1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. تمام ممبران سے گزارش ہے کہ ہمارا نیا فورم جوائن کریں
    join our new Forum

جہاد ہر مسلمان پر فرض

Discussion in 'The Jehad' started by UrduLover, Nov 30, 2017.

  1. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    جہاد ہر مسلمان پر فرض

    یہ ایک حقیقت ہے اس دارفانی میں آنے والے ہر فردنے اپنے حصے کاکام کرنا ہے۔پھراس فانی دنیا کو ختم ہوجانا ہے۔مال ختم ہوجائے گا۔مکان منہدم ہو جائیں گے۔انسان کے کام صرف اور صرف وہی آئے گا جو اس نے اس دارفانی سے دار باقی کی طرف بھیجا ہو گا۔اس لیے ضروری ہے کہ اس باقی رہنے والی زندگی کے لئے وہاں جانے سے پہلے پوری کوشش کے ساتھ کچھ بھیجا جائے۔

    یہ قطعی حقیقت ہے کہ انسان کا نامہ اعمال اس کی موت کے ساتھ بند ہوجاتا ہے۔اور اس کو اسی نامہ اعمال کی روشنی میں آخرت میں اجر ملے گا۔البتہ ایسا شخص جس نے اپنے دین کی خاطر، امت مسلمہ کی بھلائی کی خاطر، اپنی عزت و غیرت کی خاطر، اسلامی شریعت کی روشنی میں کوئی خدمت سرانجام دی ہوتی ہے اور جس نے اپنی جان اور مال اللہ کے دین کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے لگا دیا ، اس کا نامہ اعمال بند نہیں ہوتا بلکہ اس کی نیکیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں اور اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس بات کی وضاحت حدیث شریف میں ان الفاظ میں ہوتی ہے:

    ”کُلُّ المَیِّتِ یُختَمُ عَلَی عَمَلِہِ اِلاَّ المُرَابِط، فَاِنَّہُ یَنمُولَہُ عَمَلُہُ اِلَی یَومِ القِیَامَۃِ وَیُوَمَّنُ مِن فَتَّانِ القَبر“

    ”ہرمرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے سوائے سرحد پر پہرہ دینے والے کے۔ اس کے اعمال میں روز قیامت تک اضافہ ہوتا رہے گا اور قبر کی آفتوں سے محفوظ رہے گا۔“

    بلاشبہ مرابط وہ شخص ہے جس نے کسی نیک کام کی بنیاد رکھی۔نیکیوں اور بھلائیوں کے راستے ایجاد کیے۔اس نے ایسے صدقات جاریہ کیے جو اس کی موت کے بعد بھی لوگوں کو فیض پہنچاتے رہے۔جس شخص نے بھی اس کے نیک کام کے نتیجے میں کوئی کام کیااور اس کے کسی نیک کام کو جاری رکھا تو اس کا ثواب اس آغاز کرنے والے کو پہنچتا رہتا ہے۔اور پھر وہ قبر کی آزمائشوں اور عذاب سے بھی بچا رہتاہے ۔اس لیے کہ وہ در حقیقت مرا ہی نہیں کہ عذاب قبر میں مبتلاءہو بلکہ وہ تو ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا گیا ۔اس کے عظیم کارناموں نے اسے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔

    جو شخص کہتا ہے کہ حضرت محمد (صلى الله عليه و سلم) خلفاءراشدین اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فوت ہو چکے ہیں وہ در حقیقت خود مردہ ہے کیونکہ انہوں نے ہمارے لیے ایسا اسوہ حسنہ چھوڑا ہے کہ ہم اگر اس پر چلیں تو زندگی میں ہمیں کامرانیاں اور ترقیاں نصیب ہونگی اور یہ سب کچھ انہیں کے چھوڑے ہوئے اسوہ کی وجہ سے ممکن ہے ۔ جیسے جیسے ہمیں ان کی سنتوں اور آثار کا علم ہوتا ہے ہم اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کا ذکر بلند کرے ان سے راضی ہو، انہوں نے ہمارے لیے ایسے راستے پر چلنا آسان کر دیا ہے جو اللہ کی طرف لے جاتا ہے۔ ہم بڑے آرام و اطمینان سے اس راستے پر چلتے ہیں ۔

    ان کے درجات بلندیوں میں عرش تک پہنچے ہوئے ہیں وہ تو عذاب قبر میں مبتلا نہیں ہوں گے کیونکہ عذاب قبر مردوں کے لیے ہوتا ہے۔ ہاں عذاب قبر ایسی مردہ روحوں کو ہوتاہے جنہوں نے اپنے آپ کو دین کے رنگ میں نہ رنگا ہو جو اللہ کا رنگ ہے اور اللہ کے رنگ سے زیادہ بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ” وَ مَنۡ اَحسَۡنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَةً “

    اللہ کے رنگ سے زیادہ بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے ۔البقرة : ۱۳۸۔

    عذاب قبر تو ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے احمد مجتبیٰ (صلى الله عليه و سلم) کے طریقے پر عمل نہ کیا اور قرآن کریم کو زندگی کا دستور نہ بنایا البتہ جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کو ان حقائق کے لیے وقف کردیا اور اللہ کے راستے کو اپنا لیا وہ تو عذاب قبر سے نجات پا گئے ۔ سیدالکونین سردار دوعالم (صلى الله عليه و سلم) جہاد کے حوالے سے فرماتے ہیں :

    ”مَن رَابَطَ لَیلَةً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ سُبحَانَہُ کَانَت کَاَلفِ لَیلَةٍ صِیَامِھَا وَقِیَامِھَا“

    جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک رات محاذ پر پہرہ دیا گویا اس نے ایک ہزار راتیں قیام کیا اور ایک ہزار دن روزہ رکھا۔

    یعنی کہ اگر تم ایک رات اللہ کے راستے میں محاذ جنگ پر دشمن سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے والے مجاہد کے برابر ثواب حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں ایک ہزار روزے رکھنا ہو ں گے اور ایک ہزار راتیں عبادت میں گزارنا ہوں گی ۔ اور پھر بھی تم اس مجاہد کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے ۔

    بعض مؤمنین تو ایسے ہیں جو جہاد کا حق ادا کر دیتے ہیں اور وہ فضائل حاصل کر لیتے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو ان فضائل کو بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن عملاً جہاد میں شریک بھی نہیں ہوتے اور یہ اللہ ہی کا فضل اور احسان ہے اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ اس نے عملًا تلوار یا بندوق نہیں اٹھائی لیکن ایمان اور قرآن کی سر بلندی اور خدمت کے لیے ہونے والے کسی نہ کسی سطح کے کام میں شریک رہا ، چاہے اس نے ایک پتھر ہی اٹھا کر دیا ہو اور اس سے کوئی دینی خدمت ہوئی ہو اس کا وہ عمل رائیگا ں نہیں جائے گا ۔

    جس نے کسی مسئلہ میں حصہ لیا کسی بھی سطح پرصلح مشورہ میں شامل رہا،دینی خدمت کے کسی منصوبہ کو پایا تکمیل تک پہنچانے میں اس کا بھی حصہ رہا تو وہ شخص ان میں سے اپنے حصہ کے کام اور اپنی نیک نیتی کا اجر پالے گا۔

    جہاد بالقلم کرنے والا بھی اجر لے گا ، کاغذ مہیا کرنے والا، اس کوچھاپنے والااوراس کوشائع کرنے والا سب مکمل ثواب حاصل کریں گے۔اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حتی الوسع کسی بھی نیکی کے کام میں اپنا کردار ادا کرے اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ جسمانی و علمی طاقت کو بروئے کار لائے تاکہ اجتماعی طور پر ہونے والے نیکی کے کام میں اسکااجربھی محفوظ رہے۔حضرت ابوہریرہ ؓحدیث معراج میں روایت کرتے ہیں کہ آپ(صلى الله عليه و سلم) چلے اور آپ کے ساتھ جبریل(علیہ سلام) بھی تھے ان کا گزر بعض لوگوں پر ہوا جو ایک دن فصل لگاتے ہیں اور وہ تیار ہو جاتی اور اسے کاٹ لیتے ہیں جیسے ہی فصل کاٹتے ہیں پیچھے فصل تیار ہوتی جاتی ہے۔نبی اکرم(صلى الله عليه و سلم) نے پوچھا اے جبریل یہ کیا ہے؟ جبریل ؓنے کہا:

    ”ھَوُ لاَئِ المُجَاھِدِینَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ تُضَاعَفُ لَھُمُ الحَسَنَةُ بِسَبعمَا ئَةِ صِعفٍ وَمَا اَنفَقُوا مِن شَی ئٍ فَھُوَ یَخلُفُہُ وَھُوَ خَیرُ الرَّازِقِینَ“

    یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہیں ان کی نیکیاں سات سو گنا بڑھا دی جاتی ہیں ، جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے اس کا اجر ان کے لیے باقی ہے اور وہ (اللہ) بہترین رزق دینے والا ہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کے سفر پر آسمان در آسمان جارہے تھے اور اس دنیا سے بنفس نفیس عالم بالا کی طرف تشریف لے جا رہے تھے تو ہر آسمان پر آپ نے مختلف مناظر دیکھے۔اسی سیر کے دوران آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو جس روزفصل بوتے ہیں اسی روز فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے۔اور اسے کاٹ لیتے ہیں ۔لیکن جیسے جیسے کاٹتے جاتے ہیں پیچھے سے فصل پھر تیار ہو جاتی ہے۔یہ حالات دیکھ کر آپ نے جبریل (علیہ سلام) سے استفسار کیا یا جبریل یہ کون لوگ ہیں ؟۔۔۔۔۔

    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو مومن اپنی جان و مال،آرام وراحت اورجوانی و بڑھاپا اللہ کے راستے میں قربان کردیتا ہے اسے یقین ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ نہ تو ضائع جائے گا اورنہ ہی کبھی فنا ہو گا۔جب وہ اس دنیائے فانی سے دارالباقی کی طرف کوچ کرے تو اطمینان قلب کے ساتھ جائے وہاں وہ دیکھ لے گا کہ اس نے اپنے اعمال کا ذرہ برابر بھی ضائع نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ ہر چیز کی بہترین حفاظت کرنے والا ہے اور وہ سب سے بڑا نگہبان ہے۔جو کچھ مومن اس کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے اعمال کی حفاظت کرتا ہے۔وہ اس کے اعمال کا اچھا بدلہ دیتا ہے۔وہ تو اس قدر مہربان وکریم ہے کہ اگر انسان ساری عمر اور ہمیشہ کے لئے سجدہ میں سر ڈال دے اور کبھی اوپر نہ اٹھائے تو اللہ کے فضل وکرم اورانعامات واکرامات کا بدلہ انسان نہیں چکا سکتا۔اگر جنت میں سجدہ کرنا ثابت ہو تو انسان جنت میں ہمیشہ کے لیے سجدہ ریز ہو جائے۔اللہ کے شکر ادا کرنے کے لئے اسی حالت میں پڑا رہے تو مجھے یقین ہے کہ اس سجدہ سے اسے جو روحانی لذت اورسکون ملے گا وہ جنت کی دوسری نعمتوں سے کم نہیں ہوگا۔

    رسول اللہ(صلى الله عليه و سلم) جہاد کے معاملات میں حصہ لینے کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔

    ”مَن جَھَّزَ غَازِیًا فِ¸ سَبِیلِ اللّٰہِ فَقَد غَزَا وَمَن خَلَفَ غَازِیاً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ بِخَیرٍ فَقَد ا غَزَا “

    ”جس نے اللہ کے راستے میں لڑنے والے کے لیے اسباب مہیاکیے گویا کہ اس نے خود جہاد کیا۔اور جس نے اللہ کے راستے میں لڑنے والے کے گھر والوں کی دیکھ بھال کی گویا کہ اس نے بھی خود جہاد کیا۔“

    جو شخص بذات خود جہادمیں شریک نہیں ہو سکتا لیکن ایسے شخص یاجماعت کی مدد کرتا ہے جو مجاہدین کوتیار کر کے جہاد کے لیے روانہ کرتی ہے تو وہ عملاً جہاد میں شریک ہوتا ہے اورمجاہد کا اجر حاصل کرتا ہے۔جن لوگوں نے مجاہدین بدر کی مدد کی احد کے لیے مجاہدین کے لیے زادراہ تیار کیا، تبوک کے مجاہدین کے لئے مال خرچ کیا، وہ اللہ کے ہاں روز محشر ان مجاہدین کے ساتھ ہوں گے۔کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر لبیک کہااگرچہ عملاً مجاہدین کے ساتھ شریک ہونے سے معذور رہے لیکن وہ درحقیقت جہاد سے پیچھے نہ رہے۔

    یقینا جو لوگ غزوہ تبوک میں شامل تھے ان کی بیویاں ، ان کے بچے، ان کے والدین، اہل مدینہ کے بوڑھے اور جوان قیامت کے روز مجاہدین تبوک کے ساتھ ہوں گے۔جہاد پر نکلنے سے پہلے بچوں نے چھریاں اور چھوٹے ہتھیار پیش کر دیے۔خواتین اور دلہنوں نے اپنے زیورات دے دیے۔یہاں تک کہ بوڑھوں نے اپنا مال و متاع غزوہ تبوک کے چندے میں حضور پاک (صلى الله عليه و سلم) کی خدمت میں پیش کر دیا۔ہر شخص نے کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا تاکہ اس کا حصہ بھی جہاد میں شامل ہو جائے۔

    ان تمام لوگوں کے ساتھ قیامت کے روز مجاہدین تبوک کا سامعاملہ ہو گا۔ایک اور حدیث میں رسول اکرم(صلى الله عليه و سلم) نے فرمایا:

    ”اِنَّ بِال مَدِینَةِ لَرِجَالاً مَاسِرتُم مَسِیراً وَلاَ قَطَعتُم وَادِیاً اِلاَّ کَانُوا مَعَکُم حَبَسَھُمُ المَرَضُ “

    ”بلاشبہ مدینہ میں کچھ لوگ ہیں کہ تم جس وادی میں سے گزرتے ہو ئے جس راستے کو بھی عبور کرتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کومرض نے روک لیاہے۔“

    ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہیں ۔

    اس سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں کو جہاد پر جانے سے کوئی واقعی عذر روکتا ہے جیسے بڑھاپا،کمزوری،غریبی،عورت ہوناوغیرہ تو اس کا اجر کم نہیں ہوتا بلکہ مجاہدین کے برابر ثواب کا حقدار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ معذور لوگوں کو عملاً جہاد کرنے والوں کے ساتھ شامل کرتا ہے۔اللہ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اجر دے گا۔گزشتہ حدیث شریف سے یہی معنی ہمیں سمجھ آتا ہے۔ہم یقین رکھتے ہیں (جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے)کہ یہ ہمارے حق میں دعا ہے۔خاص طور پر آج کے دور میں جبکہ جہاد کو عملاً چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ جس نے بھی مکمل طور پر یا کسی حد تک ایمان و قرآن کی خدمت میں حصہ لیا،وہ مکمل جہاد کا اجرپائے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمار ے اس یقین کوکمزور نہ ہونے دے۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  2. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    ناقصعمدہ
    مومنین کو ہر حال میں پیش آمدہ چیلنجوں کے مقابلہ کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا ہو گا۔اپنی صحت اور جوانی کو اس راستہ کے لیے بچاکر رکھنا ہو گا۔اس عظیم مقصد کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کرنا ہوگا۔تاکہ نئے نئے حالات کامقابلہ کرتے ہوئے کسی قسم کی پریشانی کاسامنا نہ کرنا پڑے۔

    قرآن کریم ہمیں اس بات کی ترغیب دے رہا ہے۔فرمایا:۔

    وَ اَعِدُّوا لَھُم مَّا استَطَعتُم مِّن قُوَّةٍ وَّ مِن رِّبَاطِ الخَیلِ تُرھِبُونَ بِہ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُم وَ اٰخَرِینَ مِن دُونِھِم لَا تَعلَمُونَھُم اَللّٰہُ یَعلَمُھُم وَ مَا تُنفِقُوا مِن شَیئٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیکُم وَ اَنتُم لَا تُظلَمُون۔(الانفال:۶۰)

    ”اور تم لوگ جہاں تک تمہارابس چلے ،زیادہ سے زیادہ تیاربندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو، تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کواور ان دوسرے اعداءکوخوف زدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پوراپورابدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گااور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہو گا۔“

    نبی کریم(صلى الله عليه و سلم) نے فرمایا:

    ”مَنِ احتَبَسَ فَرَساً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ اِیمَاناً بِاللّٰہِ وَتَصدِیقاً بِوَعدِہِ فَاِنَّ شبِعَہُ وَرِیَّہُ وَرَوثَہُ وَبَولَہُ فِی مِیزَانِہِ یَومَ القِیَامَہِ“

    ”جس نے اللہ کے راستے میں اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے گھوڑا پالا تو اس کا چارہ، اس کا پانی، اس کی لید اور اس کاپیشاب بھی قیامت کے روز اس کے نامہ اعمال میں لکھاجائے گا۔“

    کس قدر دلچسپ انداز میں اس حدیث شریف میں جہاد کی تیاری کی ترغیب دی گئی ہے۔ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی اکرم(صلى الله عليه و سلم) سے گھوڑوں کے بارے میں پوچھا تو آپ(صلى الله عليه و سلم) نے فرمایا:

    ”اَلخَیلُ لِثَلاَثَةٍ : لِرَجُّلٍ اَجر، وَلِرَجُلٍ ستر ، وَعَلَی رَجُلٍ وِزر، فَامَّا الَّذِ¸ لَہُ اَجر فَرَجُل رَبَطَھَافِی سَبِیل اللّٰہِ، فَاطَالَ فِی مَرجٍ اورَوضَةٍ ، فَمَا اَصَابَت فِی طِیَلِھَا ذلِکَ مِنَ المَرجِ اوِ الرَّوضۃ کَانَت لَہُ حَسَنَات، وَلَواَنَّھَا قَطَعَت طِیَلَھَا، فَاستَنَّت شَرَفًا اَو شَرَفَینِ ، کَانَت اَروَاثُھَا وَآثَارُھَا حَسَنَاتٍ لَہُ ، وَلَو اَنَّھَامَرَّت بِنَھرٍ فَشَرِبَت مَنہُ وَلَم یُرِدان یَسقِیَھَا کَانَ ذَلِکَ حَسَنَاتٍ لَہُ ۔ وَرَجُل رَبَطَھَا فَخراً وَرِیَاً وَنِوَائً لَاَھلِ الاِسلاَمِ فَھِ¸ وِزر عَلَی ذلِکَ۔“

    ”گھوڑے تین قسم کے لوگو ں کے پاس ہوتے ہیں ۔ایک آدمی کے لئے یہ باعث اجر ہیں ،ایک کے لئے روزی کا ذریعہ،اور ایک کے لئے بوجھ اور مصیبت۔چنانچہ جس کے لئے باعث اجر ہے وہ شخص ہے جس نے گھوڑے کو اللہ کے لئے پالا۔وہ اس کے کھیتوں ،سبزہ زاروں اور باغوں میں رہا۔اس کے رہنے اور کھیت میں باندھنے کے علاقے میں وہ جتنے چکر کاٹتا رہا۔اس کے چرنے اور پھرنے اور اس کے گوبر اور لید کے بدلے اس کے لیے نیکیاں ہیں ۔اگرچہ اس گھوڑے نے پانی کی نہر سے گزرتے ہوئے خود ہی پانی پی لیا حالانکہ مالک نے اسے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا تھاپھر بھی اس کے لئے اجر ہے۔رہا وہ شخص جس کے لئے گھوڑا رکھنا بوجھ اور مصیبت ہے یہ وہ شخص ہے جس نے تکبر،فخر،دکھلاوے اور اہلِ اسلام کے ساتھ دشمنی کے لیے گھوڑا رکھا تو یہ گھوڑ ا اس کے لئے مصیبت ہے۔“

    اس حدیث شریف میں گھوڑے کا ذکر ہو اہے کیونکہ اس زمانے میں گھوڑا ہی نقل و حرکت کا تیز ترین اور جنگ میں استعمال ہونے کابہترذریعہ تھا۔آج کے زمانے میں اسی پر قیاس کرتے ہوئے یہی بات گاڑیوں ،ٹینکوں اور جہازوں کے لئے کہی جاسکتی ہے۔یعنی ایک گاڑی ایسی ہے جو انسان کی آخرت کے لیے مصیبت ہے۔یعنی جسے وہ گناہوں اور فضولیات کے لئے استعمال کرتا ہے۔اور ایک گاڑی وہ ہے جو انسان نے اپنے استعمال کے لیے رکھی ہے۔یا اس سے روزی کماتا ہے اور اس میں سے اللہ کاحق ادا کرتا ہے۔اور ایک گاڑی وہ ہے جسے فی سبیل اللہ وقف کر دیا گیا ہے۔اس گاڑی پر گاڑی والا علماءاور واعظین کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے۔وہاں دین کی تبلیغ و دعوت ہوتی ہے۔ایسی گاڑی میں ڈلنے والے ایندھن کا ایک ایک قطرہ،ایک ایک پیسہ جو اس پر خرچ ہوتا ہے،اس سے نکلنے والا دھواں اس سے نکلنے والی آوازیں ، اس کے ٹائروں سے لگنے والی مٹی اور گرد ہر چیز کے بدلے گاڑی والے کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔گویا یہ گاڑی چلتے ہوئے نیکیاں بنا رہی ہے۔اور نیکیوں کی فیکٹری کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس گا ڑی میں داخل ہونے والی ہر چیز، اس گاڑی سے نکلنے والی ہر چیز، اس گاڑی کے چلنے سے زمین پر پڑنے والے نشانات بھی ایک کام کر رہے ہیں یعنی نیکیاں پیدا کر رہے ہیں جومومن کے میزان میں جمع ہو رہی ہیں ۔

    ہم ایسے گاڑی والے کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے احترام کرتے ہیں جس نے ایمان و قرآن کی خدمت کے لیے گاڑی وقف کی، دعوت حق کی ادئیگی کا بار اٹھایا۔وہ زبان حال سے کہتا ہے کہ میرا گاڑی خریدنے کا مقصد ہی دین حق کی اشاعت ہے۔یہ بات طے شدہ حقیقت ہے کہ یہ عظیم کام کا نقطہ آغاز ہے جو مستقبل میں اس گاڑی کے ذریعے سے انجام پذیر ہوں گے۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  3. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    مومن ہمیشہ جہاد سے منسلک رہتا ہے

    تحریر محمد فتح اللہ گولین

    ناقصعمدہ
    جہاد مسلمان کی زندگی کا عظیم دستور اور نظام ہے۔ جب بھی مومن کے اندر سے روح جہاد ختم ہوتی ہے تو آہستہ آہستہ ایمان و اسلام سے محبت بھی جاتی رہتی ہے اور ہر طرف سے اسے فتنے گھیر لیتے ہیں ۔ایک کے بعد ایک آزمائش اس پر آتی ہے۔تارکین جہاد کے گھر، محلے، مارکیٹیں ، بازار اور منڈیاں بالآخر لعنت و شورش کا گڑھ بن جاتے ہیں اور ہیبت ناک قسم کے حالات کے سامنے ان کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں حتیٰ کہ کسی بھی کام کے قابل نہیں رہتے اور ان کی نبض ہی رک جاتی ہے۔

    جیسے جیسے جہاد سے دلچسپی کم ہوتی ہے اسی تناسب سے دلوں سے وحی کی برکت بھی اٹھ جاتی ہے اور اللہ کے دین کے ساتھ لگاﺅ اور محبت بھی ختم ہو جاتی ہے۔دلوں میں الہا مات الٰہیہ کے لئے کوئی جگہ نہیں رہتی۔اس طرح خدائی اسرا ر سے دل خالی ہو جاتے ہیں ۔انکے روشن دن بھی تاریک راتوں کی طرح ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فیضان و تجلیات انہی لوگوں کو عطا کرتا ہے جو جہاد کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ۔اور اللہ کی عظمت شان کے مطابق اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔جس معاشرہ میں ایسے مجاہدین رہتے ہیں کبھی مایوس وپشیمان نہیں ہوتا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ جس معاشرے میں اللہ کے کلمہ کی سر بلندی کے لیے کوششیں ہوتی ہیں وہی معاشرہ ہے جس کے قبیلوں اور افراد میں یکجہتی ہوتی ہے۔جس معاشرہ میں بسنے والے مومن گاﺅں گاﺅں ،قریہ قریہ اور قصبہ قصبہ چل کر اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کام کرتے ہیں اور دعوت حق لوگوں تک پہنچاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے معاشرہ کو ہمہ جہت کامیابیاں دلاتا ہے۔اور جو معاشرہ اس فریضہ کو ادا نہیں کرتا اور اس میں روح جہاد نہیں ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ آج نہیں تو کل یا اس کے بعد اس کو ختم ہونا ہے اور کل دور نہیں ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ کتنے ہی طاقتور ذلیل و خوار ہوئے ،کتنے ہی مالدار فقیر ہوئے اس لیے کہ انہوں نے جہاد چھوڑ دیا تھا۔جو لوگ بادشاہوں کے درباروں کے گرد چکر کاٹتے رہے آخر کار ذلیل و خوار ہوئے اور ان کے پاﺅں چوم کر گزرنے لگے۔ہم ان آیات کے ذریعے ان کو یاد دلاتے ہیں :

    کَم تَرَکُوا مِن جَنّٰتٍ وَّعُیُونٍ o وَّزُرُوعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیمٍ o وَّنَعمَةٍ کَانُوا فِیہَا فٰکِہِینَ o ۔( الدخا ن۔۲۵۔۲۷)

    ”کتنے ہی باغ اور چشمے اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے ۔ کتنے ہی عیش کے سروسامان جن میں وہ مزے کر رہے تھے ان کے پیچھے دھرے رہ گئے۔ “

    کہیں ایسا دن نہ آجائے کہ لوگ ہمارے اوپر یہ آیا ت پڑھیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن سے بچائے۔آمین۔

    ہاں امویوں ،عباسیوں ،سلجوقوں اور عثمانیوں پر فاتحہ پڑھی جا چکی ہے۔اگر ہم بھی ان اثاثوں کودشمن کے خلاف آخری قلعہ سمجھ کر استعمال نہیں کریں گے تو ہماری بھی فاتحہ پڑھی جائے گی۔ہمیں چاہیے کہ مردوں اورمقبروں کی طرح نہ ہوجائیں بلکہ ہم وہ زندگی جئیں جو انسانیت کے لائق ہو۔

    اگر ہم اللہ کے دین کی عظمت اور قدر کریں تو ہم اللہ کے ہاں اسی قدر اجر پائیں گے جس قدر ہم اپنے دلوں میں اس کے نام کی قدر و عظمت کو زندہ رکھیں گے اور اگر ہم نے اللہ کے حکم کو کوئی اہمیت نہ دی اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ ادا نہ کیا تو اسی طرح اللہ کے ہاں ذلیل ہوں گے اور ہمارانشان تک نہ رہے گا۔

    اگر تم زندہ اور باعزت رہنا چاہتے ہو تو اللہ کا نام اپنے دل کی تحتی پر لکھ لو۔اسے اپنی زندگی کا مقصد بنا لو ۔اپنی زندگی سے ہر اس چیز کو اٹھا باہر پھینکوجس کا اللہ سے تعلق نہ ہو۔بلکہ اپنے خوابوں کو بھی اللہ سے غیر متعلق چیزوں سے پاک کر لواورا پنی زبان حال سے اقرار کرو:ایسی زندگی سے قبر کی تہہ بہتر ہے جس میں اللہ کی محبت نہیں ، جس میں دعوت و تبلیغ نہیں ، جس میں شریعت الٰہی کا نفاذ نہیں ۔پس ایسی زندگی سے موت بہتر ہے جس میں تجلیات الٰہی کے لیے دل نہ ہو۔اس فکرو شعور کو پوری امت میں اجاگر کرنے کے لئے جدوجہد کرو۔ہمارا معاشرہ اپنی اقدار و روایات کھو چکا ہے۔ان کو دوبارہ بحال کرنے اور اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے کوششیں شروع کرو تاکہ تمہارا رب تمہیں نیست و نابود ہونے سے بچا لے ۔

    مؤمن جانتاہے کہ اسے کس چیز کو کیسے ترجیح دینی ہے۔ وہ دنیا اور آخرت میں بقدر ضرورت اعتدال رکھتا ہے۔ وہ اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ آخرت کی کیا اہمیت ہے اور اس فانی دنیا کے مقابلے میں کس حد تک آخرت کو ترجیح دینی ہے ، جس میں ہمیشگی ہے دوام ہے ۔ اس لیے مؤمن ہمیشہ اللہ کے حکم کو دنیوی امور پر مقدم رکھتا ہے اور وہ فنا ہونے اور زائل ہونے والی اشیاءکو ہمیشہ باقی رہنے والے امور اور اشیاءپر ترجیح نہیں دیتا ، بلکہ وہ دنیا کو اسی قدر اہمیت دیتا ہے جس قدر اس نے اس میں رہنا ہے اور آخرت کو اسی قدر اہمیت دیتا ہے جس قدر اس نے آخرت کی زندگی میں رہنا ہے۔ نہ تو یہودیوں کی طرح دنیا ہی میں اٹک کر رہ جاتا ہے اور نہ عیسائیوں کی طرح دنیا سے بالکل کٹ کر رہتاہے ۔مؤمن تو وہ ہے جو دنیوی معاملات کو آخرت کے مقابلہ میں حقیر سمجھتا ہے تاکہ آخرت میں وہ خود حقیر نہ بن جائے کیونکہ جو لوگ دنیا ہی کو اپنی زندگی کا مقصد و محور بنا لیتے ہیں اور آخرت کو بھول جاتے ہیں و ہ آخرت کی بھلائیوں سے محروم بھی ہو تے ہیں ۔ یعنی جو شخص موت سے ہیبت کھاتا ہے وہ دنیا کی زندگی کی لذت بھی کھو دیتا ہے ۔ اسی طرح جو شخص دشمن کو میدان جنگ میں سامنے دیکھ کر ہوش گنوا بیٹھتا ہے او ر اپنی زندگی سے محبت کی خاطر میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اپنی مالی حالت اور زندگی کی فکر میں راہ جہاد سے فرار میں کامیابی سمجھتا ہے ، وہ در حقیقت زندگی اور زندگی کے لوازمات سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یہاں تک کہ جو شخص دنیا و ما فیہا کو چھوڑ کر جہاد سے پیچھے رہتے ہوئے اپنی عبادت گاہ میں تن تنہا بیٹھا رہتا ہے بالآخر اس عبادت گاہ سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ پست حوصلہ اور کم ہمت لوگ ایک دن سب کچھ گنوا بیٹھیں گے اور سر کے بل گریں گے ۔ جہاں تک بلند ہمت اور عالی حوصلہ لوگوں کا تعلق ہے تو وہ اپنے ہاتھوں سے ستاروں بھری اس دنیا کی تعمیر کرتے ہیں ۔ اس دنیا کو اپنے سامنے حقیر سمجھتے ہیں ، اس بات کو نہیں مانتے کہ کوئی اور ان پر حکمرانی کرے بلکہ اپنے اندر یہ صلاحیت محسوس کرتے ہیں کہ دنیا ان کے پیچھے چلے اور وہی حکومت کریں اور ساری زندگی اس نظریہ پر قائم رہتے ہیں کہ دنیا کی حاکمیت انہی کا مقدر ہے ۔

    جو لوگ موت کو زندگی پر ترجیح دیتے ہیں ان پر ہمیشہ زندہ رہنے کا راز کھل جاتا ہے اور ابدی زندگی کا راستہ پاجاتے ہیں ،لیکن جو لوگ دنیا کی چکا چوند میں غرق ہو جاتے ہیں اور اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں ،نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ان کے لیے محال ہو جاتا ہے ، اپنے فرائض بھول جاتے ہیں یہ لوگ اپنے ساتھ ساتھ امت کی ہلاکت کا سبب بھی بنتے ہیں ۔ اس طرح آنے والی نسل کو اس حال میں چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کے غموں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔

    مومن اپنے جہاد سے ان بد ترین نتائج کی قبل از وقت تلافی کرتاہے ۔ گلیاں اور گھر مومن کے جہاد کی وجہ سے منور ہو جاتے ہیں ۔بے راہ روی، ظلم و جبر اور انتہا پسندی جس نے اس دنیا کو خون کے سمندر میں ڈبو دیا ہے، مؤمن کے جہاد ہی سے ختم ہو سکتی ہے ۔

    مومن کے جہاد ہی سے اس دنیا میں انسانیت کے لیے امن و استحکام ممکن ہو سکتاہے ۔ مومن اس انسان کو کہتے ہیں جو اس عظیم مقصد کے لیے برسر پیکار ہو ، چاہے وہ اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہو یا نہ ہو ۔ ہر دو صورتوں میں رحمت الہی اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور قیامت کے روز وہ نیکو کار اور صلحاءکے ساتھ ہو گا جنہوں نے دعوت کے میدان میں اپنے وعدے پورے کر دیے ہیں اور انہوں نے اللہ کی لا متناہی رحمتوں کے دامن تھام لئے ۔

    اس حقیقت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ حق کے راستے پر چلے اور اس پر ثابت قدم رہے، نتیجہ یا انجام کار اس کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ ہر انسان اپنے ہدف کو حاصل نہیں کیا کرتا بلکہ انسان کے لیے کوشش کرنا شرط ہے، کامیابی حاصل کرنا اس کی ذمہ داری نہیں ۔ ہر انسان کو چاہیے کہ کوشش جاری رکھے، حرکت میں رہے کام کرے، مقصد کے حصول کے لیے مسلسل جد و جہد کرے ۔ جہاں تک اللہ کی رضا کا تعلق ہے تو وہ صرف اسی کے نصیب میں ہوتی ہے جس کو اللہ توفیق دے۔

    جو جذبات غازی عثمان کے دل میں جوان تھے۔ جن اہداف کے حصول کے لیے وہ بے چین تھے، جن کے لیے وہ کئی برسوں تک کوشاں رہے، وہ اہداف ان کے پوتوں نے حاصل کئے ۔یعنی ان کے ہر بادشاہ نے جوبھی قدم بڑھایا، جو بھی کوشش کی، اس کی کوشش کا صلہ اس نے پایا چاہے وہ بظاہر کامیاب نہ بھی ہو ا ہو ۔ ہر کوشش کرنے والے نے اپنا صلہ پایا اور اللہ کے ہاں اس کا وش کی قدر ہوئی ان کے تمام کام جہاد ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ اس جہاد میں شریک رہے ان کے نامہ اعمال میں بھی ان کا جہاد بقدر حصہ لکھ دیا گیا۔ جس شخص نے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر سفر کیا ، جس نے اس گھوڑے کو تیار کیا جس نے تیر اٹھایا جس نے رخت سفرباندھا تاکہ دار الکفر میں جا کر دین اسلام کی دعوت پہنچائیں ، تمام کے تمام مجاہدین کے زمرے میں شامل ہیں ۔ ان لوگوں میں اور سپہ سالار لشکر میں اجر کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ۔ لشکر کے عام افراد اور اس سپہ سالار میں کوئی فرق نہیں جس نے دو سمندروں کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا اور وہاں کا حکمران بن گیا دنیا میں اپنی قوت کا لوہا منوا لیا ۔اپنا سکہ جاری کر لیا ۔ کیونکہ لشکر کا عام فرد اور سردار دونوں ایک ہی مقصد اور ایک ہی منزل کے حصول کے لیے برسر پیکار تھے۔

    جس دنیا کو بنانے کے لیے یہ جان نثاران اٹھے ہیں اس کی بنیاد ہی سکون، اطمینان اور امن و سلامتی پر ہے جو ساری دنیا میں پھیلنی چاہیے۔ اس لیے اس طرح کی دنیا بنانے کے لیے جو بھی قدم اٹھایا جائے گا وہ یقینا مقدس ہو گا ۔ اس راستے کا ہرکام عظیم کام ہو گا چاہے دیکھنے میں بالکل معمولی نوعیت کا ہو ۔ اگر تم نیکی کے کام میں ایک قدم بھی آگے بڑھ سکتے ہو تو جان قبض ہونے سے پہلے وہ قدم اٹھا لو۔ اپنے رب کی طرف جانے میں مکرم فرشتوں کے ساتھ مقابلہ کرو تاکہ رب جلیل کے ہاں تمہاری قدر بڑھ سکے اور وہ تمہیں بلند مقام عطا فرمائے اور اگر فرشتوں سے مقابلہ کے دوران ہی تمہاری روح قبض ہو جائے تو تم مقابلہ جیت جاﺅ گے بلا شبہ اللہ تعالی کے ہاں رائی کے دانے کے برابر نیکی کا اجر بھی ضائع نہیں ہوتا ۔

    اس آیت کے مفہوم پر غور کرو:” وَ مَن یُّھَاجِر فِی سَبِیلِ اللّٰہِ یَجِد فِی الاَرضِ مُرٰغَمًا کَثِیرًا وَّسَعَةً وَ مَن یَّخرُج مِن بَیتِہ مُھَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُولِہ ثُمَّ یُدرِکہُ المَوتُ فَقَد وَقَعَ اَجرُہ عَلَی اللّٰہِ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُورًا رَّحِیمًا (النساء:۱۰۰)

    ” جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے و ہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے پھر راستے ہی میں اسے موت آجائے۔ اس کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہو گیا۔ اللہ بہت بخشش فرمانے والا رحیم ہے ۔“

    شاید اس آیت کا شان نزول ہی اس کا مفہوم بہتر طور پر واضح کرے گا۔ اللہ پر ایمان لانے کے شوق میں دل تیزی سے دھڑک رہے تھے اور لوگ جو ق در جوق عطائے الہی کو سمیٹنے کے لیے مدینہ منورہ کی طرف رواں دواں تھے ۔ ایک ایک بھی اور گروپو ں کی صورت میں بھی مدینہ کی طرف ہجرت جاری تھی ۔ دلوں کے درمیان حائل رکاوٹیں ختم ہو چکی تھیں ۔ تمام لوگ اسلام قبول کرتے ہوئے سوئے مدینہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضری کے لیے جارہے تھے ۔ پرانی دشمنیاں دوستیوں اور محبتوں میں بدل رہی تھیں ۔ ہجرت کرنے والوں میں ایک صاحب جندب بن ضمرہ بھی تھے۔ دل میں سوچا مجھے بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے ۔ اس طرح وہ کفار کے درمیان سے چھپ کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اتنے دور پہنچے تھے کہ مدینہ کی باد نسیم ان کے جسم میں موجود روؤں کو حرکت و تازگی دے رہی تھی لیکن مدینہ شہر پہنچنے سے قبل ہی شدید بیمار ہو گئے اور چلنا مشکل ہو گیا۔ اپنے ہدف تک پہنچنے کے قابل نہ رہے۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ اب مدینہ منورہ پہنچنا مشکل ہے اور موت قریب تر ہو رہی ہے تو اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اور ٹوٹتے ہوئے دل سے کہنے لگے اے میر ے پروردگار مجھے قبول فرما لے۔ ایک تیرا ہاتھ ہے اور دوسرا تیرے رسول کا ہاتھ ۔ اب میں تیرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں بالکل اسی طرح جیسے تیرے رسول نے تیرے ہاتھ پر بیعت کی اور وہ مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے ۔ یہ خبر مدینہ منورہ پہنچی تو وہاں صحابہ میں بحث مباحثہ ہونے لگا کہ کیا جندب کو ہجرت کا اجر ملے گا یا نہیں ؟ وہ تو مدینہ نہیں پہنچے اس لیے مہاجر نہ ہوئے ۔

    اس مسئلہ کے حل کے لیے درج بالا آیت نازل ہوئی جس میں خوشخبری ہے کہ جندب مہاجر ہیں یعنی جس شخص نے اپنا گھر بار اللہ کی راہ میں ہجرت کی نیت سے چھوڑ ا اور راستے میں جان ہار گیا وہ ہجرت کا پورا اجر حاصل کرے گا ۔

    اس سے معلوم ہوا کہ حق کے راستے پر چلنے والا بھی حق پر ہے اور جو اس سفرکو مکمل کر کے حق کو حاصل کر چکا ہے وہ بھی حق پر ہے اور دونوں اجر میں برابر ہیں ۔ ہر شخص استطاعت نہیں رکھتا کہ خانہ کعبہ میں حاضری دے سکے ،اس کے گرد طواف کرے۔ حجر اسودکو بوسہ دے سکے، لیکن اگر استطاعت نہ رکھنے والا اس سفر کے لیے بے چین ہو، وہاں جانے کے لیے فکر مند ہو، تگ و دو کرے، تو چاہے وہ وہاں نہ پہنچ سکے، رب جلیل ارحم الراحمین اس کو اجر و ثواب سے محروم نہیں کرے گا یعنی ایسے دل کو کبھی محروم نہیں کرتا جو اس کے گھر سے لگارہتا ہے ۔

    اللہ کے راستے میں کوئی چھوٹا عمل کیا جائے یا بڑا ، دونوں کا عظیم اجر و ثواب ہے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے جیسا کہ ان کے ہاں جہاد کا مفہوم ہے تو وہ جان لیں اور جو کہتے ہیں کہ ہم دعوت کا کام کرنے سے قاصر ہیں و ہ بھی جان لیں ، جو لوگ کہتے ہیں ہمارے پاس اتنا ہے ہی نہیں کہ کسی جگہ خطیر رقم دے کر بڑی خدمت سر انجام دیں وہ بھی جان لیں :۔

    کہ جو شخص بھی اس ربانی دستر خوان کو سجانے میں شریک ہو گا چاہے ایک چھوٹی چمچ کے برابربھی اپنا حصہ ڈالے تو وہ اس شخص کے برابر اجر پائے گا جس نے سمندروں اور وادیوں کی مقدار میں حصہ ملایا ۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  4. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    اللہ والے حاکمیت کے اہل ہیں

    تحریر محمد فتح اللہ گولین

    رکن کی درجہ بندی
    ناقصعمدہ
    جہاد آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور بعد میں آنے والے انبیاءنے اسے اپنے اپنے عہد میں جاری رکھا تاریخ کے ہر دور میں بڑی تعداد میں اللہ والوں نے اس جہاد کو جاری رکھا جن میں سے بعض کے نام ہم نے سن رکھے ہیں اور بعض کو ہم نہیں جانتے ۔ قرآن کریم اس آیت میں ہمیں یہی حقیقت بتاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ۔

    وَ کَاَیِّن مِّن نَّبِیٍّ قٰتَلَ مَعَہ رِبِّیُّونَ کَثِیر فَمَا وَ ھَنُوا لِمَآ اَصَابَھُم فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَ مَا ضَعُفُوا وَ مَا اسَکَانُوا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِینَ o وَ مَا کَانَ قَولَھُم اِلَّآ اَن قَالُوا رَبَّنَا اغفِرلَنَا ذُنُوبَنَا وَ اِسرَافَنَا فِیٓ اَمرِنَا وَ ثَبِّت اَقدَامَنَا وَ انصُرنَا عَلَی القَومِ الکٰفِرِینَo فَاٰتٰھُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنیَا وَ حُسنَ ثَوَابِ الاٰخِرَةِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ المُحسِنِینَ o۔ (آل عمران ۱۴۶۔۱۴۸)

    ”اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزرچکے ہیں ،جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے،انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی،وہ باطل کے آگے سر نگوں نہیں ہوئے۔ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ان کی دعا بس یہ تھی کہ:”اے ہمارے رب، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیاہو اسے معاف کر دے،ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیااور اس سے بہتر ثواب آخرت بھی عطا کیا۔اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں ۔“

    یہ آیات کریمہ ایسے اللہ والوں کا تذکرہ کرتی ہیں جو اس دنیوی زندگی کی فانی لذتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور دن رات اپنے رب کی رضا حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ہر اچھی اور قیمتی چیز اس کے راستے میں خرچ کر دیتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو اور اپنی جانوں کو بھی اللہ کی نذر کردیتے ہیں ۔ ہمیشہ حق کا اظہار کر تے ہیں ، ان کی زبانیں ذکر الٰہی سے تر رہتی ہیں ۔یہی لوگ ہیں جن کا اپنے رب سے گہرا تعلق ہے، پورے قلبی لگاﺅ کے ساتھ جہاد کرتے ہیں ۔اللہ والوں کاجہاد تو ایسے ہوتا ہے کہ جب وہ اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں تو موت سے ڈرتے ہیں ، جہاد کی تکالیف ان کے پائے استقامت کو لرزش دے سکتی ہے نہ ہی کمزوری دکھاتے ہیں ۔جہاد کے سوا کسی اور چیز کو ترجیح نہیں دیتے۔اگر آسمان پھٹ جائے یا زمین ان کو نگل جائے یا ان کے سروں پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں ، وہ اپنے راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔کسی قسم کی آزمائش ان کے عزم، حوصلے اور پیش قدمی کے آگے رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔اس لیے کہ وہ حق پر چلنے کے لئے اپنے قلب و روح کو تیار کر چکے ہیں ۔ایسے ہی لوگ صبر وا ستقامت کے پہاڑ ہوتے ہیں ۔صبر ان کی طبیعت اورفطرت میں نہ صرف راسخ ہو چکا ہوتا ہے بلکہ شوق کی حد تک پایا جاتا ہے۔اسی شوق و جذبہ کے ذریعے اللہ کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

    دوسری جانب وہ پاکبازی اور طہارت میں فرشتوں کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ گناہوں سے بچنے کے لئے انبیاءعلیہم السلام کے طور طریقے اپناتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ گناہ اور سنگ دلی ایسی بیماریاں ہیں جو انسان کو ذلت ،کم ہمتی اور عدم استقامت کی طرف لے جاتی ہیں ۔ اس لیے وہ ہمیشہ پورے عزم صمیم اور ثابت قدمی سے زندگی گزارتے ہیں اور ہر لحظہ اپنے رب سے لو لگاتے ہیں ۔ انہیں امید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ کے معاملات میں زیادتی کو معاف فرمائے گا۔بلاشبہ گناہ اللہ کی رحمت کے آگے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔اس لیے گناہ سے فوری طور پر توبہ کرنا ضروری ہے۔شاید اسی لیے درج ذیل آیت کریمہ میں توبہ اور بخشش کی دعا کو نصرت کی دعا سے پہلے ذکر کیا گیا ہے ۔ فرمایا :

    ” رَبَّنَا اغفِرلَنَا ذُنُوبَنَا وَ اِسرَافَنَا فِیٓ اَمرِنَا وَ ثَبِّت اَقدَامَنَا وَ انصُرنَا عَلَی القَومِ الکٰفِرِینَo فَاٰتٰھُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنیَا وَ حُسنَ ثَوَابِ الاٰخِرَةِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ المُحسِنِینo“

    (آل عمران :۱۴۷۔۱۴۸)

    ” اے ہمارے رب ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہے اسے معاف کردے ، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت میں بھی عطا کیا ۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں ۔ “

    قرآن کریم اللہ کی محبت اور رضا حاصل کرنے کا سیدھا اور آسان راستہ ہمیں بتاتا ہے۔ ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو تو سیدھا راستہ موجود ہے، اللہ والے بن جاﺅ ۔ اسی لیے ہر نبی اپنی امت میں سے خدا ترس لوگوں کی بھر پور تربیت کرتا رہا جو بعد میں اس نبی کی دعوت کے روح رواں بنے اور نبی نے ان کے ہاتھوں میں جہاد کاعَلم تھما دیا۔ پس ہر نبی کے ساتھ خدا ترس لوگ ہوتے ہیں چاہے و ہ کم ہو ں یا زیادہ۔

    یہ سنت الہی چلتی رہی یہاں تک کہ ہمارے نبی محترم (صلى الله عليه و سلم) کا زمانہ آیا۔ آپ نے بھی اپنی براہ راست تربیت سے پاک طینت لوگوں کا ایک گروہ تیار کیا ۔ وہ صحابہ کرام تھے اور وہی اللہ والے اور خدا ترس تھے جن کے ہاتھ میں آپ نے عَلم جہاد تھمایا۔ ہر صحابی جہاد، بہادری اور جرات و استقامت میں اپنی مثال آپ تھا ۔ گویا کہ ہر صحابی حوا ری تھا ۔ راتوں کو زہد و عبادات میں حد کر دیتا ، اور دن کی روشنی میں دشمن کے دل میں ان کے رعب کی وجہ سے حرکت ہی بند ہو جاتی ۔ صحابہ کے سامنے وقت کی سپر طاقتیں زیر ہو جاتیں ، دشمن ان سے اس طرح بھاگ جاتے جیسے بچے بڑوں سے بھاگ جاتے ہیں ۔ یہ سب اس لیے تھا کہ وہ لوگ موت سے عشق کرتے تھے جبکہ ان کے دشمن موت کے خوف سے بھاگ کھڑے ہوتے ، خیر القرون کے زمانے سے بہادری کی چند مثالیں ایما ن کو تازہ کرنے کے لیے ذکر کی جاتی ہیں ۔

    ا۔ انس بن نضر رضی اللہ عنہ
    انس بن نضر رضی اللہ عنہ وہ غزوہ بدر میں شرکت نہ کر سکے حالانکہ آپ اورآپ کا پورا خاندان نورحق قبول کر چکا تھا اور انہوں نے اپنے دلوں میں اللہ کے نورکو بسا لیاتھا ، اس طرح اس نور پر خود عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں اس کی حقیقت کو پہنچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ لیکن سب کچھ کے باوجود بعض بیرونی اسباب کی بنا پر انس بن نضر غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے ۔ اس بات پر انہیں بے حد افسوس تھا اور ہمیشہ اس پر پشیمان رہتے تھے خاص طور پر جب بدر کے مجاہدین واپس مدینہ منورہ آئے تو انہیں دیکھ کر اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر روتے اور کہتے : اے اللہ کے رسول میں اس حق و باطل کے پہلے معرکہ میں شریک نہ ہو سکا جو آپ نے مشرکوں کے خلاف برپاکیا ۔ اگر اللہ نے مجھے ان مشرکوں سے کسی اور موقع پر لڑنے کا موقع دیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔

    ایک سال کے بعد قریش معرکہ بدر کا بدلہ لینے کے لیے ایک بہت پڑے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کے لیے بالکل مدینہ شہر کے دروازے پر احد پہاڑ کے دامن میں خیمہ زن ہو گئے ۔ جبل احد مدینہ منورہ سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ادھر انس بن نضر رضی اللہ عنہ جو معرکہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے کہ اب مشرکین سے انتقام لینے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے پوری طاقت اور ہمت کے ساتھ معرکہ میں کودنے کا فیصلہ کر لیا چنانچہ جب جنگ کی آگ خوب بھڑک رہی تھی تو انس پورے جوش اور ولولے سے سامنے آنے والے ہر کافر کو تہ و تیغ کر رہے تھے اور چومکھی لڑائی میں بہادری کے جوہر دکھا رہے تھے ۔اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے ہر لحظہ جان کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتے رہے۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس بے جگری سے لڑنے والا بہادر چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا ۔

    جنگ ٹھنڈی ہو چکی تھی انس انتہائی مغموم اور حزین تھے کہ انہیں شہادت کا رتبہ کیوں نہیں ملا ۔ اسی اثناءمیں خالد بن ولید ( جو اس وقت تک مشرک تھے ) نے پلٹ کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا ، اس اچانک حملہ سے مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ مجاہدین جو مال غنیمت سمیٹنے میں مصروف تھے سنبھل نہ سکے یہ خبر مشہور ہو گئی کہ رسول اللہ (صلى الله عليه و سلم) شہید ہو چکے ہیں ۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کی پریشانی میں او ر اضافہ ہو گیا، انس ان سر بکف مجاہدین میں شامل تھے جو ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے ۔ انس جان بوجھ کر اپنے آپ کو دشمنوں کی صفوں میں لے جاتے ہوئے کہتے کہ اگر یہ واقعی سچ ہے کہ محمد (صلى الله عليه و سلم) شہید ہو چکے ہیں تو پھر زندہ رہنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انس بن نضر موت سے محبت کرتے تھے۔ جام شہادت کے پیاسے تھے۔ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے کہنے لگے : اے اللہ جو کچھ یہ لوگ یعنی مسلمان کر رہے ہیں میں ان کی طرف سے معذرت پیش کرتا ہوں اور جو کچھ و ہ لوگ یعنی مشرکین کر رہے ہیں ، میں ان سے بری الذمہ ہو ں ۔

    انس بن نضر نے مشرکین کے جرائم اور مذموم افعال سے براءت کااعلان کیا، کفار سے لا تعلقی اور اللہ سے اپنے تعلق کا برملا اظہار کرتے ہوئے ایک مضطرب نظر مسلمانوں کی صفوں پر ڈالی تو ان کی آنکھیں چھلک پڑیں ۔ انہیں انتہائی دکھ اور تکلیف ہوئی ۔ یہ بات درست ہے کہ دشمن نے مسلمانوں کا کوئی خاص نقصان نہیں کیا تھا لیکن مسلمانوں کی صفوں میں بھگدڑ کو وہ برداشت نہ کر سکے گویا ان کے سینے میں کسی نے زہر آلود نشتر پیوست کر دیا ہو ۔ دلبرداشتہ ہو کر پلٹے اور کہا :اے اللہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں ان کی طرف سے میں معافی کا طلبگار ہوں پھر دشمن کی صفوں میں کود پڑے اور واپس نہیں لوٹے ۔ ان کی گھٹی میں خوف کی گنجائش ہی نہ تھی ان کی لغت میں خوف کا لفظ نہ تھا۔ وہ تو موت کو زندگی سے زیادہ پسند کرتے تھے ۔ چنانچہ جنگ ایک بار پھر خوب بھڑک اٹھی۔ اگرچہ دوسری مرتبہ جنگ کرنے کا نتیجہ بھی مسلمانوں کے مجموعی مفاد میں رہا لیکن نقصان کا تناسب بڑ ھ گیا تھا۔ دشمن نے میدان میں مال و انفاس چھوڑے اور انہیں نقصان ذلت اور جانوں کے ضیاع کا تحفہ ملا۔ دشمن خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا ، اور اس مرتبہ انہیں پلٹ کر حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی لیکن اس کے باوجود نبی کریم (صلى الله عليه و سلم) نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر دور تک ان کا پیچھا کیا ۔

    جب شہداءاحد کی گنتی کی گئی تو تعداد ستر تھی جن میں ایک شخص انس بن نضر بھی تھا۔ ان کے جسم میں تلوار، نیزے اور تیرو نشتر کے اسی سے لے کر نوے تک زخم تھے۔ ان کی ہمشیرہ کہتی ہیں کہ زخموں کی اس قدر کثرت کی وجہ سے و ہ پہچانے نہ جارہے تھے میں نے ان کو انگلی کے پور سے پہچانا۔

    بالآخر انس نے دوسرے صحابہ کی طرح جام شہادت نوش کر لیا قرآن کریم ان پر اور ان کے دوسرے ساتھیوں پر اس طرح تبصرہ کرتا ہے:

    ” مِنَ المُومِنِینَ رِجَال صَدَقُوا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیہِ فَمِنھُم مَّن قَضٰی نَحبَہ وَ مِنھُم مَّن یَّنتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوا تَبدِیلًا ۔“(الاحزاب :۲۳)

    ” ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔“

    بلا شبہ انس بن نضر ان خوش بختوں میں شامل تھے جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا ۔

    ب۔ براءبن مالک رضی اللہ عنہ
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت براءبن مالک کو ان کے ان گنت کارناموں اور شجاعت بھری داستانوں کے باوجود کبھی لشکر کا سپہ سالار نہ بنایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ان کو لشکر کا سپہ سالار کیوں نہیں بناتے تو فرمایا : ان کی حد سے زیادہ بہادری اور جرات کی وجہ سے ۔

    و ہ اس قدر دلیر اور نڈر تھے کہ یہ خطرہ لگا رہتا تھا کہ کہیں ان کی بہادری کی وجہ سے ساری فوج کسی مشکل میں نہ پھنس جائے ۔ اسی لیے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ شدید محبت اور اہلیت کے باوجود کبھی لشکر کا سربراہ نہیں بنایا ،انہیں ڈر تھا کہ ان کی حدسے زیادہ بہادری کہیں احتیاط کے پہلو کو نظر انداز نہ کر جائے ۔

    براءبن مالک رضی اللہ عنہ خوف نام کی کسی چیز سے واقف نہ تھے۔ تمام غزوات میں شریک رہے کثیر تعداد میں کافروں کی گردنیں اڑائیں ۔ ہر معرکہ میں موت کے پیچھے بھاگتے رہے اور جب موت ان سے دور بھاگ جاتی تو بہت افسردہ اور پریشان ہوتے اور میدان جنگ سے غمگین ہو کر لوٹتے۔

    یمامہ میں شہادت کی منز ل قریب تر تھی ۔ قلعہ فتح نہیں ہو رہا تھا وہ ستونوں سے اوپر چڑھے اور اوپر سے اپنے آپ کو اندر کی طرف گرا دیا دشمن نے گرتے ہی تیروں کی بارش کردی بہت زیادہ زخمی ہوئے لیکن پھر بھی انہیں شہادت کا مرتبہ نصیب نہ ہوا ۔

    آپ مستجاب الدعوات تھے ، رسول اللہ (صلى الله عليه و سلم) نے خود صحابہ کرام کی موجودگی میں ان کی یہ صفت بیان کی کہ آپکی دعا کبھی رد نہیں ہو گی۔ فرمایا:

    ”کَم مِن اَشعَثَ اَغبَرَ ذِی طِمرَینِ لاَیُو بَہُ لَہُ لَو اَقسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہُ مِنھُمُ البَرَائُ بنُ مَالِکٍ“

    کتنے ہی بکھرے بالوں والے، غبارسے اٹے ہوئے، دو کپڑوں میں ملبوس لوگ ہیں ، جن کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اگر وہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالی ان کی قسم کو سچ کر دکھاتا ہے ۔ انہی لوگوں میں براءبن مالک بھی شامل ہیں ۔

    صحابہ کرام جب کسی مشکل میں پھنس جاتے تو براءبن مالک کے پاس جاتے اور ان سے دعا کی درخواست کرتے ، اہواز کے معرکہ میں بھی ایسے ہی ہوا جو مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان ہو ا تھا ۔ یعنی جب مسلمانوں کی صفوں میں بھگدڑ مچ جاتی تو لوگ حضرت براءبن مالک کے پاس جاتے اور جا کر دعا کی درخواست کرتے اور اللہ کی مدد آجاتی ۔ انہوں نے اہواز کے موقع پر بھی ہاتھ اٹھائے اور کہا : اے اللہ دشمن کو شکست دے اور ہماری مدد فرما ،اور مجھے اپنے نبی سے ملا دے ، ہزاروں مسلمانوں نے کہا آمین آمین ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے دینی بھائیوں کو الوداعی نظروں سے دیکھا ان کی آنکھیں بجلی کی طرح خوشی سے چمک رہی تھیں ۔ زرہ پھینک دی اور بے جگری سے دشمن کی صفوں کو چیرنے لگے ۔ ان کی تلوار چاروں طرف چل رہی تھی ۔ کفار کو شکست ہوئی۔ وہ بھاگ گئے۔ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی ۔ جب لوگوں میں فتح کی خبر تیزی سے پھیل گئی تو میدان کارزار مین ایک شیر خون میں لت پت پڑا تھا۔ اس کے ہونٹوں کی ہلکی مسکراہٹ نے اس منظر کو بڑا دلکش بنا دیا تھا۔ بلا شبہ یہ دنیا سے الوداع ہونے کا منظر تھا مسلمانوں کی فتح کا منظر تھا۔ جس کی خوشی شہید کے ہونٹوں سے ظاہر ہو رہی تھی ۔ اور اب یہ شیر خدا براءبن مالک زخموں سے چور اپنی دعاکے دوسرے حصے کی قبولیت کا منتظر تھا یعنی ” رسول اللہ (صلى الله عليه و سلم)سے ملنا “ اور پھر آپ کی ملاقات اس رسول (صلى الله عليه و سلم)سے ہو گئی جس سے وہ اپنی ذات سے زیادہ محبت کرتے تھے ۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  5. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    جہاددنیا پر حکمرانی کا ذریعہ

    تحریر محمد فتح اللہ گولین

    رکن کی درجہ بندی
    ناقصعمدہ
    مومن کے ہاتھ میں ایسا دستور دے دیا گیا ہے جس کے آگے سے باطل آسکتا ہے نہ پیچھے سے اور یہ دستور اسے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔یہی عزت و شرف اور سرداری کا سرچشمہ ہے۔اس کے علاوہ مومن کے پاس بہترین نمونہ زندگی سید المرسلین (صلى الله عليه و سلم) کی سیرت کی صورت میں موجود ہے۔مومن اس دستوری کتاب اور رسول کریم کی وجہ سے پوری سر زمین میں وہ واحد ذات ہے جس کو بہت بڑی خیر مل گئی ہے اور مومن ہی اس سر زمین پر حکمرانی کا سب سے پہلا امیدوار ہے۔قرآن کریم خود مومن کو یہ سکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس نتیجہ کا منتظر ہے۔

    مسلمان ہمیشہ کہتا ہے” اللہ میرا رب ہے ،محمد (صلى الله عليه و سلم)یرا رسول ہے ،قرآن میری کتاب ہے،جہاد فی سبیل اللہ میری سب سے بڑی خواہش ہے۔“ اس عبارت کو بار بار دہرانے سے مومن کے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ مجھے چاہیے کہ امت مسلمہ کے ذریعہ اس دنیا میں ایک توازن اور اعتدال پیدا کروں ۔اگر دنیا کی قوموں کے فیصلے کرتے ہوئے میری بات نہ سنی گئی تو اس دنیا میں بد ترین مظالم ہوں گے۔عزت داروں کو ذلیل کیا جائے گا۔کمینوں کو عزت دار بنایا جائے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ فیصلہ میری طرف سے صادر ہو اور میں عنصر توازن بن سکوں ۔ دیگر اقوام کو چاہیے کہ اپنی کانفرسوں میں میری انگلی کے اشارے کاانتظار کریں ،میری بات کو ادھر ادھر سے آنیوالی باتوں پر ترجیح دی جائے۔

    کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے میری رائے ضرور لی جائے۔ اگر مومن کی سوچ میں یہ فکر اور شعور پیدا ہوجائے تو استعماری طاقتیں ناکام ہو جائیں اور کوئی مسلمانوں کے خلاف پابندیوں کا سوچ بھی نہ سکے۔اللہ تعالیٰ درج ذیل آیت کریمہ میں مومن سے اسی بات کا تقاضا کرتا ہے:

    وَ لَقَد کَتَبنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعدِ الذِّکرِ اَنَّ الاَرضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُونَ ۔ (الانبیاء: ۱۰۵)

    ”اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔“

    ذکر سے مراد نصیحت ہے لیکن یہاں ذکر بمعنی تورات یا لوحِ محفوظ ہے۔اس معنی کی مناسبت سے اس آیت کی تشریح اس طرح ہو گی: اللہ نے لوح محفوظ میں جو لکھا تھا اس کے بعد لوح محفوظ سے انبیاءپر بھیجی جانے والی کتابوں میں یہی لکھا کہ اللہ کے نیک بندے ہی زمین کے حقیقی وارث ہیں ۔اور وہی ہمیشہ اس زمین پر وراثت کا حق رکھتے ہیں جبکہ دیگر لوگوں کی حکمرانی تو محض عارضی اور جز وقتی ہے۔دائمی حکومت کی تجدید مسلسل ہوتی رہتی ہے اور یہی صالحین کی حاکمیت ہے۔جو صالح لوگوں ، نیک معاشروں اور بہترافراد سے تشکیل پاتی ہے۔لوح محفوظ میں یہ قانون لکھ دیا گیا پھر وہاں سے زبور میں نقل ہوا۔یعنی اس زبور میں جو داﺅد (علیہ سلام) پر نازل ہوئی اوروہ تحریف شدہ نہیں تھی۔

    دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے نظام رائج ہیں جو اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں ۔کبھی فرعون کی حکومت ہوتی ہے کبھی جابر بادشاہوں کی ،لیکن یہ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں کچھ عرصہ کے بعد ختم ہوجاتی ہیں ۔

    لوح محفوظ یا تو رات و زبور میں موجود قانون کی مخالفت اس سے بالکل نہیں ہوتی کیونکہ آسمانی کتابوں میں موجود وراثت دائمی اور مسلسل ہے۔یہ حکومت طویل مدت کے لیے مومنین کی میراث ہے۔جہاں تک غیر اسلامی حکومتوں اور طاغوتی حکمرانوں کا ظہور ہے تو یہ وقفہ وقفہ سے ہوتارہتا ہے۔اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ سوئے ہوئے مسلمان کو جگایا جائے اور انہیں یاددہانی کروائی جائے تاکہ وہ تفرقہ بازی ختم کر کے آپس میں شیر و شکر ہو جائیں ۔قرآن و زبور میں موجود قانون الٰہی تو اللہ نے بنایا ہے۔اس میں تبدیلی کی جرات کوئی نہیں کر سکتا۔

    زمین میں حکمران نامزد کرنے اور بنانے والے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے زمانے کے بہترین اخلاق کے مالک ہوتے ہیں ۔یہاں اخلاق سے مراد یہ نہیں کہ ایسے لوگ ہوں کہ جو دن میں چار پانچ مرتبہ مسجد آئیں جائیں وغیرہ وغیرہ۔بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں وہ صفات و خصوصیات ہوں جو نبی اکرم (صلى الله عليه و سلم) کے اندرتھیں ۔اور زندگی کے تمام پہلوﺅں میں اسلام کونافذ کرنا چاہتے ہوں ۔ نبوی اخلاق سے انسان کے اندر اشیاءحوادث کو پہنچاننے کی قوت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ انسان اور کائنات کے تعلق کو سمجھ سکتا ہے۔اور پھر انہی اخلاق فاضلہ میں انفس وآفاق میں اعتدال وتوازن کی ضمانت بھی ہے۔یعنی یہ کہ زمین کی تہہ پر موجود صالح انسان ہی دائمی زندگی کا ادراک کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔

    حاکمیت یا حکمرانی کا یہ وسیع مفہوم وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو دنیا میں انارکی و انتہا پسندی کو رواج دے رہے ہیں ۔اور ایک کے بعد دوسرا جرم ثواب سمجھ کر کرتے ہیں ۔امت کے سادہ لوح انسانوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو غلط راہ پر لگاتے ہیں ۔رائے عامہ کو اپنے حق میں لانے کے لیے سیاسی مسائل،سیاسی نعرہ بازی اور شدت پسندی پر عمل کرتے ہیں ۔لوگوں کے اذہان اور قلوب کے ساتھ کھیلتے ہوئے مشاورت کی صفت سے انہیں بہت دور لے جاتے ہیں ۔اس قسم کے لوگ اللہ کومطلوب حکمرانی قائم نہیں کر سکتے۔اور جب اسلام کا حقیقی سورج طلوع ہو گاتو یہ لوگ اپنی غفلت سے بیدار ہوں گے۔اور اپنے کیے پر خود ہی نادم ہوں گے کہ ہم کونسی شیطانی چال میں پھنس چکے تھے۔تب ان کو اپنی غلطی کا پتہ چلے گا۔

    جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے با عزت پیداکیا ہے ایک نہ ایک دن سیدھا راستہ پا لے گا۔اگر یہ بات درست نہیں ہے تو نعوذباللہ قانون ِخداوندی غلط ہے۔یہ بات تو طے ہے کہ قانون خداوندی تبدیل نہیں ہو تا۔

    ” لَا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللّٰہِ۔“ (الروم: ۳۰)

    ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی۔“

    ہاں یہ بات درست ہے کہ اللہ کا ایک اور قانون بھی ہے وہ یہ کہ

    ” اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِھِم “ (الرعد:۱۱)

    ”بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت بدل لے۔“

    یعنی اللہ تعالیٰ کسی باعزت قوم کو جس کے سر پر تاج ہو کبھی ذلت و رسوائی میں نہیں ڈالتا۔ ہاں اگر قوم نے خود اپنے آپ کو ذلت میں ڈال دیا تو یہ اس کا قصور ہے۔یہ قانون الٰہی مثبت اور منفی دونوں صورتوں میں نافذ ہوتا ہے۔اس لیے اپنے آپ کو درست کرنا اپنے نفس کی حفاظت اور اس کو پہچاننا اور اپنے باطن کو درست کرنا ضروری ہے۔یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسے فاتح کہا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنے نفس کے قلعہ کو فتح کرے اور جو اپنے نفس کے قلعہ کو فتح کرنے سے قاصر ہواس کے لیے بیرونی قلعہ فتح کرنا ممکن نہیں ہے۔

    روس کے ایک جنونی متعصب مفکر نے اہل روس کے لیے ایک مثالی منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبہ کو آنے والے سربراہان نے بڑی اہمیت بھی دی۔اسکی اس منصوبہ بندی کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

    بلقان کی حدود سے بھی آگے نکل جاﺅ،عثمانیوں کی پیش قدمی کو روک دو اور ان کے راستے کاٹ دو۔ان کی صفوں میں تفرقہ ،فتنہ اور دشمنی ڈال دو۔گرم پانیوں تک پہنچو،افریقہ اور خلیج بصرہ کے ممالک پر قبضہ کر لو۔عالم اسلام میں یورپ کو گھسنے کا موقع نہ دو کہ وہ وہاں سے تمہارے خلاف کارروائی کر سکیں ۔بات چیت میں بھی ان کو اس طرف نہ آنے دو۔

    اس وصیت پر مسلسل عمل ہو رہا ہے بلکہ دور حاضرمیں روس نے اس وصیت پر زیادہ سختی سے عمل شروع کر دیا ہے۔ کیمونسٹوں اور اشتراکیوں نے اپنی حکومت کا مقصد ہی اسی منصوبہ کو قرار دے دیا ہے۔

    نبی کریم (صلى الله عليه و سلم) نے مومنین کو وصیت کی تھی کہ دین اسلام کی دعوت کوچہار دانگ عالم میں پھیلا دو۔یہی سب سے بڑا ہدف ہے تاکہ انسان کی ساری زندگی میں اسلام کی سیادت قائم ہو سکے۔اس عظیم امانت کی پاسداری کرنا، خود بھی اس پر عمل کرنا اوردنیا میں اس دعوت کو عام کرنا،ہمارے اوپر قرض ہے۔ہمیں اس قرض کی ادائیگی کر نا ہے۔

    اس لیے مومن تو اپنے ہی مقصد کے لیے زندگی گزارتا ہے۔اس کی زندگی کا مقصد دعوت دین ہے۔اس دعوت کو پہنچانے کے لیے وہ گرم سمندروں تک بھی جاتا ہے اور سرد سمندروں تک بھی۔ اپنی دینی قوت وحمیت اور اسلام کی حاکمیت کے لیے دنیا کے گوشے گوشے میں جاتا ہے چاہے اسے سائبیریا کے جمے ہوئے سمندروں میں جانا پڑے یا جنوبی امریکہ کے غیر معروف علاقوں میں یا شمالی امریکہ کے صحراﺅں میں ۔اس دین کے غلبہ اور پھیلاﺅ کے لیے اس کو حرکت میں رہنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ مسلمان کافروں کی غلامی میں زندگی بسر کریں ۔

    ”وَ لَن یَّجعَلَ اللّٰہُ لِلکٰفِرِینَ عَلَی المُومِنِینَ سَبِیلًا۔“(النساء: ۱۴۱)

    ”اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے مومنوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔“

    اگرمسلمان کافروں کے غلبہ میں بخوشی زندگی گزارتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اسلام اور ایمان کی روح اس کے اندر سے نکل گئی ہے۔اس طرح تو زندہ رہنے کا حق ہی نہیں رہتا۔یعنی ذلت، اہانت،بدبختی اور پستی کی زندگی گزارے گا۔ پھر آخرت میں بھی رسوائی اور ذلت کا سامنا کرے گا۔مومن کے شعور میں یہ بات راسخ ہونی چاہیے اور اسے ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ پوری دنیا پر اس کی حکمرانی قائم ہو۔

    ایک زمانہ تھا کہ ہم پوری دنیا پر حکمرانی کرتے تھے۔اس لیے اگر ماضی میں ایسا ہوا تو مستقبل میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم پیہم و مسلسل جدوجہد کریں اور پوری طاقت مجتمع کر کے اس کام پر لگا دیں ۔کم ازکم با ہمت اور دلیر لوگوں کو اس کام پر ابھاریں تاکہ حکمرانی کا منصب حاصل کرنے کے لیے ضروری اہداف طے کر لیں ۔

    ا۔ موسیٰ علیہ السلام او ر ان سے پہلے لوگوں کی حکمرانی

    سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے حاکمیت کا ہدف حاصل کر لیا تھا اور بنی اسرائیل میں سے جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے انہیں فرعون سے بچا لیا تھا۔آپ خو د ان کی تعلیم و تربیت کرتے رہے لیکن حکومت حاصل کرنے کے باوجود وہ طبقہ حکمرانی کا اہل ثابت نہ ہواکیونکہ ان کی آنکھیں تھیں مگر دیکھتے نہ تھے۔ انکے کان تھے مگرقوت سماعت سے خالی تھے حالانکہ رسول اللہ موسیٰ علیہ السلام وہ عظیم پیغمبر تھے جنہوں نے طور سینا میں خود اپنے رب کی تجلیات کا مظاہرہ دیکھا۔قرآن کریم اس نااہل طبقہ پر یوں تبصرہ کرتا ہے۔

    ”قَالُوا یٰمُوسٰی اِنَّا لَن نَّدخُلَھَآ اَبَدًا مَّا دَامُوا فِیھَا فَاذھَب اَنتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُونَ۔“(المائدہ:۲۴)

    لیکن انہوں نے پھر یہی کہاکہ:”اے موسٰی(علیہ سلام) ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔بس تم اور تمہارارب، دونوں جاﺅاور لڑو،ہم یہیں بیٹھے ہیں ۔“

    اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ اولوالعزم رسول کو اسکی قوم کس انداز میں مخاطب کر رہی ہے۔بنی اسرائیل نے تو اسی زمین پر پرورش پائی اور وہیں پروان چڑھے جس پر حکومت کا ان سے وعدہ بھی کیا گیالیکن جب عین حکومت کا وقت آیا تو انہوں نے کوئی کوشش نہیں کی،کسی قربانی کے لئے تیار نہ ہوئے۔اگر جہاد کرتے تو ان کو ہدف حاصل ہو جاتا لیکن وہ زمین سے چمٹے رہے۔آرام و سکوں کو ترجیح دی۔وہ تو اپنے گھروں سے باہر نکلنے تک کا ارادہ نہ رکھتے تھے۔ہر قسم کے جہاداور جدوجہد سے دور بھاگتے تھے،پیسہ نکالناانکے لیے ناممکن تھا۔نہ تو جان سے جہاد کرتے تھے نہ مال سے۔اس حال میں موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی نا اہلی کی وجہ سے اپنے رب جلیل کے سامنے عاجزی بھرے انداز میں التماس کیاکرتے تھے۔

    ” قَالَ رَبِّ اِنِّّی لَآ اَملِکُ اِلَّا نَفسِی وَ اَخِی فَافرُق بَینَنَا وَ بَینَ القَومِ الفٰسِقِینَ۔“(المائدہ: ۲۵)

    اس پر موسیٰ علیہ السلام نے کہا:”اے میرے رب،میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرابھائی،پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے۔“

    گویا وہ کہہ رہے ہیں میں تنگ آ گیا ہوں ، مایوس ہوگیا ہوں ،یہ لوگ مردہ دل ہیں ان میں جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ،یہ تو آرام کرنے اور گھر بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔عزت اورغیرت نام کی کوئی چیز ان میں نہیں ۔ اے اللہ میں تیری ہی بارگاہ میں التجا کرتا ہوں ۔ہمارے اور ان فاسقوں کے درمیان دوری پیداکر دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحرائے تیہ میں ڈال دیا۔جہاں وہ چالیس برس تک ذلت و خواری میں پڑے رہے۔

    موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی جو نبی آئے ان کے ساتھ بھی بنی اسرائیل نے ایسے ہی کیا۔مثلاً یوشع بن نون اور داﺅد (علیہ سلام) کے ساتھ بھی حالا ت ایسے ہی رہے۔

    داﺅد علیہ السلام طالوت کی فوج میں جالوت کے ساتھ جنگ میں بطور سپاہی شریک تھے۔ان کا جالوت سے مقابلہ ہوااور انہوں نے جالوت کو میدانِ جنگ میں قتل کر دیا۔اس طرح کے مثبت نتائج کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ طالوت کی فوج کے بہت بڑے حصے نے میدان جنگ میں جانے کی بجائے پسپائی اختیار کر لی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی حکایت اس طرح بیان کی ہے:

    قَالُوا لَا طَاقۃَ لَنَا الیَومَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِہ ۔ (البقرہ :۲۴۹)

    ” کہنے لگے آج ہم جالوت اور اسکی فوج کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔“

    بہت کم تعداد ایسے ایمان والوں کی تھی جو حق پر ڈٹے ہوئے کہہ رہے تھے:

    کَم مِّن فِئَۃٍ قَلِیلَۃٍ غَلَبَت فِئَۃً کَثِیرَةً بِاِذنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِینَ ۔ (البقرہ: ۲۴۹)

    ”بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیاہے۔اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔“

    قلیل گروہ زندگی کی عارضی لذتوں کو حقیر جانتے ہوئے موت کی طرف بڑھے تواللہ تعالیٰ نے ان کے دعویٰ کو سچ کر دکھایا۔اور جالوت کے گروہ کو شکست سے دوچار کر دیا۔عمالقہ کو انہوں نے پیچھے دھکیل دیا اور بنی اسرائیل کی بیت المقدس میں داخل ہونے کی تمنا پوری ہوئی۔

    ب۔امت محمدی میں زمین پرحکمرانی کا مفہوم اور اس کا حدود اربعہ

    اگر ہم سیرت مصطفی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو تا ہے کہ آپ (صلى الله عليه و سلم) نے صحابہ کرام کے اندراس ہدف کو حاصل کرنے کی تڑپ پیدا کر دی تھی اور وہ ہدف اور مقصد حاکمیت الٰہی تھا۔اس کی مثالیں ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں اس کے ذریعے انسان کی ذاتی زندگی دینی زندگی سے پہلے تربیت پاتی ہے اور پورا معاشرہ ایک رنگ میں رنگا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس ہدف کے لئے عمل کرنے کی وجہ سے صحابہ کرام کے سامنے ساری دنیا کے دروازے کھول دیے اور عزت و غلبہ عطا فرمایا۔رسول اللہ (صلى الله عليه و سلم)کا پیغام رسالت ہی یہی ہے اور اللہ نے آپ (صلى الله عليه و سلم) کو قرآن دے کر اسی لیے بھیجا تاکہ اس نظام زندگی کو تمام نظاموں پر غالب کر دے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ہُوَ الَّذِیٓ اَرسَلَ رَسُولَہ بِالہُدٰی وَدِینِ الحَقِّ لِیُظہِرَہ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیدًا ۔

    (الفتح:۲۸)

    ”وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجاہے تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے۔اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔“

    اللہ تعالیٰ نے آپ سے فتح مکہ کا وعدہ کیااور اللہ تعالیٰ اپنے وعد ہ کے خلاف نہیں کرتااور مکہ فتح ہو گیا۔اسی طرح اس آیت کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلى الله عليه و سلم)کے لیے ساری دنیا کو زیر کر دے گا لیکن جب اس کا وقت آئے گا۔یہ اللہ کا وعدہ ہے۔اس دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوگا۔ دلوں پر اسلام کی حکومت ہو گی۔اللہ کا کلمہ سر بلند ہو گا۔یہ نظام پوری انسانیت کو امن سکون اور استحکام سے بھر دے گا۔

    اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ دین دے کر بھیجا ہے۔اس کے نور سے پوری دنیا روشن ہو گی۔اور اس کی ہدایت سے تمام خرابیوں کی اصلاح ہو گی۔ ایک شاعر یحییٰ کمال اس احساس کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ۔

    الاجل لم یمھل السلطان العظیم

    ”موت نے سلطان عظیم کو مہلت نہ دی۔“

    لکان فتح العالم للمجدوالشان المحمدی

    ”ورنہ وہ دنیا میں عزت اور شان محمدی کے دروازے کھول دیتا ۔“

    تغرق الارض فی انوار الوف المنائر

    ”زمین ہزاروں میناروں کی روشنیوں میں ڈوب جاتی۔“

    کلما فتح جناحاہ بالروح و الریحان المحمدی

    ”جب بھی روحِ محمدی کی حَسین مہک سے اس کے پر کھلتے۔“

    اب وہ شخص جو اپنے اندر اس شوق و جہد کی آگ بھڑکا لے اس کی زندگی کا اہم مقصد اور اصل ہدف بھی جہاد فی سبیل اللہ بن جائے گا۔بلکہ وہ اللہ کے راستے میں موت کو ایک عظیم نعمت تصور کرے گا۔یعنی اگر فنا نہ ہو تو بقا بھی نہیں ہے کیونکہ بقا کی جانب جانے والا راستہ فنا سے ہی گزرتا ہے۔رات کے بعد دن اور سرما کے بعد بہار آتی ہے۔جس کی زندگی میں رات اور سرمانہ ہو اس کے لئے دن اور بہار کا آنا بھی محال ہے۔

    ہم اس انتظار میں ہیں کہ ہماری امت کے لیے بھی دن کی روشنی پھوٹے۔تم راتوں کو قیام کرو مشکل حالات سے مقابلے کی تیاری کرو۔خون کے دریا کو عبور کرو۔اپنی پشت پر احد پہاڑ جیسا (ترکی کایک قصبہ)دفاعی حصارقائم کرو۔پھر تمہیں فتح مکہ کی طرح اور چالدران(ترکی کاایک قصبہ) کی فتح کی نوید بھی سنائی دے گی۔گھمبیر سرما کی سیاہ راتیں ختم ہوں گی۔ہزاروں قسم کی تکالیف برداشت کرنے اور ہزاروں زخم سہہ جانے کے بعدظلم کی سیا ہ رات ختم ہو گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی خوشی تکلیف کے بعد ہی آتی ہے۔جسے بچہ حاصل کرنے کا شوق ہوتا ہے درد زہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس لیے جو بچوں کے لیے دل میں محبت اور کشش رکھتے ہیں درد زہ جیسی سخت تکلیف کو بخوشی برداشت کرتے ہیں ۔

    اللہ تعالیٰ نے دین کی سر بلند ی کا وعدہ فرمایا ہے۔اس دین پر چلنے والے بالآخر غالب آئیں گے۔شرط یہ ہے کہ انہوں نے دین پر مکمل عمل کیا ہو۔اللہ کا دین غالب آکر رہے گا۔اگر اس ملک میں نہ آیا تو کسی دوسر ے ملک میں اللہ تعالیٰ اسے غالب کر ے گا۔اس لیے کہ اللہ کاوعدہ پکا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ پورے عزم و استقامت اور اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے جہاد کریں اور اس دنیا کو فتنوں اور فسادوں سے پاک کردیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

    ” وَقٰتِلُوھُم حَتّٰی لَا تَکُونَ فِتنَۃ وَّ یَکُونَ الدِّینُ لِلّٰہِ ۔ “(البقرہ:۱۹۳)

    ”اور تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔“

    یعنی اس وقت تک جہاد وقتال کرتے رہو جب تک کہ زمین سے فتنہ وفساد،مشکلات و مسائل اور بدامنی ختم نہ ہو جائے۔اور انسان دنیوی و اُخروی سکون و خوش بختی حاصل نہ کر لے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک فتنہ ختم نہیں ہو گا جب تک کہ ساری دنیا میں اسلام اور سلامتی قائم نہ ہو جائے اور بنی نوع انسان پر سکون زندگی نہ گزارنے لگ جائے۔

    رسول اللہ (صلى الله عليه و سلم) نے صحابہ کرام کے دلوں میں یہ نورانی احساس پیدا کر دیا تھا۔ہم ذرا اس سر زمین پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں جو رسول اللہ اور صحابہ کرام کی نورانی مشعلوں سے روشن ہوئی تھی۔

    خلافت عثمانی کو ابھی پانچ برس نہ گزرے تھے کہ مسلمان شمالی افریقہ کے اکثر علاقے پر اسلامی علم لہرا چکے تھے۔ادھر اسلامی لشکروں نے بحرِ خزر اور طبرستان تک فتح کر لیا تھا۔اس کے علاوہ ماوراءالنہر یعنی دیوار چین تک کا علاقہ اسلامی خلافت میں داخل ہو چکا تھا۔

    یعنی اتنے کم عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کوہمارے ترکی جیسے پچاس ممالک کے برابر سر زمین کا مالک بنا دیاتھا۔

    اگر تم لوگ بھی صحابہ کی طرح موت کو ہنس کر گلے سے لگانے کا جذبہ پیداکرو، اس فانی دنیا کے پیچھے نہ پڑو، اس کو حقیر سمجھو، اپنی راحت و آرام کو دینی خدمت پر قربان کرو، زندگی اسی کو سمجھو جسے دین زندگی سمجھتا ہے اور ہر شخص تہیہ کر لے کہ جب تک اسلام غالب نہیں آجاتااس وقت تک میں جدوجہد کرتا رہوں گااور اس راستے میں موت کو ترجیح دوں گا بجائے اس کے کہ میں زندہ رہوں اور دین کی حفاظت نہ کروں ، تب اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر بھی اسی طرح فضل کرے گااور تمہیں بھی اپنی زمین کا مالک اور حکمران بنائے گا۔

    جو گروہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں پر اسلامی پرچم لہرانے کا بیڑا اٹھاتاہے اور ہر مشکل گھڑی میں اس کی خاطر صبر کرتا ہے، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام غالب کرنے کی سعی کرتا ہے، ایک روز وہ آسمان پر بھی پرچم الٰہی لہرانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔تب اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں اور کرم کی بارش کرے گااور اللہ اسے جہانوں کی حکمرانی نصیب کرے گا۔ان پاکیزہ روحوں کو تیا رکرنے سے ہی دنیا میں اسلام کی حاکمیت قائم ہوگی۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  6. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management




    جہاد کی کتنی اقسام ہیں؟



    جہاد کو مسلسل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس کی درجِ ذیل اقسام ہیں :

    1۔ جہاد بالعلم

    3۔ جہاد بالمال

    2۔ جہاد بالعمل

    4۔ جہادبالنفس

    5۔ جہاد بالقتال

    1۔ جہاد بالعلم

    یہ وہ جہاد ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی احکامات کا علم پھیلایا جاتا ہے تاکہ کفر وجہالت کے اندھیرے ختم ہوں اور دنیا رشد و ہدایت کے نور سے معمور ہو جائے۔

    2۔ جہاد بالعمل

    جہاد بالعمل کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔ اس جہاد میں قول کے بجائے عمل اور گفتار کی بجائے کردار کی قوت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرنا مقصود ہے۔ جہاد بالعمل ایک مسلمان کیلئے احکامِ الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگی کو ان احکام کے مطابق بسرکرنے کا نام ہے۔

    3۔ جہاد بالمال

    اپنے مال کو دین کی سر بلندی کی خاطر اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کو جہاد بالمال کہتے ہیں۔

    4۔ جہاد بالنفس

    جہاد بالنفس بندۂ مومن کیلئے نفسانی خواہشات سے مسلسل اور صبر آزما جنگ کا نام ہے۔ یہ وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ شیطان براہ راست انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر نفس کو مطیع کر لیا جائے اور اس کا تزکیہ ہو جائے تو انسان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

    5۔ جہاد بالقتال

    یہ جہاد میدانِ جنگ میں کافروں اور دین کے دشمنوں کے خلاف اس وقت صف آراء ہونے کا نام ہے جب دشمن سے آپ کی جان مال یا آپ کے ملک کی سرحدیں خطرے میں ہوں۔ اگر کوئی کفر کے خلاف جنگ کرتا ہوا مارا جائے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے مردہ نہ کہا جائے بلکہ حقیقت میں وہ زندہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَO

    ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔‘‘

    البقره، 2 : 154
     
    UrduLover likes this.
  7. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!



    جہاد کی کتنی اقسام ہیں؟



    جہاد کو مسلسل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس کی درجِ ذیل اقسام ہیں :

    1۔ جہاد بالعلم

    3۔ جہاد بالمال

    2۔ جہاد بالعمل

    4۔ جہادبالنفس

    5۔ جہاد بالقتال

    1۔ جہاد بالعلم

    یہ وہ جہاد ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی احکامات کا علم پھیلایا جاتا ہے تاکہ کفر وجہالت کے اندھیرے ختم ہوں اور دنیا رشد و ہدایت کے نور سے معمور ہو جائے۔

    2۔ جہاد بالعمل

    جہاد بالعمل کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔ اس جہاد میں قول کے بجائے عمل اور گفتار کی بجائے کردار کی قوت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرنا مقصود ہے۔ جہاد بالعمل ایک مسلمان کیلئے احکامِ الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگی کو ان احکام کے مطابق بسرکرنے کا نام ہے۔

    3۔ جہاد بالمال

    اپنے مال کو دین کی سر بلندی کی خاطر اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کو جہاد بالمال کہتے ہیں۔

    4۔ جہاد بالنفس

    جہاد بالنفس بندۂ مومن کیلئے نفسانی خواہشات سے مسلسل اور صبر آزما جنگ کا نام ہے۔ یہ وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ شیطان براہ راست انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر نفس کو مطیع کر لیا جائے اور اس کا تزکیہ ہو جائے تو انسان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

    5۔ جہاد بالقتال

    یہ جہاد میدانِ جنگ میں کافروں اور دین کے دشمنوں کے خلاف اس وقت صف آراء ہونے کا نام ہے جب دشمن سے آپ کی جان مال یا آپ کے ملک کی سرحدیں خطرے میں ہوں۔ اگر کوئی کفر کے خلاف جنگ کرتا ہوا مارا جائے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے مردہ نہ کہا جائے بلکہ حقیقت میں وہ زندہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَO

    ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔‘‘

    البقره، 2 : 154
    Click to expand...
    ****
    بیشک ایسا ہے جناب اِقبال صاحب

    جہاد کو مسلسل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس کی درجِ ذیل اقسام ہیں :

    1۔ جہاد بالعلم

    3۔ جہاد بالمال

    2۔ جہاد بالعمل

    4۔ جہادبالنفس

    5۔ جہاد بالقتال

    1۔ جہاد بالعلم
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  • Moona

    Moona Management Staff Member

    ہم ابتدائی مراحل کو چھوڑ کر آخری کو اختیار کرنے پر زیادہ زور دیتے ہیں
    جزاک اللہ
     
  • Share This Page