اور معاشرتی بائیکاٹ کیا یہاں تک کہ مسلمان تین سال شعبِ ابی طالب میں محصور رہے۔ یہ بائیکاٹ اس وقت ختم ہوا جب کعبہ پر لٹکے ہوئے معاہدے میں یہ دیکھا گیا کہ لفظ 'اللہ' کے علاوہ تمام حروف دیمک کی وجہ سے کھائے گئے ہیں۔ جب مخالفت حد سے بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کو حبشہ جہاں ایک عیسائی بادشاہ حکومت کرتا تھا کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔
    619ء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیوی حضرت خدیجہ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیارے چچا حضرت ابوطالب انتقال فرما گئے۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی دکھ کا سال قرار دیا۔
    معراج
    620ء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم معراج پر تشریف لے گئے۔ اس سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آسمانوں میں اللہ تعالی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔ وہاں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جنت اور دوزخ دکھایا۔ وہاں آپکی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔
    مدنی زندگی
    ہجرت
    622ء تک مسلمانوں کےلئے مکہ میں رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔ کئی دفعہ مسلمانوں اور خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تکالیف دیں گئیں۔ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ستمبر 622ء میں مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور مدینہ میں اپنی جگہ حضرت علی علیہ السلام کو امانتوں کی واپسی کے لیے چھوڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینہ پہنچنے پر ان کا انصار نے شاندار استقبال کیا اور اپنے تمام وسائل پیش کر دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ پہنچے تو انصار استقبال کے لیے آئے اور خواتین چھتوں پر سے دیکھ رہی تھیں۔ اور دف بجا کر کچھ اشعار پڑھ رہی تھیں جن کا ترجمہ یہ ہے۔
    ہم پر چودھویں کی رات کا چاند طلوع ہوگیا وداع کی پہاڑیوں سے ہم پر شکر واجب ہے جب تک کوئی اللہ کو پکارنے والا باقی رہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے رکی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے گھر قیام فرمایا۔ جس جگہ اونٹنی رکی تھی اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قیمتاً خرید کر ایک مسجد کی تعمیر شروع کی جو مسجد نبوی کہلائی۔ اس تعمیر میں انہوں نے خود بھی حصہ لیا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کے درمیان عقدِ مؤاخات کیا یعنی مسلمانوں کو اس طرح بھائی بنایا کہ انصار میں سے ایک کو مہاجرین میں سے ایک کا بھائی بنایا۔ خود حضرت علی علیہ السلام کو اپنا بھائی قرار دیا۔ انصار نے مہاجریں کی مثالی مدد کی۔ ہجرت کے ساتھ ہی اسلامی کیلنڈر کا آغاز بھی ہوا۔ آپ کے مدینہ آنے سے، اوس اور خزرج، یہاں کے دو قبائل جن نے بعد میں اسلام قبول بھی کیا میں لڑائی جھگڑا ختم ہوا اور ان میں اتحاد اور بھائی چارہ پیدا ہو گیا۔ اس کے علاوہ یہاں کچھ یہودیوں کے قبائل بھی تھے جو ہمیشہ فساد کا باعث تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آنے کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ 'میثاق مدینہ' نے مدینہ میں امن کی فضا پیدا کر دی۔ اسی دور میں مسلمانوں کو کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، اس سے پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے جو کہ یہودیوں کا بھی قبلہ تھا۔
    میثاقِ مدینہ
    میثاق مدینہ کو بجا طور پر تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ 730 الفاظ پر مشتمل ایک جامع دستور ہے جو ریاست مدینہ کا آئین تھا۔ 622ء میں ہونے والے اس معاہدے کی 53دفعات تھیں۔ یہ معاہدہ اور تحریری دستور مدینہ کے قبائل (بشمول یہود و نصاریٰ) کے درمیان جنگ نہ کرنے کا بھی عہد تھا۔ معاہدے کا بکثرت ثبوت پوری تفصیل کے ساتھ کتبِ تواریخ میں ملتا ہے مگر اس کے باوجود مغربی مصنفین اسے نظر انداز کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
    یہود و مشرکین کی سازشیں
    میثاقِ مدینہ کے بعد یہود مجبور تھے کہ وہ علی الاعلان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام کے خلاف بات نہ کر سکتے تھے اسی لیے انہوں نے خفیہ سازشیں شروع کیں جن میں سے ایک ادب اور اظہارِ آزادی کی آڑ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ گرامی حملہ کرنا تھا۔ عرب لوگ جو شعر و شاعری کے بڑے خوگر تھے ان کے لیے شاعری کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہتک کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ اسلام میں ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات کی اہمیت و درجہ مال و جان و اولاد سے زیادہ نہ ہوجائے۔ اس سلسلے میں تین شعراء نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف ہجو لکھیں۔ ایک کا نام کعب بن الاشرف تھا جو یہودی تھا دوسری کا نام اسماء بنت مروان تھا اور تیسرے کا نام ابوعنک تھا۔ جب وہ شاعر حد سے گذر گئے اور ان کے رکیک اشعار سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو شدید رنج پہنچا تو ان تینوں کو انہی کے قبیلے کے افراد نے قتل کر ڈالا۔ کعب بن الاشرف کو ان کی ایک رشتہ دار ابونائلہ نے قتل کیا۔ اسماء بنت مروان کو ان کے ہم قبیلہ ایک بابینا صحابی عمیر بن عوف رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔ ابو عنک کو حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔

    مدینہ میں ایک ریاست قائم کرنے کے بعد مسلمانوں کو اپنے دفاع کی کئی جنگیں لڑنا پڑیں۔ ان میں سے جن میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شریک تھے انہیں غزوہ کہتے ہیں اور جن میں وہ شریک نہیں تھے انہیں سریہ کہا جاتا ہے۔ اہم غزوات یا سریات درج ذیل ہیں۔
    • غزوہ بدر : 17 رمضان 2ھ (17 مارچ 624ء) کو بدر کے مقامات پر مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان غزوہ بدر ہوئی۔ مسلمانوں کی تعداد 313 جبکہ کفار مکہ کی تعداد 1300 تھی۔ مسلمانوں کو جنگ میں فتح ہوئی۔ 70 مشرکینِ مکہ مارے گئے جن میں سے 36 حضرت علی علیہ السلام کی تلوار سے ھلاک ہوئے۔ مشرکین 70 جنگی قیدیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مسلمان شہداء کی تعداد 14 تھی۔ جنگ میں فتح کے بعد مسلمان مدینہ میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھرے۔

    • غزوہ احد :7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں ابوسفیان کفار کے 3000 لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ احد کے پہاڑ کے دامن میں ہونے والی یہ جنگ غزوہ احد کہلائی۔ آپ نے مسلمانوں کے ایک گروہ کو ایک ٹیلے پر مقرر فرمایا تھا اور یہ ہدایت دی تھی کہ جنگ کا جو بھی فیصلہ ہو وہ اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ ابتدا میں مسلمانوں نے کفار کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ٹیلے پر موجود لوگوں نے بھی یہ سوچتے ہوئے کہ فتح ہو گئی ہے کفار کا پیچھا کرنا شروع کر دیا یا مالِ غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ خالد بن ولید جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اس بات کا فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں پر پچھلی طرف سے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اچانک تھا۔ مسلمانوں کو اس سے کافی نقصان ہوا لیکن کفار چونکہ پیچھے ہٹ چکے تھے اس لئے واپس چلے گئے۔ اس جنگ سے مسلمانوں کو یہ سبق ملا کہ کسی بھی صورت میں رسول اکرم کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں۔

    • غزوہ خندق (احزاب): شوال۔ ذی القعدہ 5ھ (مارچ 627ء) میں مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے جنگ کی ٹھانی مگر مسلمانوں نے حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ مشرکینِ مکہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے کئی افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ بعض روایات کے مطابق ایک آندھی نے مشرکین کے خیمے اکھاڑ پھینکے۔

    • غزوہ بنی قریظہ: ذی القعدہ ۔ ذی الحجہ 5ھ (اپریل 627ء) کو یہ جنگ ہوئی۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔

    • غزوہ بنی مصطلق: شعبان 6ھ (دسمبر 627ء۔ جنوری 628ء) میں یہ جنگ بنی مصطلق کے ساتھ ہوئی۔ مسلمان فتح یاب ہوئے۔

    • غزوہ خیبر: محرم 7ھ (مئی 628ء) میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یہ جنگ ہوئی جس میں مسلمان فتح یاب ہوئے۔

    • جنگِ موتہ: 5 جمادی الاول 8ھ (اگست ۔ ستمبر 629ء) کو موتہ کے مقام پر یہ جنگ ہوئی۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شریک نہیں ہوئے تھے اس لیے اسے غزوہ نہیں کہتے۔

    • غزوہ فتح (فتحِ مکہ): رمضان 8ھ (جنوری 630ء) میں مسلمانوں نے مکہ فتح کیا۔ جنگ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی کیونکہ مسلمانوں کی ہیبت سے مشرکینِ مکہ ڈر گئے تھے۔ اس کے بعد مکہ کی اکثریت مسلمان ہو گئی تھی۔

    • غزوہ حنین: شوال 8ھ (جنوری ۔ فروری 630ء) میں یہ جنگ ہوئی۔ پہلے مسلمانوں کو شکست ہو رہی تھی مگر بعد میں وہ فتح میں بدل گئی۔

    • غزوہ تبوک: رجب 9ھ (اکتوبر 630ء) میں یہ افواہ پھیلنے کے بعد کہ بازنطینیوں نے ایک عظیم فوج تیار کر کے شام کے محاذ پر رکھی ہے اور کسی بھی وقت حملہ کیا جا سکتا ہے، مسلمان ایک عظیم فوج تیار کر کے شام کی طرف تبوک کے مقام پر چلے گئے۔ وہاں کوئی دشمن فوج نہ پائی اس لیے جنگ نہ ہو سکی مگر اس علاقے کے کئی قبائل سے معاہدے ہوئے اور جزیہ ملنے لگا اور مسلمانوں کی طاقت کے چرچے عرب میں دور دور تک ہو گئے۔
    صلح حدیبیہ ۔
    مدینہ اورمشرکینِ مکہ کے درمیان مارچ 628ء کو ایک معاہدہ ہوا جسے صلح حدیبیہ (عربی میں صلح الحديبية ) کہتے ہیں۔ 628ء (6 ھجری) میں 1400 مسلمانوں کے ہمراہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ سے مکہ کی طرف عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ عرب کے رواج کے مطابق غیر مسلح افراد چاہے وہ دشمن کیوں نہ ہوں کعبہ کی زیارت کر سکتے تھے جس میں رسومات بھی شامل تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان تقریباًً غیر مسلح تھے۔ مگر عرب کے رواج کے خلاف مشرکینِ مکہ نے حضرت خالد بن ولید (جو بعد میں مسلمان ہو گئے) کی قیادت میں دو سو مسلح سواروں کے ساتھ مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر مکہ کے باہر ہی روک لیا۔ اس وقت تک مسلمان انتہائی طاقتور ہو چکے تھے مگر یہ یاد رہے کہ اس وقت مسلمان جنگ کی تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ اسی لیے بعض لوگ چاہتے تھے کہ جنگ ضرور ہو۔ خود مسلمانوں میں ایسے لوگ تھے جن کو معاہدہ کی شرائط پسند نہیں تھیں۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دانشمندی سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ اس کی بنیادی شق یہ تھی کہ دس سال تک جنگ نہیں لڑی جائے گی اور مسلمان اس سال واپس چلے جائیں گے اور عمرہ کے لیے اگلے سال آئیں گے۔ چنانچہ مسلمان واپس مدینہ آئے اور پھر 629ء میں حج کیا۔ اس معاہدہ سے پہلے جب مسلمانوں کے ایک نمائندے کو مشرکین نے روک لیا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں سے اپنی بیعت بھی لی جسے بیعتِ رضوان کہا جاتا ہے۔ اس بیعت میں مسلمانوں نے عہد کیا کہ وہ مرتے دم تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ اس معاہدہ کے بہت سود مند اثرات برآمد ہوئے۔
    حکمرانوں کو خطوط
    صلح حدیبیہ کے بعد محرم 7ھ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مختلف حکمرانوں کو خطوط لکھے اور اپنے سفیروں کو ان خطوط کے ساتھ بھیجا۔ ان خطوط میں اسلام کی دعوت دی گئی۔ ان میں سے ایک خط ترکی کے توپ کاپی نامی عجائب گھر میں موجود ہے۔ ان حکمرانوں میں فارس کا بادشاہ خسرو پرویز، مشرقی روم (بازنطین) کا بادشاہ ھرکولیس، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، مصر اور اسکندریہ کا حکمران مقوقس اور یمن کا سردار شامل ہیں۔ پرویز نے یہ خط پھاڑ دیا تھا اور بعض روایات کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیشینگوئی کی تھی کہ اس کی سلطنت اسی طرح ٹکرے ٹکرے ہو جائے گی۔ نجاشی نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کی تصدیق کی اور کہا کہ ہمیں انجیل میں ان کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ مصر اور اسکندریہ کے حکمران مقوقس نے نرم جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں کچھ تحائف روانہ کیے اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو روانہ کیا جب سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بیٹے ابراہیم کی ولادت ہوئی۔[19]۔
    فتح مکہ
    اگرچہ صلح حدیبیہ کی مدت دس سال طے کی گئی تھی تاہم یہ صرف دو برس ہی نافذ رہ سکا۔ بنو قزع کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اتحاد جبکہ ان کے مخالف بنو بکر مکہ کے ساتھ تھے۔ ایک رات بنو بکر کے کچھ آدمیوں نے شب خون مارتے ہوئے بنو قزعہ کے کچھ لوگ قتل کر دیے۔ قریش نے ہتھیاروں کے ساتھ اپنے اتحادیوں کی مدد کی جبکہ بعض روایات کے مطابق چند قریش بذات خود بھی حملہ آروں میں شامل تھے۔ اس واقعہ کے بعد نبی اکرم نے قریش کو ایک تین نکاتی پیغام بھیجا اور کہا کہ ان میں سے کوئی منتخب کر لیں: 1۔ قریش بنو قزعہ کو خون بہا ادا کرے، 2۔ بنو بکر سے تعلق توڑ لیں، 3۔ صلح حدیبیہ کو کالعدم قرار دیں۔
    قریش نے جواب دیا کہ وہ صرف تیسری شرط تسلیم کریں گے۔ تاہم جلد ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور ابو سفیان کو معاہدے کی تجدید کے لئے روانہ کیا گیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی درخواست رد کر دی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت تک قریش کے خلاف چڑھائی کی تیاری شروع کر چکے تھے۔
    630ء میں انہوں نے دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ مسلمانوں کی ہیبت دیکھ کر بہت سے مشرکین نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عام معافی کا اعلان کیا۔ ایک چھوٹی سے جھڑپ کے علاوہ تمام کارروائی پر امن انداز سے مکمل ہو گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فاتح بن کر مکہ میں داخل ہو گئے۔ داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے آپ نے کعبہ میں موجود تمام بت توڑ ڈالے اور شرک و بت پرستی کے خاتمے کا اعلان کیا۔
    حجۃ الوداع
    حجۃ الوداع ۔
    حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زندگی کا آخری حج سن 10ھ میں کیا۔ اسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ آپ 25 ذی القعدہ 10ھ (فروری 632ء) کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج آپ کے ساتھ تھیں۔ مدینہ سے 9 کلومیٹر دور ذوالحلیفہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے احرام پہنا۔ دس دن بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ پہنچ گئے۔ حج میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ھزار سے زیادہ تھی۔ عرفہ کے دن ایک خطبہ دیا اور اس سے اگلے دن منیٰ میں ایک یادگار خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں انہوں نے اسلامی تعلیمات کا ایک نچوڑ پیش کیا اور مسلمانوں کو گواہ بنایا کہ انہوں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا ہے۔ اور یہ بھی تاکید کی کہ یہ باتیں ان لوگوں کو بھی پہنچائی جائیں جو اس حج میں شریک نہیں ہیں۔ اس خطبہ میں انہوں نے یہ فرمایا کہ شاید مسلمان انہیں اس کے بعد نہ دیکھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ مسلمان پر دوسرے مسلمان کا جان و مال حرام ہے۔ اور یہ بھی کہ نسل کی بنیاد پر کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہے۔ انہوں نے اسلام کے حرام و حلال پر بھی روشنی ڈالی۔ خطبہ کے آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ جو حاضر ہے وہ غائب تک اس پیغام کو پہنچائے۔ ان دو خطبات کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیرِ خم کے مقام پر بھی خطبہ دیا جو خطبہ غدیر کے نام سے مشہور ہے۔ اس حج کے تقریباً تین ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کو پیارے ہو گئے۔ [20]
    وفات
    حجۃ الوداع کے فوراً بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کچھ بیمار ہوئے پھر ٹھیک ہو گئے مگر کچھ عرصہ بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر بیمار پڑ گئے اورکئی روز تک ان کے سر میں درد ہوتا رہا۔ بالاخر روایات کے مطابق مئی یا جون 632ء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انتقال کر گئے۔ بعض روایات کے مطابق جنگِ خیبر کے دوران ایک یہودی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو زھر دیا تھا جس کے اثر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیمار ہوئے۔ غزوہ خیبر کے فوراً بعد بنو نضیر کی ایک یہودی عورت نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھیڑ کا گوشت پیش کیا جس میں ایک سریع الاثر زھر ملا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے یہ محسوس ہونے پر تھوک دیا کہ اس میں زھر ہے مگر ان کے ایک صحابی جو ان کےساتھ کھانے میں شریک تھے، شہید ہو گئے۔ ایک صحابی کی روایت کے مطابق بسترِ وفات پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ ان کی بیماری اس زھر کا اثر ہے جو خیبر میں دیا گیا تھا۔ [21] ۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر 63 برس تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے غسل و کفن دیا اور اصحاب کی مختلف جماعتوں نے یکے بعد دیگرے نمازِ جنازہ ادا کی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مسجد نبوی کے ساتھ ملحق ان کے حجرے میں اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں ان کی وفات ہوئی تھی۔ یہ اور اس کے اردگرد کی تمام جگہ اب مسجدِ نبوی میں شامل ہے۔

    ازواج مطہرات اور اولاد

    حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مختلف روایات میں گیارہ سے تیرہ ازواج کے نام ملتے ہیں۔ زیادہ تر پہلے بیوہ تھیں اور عمر میں بھی زیادہ تھیں اور زیادہ شادیوں کا عرب میں عام رواج تھا۔ مؤرخین کے مطابق اکثر شادیاں مختلف قبائل سے اتحاد کے لیے یا ان خواتین کو عزت دینے کے لیے کی گئیں۔ ان میں سے اکثر سن رسیدہ تھیں اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کثرت ازدواج کا الزام لگانے والوں کی دلیلیں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے صرف حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت جحش سے اولاد ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کو امہات المؤمنین کہا جاتا ہے یعنی مؤمنین کی مائیں۔ ان کے نام اور کچھ حالات درج ذیل ہیں۔
    • حضرت خدیجہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہلی شادی حضرت خدیجہ علیہا السلام سے ہوئی۔ ان سے ان کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام پیدا ہوئیں جس پر سب مؤرخین کا اتفاق ہے۔ تین اور بیٹیوں کے بارے میں کچھ مؤرخین کے خیال میں وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اپنی بیٹیاں تھیں، کچھ کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ حضرت خدیجہ علیہ السلام کی پہلے شوھر سے بیٹیاں تھیں اور کچھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ باقی بیٹیاں حضرت خدیجہ علیہ السلام کی بہن ھالہ کی بیٹیاں تھیں جو حضرت خدیجہ علیہ السلام کے زیرِ پرورش تھیں کیونکہ ان کی والدہ ھالہ کا انتقال ہو چکا تھا۔
    • حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا : ان کے پہلے خاوند (جن کے ساتھ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی) کا انتقال حبشہ میں ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے شادی کر کے ان کے ایمان کا تحفظ کیا کیونکہ ان کے قبیلہ کے تمام افراد مشرک تھے۔
    • حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا : ان کے پہلے شوھر حضرت عبداللہ بن جحش کی شہادت جنگِ احد میں ہوئی جس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے شادی کر لی۔
    • حضرت ام سلمہ ھند رضی اللہ عنہا : آپ پہلے عبداللہ ابوسلمہ کی زوجیت میں تھیں اور کافی سن رسیدہ تھیں۔ ان کے شوھر کے انتقال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے شادی کی۔
    • حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا : ان کا شوھر جنگِ خیبر میں مارا گیا اور یہ گرفتار ہو کر آئیں تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے عقد کر لیا۔
    • حضرت جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا : یہ ایک جنگ کی قیدیوں میں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے قبیلہ کے دو سو افراد بھی قید ہو کر آئے تھے۔ مسلمانوں نے سب کو آزاد کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جویریہ سے شادی کر لی تو تمام قبیلہ کے افراد مسلمان ہو گئے۔
    • حضرت میمونہ بنت الحارث الہلالیہ رضی اللہ عنہا : انہوں نے اپنے شوھر کے انتقال کے بعد خود حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عقد کی خواہش کی جسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قبول کیا۔
    • حضرت ام حبیبہ رملہ رضی اللہ عنہا: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے شادی کی تو یہ مسلمان تھیں مگر ان کے والد ابو سفیان نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت امِ حبیبہ اپنے والد ابو سفیان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی چادر پر نہیں بیٹھنے دیتی تھیں کیونکہ اس وقت ابو سفیان مشرک تھے۔
    • حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا : آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ آپ کے شوھر خیس بن حذاقہ جنگِ بدر میں مارے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے شادی کی۔
    • حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا: آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں اور کم عمر تھیں اور پہلی شادی ہی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کافی عرصہ زندہ رہیں۔ ان سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔
    • حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا: ان سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تین بیٹے قاسم ، عبداللہ الطاھر اور ابراہیم پیدا ہوئے مگر تینوں کم عمری میں انتقال کر گئے۔
    • حضرت ماریہ القبطیہ رضی اللہ عنہا: بعض روایات کے مطابق آپ کنیزہ تھیں مگر زیادہ روایات کے مطابق آپ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شادی کی تھی چنانچہ آپ بھی امہات المومنین میں شامل ہیں۔
    مشہور صحابہ
    • حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
    • حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
    • حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
    • حضرت علی کرم اللہ وجہہ
    • حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ
    • حضرت بلال رضی اللہ عنہ
    • حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ
    • حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ
    • حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ
    • حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
    • حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
    • حضرت عبداللہ بن جعفرالطیار رضی اللہ عنہ
    • حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ
    • حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ
    • حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
    • حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ
    • حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ
    • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
    • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
    غیر مسلم مشاہیر کے خیالات
    مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب The Hundred میں دنیا کے ان سو عظیم ترین آدمیوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے دنیا کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سب سے پہلے شمار پر رکھا ہے۔ مصنف ایک عیسائی ہوکر بھی اپنے دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پورے نسل انسانی میں سیّدالبشرکہنے کے لائق ہیں۔[22] تھامس کارلائیل نے 1840ء کے مشہور دروس (لیکچرز) میں کہا کہ ”میں محمد سے محبت کرتاہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان کی طبیعت میں نام ونمود اور ریا کا شائبہ تک نہ تھا ۔ ہم انہی صفات کے بدلے میں آپ کی خدمت میں ہدیہً اخلاص پیش کرتے ہیں “۔ فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کہتاہے ” محمد دراصل سروراعظم تھے ۔15سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاﺅں کی پرستش سے توبہ کرڈالی۔ مٹی کی بنی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں ۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ تھا آنحضرت کی تعلیم کا “۔ جارج برناڈشا لکھتا ہے ” موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد اس دنیا کے رہنما بنیں “۔ گاندھی لکھتا ہے کہ ” بانی اسلام نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کو سچائی کا راستہ دکھایا اور برابری کی تعلیم دی ۔ میں اسلام کا جتنا مطالعہ کرتاہوں اتنا مجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوار سے نہیں پھیلا “۔ جرمنی کا مشہور ادیب شاعر اور ڈرامہ نگار ”گوئٹے “ حضور کا مداح اور عاشق تھا ۔اپنی تخلیق ”دیوانِ مغربی“میں گوئٹے نے حضور اقدس کی بارگاہ میں جگہ جگہ عشق محمد کا اظہار کیا ہے اور ان کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں ۔ فرانس کے محقق ڈی لمرٹائن نے اپنی کتاب ”تاریخِ ترکی“ میں انسانی عظمت کے لئے جو معیار قائم کیا اس ضمن میں فاضل تاریخ دان لکھتاہے ” اگر انسانی عظمت کو ناپنے کے لئے تین شرائط اہم ہیں جن میں (۱) ۔ مقصد کی بلندی ، (۲) ۔ وسائل کی کمی، (۳)۔حیرت انگیر نتائج ۔ تو اس معیار پر جدید تاریخ کی کو ن سی شخصیت محمد سے ہمسری کا دعویٰ کرسکتی ہے “۔ فرانسیسی مصنف دی لمرتین لکھتاہے ” فلسفی ، مبلغ ، پیغمبر ، قانون سا ز ، سپاہ سالار، ذہنو ں کا فاتح ، دانائی کے عقائد برپا کرنے والا ، بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا ۔ بیسیوں ریاستوں کو ایک روحانی سلطنت میں متحد کرنے والا....وہ محمد ہیں ....جہاں تک انسانی عظمت کے معیار کا تعلق ہے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ان معیاروں پر پورا اُترنے والا محمد سے بھی کوئی برتر ہوسکتا ہے “۔؟ ڈاکٹر شیلے پیغمبر آخرالزماں کی ابدیت اور لاثانیت کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” محمد گزشتہ اور موجودہ لوگوں میں سب سے اکمل اور افضل تھے اور آئندہ ان کا مثال پیدا ہونا محال اور قطعاً غیر ممکن ہے“
    جارج برناڈشا لکھتاہے ” موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد اس دنیا کے رہنما بنیں “۔
    مہاتما گاندھی لکھتے ہیں ” بانی اسلام نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کو سچائی کا راستہ دکھایا اور برابری کی تعلیم دی ۔ میں اسلام کا جتنا مطالعہ کرتاہوں اتنا مجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوار سے نہیں پھیلا “۔
    امریکی میگزین ”ٹائم “ نے اپنی جولائی 1974ءکی اشاعت میں ایک تحقیقی مقابلے کا انعقاد کیا ۔ مقابلے کا عنوان تھا ” دنیا کی تاریخ میں اعلیٰ قائد بننے کے کیا شرائط ہیں اور ان شرائط پر کون کھرا اُترتاہے “ ۔ اس مقابلے میں کئی فاضل تاریخ دانوں ، دانشوروں اور محققوں نے حصہ لیا اور آخر میں سب محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا میں محمد کی رہنمائی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ٹائم میگزین کے اس تحقیقی مقابلے کے چند اقتباسات ملاحظہ کریں۔
    ۱- امریکی دانشور جیمز گاون لکھتاہے ” جن رہنماﺅں نے دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کیا ، ان میں محمد کا نام لینا سب سے ضروری سمجھتاہوں “۔
    ۲-امریکی سا ئیکالوجسٹ اورشکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر "Jole Masserman" جو مذہبی اعتبار سے یہودی تھا ، نے ایک قائد کے لئے جو لوازمات مقرر کئے ان لوازمات پر بقول مارس مین صرف محمد ہی پورااُترتے ہیں چنانچہ اپنے مضمون میں کافی بحث وتمحیص کے بعد فاضل مقرر رقمطراز ہے :
    Not Jusus, Not Moses, But Muhammad (PBU) was Greatest Leader of All Time. (Time, July,1974)
    جرمنی کا مشہور ادیب شاعر اور ڈرامہ نگار ”گوئٹے “ حضور کا مداح اور عاشق تھا ۔اپنی تخلیق ”دیوانِ مغربی“میں گوئٹے نے حضور اقدس کی بارگاہ میں جگہ جگہ عشق محمد کا اظہار کیا ہے اور ان کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں ۔
    فرانس کے محقق ”ڈی لمرٹائن“اپنی کتاب ”ہسٹری دی ٹرکی“ یعنی تاریخ ترکی میں انسانی عظمت کے لئے جو معیار قائم کیا اس ضمن میں فاضل تاریخ دان لکھتاہے ” اگر انسانی عظمت کو ناپنے کے لئے تین شرائط اہم ہیں جن میں (۱) ۔ مقصد کی بلندی ، (۲) ۔ وسائل کی کمی، (۳)۔حیرت انگیر نتائج ۔ تو اس معیار پر جدید تاریخ کی کو ن سی شخصیت محمد سے ہمسری کا دعویٰ کرسکتی ہے “۔
    آخر میں فرانسیسی مصنف ڈی لمرٹائن لکھتاہے ” فلسفی ، مبلغ ، پیغمبر ، قانون سا ز ، سپاہ سالار، ذہنو ں کا فاتح ، دانائی کے عقائد برپا کرنے والا ، بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا ،بیسوںسلطنت کو ایک روحانی سلطنت میں متحد کرنے والا....وہ محمدہیں ....جہاں تک انسانی عظمت کے معیار کا تعلق ہے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ان معیاروں پر پورا اُترنے والا محمد سے بھی کوئی برتر ہوسکتاہے “۔؟
    غرض محمد کی ہمسری کسی سے ممکن نہیں ۔ ع
    بعد از خدا بزرگ تولی قصہ مختصر
    حضور کی سچائی کا انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا جلد 11یوں اعلان کرتاہے
    ” محمد تمام مذاہب کے پیشواﺅں سے کامیاب ترین پیشوا تھے “۔ ڈاکٹر شیلے پیغمبر آخرالزماں کی ابدیت اور لاثانیت کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” محمد گزشتہ اور موجودہ لوگوں میں سب سے اکمل اور افضل تھے اور آئندہ ان کا مثال پیدا ہونا محال اور قطعاً غیر ممکن ہے“۔
    حضور کی بعثت سے پہلے بھی تمام انبیائے کرام حتیٰ کہ یہود ونصاریٰ کے عالموںنے بھی نبی آخرالزماں کے آنے کی بشارتیں سنائیں ۔ پھر حضور کی آمد کے بعد زمانے کی آنکھ نے آپ کو دیکھا اور پرکھا۔ آپ ہر کسوٹی پر کھرے اترے ۔ حضور کا سب سے بڑا گواہ ان کا اپنا زمانہ ہے جس میں آپ کے اپنے دوست اور دشمن بھی حضور کو صادق ، امین اور معصوم مانتے تھے ۔ حضور کے زمانے سے لے کر تاایں دم اولعزم شخصیات ، مسلمان اور غیر مسلم سب نے متفق ہوکر آپ کی سچائی کا اعتراف کیا ۔ جدید علم تحقیق کے مطابق حقائق کو جانچنے کے لئے "Primary Source" مستندترین ذریعہ ہوتاہے ۔ حضور کے حق میں ان کا Primary Source سب سے بڑا گوا ہ ہے تو نہ جانے موجودہ دو رکے مغربی متعصب قلمکارحضور کے برخلاف مواد کن ذرائع سے لے لیتے ہیں ؟ ظاہر ہے ایسا مواد تحقیقی زاویے بے سند اور غیر معتبر ہوکر من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ذاتی عناد ہی ہے ۔ ایسا زہریلا مواد نبی برحق کے دشمنوں کے دل ودماغ میں پنپتے ناسور سے رستا ہوا پیپ ہے جو دشمنوں کے اپنے وجود کو ناپاک او ربدبو دار بنادیتاہے ۔
    حال ہی میں مغربی ذرائع ابلاغ کے ایک متعصب طبقے کی طر ف سے محسن انسانیت کے خلاف اہانت آمیز مضامین کی اشاعت آسمان پر تھوکنے کے مترادف ہے۔
    چنانچہ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے روبہ زوال ہورہاہے ۔مغربی سماج کا تانا بانا ٹوٹ کر بکھر رہاہے ۔ اس بے ہودہ نظام میں افراتفری ، بے راہ روی ، زنا ، فحاشی ، شراب ، منشیات ، جرائم،استحصال ، قتل وغارت ، جنگی جنون اور مادیت کے بے ہنگم شور شرابے میں انسانیت کا دم گھٹتا جارہا ہے اور انسانیت سہمی ہوئی اور اضطرابی حالت میں سکون کی تلاش میں اسلام کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہے ۔اسلام کی آغوش میںآنے کا بڑھتا ہوا رجحان مغرب کے یہودی سرمایہ داروں کو بے چین کررہاہے ۔ مغرب میں بھٹکی ہوئی روحیں پھر سوئے حرم چل پڑنے کے لئے رخت سفر باندھ رہی ہیں ۔ اس ضمن میں ” پوپ“ کا مغرب میں اسلامی شریعت نافذ کرنے کی تمنابرملا اعتراف حق اور مغرب کے لئے نوشتہ دیوار ہے ۔حکومت برطانیہ کی طرف سے گمراہ رشدی کو ” سر “ کاخطاب دینا برطانوی حکمرانوں کے بے سر ہونے کی علامت اور بوکھلاہٹ کی غماز ہے ۔جس زمانے میں برطانوی مملکت پھیلی ہوئی تھی ،اس وقت کا برطانوی قومی ہیرو اور ہردلعزیز رہنما جناب جارج برناڈ شاہ حضور پاک کا مداح اور شیدائی ہوکر حضورکو”انسانیت کا نجات دہندہ“ مانتا تھا ۔آج جب برطانیہ دنیا کے نقشے پر نکتے کے برابر سمٹ چکاہے اور اس کا سورج غروب ہونے کو ہے تو برطانوی حکمرانوں کی پست ذہنی کسی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ اخلاق کی پستی ہی زوال پذیری کی علامت ہے ۔
    آج کے دور میں مسلمانوں کی بہتری ،مغربی بوکھلاہٹ کے جواب میں مشتعل ہونے کے بجائے زوال آمادہ مغرب میں اپنے پیارے نبی کے رحمتی پیغام کو عام کرنے میں ہی مضمر ہے ۔ مسلمان مغربی الزامات کے جواب میں سچے نبی کی سچائی پیش کریں ۔ اشتعال کے بدلے اصول پیش کریں ، ظلم کے بدلے مروّت ، زنا کے بدلے نکاح ، بے راہ روی کے بدلے شرم وحیاء، جنگی جنوں کے بدلے صلح ، استبدادِ جمہوری کے بدلے عدل فاروقیؓ ، سوشلزم کے دعویداروں کو خدیجہؓ کا ایک ہی دن میں سات ارب دینار تقسیم کرنا اور شام کو چراغِ مصطفویٰ کے بے تیل ہونا ۔ شاہی محلات کے چکاچوند میں بسنے والے حکمرانوں کو بادشاہ دو جہاں کا ٹوٹے بوریا پر آرام فرمانا ۔ غرض مغر ب کی گمراہی کے سامنے اسلام کی سچائی پیش کریں ۔ بے ہدایتوں کو ہدایت کا نور دکھائیں ، بے اصولوں کو اصول سمجھائیں ۔بس یہی مغرب کی بوکھلاہٹ کا صحیح جواب ہے ۔ طاقت کے قیصر وکسریٰ تو خاک ہوئے ۔ مغرب آج سماجی انحطاط کے بناءپر پکّے ہوئے پھل کی طرح اسلام کی جھولی میں گرنے کو ہے ۔ کاش مسلمان اپنی جھولی پھیلائیں تو بات بنے ۔ مغرب تشنہ لب اور پیاسا ہے۔ بھٹکتے صحرامیں اسے آبِ زم زم کی راہ دکھائیں تو بات بنے ۔آج کے پر آشوب دور میں بھٹکتی سسکتی اور درد سے کراہتی ہوئی انسانیت کو رحمتہ للعالمین کے سائے رحمت میں پناہ ملے تو بات بنے

     
    Last edited: Sep 27, 2017
  2. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    قائد اعظم محمد علی جناح
    پیدائش 25 دسمبر 1876(1876-12-25)
    کراچی ، بمبئی پریزیڈینسی ، برطانوی ہند
    وفات 11 ستمبر 1948 (عمر 71 سال)
    کراچی ، پاکستان
    سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ (1913–1947)
    Other political
    affiliations انڈین نیشنل کانگریس (1896–1913)
    ازواج ایمی بائی جناح
    مریم جناح
    بچے دینا جناح
    مادر علمی Lincoln's Inn
    پیشہ قانون دان

    قائد اعظم محمد علی جناح (25 دسمبر 1876ء - 11 ستمبر 1948ء) ایک پاکستانی سیاستدان اور آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر تھے جن کی قیادت میں مسلمانوں نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی، یوں پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی “قوم کا باپ“ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے، اس دن پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے۔
    آغاز میں آپ انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہوئے اور مسلم ہندو اتحاد کے حامی تھے۔ آپ ہی کی کوششوں سے 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگرس میں معاہدہ ہوا۔ کانگرس سے اختلافات کی وجہ سے آپ نے کانگرس پارٹی چھوڑ دی اور مسلم لیگ کی قیادت میں شامل ہو گئے۔ آپ نے خودمختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کئے۔ مسلم لیڈروں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ انڈیا چھوڑ کر برطانیہ چلے کئے۔ بہت سے مسلمان رہنماؤں خصوصا علامہ اقبال کی کوششوں کی وجہ سے آپ واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔جناح عقائد کی نقطہء نظر سے ایک معتدل مزاج شیعہ مسلمان تھے۔کئی مسلمان رہنماؤں نے جناح کو 1934ء ہندوستان واپسی اور مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کے لئے راضی کیا۔ جناح 1940ء کی قراردادِ پاکستان (قرار دادِ لاہور) کی روشنی میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست بنام پاکستان بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہوگئے۔1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی بیشتر نشستوں میں کامیابی حاصل کی اور جناح نے پاکستان کے قیام کے لئے براہ راست جدوجہد کی مہم کا آغاز کردیا، جس کے ردِ عمل کے طور پر کانگریس کے حامیوں نے جنوبی ایشیاء میں گروہی فسادات کروادئیے۔ مسلم لیگ اور کانگریس کے اتحاد کی تمام تر کوششوں کی ناکامی کے بعد آخر کار برطانیہ کو پاکستان اور بھارت کی آزادی کے مطالبے کو تسلیم کرنا پڑا۔ بحیثیت گورنرجنرل پاکستان، جناح نے لاکھوں پناہ گزینوں کی آبادکاری، ملک کی داخلی و خارجی پالیسی، تحفظ اور معاشی ترقی کے لئے جدوجہد کی۔
    آپ 25 دسمبر 1876ء کو وزیر مینشن، کراچی، سندھ میں پید اہوئے، جوکہ اُس وقت بمبئی کا حصہ تھا۔ آپ کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی رکھا گیا۔ گوکہ ابتدائی اسکول کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جناح کی تاریخِ پیدائش 20 اکتوبر 1875ء تھی، لیکن بعد میں جناح نے خود اپنی تاریخِ پیدائش 25 دسمبر 1876ء بتائی۔ آپ اپنے والد پونجا جناح (1857ء-1901ء) کے سات بچوں میں سے سب سے بڑے تھے۔ آپ کے والد گجرات کے ایک مالدار تاجر تھے جو کہ جناح کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے کاٹھیاوار سے کراچی منتقل ہو گئے۔ اُن کے دادا کا نام جناح میگجی تھا، جوکہ کاٹھیاوار کی ریاست گوندل میں بھاٹیا نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ابتدائی طور پر یہ گھرانہ ہجرت کرکے ملتان کے نزدیک ساہیوال میں آباد ہوا۔ کچھ ذرائع سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جناح کے آباؤ اجداد ساہیوال، پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہندو راجپوت تھے جوکہ بعد مسلمان ہوگئے۔ جناح کے دیگر بہن بھائیوں میں تین بھائی اور تین بہنیں تھیں، بھائیوں میں احمد علی، بندے علی اور رحمت علی جبکہ بہنوں میں مریم جناح، فاطمہ اور شیریں جناح شامل تھیں۔ جناح کے خاندان والے شیعہ مذہب کی شاخ کھوجہ شیعہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن جناح بعد میں شیعہ مذہب کی ہی دوسری شاخ اثناء عشری کی جانب مائل ہوگئے۔ ان کی مادری زبان گجراتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ کچھی، سندھی، اردو اور انگریزی بھی بولنے لگے۔
    نوجوان جناح ایک بے چین طالبِ علم تھے، جنہوں نے کئی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ کراچی میں سندھ مدرسۃ الاسلام، ممبئی میں گوکل داس تیج پرائمری اسکول اور بالآخر مسیحی تبلیغی سماجی اعلٰی درجاتی اسکول، کراچی میں آپ زیرِ تعلیم رہے۔ جہاں سے آپ نے سولہ 16 سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان جامعہء ممبئی سے پاس کیا۔ اسی سال 1892ء میں آپ برطانیہ کی گراہم شپنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی میں تربیتی پیش نامہ کے لئے گئے، ایک ایسا تجارتی کام جوکہ پونجا بھائی جناح کے کاروبار سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ تاہم برطانیہ جانے سے پہلے آپ کی والدہ کے دباؤ پر آپ کی شادی آپ کی ایک دور کی رشتہ دار ایمی بائی سے کردی گئی، جوکہ آپ سے دو سال چھوٹی تھیں۔تاہم یہ شادی زیادہ عرصے نہ چل سکی کیونکہ آپ کے برطانیہ جانے کے کچھ مہینوں بعد ہی ایمی جناح وفات پا گئیں۔ لندن جانے کے کچھ عرصہ بعد آپ نے ملازمت چھوڑ دی اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لے لیا اور 1895ء میں وہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور 19 سال کی عمر میں برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے کم سن ترین ہندوستانی کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے ساتھ سیاست میں بھی آپ کی دلچسپی بڑھنے لگی اور آپ ہندوستانی سیاستدانوں دادا بھائی ناؤروجی اور سر فیروز شاہ مہتہ سے متاثر ہونے لگے۔ اس دوران آپ نے دیگر ہندوستانی طلبہ کے ساتھ مل کر برطانوی پارلیمنٹ کے انتخابات میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔اس سرگرمیوں کا اثر یہ ہوا کہ جناح وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی آئین ساز خود مختار حکومت کے نظریہ کے حامی ہوتے گئے اور آپ نے ہندوستانیوں کے خلاف برطانوی گوروں کے ہتک آمیز اور امتیازی سلوک کی مذمت کی۔

    ممبئی میں واقع جناح ہاؤسانگلستان میں قیام کے آخری دنوں میں جناح والد کے کاروبار کی تباہی کی وجہ سے شدید دباؤ میں آگئے۔ آپ برطانیہ واپس تشریف لائے اور ممبئی میں وکالت کا آغاز کیا اور جلد ہی نامی گرامی وکیل بن گئے۔ خصوصاً سرفیروز شاہ کے سیاسی مقدمے کی جیت نے آپ کی شہرت و نام کو چار چاند لگا دئیے۔ یہ مقدمی 1905ء میں ممبئی کی ہائی کورٹ میں دائر ہوا، جس میں جناح نے سر فیروز شاہ کی پیروی کی اور جیت بھی جناح ہی کے حصے میں آئی۔ جناح نے جنوبی ممبئی میں واقع مالا بار میں ایک گھر تعمیر کروایا جو کہ بعد میں “جناح ہاؤس“ کہلایا۔ ایک کامیاب وکیل کے طور پر اُن کے بڑھتی شہرت نے ہندوستان کے معروف رہنما بال گنگا دھر کی توجہ اُن کی جانب مبذول کرائی اور یوں 1905ء میں بال گنگا دھر نے جناح کی خدمات بطور دفاعی مشیرِ قانون حاصل کیں تاکہ وہ اُن پر سلطنتِ برطانیہ کی جانب سے دائر کئے گئے، نقصِ امن کے مقدمے کی پیروی کریں۔ جناح نے اس مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے، اپنے موکل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہندوستانی اگر اپنے ملک میں آزاد اور خود مختار حکومت کے قیام کی بات کرتا ہے تو یہ نقصِ امن یا غداری کے زمرے میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود بال گنگا دھر کو اس مقدمے میں قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔

    Quaid e Azam
    قائد اعظم محمد علی جناح اور سر سید احمد خان کی شخصیات میں کئی باتیں مشترک دیکھی جا سکتی تھیں۔مثلاََابتداء میں سر سید احمد خان ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے مگر بعد کے حالات نے جداگانہ قومیت کے تصور کی انتہا کو پہنچا دیا.بالکل یہی کیفیت جناح بھی تھی….اسی طرح جداگانہ قومیت کے تصور کی ابتداء سر سید احمد خان نے کی تو اس کو انتہا تک مسٹر جناح پہنچایا۔مگر اس کی وجہ ہندووں کی جارحانہ پالیسی تھی۔یہ قائد اعظم کی سر سید احمد سے عقیدت ہی تو جس کی بنا پر انہوں اپنی 30مئی1939 کواپنی وصیت میں تحریر کیا کہ میں اپنی جائداد کا کچھ حصہ علی گڑھ یونیورسٹی،پیشاور کے اسلامیہ کالج اور اپنی پہلی درسگاہ سندھ مدرسةالاسلام کے نام کرتا ہوں۔اس وصیت کو قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد بھی جوں کا توں رکھا۔1900میں محمد علی جناح بمبئی میں پریذیڈینسی مجسٹر یت کے عہدے پر چھ ماہ تک کام کرنے کے بعد وکالت کی دنیا میں سچائی اور ایمانداری کے ذریعے ایسا نام کمایا کہ آج کا وکیل اُس مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ جناح مغرب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اندر سیکولرمزاج جناح لے کر آئے تھے اور اُن کا واسطہ بھی سیکولر مزاج کے سیاست دانوں سے ہی پڑا مسٹر گوکھلے ،سریندر ناتھ بنر جی،بدر الدین طیب جی اور دادا بھائی نورو جی جیسے مخلص سیکولر مزاج سیاست دانوںسے ہی پڑا۔یہ رہنما نوجوان جناح کوان کی قابلیت کی وجہ سے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس ماحول میںقائد اعظم نے کانگرس کی رکنیت حاصل کرنا اپنے لئے ضروری سمجھا۔عجب اتفاق تھاکہ جس سال1906میں قائد اعظم کانگرس کی رکنیت حاصل کرتے ہیں اُسی سال مسلم لیگ جس کا بار گراں وہ اپنے کندھوں پراٹھانے والے تھے وجود میں آتی ہے۔1909میںقائد اعظم کو ان کی سیاسی نصیرت اور قابلیت کی بناء پروائسرائے کی کونسل کا رکن منتخب کر لیا گیا۔جہاں انہوں نے ایک پالیمنٹیرین کی حیثیت سے اپنی قابلیت کا لوہا منوا لیا۔سے ایک اسلامی بل وقف اُلالاولادکو اپنی ماہرانہ بحث کے نتیجے میں پاس کرا کے اُس وقت نام پید اکیا جب سیاست کے میدان بڑے بڑے لوگ منہ تکا کرتے تھے۔اس بل کے پاس ہونے سے جناح کی اسلامی قوانین پر گرفت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی اسلامی قوانین پر گہری نظر تھی۔جناح کی سیاست کا یہ وہ دور تھا جب ابھی گاندھی اور نہرو طفلِ مکتب تھے اور سیاست سے ان دونوں کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ قائد اعظم اس وقت تک سیاست میں بڑا نام پیداکر چکے تھے۔ 1910سے قائد اعظم نے مسلم لیگ کے اجلاسوں بھی شرکت کرنا شروع کر دی تھی لہٰذا 10، اکتوبر1913کوسر وزیر حسن اور مولانا محمد علی جوہرکے اصرار پرقائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کی۔ اس وقت قائد اعظم بیک وقت دو سیاسی جماعتوں سے وابستہ تھے ۔ اس وقت وہ ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے داعی تھے۔مگر مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد انہیں آہستہ آہستہ مسلمانوں کے مسائل اور ہندو ذہنیت کا بھی بخوبی اندازہ ہونا شروع ہوگیا ۔ محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے علمبرکے طور پر نمودارہوے تھے۔کانگرس میںجہاں مسلم لیگ کا نام تک سننا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔جناح کی کوششوں سے مسلم لیگ کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر1916 میں نا صرف اکٹھا ہوگئی ،بلکے مسلمانوں کے کئی ایسے مطالبات بھی معاھدہ لکھنئو کی شکل میں ماننے کو تیا ہوگئی۔ جن کو کانگرس سننا تک گوارا نہ کرتی تھی۔ یہ قائد اعظم کی شخصیت کا سحر ہی تھا کہ جس نے کانگریسیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔اب گاندھی نے افریقہ میں اپنی سیاسی ناکامی کے بعد ہندوستاں وکا رُخ کیا توانہوںنے ہندو سیاست میں اپنے آپ کو فٹ پایا۔1919میں حکومت برطانیہ نے پارلیمنٹ میں ایک بل رولیٹ ایکٹ کے نا م سے پاس کرالیاتاکہ حکومت کے خلاف ہندوستانیوں کی سر گرمیوں کی روک تھام کی جاسکے اور اپنے مخالفین کو بغیر مقدمہ چلائے پابند ِسلاسل کرنے میں رکاوٹ نہ رہے ۔اس ایکٹ کی وجہ سے قائد اعظم نے وائسرئے کی کونسل سے فوراََ ہی استعفیٰ دیدیا۔ یہ بات سب بخوبی جانتے تھے کہ جناح ایک قانون پسندشخصیت تھے۔جو ہر ایسے عمل کی شدت سے مخالفت کرتے تھے جو قانون کے منافی ہوتا تھا۔جیسے جیسے وقت گذر رہا تھاہندو طبقے کی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔دوسری جانب گاندہی قائد اعظم کو کانگرس میں برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ان تمام حالات کی بناء پر1920میں ناگپورکانگرس اجلاس میںجس وقت گاندھی کی طرف سے عدم تعاون کی تحریک منظور کی گئی تو جناح نے اُسی وقت کانگرس کی رکنیت کو خیر باد کہہ دیا۔ اس کے بعد اگست 1928میں نہرو رپورٹ نے مسلمانوں کے مطالبات رد کر دیئے تو کانگرس کی ہٹ دھرمی کا منہ توڑ جواب قائدِ اعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات کی شکل میں دے کر بر صغیر کے مسلمانوں کا واضح نکتہء نظر پیش کر کے برطانیہ اور کانگرس پر واضح کر دیا کہ ہندوستان کے مسلمان کسی کی بھی غلامی قبول کرنے کو ہر گز تیار نہیں ہیں
    ہندو مسلم مسئلے کے حل کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح نے مارچ 1929ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے چودہ نکات پیش کیے جو کہ تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    یہ نکات درج ذیل ہیں

    1.ہندوستان کا آئندہ دستور دفاقی نوعیت کو ہو گا۔
    2.تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔
    3.ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔
    4.مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائ نمائندگی حاصل ہو۔
    5.ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔
    6.صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔
    7.ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔
    8.مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔
    9.سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔
    10.صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔
    11.سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔
    12.آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
    13.کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائ وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔
    14.ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔
    ہیں۔اس وقت محمد علی جناح اکیلے ہی مسلمانوں کا مقدمہ لڑ رہے تھے۔اور مسلمانوں کو یکجہتی پر آمادہ کر رہے تھے۔تو ایسے وقت میں آج کی طرح بعض مفاد پر ست سیاست دان اپنی اپنی دوکانیں چمکانے پر لگ گئے اور مسلمانوں کے مفادات کا انہیں کوئی خیال نہ رہا تو قائد اعظم نے اسی میں بہتری جانی کہ وہ خود ہی ہندوستان کی سیا ست سے دستبردار ہوجائیں ۔لہٰذا انہوں نے لندن میں مستقل قیام اختیار کر لیا ۔اب ہندوستان کی مسلم سیاست مولانا محمد علی جوہر کے انتقال کے بعدکسی مخلص رہنما کی تلاش میں میں تھی کیونکہ اس وقت مسلمانوں میں سیاسی قیادت کا فقدان تھا ۔ جناح کو ہندوستان واپس لانے کے لئے کئی رہنمائوں نے کوششیں کیںجن نواب زادہ لیاقت علی خان سر وزیر حسن اہم رہنما تھے مگر قائد اعظم کی فوری ہندوستان وپسی کا سب سے اہم محرک رسول اکر م ۖکا خواب میں دیا جانے والاحکم تھا۔جسکی بازگشت تو بہت پہلے سے سنائی دیتی رہی ہے اورجس کا ذکر محترم ڈاکٹر صفدر محمود نے بھی اپنے ایک مضمون میں بھی ماہ نومبر 2011 میں کیا ہے۔نظریہ پاکستان کونسل اسلام آباد کے ماہنامہ” نظریہ پاکستان” میں گذشتہ دنوں 1944-45میں اپنے دہلی میں قیام کے ضمن میں یاداشتوں کے حوالے سے چوہدری فضل حق نے بتای کہ ان دنوں وہ کبھی کبھی قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔وہیں ان کی ملاقت علامہ شبیر احمد عثمانی سے ہوئی اُن کا کنہنا تھا کہ علامہ کو یہ شرف حاصل تھا کہ وہ جب چاہیں وقت لئے بغیر قائد اعظم سے مل سکتے تھے۔علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کی وفات کے بعد بتایاکہ ”قائد اعظم نے انہیں ایک نشست میں بتایا تھا کہ جب وہ لندن میں مقیم تھے تو ایک خواب میں انہیں رسول اکرم ۖکی زیارت ہوئی جس میںآپۖ نے فرمایا کہ ”محمد علی واپس ہندوستان جائو اور وہاں مسلمانوں کی قیادت کرو”قائد اعظم نے یہ خواب سنا کر مولانا شبیر احمد عثمانی کو تاکید فرمائی تھی کہ یہ خواب میری زندگی میں کسی پر آشکارہ مت کرنا ،میں یہ خواب دیکھنے کے فوراََبعد ہندوستان آگیا۔یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کے نظام میں مغربی جمہوریت کی کئی بار نفی فرمائی۔قائد اعظم کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں ہمیں ہر بیان میں اسلام اور قرآنی نظام کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ جناح جب تک کانگرس کے رکن رہے سیکولر دکھائی دیتے ہیں اور ہندو مسلم اتحاد کے بھی بڑے داعی دکھائی دیتے تھے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی اور ہندووں کے معادانہ رویئے نے اسلام پسند جناح بنا دیا۔محمد علی جناح مسلم قوم کی شیرازہ بندی کا عزم کرتے ہیں تو پوری ملت اسلامیہ ان کے گرد دکھائی دیتی ہے۔ 1937میں قائد اعظم ہندو روئے کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ہندو ہندوستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔کانگرس کی موجودہ پالیسی سے ہندو مسلمان نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔جس سے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔دوسری جانب گاندھی سادھووں کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی جدوجہد میں مصروف دیکھے جا سکتے ہیں۔ 1937 کے انتخابات کے بعد گیاراہ میں سے آٹھ صوبوںمیں اقتدار سنبھالنے کے بعدکانگرس نے مسلمانوں کے ساتھ جو زیادتیاں کیں ان کو قائد اعظم نے بے نقاب کرایا اور جب کانگرس نے اقتدار چھوڑا تو قائد اعظم نے پوری قوم کو کانگرس اقتدار سے چھٹکارے پر پورے ہندوستان میں یوم نجات مناکر دنیا پر واضح کر دیا کہ ہندو مسلمان اکٹھا نہیں رہ سکتے۔یہی وجہ تھی کہ23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان منظور کرا کے مسلمانوں کی منزل کا تعین بھی کر دیا گیا۔ اب گاندھی اور نہرو نے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا کہ کسی طرح جناح اپنے ہندوستان کی تقسیم کے مطالبے سے دست بردار ہوجائیں ۔انہیں اس مقصد کے حصول کے لئے ہر قسم کا لالچ بھی دیا گیا حد تو یہ کہ گاندھی نے قائد اعظم کو پیشکس کی کہ وہ جو چاہتے ہیں انہیں دیدیاجائے گا۔گاندھی نے ہندوستان کی وزارت اعظمیٰ تک انہیں دینے کی پیشکش کی ۔مگر جناح نے ا س پیشکش کو بھی حقارت سے ٹھکرا دیا۔میرے قائد نہ جھکنے والے تھے اور نہ بِکنے والے۔قائد اعظم نے اپنی زندگی ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ انہیں اپنا گھر بسانے کی طرف کبھی توجہ ہی نہ ہوئی۔ایک خاتون نے قائد کے عشق میں مبتلا ہو کر ان سے شادی بھی کر لی تھی مگر یہ رشتہ زیادہ عرصہ نبھ نہ سکا قائد اعظم ہمیشہ بات کے پکے اور قول کے سچے رہے۔ انہیں نہ ستائش کی تمنا تھی اور نہ ہی صلے کی پروہ۔شائد قائد اعظم کے لئے ہی یہ شعر کہا گیا تھا”
    مت سہل ہمیں جانوپھرتا ہے
    فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے

    قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں کی انتھک محنت اور کوششوں سے بنایا گیا پاکستان ہمیں یہ سکھلاتا ہے کہ ہمیں پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزان کرنا ہے نہ کہ پستی کہ جانب۔۔۔۔
     
  3. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    بل گیٹس
    ****
    بل گیٹس (Bill Gates) مائیکروسافٹ کمپنی کا چیئر مین اور دنیا کا امیر ترین شخص ہے۔ بل گیٹس 1955ء میں امریکہ میں پیدا ہوا۔ اس کو بچپن سے ہی کمپیوٹر کا شوق تھا۔ 1978ء میں اسنے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر مائکروسافٹ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کی دلچسپی سافٹویئر تھی۔ زیادہ تر اس نے دوسروں سے سافٹویئر پروگرام لے کر انھیں بہتر کر کے بازار میں پیش کیا۔ اس کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز (Windows) نے کمپیوٹر کی دنیا میں انقلاب برپا کیا اور اس کی بکری نے اسے دنیا کا سب سے امیر ترین شخص بنا دیا۔ ونڈوز کے علاوہ اس کی کمپنی نے بے شمار موضوعات پر پروگرام بناۓ۔

    بل گیٹس کے پاس 82 ارب ڈالر ہیں اور اپنی دولت کو اپنے ایک فلاحی ادارے کے ذریعے انسانوں کی فلاح کے لئے خرچ کر رہا ہے۔

    1995 کا سال 59 سالہ امریکی کھرب پتی بل گیٹس کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی سال کے آغاز میں بل کی شادی ہوئی۔ تب تک ونڈوز 95 کی تیاری جاری تھی جس نے دنیائے کمپیوٹر میں انقلاب برپا کردینا تھا۔ یہی نہیں، جلد ہی مائیکروسافٹ کارپوریشن کی بدولت بل گیٹس کا شمار انتہائی دولت مند امریکیوں میں ہونے والا تھا۔
    بل گیٹس اور ان کی بیگم، میلنڈہ کی پرورش نازونعم سے ہوئی تھی۔ انھیں زندگی کی ہر آسایش حاصل تھی اور انھوں نے غربت و جہالت کا بھیانک چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ بیاہ کے بعد دونوں ہنی مون منانے کینیا گئے۔ وہاں بل و میلنڈہ نے جنگلی جانوروں کا شکار کیا اور شیروں کو ہرنوں کا شکار کرتے دیکھا۔ لیکن کینیا ہی میں پہلی بار ان کا پالا غربت سے پڑا۔
    انھوں نے دیکھا کہ افریقی مرد سارا دن کام کرکے ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ گھریلواخراجات برداشت کر سکیں۔ ان کی بیویاں بھی سارا دن کام کرتی ہیں۔ اس کے باوجود بیشتر افریقی گھروں میں بھوک اور بیماریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کئی بچے باشعور بھی نہیں ہوتے کہ کسی بیماری کے ہاتھوں چل بستے ہیں۔ ان تکلیف دہ مناظر نے امریکی دولت مندوں کو خاصی حد تک جھنجھوڑ ڈالا۔
    وہ واپس امریکہ پہنچے تو چند ہی ماہ بعد بل کی والدہ چل بسیں۔ وہ ایک مخیر اور دکھی لوگوں کی ہمدرد خاتون تھیں۔ انھوں نے شادی کے دن اپنی ہونے والی بہو کو بتایا تھا ’’جن انسانوں کو زیادہ (دولت) ملے، انہی سے (دینے کی) توقع بھی زیادہ ہوتی ہے۔‘‘
    فلاحی تنظیم کاقیام
    چہیتی بیوی کی وفات نے بل کے والد، بل سینئر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آخر انسان کو زندگی کیوں ملتی ہے؟ سوچ بچار کے بعد انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حیاتِ انسان کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ دکھی انسانیت کی ہر ممکن خدمت کرے۔ اسی فکر کے زیرِاثر بل سینئر نے پھر بیٹے پر زور دیا کہ وہ ایک فلاحی تنظیم قائم کرکے اپنی آمدن کا مخصوص حصہ اس کے لیے مخصوص کر دے۔ بل گیٹس بھی والدہ کی موت سے افسردہ تھے۔ پھر افریقہ میں غربت کے مناظر بھی دل میں ثبت تھے۔ یوں انھوں نے سال کے آخر میں اپنی فلاحی تنظیم، بل اینڈ گیٹس فائونڈیشن قائم کر دی۔
    سترہ برس بیت چکے اور یہ فائونڈیشن آج دنیا کی سب سے بڑی غیرسرکاری فلاحی نتظیم بن چکی۔ یہی نہیں، بل گیٹس میں بھی انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی، جن کی داستان بڑی سبق آموز اور دلچسپ ہے۔ یہ انہی انقلابی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے کہ آج بل گیٹس دنیا کی سب سے طاقتور ہستی بن چکے۔ یہ اعزاز انھیں مشہور امریکی رسالے، فوربس نے دیا ہے۔ یہ رسالہ مختلف پیمانے مقرر کرکے ہر شعبے کی بہترین شخصیات کا انتخاب کرتا ہے۔ حال ہی میں دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کی فہرست میں بل گیٹس سب سے اوپر آئے۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور، امریکہ کے صدر اور چینی و روسی حکمرانوں کا نمبر بھی ان کے بعد آیا۔
    شاید آپ سوچیں کہ بے پناہ دولت نے بل کو یہ رتبہ عطا کیا۔ جی نہیں، انسانیت کی خدمت اور غریبوں کے لیے جذبۂ ہمدردی نے انھیں یہ مقام دلایا۔ دراصل بحیثیت کاروباری انھیں جو دولت، اثرورسوخ، عزت اور شہرت حاصل تھی، فلاح و بہبود کی سرگرمیوں نے ان کو دوچند کردیا۔ چنانچہ آج بل گیٹس خصوصاً سبھی دولت مندوں کے لیے مشعلِ راہ بن چکے۔ ان کی حیات یہ حقیقت عیاں کرتی ہے کہ دنیا کے امرا کو کس طرح اپنی دولت خرچ کرنی چاہیے تاکہ وہ دین و دنیا میں نام کما سکیں۔تبدیلی کا آغاز
    1994 میں جب بل فلاحی سرگرمیوں کی طرف آئے، تو وہ مشہور برطانوی مفکر، تھامس مالتھس کے اس نظریے پر یقین رکھتے تھے کہ غربت، بیروزگاری، بھوک، جہالت وغیرہ زیادہ آبادی کی پیداوار ہیں۔ چونکہ وسائل محدود ہیں، لہٰذا آبادی ہمیشہ مصیبت لاتی ہے۔ چنانچہ بل کو یقین تھا کہ ویکسین بنانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ جن بچوں یا انسانوں کی جانیں بچی، وہ آخرکار کرۂ ارض پر بوجھ ہی ثابت ہوں گے۔
    اسی سوچ کے باعث بل نے اقوام متحدہ کو 10 کروڑ ڈالر دیے تاکہ اس کی ایجنسیاں غریب ممالک میں ضبطِ تولید کے طریقے متعارف کرا سکیں۔
    بل گیٹس نے دوسرا محاذ امریکی روایتی طرزِتعلیم کے خلاف کھولا۔ بل کا خیال تھا کہ جس جماعت میں کم بچے ہوں، استاد کو موقع ملے گا کہ ان پر بھرپور توجہ دے۔ لہٰذا انھوں نے ایک ارب ڈالر لاگت سے اصلاحات کا منصوبہ شروع کیا۔ لیکن اس کے بعد محققوں نے بل کو باور کرایا کہ جماعت کے چھوٹے یابڑے ہونے سے طالب علم کی کارکردگی پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ اصل بات یہ ہے کہ استاد کو تعلیم یافتہ، تجربے کار اور اپنی ذمے داری سے مخلص ہونا چاہیے۔
    بل کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کا کوئی نظریہ یا خیال غلط ثابت ہو، تو وہ اس کی درستی پر ضد نہیں کرتے، بلکہ راہ بدل لیتے ہیں۔ چنانچہ بل نے کروڑوں ڈالر خرچنے کے بعد اپنے تعلیمی منصوبے کا رخ بدلا اور استاد کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کر دی۔
    صحت کا منصوبہ بھی اسی تبدیلی سے گزرا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں والدین اس لیے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں کہ انھیں علم ہے، کئی بیماریوں کے ہاتھوں چل بسیں گے۔ لہٰذا بل نے صحت کے تمام منصوبوں کو سمتِ معکوس دے دی… اب وہ بچوں کی پیدایش روکنے کے بجائے ان کی جانیں بچانے پر کمربستہ ہوگئے۔ یہ 1998 کی بات ہے اور اسی لمحے بل نے فیصلہ کیا کہ وہ ویکسین خرید کر غریب ممالک کو مفت یا سستے داموں فراہم کریں گے۔
    انقلاب کا آغاز
    بل گیٹس چاہتے، تو اربوں ڈالر طبی تنظیموں کو دے ڈالتے تاکہ وہ بچوں کو ادویہ و ویکسین فراہم کر سکیں لیکن بل وملینڈہ نے ازخود اس کام میں دلچسپی لی۔ پھر وہ خصوصاً شعبۂ ویکسین میں انقلابی اور جدید تبدیلیاں لے آئے۔ وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں غلط فہمیوں کی بنا پر یہ نظریہ پھیل گیا کہ ویکسین بچوں میں مختلف بیماریاں مثلاً آٹزم پیدا کرتی ہیں۔ لہٰذا تمام بڑی ادویہ ساز کمپنیاں ویکسین بنا کر اپنی رقم برباد کرنے پر آمادہ نہ تھیں۔
    یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے بل نے سوچا کہ ایک طرف تو سائنس دان نئی ویکسین تیار کریں، دوسری سمت ادویہ ساز کمپنیوں کو نئی منڈیاں دی جائیں، تاکہ وہ ویکسین بنانے کی طرف متوجہ ہوں۔ اس منصوبے پر عمل کے لیے زرِکثیر چاہیے تھا، چنانچہ 1999 میں بل نے اپنی دولت میں سے 21 ارب ڈالر (1890 ارب روپے) بل اینڈ ملینڈہ گیٹس فائونڈیشن کے حوالے کر دیے۔ اس سرمائے سے نئی ویکسین ایجاد کرائی گئیں، پھر ادویہ ساز کمپنیوں سے انھیں بنوا اور خرید کر غریب ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ یوں بین الاقوامی سطح پربذریعہ ویکسین بچوں کی جانیں بچانے والا انتہائی مؤثر نظام سامنے آگیا۔ یہ کامیابی ایک فردِواحد کے جذبۂ خدمت کی بدولت ہی رونما ہوئی۔آج بل گیٹس کا وضع کردہ ویکسین پروگرام ہر سال دنیا بھر میں ’25 کروڑ‘‘ بچوں کو مختلف ویکسین مہیا کرتا ہے۔ اس پروگرام میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہو چکے اور وہ اُسے سالانہ کروڑوں ڈالر کی امداد دیتے ہیں۔ یہ پروگرام اب ’’گیوی الائنس‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔2001 سے اب تک گیوی الائنس پاکستانی حکومت کے ویکسین پروگرام کو 30 کروڑ ڈالر (27 ارب روپے) کی امداد دے چکا ہے۔ یوں ممکن ہوا کہ لاکھوں پاکستانی بچوں کو بیماریوں مثلاً خسرہ، کالی کھانسی، زرد بخار،پولیو، نمونیا، دست، ملیریا وغیرہ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کامیابی میں اہم ترین کردار بل گیٹس ہی کا ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 2001 تا 2011 گیوی الائنس نے بھارتی حکومت کو صرف ساڑھے چار کروڑ ڈالر کی امداد دی۔ حالانکہ وہاں بھی کروڑوں غریب بچے موجود ہیں۔ شاید بل گیٹس نے بھارتی حکومت کو اس لیے گھاس نہیں ڈالی کہ وہ غیرملکی امداد کا بیشتر حصہ اسلحہ خریدنے میں لگا دیتی ہے۔
    بل ومیلنڈہ گیٹس فائونڈیشن کے انقلابی اقدامات کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ پچھلے 10 برس میں ویکسین کی قیمت بہت کم ہوگئی۔ مثلا 5 عام بچگانہ امراض (بشمول خناق، تشنج اور کالی کھانسی) کی ویکسین کی قیمت 40 فیصد کم ہوئی۔ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کی قیمت تو 47 فیصد کم ہوگئی۔ یوں ممکن ہوگیا کہ زیادہ سے زیادہ غریب بچوں کو فائدہ پہنچے۔بل گیٹس کا شمار انسانی تاریخ میں عظیم ترین کاروباری دماغ رکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی غیرمعمولی ذہنی صلاحیتوں کے باعث ہی سیکڑوں گتھیاں سلجھائیں اور دنیائے کمپیوٹر میں انقلاب لے آئے۔اب وہ اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر انسانیت کو درپیش مشکلات ختم کرنے کی سعی میں ہیں۔ بل و میلنڈہ کا عزم ہے کہ وہ اپنے سرمائے و طاقت سے دنیا بدل کر رہیں گے۔
    دنیا بدلنے کا عزم
    بل گیٹس نے اپنی دولت و اثرورسوخ کے ذریعے بیماریوں کے خلاف اعلانِ جہاد کر رکھا ہے۔ وہ 2008 میں مائیکروسافٹ کارپوریشن سے علحٰدہ ہوگئے تاکہ اپنا پورا وقت انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر سکیں۔ ان کے نزدیک کامیابی کا معیار اب زیادہ سے زیادہ دولت مند ہونا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے بچوں اور انسانوں کو مرنے یا معذور ہونے سے بچاتے ہیں۔
    واضح رہے، 59 سالہ بل ابھی اتنے بوڑھے نہیں ہوئے کہ موت کے مناظر انھیں خوفزدہ کر دیں بلکہ وہ چاہیں تو آسایشاتِ دُنیا سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوں۔ لیکن انھوں نے بیگم کے ساتھ آرام دہ زندگی تج دی۔ اب وہ دنیا بھر میں گھومتے اور غریبوں کے دُکھ درد دُور کرنے کا سامان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
    اب میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ دُنیا بھر میں شرحِ اموات 80 فیصد تک کم کردوں۔ اگر میں اور میری ٹیم یہ منزل نہ پا سکے تو ہمیں صدمہ ہوگا۔ کیونکہ اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ہم نے اپنا کام صحیح طرح انجام نہیں دیا۔زندگی کا مقصد
    والدین عموماً ساری عمر جائز و ناجائز طریقوں سے اس لیے کماتے ہیں کہ اپنے بچوں کی خاطر بہت کچھ چھوڑ جائیں۔ لیکن بل گیٹس کا مقصدِ حیات کچھ اور ہی ہے۔ اب دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ان کا مشن بن چکا اور وہ اپنی ساری دولت اسی کام کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔
    بل اور میلنڈہ کے3 بچے ہیں۔ 15 سالہ جینفر،12 سالہ اوری اور 9 سالہ فوب۔ بل کا کہنا ہے کہ ان کی وراثت سے ہر بچے کو ایک کروڑ ڈالر (90 کروڑ روپے) ملیں گے۔ یہ رقم معمولی نہیں مگر بل کی بے حساب دولت دیکھتے ہوئے یہ مونگ پھلی ہی لگتی ہے۔ یاد رہے، بل فی الوقت54 ارب ڈالر کی دولت و جائیداد رکھتے اور دنیا کے دوسرے امیرترین انسان ہیں۔ تاہم وہ 1994 سے اب تک 24 ارب ڈالر اپنی فائونڈیشن کو دے چکے ہیں۔ اگر یہ رقم بھی ان کے پاس ہوتی تو یقینا میکسیکین کاروباری، کارلوس سلیم (74 ارب ڈالر) سے زیادہ دولت مند ہوتے۔
    بل گیٹس کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے اَزحد محبت کرتے ہیں چنانچہ انھیں دنیا جہاں کی سہولتیں حاصل ہیں۔ وہ کروڑوں بچوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں مگر یہ اُن کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی محنت و ذہانت کے بل بوتے پر کامیاب ہوں۔ اسی خیال کے تحت بل اپنی ساری دولت انھیں نہیں دینا چاہتے۔
    واضح رہے، بل و میلنڈہ گیٹس فائونڈیشن37 ارب ڈالر (3259 ارب روپے) کے اثاثے رکھتی ہے۔ اس حساب سے وہ دُنیا کی سب سے بڑی غیرسرکاری فلاحی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم 1994 سے اب تک فروغِ تعلیم، غربت مٹائو اور انسانی صحت کے منصوبوں پر 25 ارب ڈالر ( 2200 ارب روپے) خرچ کرچکی۔ اِتنی بڑی رقم سے اندازہ لگانا ممکن ہے کہ تنظیم کتنے بڑے پیمانے پر افریقا، ایشیا اور لاطینی امریکا کے غریب ممالک میں سرگرمِ عمل ہے۔
    انسانی جانیں بچانے کا سوال
    دنیا میں بل گیٹس کے مخالفوں کی کمی نہیں۔ بعض انھیں روایتی امیر سمجھ کر نفرت کرتے ہیں۔ غریب ممالک کے سوشلسٹ اور مذہبی راہنما ان کو سرمایہ دار مغرب کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ تاہم بل اس مخالفت کے باوجود اپنا کام کیے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ آمروں اور جرنیلوں سے بھی ملتے ہیں تاکہ ان کے ملکوں میں اپنے غریب دوست منصوبے شروع کرا سکیں۔ چنانچہ جمہوریت پسند مغربی ذرائع ابلاغ انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ گویا بل گیٹس کا یہ حال ہے کہ پرائے ہیں ناراض تو اپنے بھی ناخوش۔
    بل کو سراہنے والے بھی بے شمار ہیں مثلاً مشہور ادویہ ساز کمپنی، نووارٹس میں شعبۂ تحقیق کے سربراہ اور ممتاز طبی سائنس داں، ڈاکٹر اینڈرین اوسوالڈ کا کہنا ہے ’’بل ایسی طاقتور ہستی ثابت ہوئے کہ تن تنہا اپنی کوششوں سے انھوں نے کروڑوں غریب بچوں کو مرنے سے بچا لیا۔‘‘
    تاہم بل گیٹس اپنی تعریف پر پھولے نہیں سماتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں کامیابی اسی لیے ملی کہ ماہرین نے لیبارٹریوں میں جاں فشانی سے کام کرتے ہوئے نئی ویکسین تیار کیں۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ اگر بل اربوں ڈالر فراہم نہ کرتے، تو انتہائی منظم ویکسین پروگرام عمل میں آنا تقریباً ناممکن تھا۔
    پچھلے دنوں بل ہارورڈ یونیورسٹی، امریکہ میں طلبہ و طالبات سے خطاب کرنے گئے۔ اس محفل میں ایک طالب علم نے ان سے سوال کیا ’’آپ اپنی کس اختراع کو اوّلیت دیتے ہیں… مائیکروسافٹ ونڈوز کو یا ویکسین کے منصوبے کو؟‘‘انھوں نے کہا ’’کمپیوٹر سافٹ ویئر پروگراموں کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن جہاں تک انسانی جانیں بچانے کا سوال ہے، اس اعتبار سے یقینا ویکسین ہی کو برتری حاصل ہے۔‘‘ اور یہ بات سولہ آنے درست ہے۔
     
  4. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    حضرت ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال
    ****
    ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء)
    بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے

    ولادت و ابتدائی زندگی

    علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ[2]) کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔

    اقبال کے آبا‌ ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔

    تعلیم

    علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیے۔ زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا۔ اور اس شوق کو فروغ دینے میں مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔

    اعلیٰ تعلیم

    ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پروفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے جنہوں نے اپنے شاگرد کی رہنمائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔


    سفر یورپ

    1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    تدریس ،وکالت اور سماجی خدمات

    ا بتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔ اقبال انجمن حمایت اسلام کے اعزازی صدر بھی رہے۔

    سیاست

    علامہ اقبال کا مزار1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء (بمطابق 20 صفر 1357ھ) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔

    شاعری
    شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسےبڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتب کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔


    نثر
    علم الاقتصاد-1903

    فارسی
    شاعریاسرار خودی-1915
    رموز بے خودی-1917
    پیام مشرق-1923
    زبور عجم-1927
    جاوید نامہ-1932
    پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق-1936
    ارمغان حجاز (فارسی-اردو)-1938

    اردو شاعری
    بانگ درا-1924
    بال جبریل-1935
    ضرب کلیم-1936

    انگریزی تصانیف
    فارس میں ماوراء الطبیعیات کا ارتقاء-1908
    اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر نو-1930

    اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ

    شکوہ
    جواب شکوہ
    خصر راہ
    والدہ مرحومہ کی یاد میں

    تصورات و نظریات

    خودی
    عقل و عشق
    مرد مومن
    وطنیت و قومیت
    اقبال کا تصور تعلیم
    اقبال کا تصور عورت
    اقبال اور مغربی تہذیب
    اقبال کا تصور ابلیس
    اقبال اور عشق رسول
     

Share This Page