1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

مرزا صاحبہ

Discussion in 'Bachon Ki khaniya' started by Abdullah umer, Oct 12, 2017 at 6:15 AM.

Tags:
  1. Abdullah umer

    Abdullah umer ITU Winer

    مرزا صاحبہ
    مرزاصاحباںپنجابیادب کے خزاے میں سے محبت کی ایک سچی اور لازوال داستان ہے جس کو نظم کی شکل دے کر شاعر پیلو نے شہرت دوام حاصل کی۔ مرزاصاحبہپنجابی کی چار کلاسیکیرومانوی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ باقی تین ہیر رانجھا، سسی پنوں اور سوہنی مہیوال ہیں۔

    داستان

    مرزا اور صاحبہ جو باہم رشتہ دار تھے اور بچپن سے اکھٹے کھیلتے رہے تھے، نہ جانے کب ایک دوسرے کے پیار میں کھو گئے۔ لیکن جب اس خوبصورتی کو زبردستی طاہر خان کے بیاہہ جانے لگا تو صاحبہ نے اپنی محبت مرزا کو کامو براہیم کی زبانی پیغام بھیجا۔

    "تمہیں آ کر صاحبہ کے ہاتھ حنا سے رنگنے چاہییں"۔

    وقت آ گیا ہے کہ اپنی عزت نفس بچانے کے لیے، اپنے وعدوں کی پاسداری کے لیے اور سچ کی جیت کے لیے جان کی بازی لگا دو۔ مرزا جو ایک گرم خون نوجوان تھا، اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر بٹھا کے صاحبہ کر لے جاتا ہے۔ لیکن رستہ میں جب وہ ایک درخت کی چھاؤں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں، پیچھا کرنے والے پہنچ جاتے ہیں۔

    صاحبہ ظاہری طور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ من کی بھی خوبصورت تھی، جو اپنی وجہ سے کوئی خون نہیں بہانا چاہتی تھی۔ وہ حنا کی بجاۓ اپنے ہاتھوں کو خون سے نہیں رنگنا چاہتی تھی، اور مرنے والا بھی اس کا اپنا ہی ہوتا۔ کیونکہ ایک طرف اسکی محبتمرزا تھا تو دوسری طرف اسکا بھائی۔ وہ جانتی تھی کہ مرزا کا نشانہ خطا نہیں جاتا اور اگر مرزا نشانہ لے گا تو نشانہ بننے والا اسکا اپنا بھائی ہی ہو گا۔ بھائی پر اعتماد اس کو ایک بہت بڑی غلطی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اسکا بھائی اس پر ترس کھاۓ گا اور ان کو معاف کر کے گلے لگا لے گا۔ اس خیال سے وہ مرزا کو جگانے سے پہلے اس کا تیرکمان ہٹا دیتی ہے۔ لیکن بھائی اسکی سوچ کے بر عکس مرزا پر حملہ کر دیتا ہے اور مرزا کو مار دیتا ہے۔ صاحبہ یہ برداشت نہیں کر سکتی اور تلوار لے کر خود کشی کر لیتی ہے۔
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

Share This Page