1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

محمّد صلعم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by PRINCE SHAAN, May 28, 2014.

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest

  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

  3. Asad khan786
    Offline

    Asad khan786 Well Wishir
    • 16/16

    اپ نے بہت ہی اچھی شیرنگ کی ہے اپ کی مذید شیرنگ کا انتظار رے گا اپنی کشش جاری رکھے
     
  4. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    [​IMG]
     
  5. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
    حدثنا علي بن حمشاذ العدل، إملاء، ثنا هارون بن العباس الهاشمي، ثنا جندل بن والق، ثنا عمرو بن أوس الأنصاري، ثنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: «أوحى الله إلى عيسى عليه السلام يا عيسى آمن بمحمد وأمر من أدركه من أمتك أن يؤمنوا به فلولا محمد ما خلقت آدم ولولا محمد ما خلقت الجنة ولا النار ولقد خلقت العرش على الماء فاضطرب فكتبت عليه لا إله إلا الله محمد رسول الله فسكن» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه " [المستدرك على الصحيحين للحاكم: 2/ 671]

    یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔
    عمرو بن أوس الأنصارى یہ مجہول ہے اسی نے یہ روایت بیان کی ہے ۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ نے میزان میں اسے مجہول قراردیتے ہوئے کہا:
    يجهل حاله.أتى بخبر منكر.أخرجه الحاكم في مستدركه، وأظنه موضوعا
    اس کی حالت مجہول ہے ۔ اس نے ایک منکر روایت بیان کی ہے جسے امام حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے اور میں اسے موضوع سمجھتا ہوں[ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 246]

    امام ذہبی نے مستدرک کی تلخیص میں بھی امام حاکم پر تعاقب کرتے ہوئے کہا:
    أظنه موضوعا على سعيد
    میں سمجھتاہوں کہ سعیدبن ابی عروبہ کے طریق سے یہ حدیث گھڑی گئی ہے۔[المستدرك للحاكم مع تعليق الذهبي: 2/ 671]
     
  6. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    ماشاء اللہ ! جزاک اللہ خیر
     
  7. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    ماشاء اللہ ! جزاک اللہ خیر
     
  8. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    ماشاء اللہ ! جزاک اللہ خیر
     

Share This Page